فردوس بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فردوس (انگریزی: Firdous) کا اصلی نام پروین ہے۔ انہوں نے اپنے ابتدائی کیریئر میں فلم ’’فانوس‘‘ سے ایک کلاسیکل ڈانس کے ذریعے شروعات کیں۔ ’’فانوس‘‘ فلمساز و ہدایت کار نخشب نے بنائی تھی ۔ کہانی اے عباس نے لکھی تھی اور موسیقی سیف چغتائی نے دی تھی۔ اس میں دو نئے فنکار اداکارہ کومل اور اداکار سلمان پیرزادہ تھے۔ یہ دونوں ہیرو، ہیروئن تھے۔ کثیر لاگت سے بنائی جانے والی اس فلم کی نمائش 26 جون 1963ء کو عیدالفطر سے شروع ہوئی مگر چند تکنیکی خامیوں کی وجہ سے فلاپ ہو گئی۔ اداکارہ فردوس کی فلمی دنیا میں یہ پہلی فلم تھی۔ اداکار فردوس رقص کے حوالے سے بہت مہارت رکھتی تھیں، ان کے ڈانس کرنے کا انداز بھی بڑا دلفریب تھا اور اسی وجہ سے وہ فلمی دنیا میں داخل ہوئی تھیں۔ ان کی دوسری فلم ’’خاندان‘‘ تھی جس کے ڈائریکٹر ریاض احمد تھے۔ اس میں فردوس کو ایک سپورٹنگ رول ملا جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئیں مگر بدقسمتی سے یہ فلم بھی فلاپ ہو گئی جب کہ اس میں محمد علی، بہار بیگم، حبیب، حنا، نغمہ بیگم، ریکھا اور آغا طالش جیسے اداکار شامل تھے۔ فردوس بیگم کی تیسری فلم ’’میخانہ‘‘ تھی۔ یہ فلم بھی نخشب نے بنائی تھی، وہی اس کے فلم ساز و ہدایت کار تھے۔ اس میں نخشب نے فردوس کو لیڈ رول دیا۔ اس میں حبیب، حنا، حنیف اور رخسانہ وغیرہ تھے۔ اس فلم کے گانے ہٹ ہوئے تھے مگر یہ بھی فلاپ ہو گئی تھی۔ فردوس کی لگاتار تین فلموں کی بدترین ناکامیوں نے ان کے حوصلے پست نہیں کیے بلکہ وہ لگن و محنت سے اپنے کام میں لگی رہیں۔ فلم ’’میخانہ‘‘ 4 ستمبر 1964ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ فردوس کی ان تین اردو فلموں کی ناکامی کے بعد ڈائریکٹر اے حمید نے انہیں ایک پنجابی فلم ’’ملنگ‘‘ کے لیے چنا۔ اس میں وہ اداکار علاؤالدین کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں مگر یہ فلم بھی ان کے لیے سودمند ثابت نہ ہوئی۔ اسی ہفتے ان کی ایک اور اردو فلم ’’غدار‘‘ ریلیز ہوئی۔ اس میں بھی فردوس کو سائیڈ میں رکھا گیا جب کہ سلونی اس فلم کی ہیروئن تھیں اور ہیرو لالہ سدھیر تھے جبکہ محمد علی، لالہ سدھیر کے باپ بنے تھے۔ اس فلم نے کچھ کامیابی حاصل کی اور فردوس فلمی حلقوں میں اپنی جگہ بنانے میں کافی حد تک کامیاب ہو گئی تھیں۔ اس دوران ان کی بہت سی فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ’’لائی لگ (پنجابی، جھانجھر (پنجابی)، ہیر سیال (پنجابی)‘‘ اور فلم ’’عورت‘‘ شامل تھیں۔ اسی دوران ان کو ہیروئن کے رول ضرور ملے تھے مگر فلمیں ہٹ نہیں تھیں۔ اردو فلم ’’ناچے ناگن باجے بین‘‘ میں محمد علی کے ساتھ رانی ہیروئن تھیں، ان کی پہلی ہٹ فلم ’’من موجی‘‘ تھی۔ اس میں اکمل، سدھیر وغیرہ شامل تھے۔ شیریں ہیروئن تھیں۔ فردوس کی دوسری سپرہٹ فلم ’’ملنگی‘‘ کے نام سے آئی۔ ڈائریکٹر رشید اختر تھے۔ اکمل ہیرو تھے اور ہیروئن شیری تھیں جب کہ فردوس کا بھی لیڈ رول تھا۔ 17 دسمبر 1965ء کو یہ ریلیز ہوئی تھی۔ فلم ’’مانجھے دی جٹی، وطن کا سپاہی، اَن پڑھ، جاگ اٹھا انسان، زمیندار، پیداگیر، گھر کا اجالا، باراں نال بہاراں، انسانیت، چاچا جی، چن جی‘‘ کے علاوہ اور بھی دو درجن کے قریب فلمیں ریلیز ہوئیں۔ کسی فلم میں یہ ہیروئن آئیں تو کسی میں سائیڈ ہیروئن جلوہ گر ہوئیں۔ کسی فلم میں رانی کا پلہ بھاری ہوتا تھا تو کسی فلم میں شیری ان سے آگے ہوتی تھیں، پھر بھی یہ اپنے خوبصورت رقص کی وجہ سے کافی مقبول تھیں اور بطور ہیروئن بھی کافی حد تک کامیاب ہو چکی تھیں۔ ان کی ایک اردو فلم ’’آنسو‘‘ تھی جو سپرہٹ ہوئی تھی۔ اس میں ان کا ٹائٹل رول تھا اور اداکار شاہد کی بھی یہ پہلی فلم تھی۔ ندیم اور دیبا بھی شامل تھے۔ اس میں فردوس نے اداکار شاہد اور ندیم کی ماں کا رول ادا کیا تھا۔ فلم کی کہانی کچھ اس طرح سے ہے کہ فریدہ (اداکارہ فردوس) اپنی خالہ سے ملنے کراچی سے پنڈی جاتی ہیں، اس ٹرین میں ایک آدمی (مسعود اختر) لیڈیز کمپارٹمنٹ میں داخل ہوتا ہے، کمپارٹمنٹ میں فردوس اکیلی ہوتی ہیں۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ان کے ساتھ زیادتی کرتاہے۔ فریدہ اپنی بدنامی کے خوف سے یہ بات کسی کو بھی نہیں بتاتیں، اندر ہی اندر گھلتی رہتی ہیں۔ اسی دوران ان کی والدہ بھی کراچی سے پنڈی آ جاتی ہیں اور اداکارہ سلمیٰ ممتاز کے گھر یہ لوگ رہتے ہیں۔ سلمیٰ ممتاز، فریدہ کی خالہ ہوتی ہیں۔ چند ماہ بعد فریدہ کو الٹیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں اور ڈاکٹر یہ انکشاف کرتا ہے کہ یہ ماں بننے والی ہیں۔ اس صدمے سے ماں مر جاتی ہیں اور خالہ (سلمیٰ ممتاز) ان کی ڈلیوری کرانے دوسرے شہر لے جاتی ہیں، لڑکا پیدا ہوتا ہے اور اس بچے کو سلمیٰ ممتاز نوکرانی کو دے کر دور چلے جانے کا کہتی ہیں مگر راستے میں اس عورت کا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے اور وہ مر جاتی ہے۔ وہاں سے آفتاب (اداکار زاہد خان) کا گزر ہوتا ہے، وہ اس بچے کو اپنے گھر لے آتے ہیں، ادھر فریدہ (فردوس) ہوش میں آنے کے بعد اپنے بچے کے بارے میں پوچھتی ہیں مگر ان کی خالہ انہیں جھوٹی تسلی دے کر گھر لے آتی ہیں اور ان کی شادی آفتاب سے کر دیتی ہیں، سہاگ رات والے دن آفتاب فریدہ کو یہ بچہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چند دن پہلے ایک طوفانی بارش میں ملا تھا، فریدہ اپنے بچے کو پہچان جاتی ہے، بعد میں یہ بچہ بڑا ہو کر جمال (اداکار شاہد) بنتا ہے۔ دونوں میاں بیوی اس بچے کی پرورش کرتے ہیں، اسی دوران فریدہ سے ایک بچہ اور ہوتا ہے جو بڑا ہو کر کمال (اداکار ندیم) ہوتا ہے۔ فلم بہت عمدہ تھی اور فردوس نے اس میں بہت عمدہ اداکاری کی تھی۔ ان کی حیرت انگیز طور پر عروج پر پنجابی فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ تھی جس میں انہوں نے ہیر کا کردار ادا کیا تھا اور اجمل خان نے رانجھا کا۔ وارث شاہ کی اس فوک کہانی کے ڈائریکٹر مسعود پرویز تھے اور موسیقی خواجہ خورشید انور نے بنائی تھی، ڈائیلاگ احمد راہی کے تھے۔ یہ فلم 19 جون 1970ء کو ریلیز ہوئی اور کراچی اور لاہور کے علاوہ پاکستان کے تمام شہروں میں سپرہٹ ہوئی تھی۔ اس فلم میں 13 گانے تھے اور ہر گانے پر فردوس نے حیرت انگیز طور پر بہت عمدہ رقص پیش کیے تھے ’’سن ونجلی دی مٹھری تان وے‘‘ گانے کے علاوہ یہ گیت جو بیک گرائونڈ میں فردوس پر فلمایا گیا تھا ’’ڈولی چڑ دیاں میراں ہیر چیکاں‘‘۔ اداکارہ فردوس کی ایک اور فلم ’’دلاں دے سودے‘‘ تھی۔ اس میں نغمہ اور فردوس نے ایک ساتھ کام کیا تھا۔ ڈائریکٹر ایس اے بخاری اور فلمساز اسد بخاری تھے۔ اس کی کہانی وحیدہ بخاری نے لکھی تھی اور موسیقی نذیر علی نے مرتب کی تھی۔ فلم ’’دلاں دے سودے‘‘ سپرہٹ ہوئی تھی۔ اس میں نورجہاں کے گائے اس نغمے پر فردوس اور نغمہ نے علاحدہ علاحدہ دھمال رقص پیش کیا تھا۔ یہ دھمال فلم میں دو مرتبہ فلمایا گیا تھا۔ ایک مرتبہ یہ فردوس پر اور دوسری مرتبہ نغمہ پر، یہ گیت لال شہباز قلندر کے مزار پر عکسبند ہوا، جو اتنا ہٹ ہوا کہ بعد میں اس دھمال کو کئی فنکاروں نے اپنی آواز میں پیش کیا۔ وہ دھمال یہ تھا ’’لال میری پت رکھیو بالا جھولے لالن‘‘۔ فلم ’’دلاں دے سودے‘‘ اپنے ان گیتوں کی وجہ سے بڑی ہٹ ہوئی تھی۔ اداکارہ فردوس نے 160 کے قریب فلموں میں کام کیا تھا جن میں 20 کے قریب فلمیں اردو میں تھیں اور 30 سے اوپر پنجابی فلمیں تھیں۔ فردوس نے تین پشتو فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔ فردوس بیگم نے اداکار اکمل کے ساتھ اپنے ابتدائی دور میں سب سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ ان کی فلم ’’ملنگی‘‘ نے لاہور کے ایک سینما اوڈین میں دو بار گولڈن جوبلی کی تھی جو ایک ریکارڈ ہے۔ اسی فلم نے کراچی کے لائٹ ہائوس سینما میں سلور جوبلی کی اور یہ فلم کراچی سے بھی گولڈن جوبلی ہوئی تھی۔ اس کے ہیرو اکمل سے فردوس بیگم نے شادی کی تھی۔ یہ شادی کا بندھن جلد ہی ٹوٹ گیا۔ اداکار اکمل خان جوانی میں ہی انتقال کر گئے۔ اکمل کا اصل نام محمد آصف خان تھا۔ ان کا انتقال 11 جون 1967ء میں لاہور کو 37 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ فردوس بیگم کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں جو دوسرے شوہر سے ہیں۔ ان کی چند فلمیں یہ ہیں ’’امام دین گوہاوہا، چاچا جی، ضدی، گھر کا اجالا، یاراں نال بہاراں، انسانیت، جاگ اٹھا انسان، زمیندار، پیداگیر، پنڈ دی کڑی، روٹی، دو مٹیاراں، یار دوست، بائوجی، مراد بلوچ، کنجوس، پگڑی سنبھال جٹا، چن جی، لٹ دا مال، اکبرا، مرزا جٹ، لہو پکارے گا، دشمن، ناجو، رن مرید، عشق نہ پوچھے ذات، شاہی محل، بیٹی بیٹا‘‘ اور ’’دنیا مطلب دی‘‘ کے علاوہ بھی بے شمار فلمیں ہیں جن میں انہوں نے کام کیا۔ فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ پر انہیں بیسٹ اداکارہ کا نگار ایوارڈ ملا۔ فلم ’’آنسو‘‘ میں انہیں اسی ایوارڈ سے نوازا گیا اور فلم ’’ضدی‘‘ میں بھی انہوں نے بیسٹ اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ ان کی آخری فلم ’’شیرنی‘‘ تھی جو 2 دسمبر 1988ء کو ریلیز ہوئی۔ یہ فلم پنجابی تھی۔ آخری ان کی پشتو فلم تھی جس کا نام ’’دہ جنگل بادشاہ‘‘ تھا۔ یہ فلم 11 جنوری 1991ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ اداکارہ فردوس بیگم اپنے دور کی سپرہٹ ہیروئن تھیں۔

فلم انڈسٹری[ترمیم]

ہماری فلم انڈسٹری بڑے بڑے عظیم فنکاروں پر مشتمل ہے، ان میں ہدایت کار، موسیقار، اداکار، گلوکار، رائٹر، کیمرا مین اور تکنیکی ماہر شامل ہیں۔ ہر شخص اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے مگر ان کی سرپرستی کرنے والا کوئی بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جو ان پر توجہ دے۔ اس کے برعکس پوری دنیا میں ان شوبز فنکاروں کے لیے علاحدہ ادارے بنائے گئے ہیں جو ان کی حکومتی سطح پر رہنمائی کرتے ہیں مگر ہمارے ملک میں ان کی پزیرائی کرنے کے لیے کوئی بھی ادارہ نہیں ہے۔ اس دوران بے شمار عظیم فنکار اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور جو باقی بچے ہیں، وہ اپنی ریٹائر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان نادر فنکاروں میں ایک فنکارہ فردوس بھی ہیں جو کبھی پاکستان کی فلمی اسکرین پر بہت زیادہ دکھائی دیتی تھیں۔