فردوس بریں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فردوس بریں
مصنف عبدالحلیم شرر
صنف ناول

اردو میں اچھے ناول انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ شائدیہ ہے کہ ناول کی ابتدائی نمونوں میں فن کا زیادہ خیال نہیں رکھا گیا۔ اردو میں ناول اس دور میں آیا جب سرسید کی تحریک کے زیر اثر پورے ہندوستان میں اصلاحی خیالات کی گرم بازاری تھی۔ اس دور کے ہر ادیب کے یہاں اصلاحی رجحان نظرآتا ہے۔ لیکن اس اصلاحی جذبے نے ناول کے فنی مرتبے کو گرا دیا۔ نذیر احمد سرشار، پریم چند اور عبدالحلیم شرر سب کے یہاں اصلاحی جذبہ نظر آتا ہے۔

عبد الحلیم شرر بھی سرسید دور کی اہم شخصیت تھے۔ یہ عجیب دور تھا اس دور میں نثری ادب میں زبردست ترقی ہوئی۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ نہ اتنی ترقی ماضی میں ہوئی تھی اور نہ مستقبل میں ہو سکتی ہے۔ شرر صاحب نے بھی مختلف اصناف سخن پر طبع آزمائی کی۔ آپ نے ایک ایک صنف پر اتنا مواد چھوڑا ہے کہ ایک ایک صنف پر مکالہ لکھا جا سکتا ہے۔ تاریخی ناول نگاری کی طرف ان کی توجہ مغرب کی اسلامی تاریخ پر حملوں کے بعد ہوئی۔ شرر نے جب والٹراسکاٹ کا ناول دیکھا اور پڑھا۔ جس میں حضور کی شان میں نازیبا کلمات کہے گئے تھے توجواب میں شرر بھی ناول نگاری کی طرف متوجہ ہوئے۔ اُن کے پہلے ناول کا نام ”دلچسپ“ تھا۔ اس کے بعد ”دلکش“، فلورافلونڈا، بدرالنساءکی وصیت، شوقین ملکہ اور مینا بازار جیسے ناول منظر عام پر آئے۔ انھوں نے اپنے ناولوں کے ذریعے مغرب کے اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا جواب دیا۔

عبد الحلیم شرر ہی سے پہلے مصنف ہے جس نے اپنی کہانیوں کے ليے ناول کا لفظ استعمال کیا۔ ”فردوس بریں “ ان کا شاہکار ناول ہے۔ جو ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ فردوس بریں دراصل فرقہ باطنیہ کی اسلام کے خلاف سازشوں کا احوال ہے۔ انہوں نے فرقہ باطنیہ کے سرگرمیوں پر تاریخی حوالے سے روشنی ڈالی ہے۔ بقول ممتاز منگلوری، ” فردوس بریں کو اپنے موضوع کے اعتبار سے فرقہ باطنیہ کے عروج و زوال کی داستان کہا جا سکتا ہے۔“

بقول سید وقار عظیم، ” فردوس بریں کے قصے کا موضوع فرقہ باطنیہ کا وہ طوفان بلاخیز ہے جو پانچویں صدی ہجر ی میں دنیائے اسلام کے ليے ایک فتنہ بن کر آیا اور شباب کے انتہائی بلندیوں پر پہنچ کر اسی طرح ختم ہو ا۔

تنقیدی جائزہ[ترمیم]

کردار نگاری[ترمیم]

ناول کے کرداروں کو اگر دیکھا جائے تو ہمیں اس میں مرکزی کردار صرف حسین اور زمرد کانظرآتا ہے۔ اور تمام کہانی انہی کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن دوسرے ضمنی کرداروں میں شیخ علی وجودی کا کرداراردو ادب کا شاہکار کردار ہے۔ دوسرے کرداروں میں موسی، بلقان خاتون، وغیرہ شامل ہیں۔ آئیے ناول ڪے مرکزی کرداروں کا جائزہ لیتے ہیں۔

حسین کا کردار[ترمیم]

حسین ناو ل کا ہیرو ہے۔ اس کردار کا پہلا تاثر یہ ہے کہ بہت خوبصورت ہے۔ اور محبت کا دلدادہ ہے۔ اور مذہب پرشیدائی ہے۔ ایک اچھے کردار کے ليے اہم ترین بات یہ ہوتی ہے کہ ان اپنے اعمال ان کے گرفت میں ہوں۔ یعنی وہ خیالات کے حوالے سے آزاد ہو۔ لیکن حسین ایک بزدل کردار ہے۔ کیونکہ موسیٰ کے قبر پر جاتے وقت مرد ہونے کے باوجود زمرد کے مقابلے میں وہ نہایت خوف محسوس کرتا ہے۔ اور پریوں کے دیکھتے ہی ڈر کے مارے بے ہوش ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ آزاد اور خود مختار بھی نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی سادہ لوحی کی بناءپر اور زمرد کی محبت میں اندھا ہو کر شیخ علی وجودی کے ہاتھوں بالکل بے جا ن آلہ بن جاتا ہے۔ اس کے اشاروں پر امام نصر بن احمد جیسے علماءاور خداترس مسلمانوں کو قتل کر ڈالتا ہے۔ یہ کام دلیرانہ اور حیرت انگیز ہے۔ لیکن اس کے باوجود حسین کے کردار میں کوئی جان نہیں۔ وہ شروع سے لے کرآخر تک بے جان آلے کی طرح حرکت کرتا ہے۔ پہلے زمرد کے ہاتھوں میں کھیلتا رہا۔ پھر علی وجودی کے ہاتھوں میں اور آخر میں بلقان خاتون کے ہاتھوں میں کھلونے کی طرح حرکت کرتا ہے۔ یہ لوگ جدھر چاہتے ہیں۔ اسے مو ڑ دیتے ہیں جو کام چاہتے ہیں اس سے لے سکتے ہیں۔

شرر کے دوسرے ناولوں کے ہیرو اگر دل نہیں تو دما غ ضرور رکھتے ہیں۔ لیکن حسین کا کردار دماغ سے بھی عاری کردار ہے۔ حسین کے کردار میں جو خوبیاں ہیں اُس میں کئی ایک خوبیاں داستانوی کردار کی ہیں۔ مثلاً زمرد کے قبر کے ساتھ سامان خورد نوش کے بغیر چھ مہینے تک زند ہ رہنا۔ اور اُس سخت سردی میں وقت گزرنا اور پھر تہ خانوں میں لمبے لمبے چلے کاٹنا۔ اور علی وجود ی تک سفر بلا خوف و خطر کرنا قاری کو Confusionمیں ڈالتا ہے۔ بہر کیف حسین کا کردار خوبیوں اور خامیوں کی آمیزش سے تیارشدہ کردار ہے۔

زمرد کا کردار[ترمیم]

حسین کے کردار کے بر خلا ف زمرد کے کردار میں ہمیں دلکشی نظر آتی ہے۔ وہ باہمت ہے۔ اور دماغ میں استقلال رکھتی ہے۔ اپنی عصمت اور عفت کو بچانے کے ليے وہ بڑی بڑی تکالیف اُٹھا لیتی ہے۔ حسین جب اُسے کے بھائی کی قبر پر جانے سے ڈرتا ہے تو وہ اکیلے جانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ جو اُس کے نڈر اور با حوصلہ ہونے کا پہلا ثبوت ہے۔ پھر وہ جس انداز سے ایک مکمل پلان کے تحت فردوس بریں کا راز فاش کرتی ہے وہ اُس کے دماغی استقلال کی نشانی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک مشرقی لڑکی کی طرح اپنے بھائی سے بہت زیادہ محبت کرتی ہے اور اُسے کی قبر تک پہنچنے کے ليے وہ گھر سے بھاگ جاتی ہے اور ہر قسم کی تکالیف برداشت کرتی ہے۔ وہ حسین کے برعکس دل بھی رکھتی ہے دماغ بھی۔ وہ جذبات سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ اور غور فکر سے بھی وہ اپنی انفرادیت برقرار رکھتی ہے۔ یہاں تک کہ جنت کی سیر کرنے والے کم ازاکم اسے ضرور یا د رکھتے ہیں۔ آلہ کار وہ بھی ضرور بنتی ہے لیکن مجبوری کی حالت میں،کیونکہ اس کا انکار حسین کی زندگی کا خاتمہ کردیتا۔ حسین کو گمراہ کرنے والے خطوط اُسی کے ہاتھوں سے لکھتے گئے مگر وہ مجبور ہے۔ اور وہ سب کچھ حسین کی زندگی کی کے ليے کرتی ہے۔ زمر د کا کردار ناول کا باہمت کردار ہے۔ اور ناول کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس کی مدد سے فردوس بریں کا راز فاش ہوتا ہے۔ اس کی تائید سے دنیا باطنیوں کے مظالم سے ہمیشہ کے ليے نجات پا جاتی ہے۔ یہ کردار شرر کے کامیاب ترین نسوانی کرداروں میں سے ایک ہے۔

شیخ علی وجودی کا کردار[ترمیم]

شرر کے بعض کردار ایسے ہیں جو ادب میں ہمیشہ زندہ رہینگے۔ ان میں ایک کردار شیخ علی وجودی کاہے۔ جو بے شک اس ناول کا سب سے بہترین کردار ہے۔ اور یہ کردار قاری کے دل و دماغ پر اپنے ایسے نقش چھوڑ دیتا ہے جس کو ہم کسی صورت میں فراموش نہیں کرسکتے۔ یہ کردار ناول کی پوری فضاءپر چھایا ہوا ہے۔ اس کی مصنوعی تقدیس، اس کی علمیت، اس کا جلا ل سب فنکارانہ ہے۔ اس کی عیاری میں بھی ایک حسن ہے۔ فرقہ باطنیہ کے دوسرے عیار اور چالباز اس کے سامنے ماند پڑ جاتے ہیں۔ اس کا ایک ایک لفظ نپا تلا ہوتا ہے۔ اس کے جال میں گرفتا ر ہو کر نکلنا قریب قریب ناممکن ہو جاتا ہے۔ بہت سے مرید رکھتا ہے۔ وہ ان لوگوں پر اس طرح اثر ڈالتا ہے کہ وہ اپنے دل و دماغ سب کچھ اسے نذر کر دیتے ہیں۔ صرف حسین ہی نہیں سارے مرید اس کے ہاتھوں میں بے جان آلے بن جاتے ہیں۔ وہ شکوک رفع کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ اور اس ضمن میں ان کے الفاظ بعیداز فہم ہوتے ہیں۔ ان کا جال بہت وسیع ہے۔ اپنے معلومات کی مدد سے وہ اپنے شائقین اور اپنے متلاشیوں کو خود بخود پہچان جاتاہے۔ وہ مادی جسم کے ساتھ فردوس بریں میں جب چاہے سیر کر سکتا ہے۔ اس کی تعلیمات ساد ہ مگر عیارانہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے مریدوں کے دل و دماغ یہ جاگزیں کر دیتا ہے کہ ”ہر ظاہر کا ایک باطن ہوتا ہے“۔ مرید کی نظر عموماً ظاہر پر رہتی ہے۔ وہ باطن سے واقف ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ وہ غضب کی حالت جب مرید کو دیکھتا ہے تو مرید رعب و دبدبہ سے کانپ اٹھتا ہے۔ اس حالت میں اپنے مرید کو وہ ”بحر وجود کا ناپاک قطرہ“ کہہ کر مخاطب کرتاہے۔ جس سے اس کی برتری اور مرید کی کمتری ثابت ہوتی ہے۔ غرض شیخ علی وجودی کا کردار نہایت جاندار کردار ہے۔ جو لحاظ سے پور ا ہے۔

موسیٰ کا کردار[ترمیم]

اس ناول میں کچھ کردار نام کی حد تک ہیں اور مردہ ہیں ان کی سرگرمیاں ہماری نظروں کے سامنے نہیں ہیں۔ وہ مردہ ہیں مگر اس کے باوجود شرر نے ان کو ہماری سوسائٹی کاایک فرد بنا دیا ہے اور ان کا قصہ سے تعلق پیدا کر دیا ہے۔ مثلاً موسی جو زمرد کا بھائی ہے ایک مردہ کردار ہے اس کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ پریوں کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اور زمرد اس کے قبر پر فاتحہ خوانی کے ليے حسین کو ورغلا کر نکاح کے بہانے ساتھ لے آئی۔ مرد ہ ہونے کے باوجود یہ کرداربے حد اہم ہے کیونکہ زمرد کا فاتحہ خوانی کے ليے اس کی قبر پر آنا اور پھر پریوں کے ہاتھوں اغوا ہو نا پھر فرقہ باطنیہ کے اسر ار سے پردہ اٹھنا یہ سب کام موسیٰ کی وجہ سے ہوئے۔

اسی طرح چغتائی خان جو بلغان خاتون کا والد ہے کا ذکر ہے۔ چغتائی خان کا قتل بلغان خاتون کے جذبہ انتقام کو ابھارتا ہے اور اس طرح فرقہ باطنیہ کی اس ارضی جنت کی بربادی کا باعث بنتی ہے۔

اس کے علاوہ فردوس بریں میں کاظم جنونی، طور معنی ،امام قیامت یعنی خورشاہ، کے کردار ہیں جن کی مدد سے کہانی کی تکمیل ہوتی ہے۔

مکالمہ نگاری[ترمیم]

مکالمے بھی ناول کا بہت اہم جزو ہوتے ہیں۔ مکالمے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نیم ادبی زبان ہوتی ہے۔ شرر کے یہاں نفسیات کے عین مطابق مکالمے پائے جاتے ہیں۔ وہ بھی خاص طور پر فردوس بریں میں۔ یعنی زمرد اور حسین ایک دوسرے کے ساتھ بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ زمرد ایک دیہاتی اور شرمیلی لڑکی ہے۔ جو اُس کے مکالموں سے واضح ہو جاتا ہے۔ پھر مکالموں ہی کی بدولت آگے چل کر اس کی عقلمندی، منصوبہ بندی سب کچھ واضح ہو کر ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ اس علاوہ شرر نے اس ناول میں خود کلامی کے انداز سے استفادہ کیا ہے۔ خاص طور پر خود کلامی وہاں بہت خوبصورت ہے جب حسین زمرد کی جدائی میں اپنے آپ سے سودائی کی طرح باتیں کرتا ہوا نظرآتاہے۔ زمرد او ر حسین کے درمیان بے تکلف گفتگو بھی ناقدین حضرات کے نزدیک ایک خامی ہے۔ کیونکہ مذہبی گھرانے کے لڑکے اور لڑکیاں شادی سے پہلے اس قسم کی گفتگو کسی صورت میں نہیں کر سکتے۔

شیخ علی وجودی کے منہ سے جو مکالمے نکلتے ہیں وہ شرر کے فن کا نقطہ کمال ہے۔ وجودی کے مکالموں کے ذریعے ہی شرر نے اُسے ایک بہت بڑی شخصیت سے نوازا ہے۔ شیخ علی وجودی اور حسین کے درمیان شرر نے جو گفتگو پیش کی ہے۔ اس میں ادبیت، علمیت، پرکاری، شوخی اور جاذبیت سب کچھ ہے۔ یہاں شرر نے نہایت موزوں زبان استعمال کی ہے۔ علی وجودی کی گفتگو سے اس کی فطرت پر بڑی اچھی روشنی پڑتی ہے۔ مکالمے کی یہی شان کہیں کہیں طورمعنی کی گفتگو میں بھی نظرآتی ہے۔ اس کے علاوہ اور کرداروں کے مکالمے اس کے مقابلے میں بے جان اور رسمی دکھائی دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ بیک وقت ادیب، ناول نگار اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ شرر مولوی بھی تھے۔ فردوس بریں میں یہ مولویت ان کے بڑے کام آئی ہے۔ جہاں شعریت ان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ ان کے مکالمے نسبتاً بہتر ہو جاتے ہیں۔ فردوس بریں میں جہاں کہیں مذہبی امور اور عقائد کے متعلق گفتگو ہوتی ہے شرر بڑے اچھے اور جاندار مکالمے پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر شیخ علی وجودی کے مکالمے مولویت کے انداز سے پر ہیں۔

منظر نگاری[ترمیم]

شرر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر و ہ ناولوں کے اور پہلوئو ں میں ناکام رہے تو اس کے برعکس منظر نگاری پر انھیں مکمل عبور حاصل ہے۔ جو ناول کے ضمن میں بہت اہم چیز ہے۔ جب مصنف قاری کے سامنے حقائق لانا چاہتا ہے تو وہ اُس زمانے کی تصویریں پیش کرتا ہے۔ جس کے بارے میں وہ لکھ رہا ہوتا ہے۔ کرداروں کی کہانی کی رفتار میں مناظر بہت معاونت کرتے ہیں۔ شرر کے ہاں منظر نگاری کے بہترین نمونے ہمیں نظرآتے ہے۔ یہ منظر نگاری رنگین اور جاندار مناظرپر مشتمل ہوتی ہے۔ اُن کا غالب رجحان تخیل کی طرف زیادہ ہے لیکن پھر بھی حقیقت کی تصویر کشی میں بھی وہ اپنی مثال آ پ ہیں۔

مناظر دو قسم کی ہوتے ہیں ایک وہ جو براہ راست موضوع سے تعلق رکھتے ہیں دوم جو براہ راست موضوع سے تعلق نہیں رکھتے۔ بلکہ ارد گرد کے ماحول کو پیش کرتے ہیں۔ فردوس بریں میں دونوں قسم کی منظر نگاری پائی جاتی ہے۔ لیکن جو بھر پور منظر نگاری حسین اور زمرد کے سفر کی شروعات میں کئی گئی ہے۔ وہ اپنی مثال آپ ہے۔

جنت کی منظر کشی میں شرر اپنے فن کی عروج پر نظرآتے ہیں۔ یہاں قاری اُن کی فنکاری کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بقول ڈاکٹر احسان الحق، ”اردو نثر میں اس کے مقابلے میں کوئی منظر پیش نہیں کر سکتا۔“

جنت کے تباہی کا ایسا خطرناک منظر شرر ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں کہ لڑائی کا شور و غل او ر تباہی ہم محسوس کرتے ہیں۔ اور قاری اپنے آپ قلعہ التمونت میں پاتا ہے۔ ان کی منظر نگاری کے بارے میں پیام شاہجہان پوری لکھتے ہیں۔ ” منظر کشی میں بھی شرر کا مقام بہت اونچا ہے۔ ہولناک مناظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے انہوں نے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں کہ ہر لفظ قاری کے دل و دماغ پر وحشت ناک اثر چھوڑ جاتا ہے۔ روح پرور مناظر اور خصوصاً جنت کی تصویر دکھاتے ہوئے انہوں نے ملائم، دلفریب اور خوبصورت الفاظ سے کام لیا ہے۔“

پلاٹ[ترمیم]

مختلف واقعات کو منطقی ربط کے ساتھ جوڑنے کا نام پلاٹ ہے۔ عبد الحلیم شرر ایک اچھے قصہ گو ہیں۔ ان کے پلاٹ عموماً چست ہوتے ہیں۔ فردو س بریں۔ کا پلاٹ بھی چست منظم ہے۔ اس میں کہیں بھی خلا محسوس نہیں ہوتا۔ نہ ڈھیلے پن کا احساس ہوتا ہے۔ اُن کا پلاٹ اپنے فطری ارتقاءکے مطابق آگے بڑھتا ہے۔ پہلے وہ ہیرو اور ہیروئن کا تعارف کراتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مصائب میں گرفتار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر دوسرے کرداروں کو درمیان میں لاتے ہیں۔ اور آہستہ آہستہ کہانی آگے بڑھتی ہے۔ وہ مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں مگر رفتہ رفتہ وہ مخالف قوتوں پر غالب آجاتے ہیں۔ اور انجام خوشی پر یعنی ہیرو ہیروئن کی شادی پر ہوتا ہے۔

تجسّس و جستجو[ترمیم]

پلاٹ کی خوبصورتی کی وجہ سے اس ناول میں تجسّس اور جستجو کی کیفیت بہت زیادہ ہے۔ ناول میں شروع سے لے کر آخر تک تجسّس ہی تجسّس ہے۔ جو اس وقت شروع ہوتا ہے جب موسیٰ کی قبر پر حسین اور زمرد پریاں دیکھ کر بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ اور پھر حسین ہوش میں آکر جب موسی کی قبر میں تغیر محسوس کرتا ہے اور پھر جب موسی کے نام کے ساتھ زمرد کا نام دیکھتا ہے۔ یہاں سے تجسّس کی کیفیت شروع ہو جاتی ہے۔ حسین کو جو خطوط ملتے ہیں او ر پھر نقشہ ملتا ہے اُس وقت بھی قاری تجسّس کی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے کہ آگے چل کر کیا ہوگا۔ شیخ علی وجودی سے ملنے کے بعد تو خصوصاتجسّس و جستجو میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور ہم یہ سوچتے ہیں کہ کیا حسین اپنے چچا کو قتل کر دے گا۔ کیا جس جنت کا ذکر ہو رہا ہے وہ اپنی کوئی حقیقی حیثیت رکھتی ہے یا سب کچھ جھوٹ ہے۔ اور یہ کیفیت ناول کے آخر تک برقرار رہتی ہے۔ اور قاری کو گھیرے رکھتی ہے۔

اسلوب[ترمیم]

جہاں تک اسلوب کا تعلق ہے تو مذکورہ ناول میں دلکش اور رواں دواں انداز تحریر اپنایا گیا ہے۔ مشکل الفاظ بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ سادگی و سلاست نے فردوس بریں کی عبارت کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ ناول کی فضاء میں متصوفانہ اصطلاحوں نے انوکھا رنگ پیدا کیا ہے۔ تصوف کی ان اصطلاحوں کی وجہ سے ہمارا ذہن کبھی وحدت الوجود کبھی وحدت الشہود کی جانب جا نکلتا ہے۔ ناول شروع سے لے کر آخر تک شاعرانہ انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔ شاعرانہ و رمانوی زبان و بیان نے ناول میں شعریت پیدا کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فردوس بریں کی عبارت انتہائی دلکش چاشنی و شرینی سے مزین ہو گئی ہے۔ اسی شعریت کا اثر ہے کہ ناول کے انداز تحریر میں ہر مقام پر رنگ و نور کے ہالے دکھائی دیتے ہیں۔

مجموعی جائزہ[ترمیم]

شرر نے اپنے اس ناول میں ماضی کے پر عظمت نقوش کو ابھارا ہے۔ اخوت و مساوات، بہادری و سرفروشی اور حسن و عشق کی دل پزیر روایات کو قلمبند کیاہے۔ یہ روایات اگرچہ اسلامی تاریخ سے وابستہ ہیں لیکن دور بین نظروں میں ان کی وقعت بین المذہبی بھی ہے۔ جذبات صالح کی عکاسی خالص انسانی زاویہ نگاہ سے کی ہے۔ جن کا عروج و ارتقاءانسانیت کے مقام کو بلند کرتا ہے۔ شرر کی سچائی نے سچائی کے ساتھ ان جذبات کو پیش کیا ہے۔ ان کے مسلم نسوانی کردار بہادر، ایثار پیشہ اور اصول مفاد عامہ کے پیرو ہیں۔

علی عباس حسینی نے فردوس بریں شرر کے کوہ صنف میں کوہ نور کہہ کر پکار ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]