فرخ فتح علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فرخ فتح علی خان
Ustad Farrukh Fateh Ali Khan Saheb.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 25 دسمبر 1952  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فیصل آباد  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 9 ستمبر 2003 (51 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد راحت نصرت فتح علی خان  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد فتح علی خان  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
فنی زندگی
صنف قوالی، غزل  ویکی ڈیٹا پر طرز (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آلات موسیقی صوت  ویکی ڈیٹا پر آلۂ موسیقی (P1303) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ موسیقار، گلو کار، قوال  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فرخ فتح علی خان (25 دسمبر 1952- 9 ستمبر 2003) کا تعلق پاکستان کے مشہور قوال گھرانے سے تھا۔ وہ عظیم گلوکار و موسیقار نصرت فتح علی خان کے چھوٹے بھائی، استاد فتح علی خان کے بیٹے اور مشہور گلوکار راحت فتح علی خان کے والد تھے۔

استاد نصرت فتح علی خان 1971سے اپنی وفات 1997تک خاندانی قوالی پارٹی کے سربراہ رہے۔ فرخ فتح علی خان ان صرف دو لوگوں میں سے ایک تھے جو اس تمام عرصہ کے دوران میں پارٹی کے ساتھ رہے۔ وہ پارٹی کے بنیادی ہارمونیم نواز ہونے کے ساتھ ہمنوائی بھی کیا کرتے تھے۔ ہارمونیم کی تمام سپتکوں پر مہارت اور چشم زدن میں دھن بدلنے کی صلاحیت کی بنیاد پر انہیں بجا طور پر اپنے پیشے میں بہترین قرار دیا جا سکتا ہے۔ جب وہ نصرت فتح علی خان کے ہمراہ انگلستان کے دورے پر گئے، تب سے انہیں ہر جگہ "ہارمونیم راج صاحب" کے خطاب سے جانا جانے لگا۔ ان کی مہارت اورقابلیت بالعموم نصرت فتح علی خان کی آواز کے پس منظر میں بجانے کی بنا پر ظاہر نہ ہو پاتی۔1989میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ساتھ انٹرویو میں نصرت فتح علی خان نے انکشاف کیا کہ ان کی گائی گئی اکثر قوالیوں کی موسیقی فرخ ترتیب دیا کرتے تھے۔ ان کا نام کئی البموں، مثلاً شہنشاہ، میں بطور موسیقار درج کیا گیا۔

وہ اپنے بھائی نصرت فتح علی خان کی وفات کے بعد پارٹی کی سربراہی سنبھالنے تک پارٹی کے رکن رہے۔ انہوں نے 9 ستمبر 2003کو وفات پائی۔آپ کی دادا افغانستان کے درالحکومت کابل کے رھنے والے پٹھان کے شاخ نورزئی سے تعلق رکھتے تھے جو بعد میں بھارت مشترکه ھندوستان کے صوبے مشرقی پنجاب کی شھر جلندھر میں آبسے.

حوالہ جات[ترمیم]