فردوس عاشق اعوان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فردوس عاشق اعوان
Dr. Firdous Ashiq Awan (Minister for Information & Broadcasting) (6475225147).jpg 

مناصب
رکن قومی اسمبلی   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکنیت سنہ
16 نومبر 2002 
حلقہ انتخاب این اے-111، سیالکوٹ 
پارلیمانی مدت بارہویں قومی اسمبلی 
وفاقی وزیر برائے بہبود آبادی   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
2008  – 2010 
وزیر اطلاعات و نشریات پاکستان   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
9 فروری 2011  – 18 اپریل 2012 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png قمر زمان کائرہ 
قمر زمان کائرہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وفاقی وزیر برائے قومی صحت کے قوانین اور خدمات   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
18 اپریل 2012  – 16 مارچ 2013 
معلومات شخصیت
پیدائش 11 جنوری 1970 (49 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سیالکوٹ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش سیالکوٹ  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان مسلم لیگ ق (–2008)
پاکستان پیپلز پارٹی (2008–29 مئی 2017)
پاکستان تحریک انصاف (30 مئی 2017–)  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فردوس عاشق اعوان ایک پاکستانی سیاست دان خاتون ہیں۔ دہقانی لہجے میں بے تکان گفتگو کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔

تعلیم[ترمیم]

انہوں نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج فار ویمن سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔

سیاست[ترمیم]

انہوں نے اپنا پہلا الیکشن سابق اسپیکر قومی اسمبلی امیر حسین کے مقابلے میں جیتا تھا۔ پہلے پاکستان مسلم لیگ (ق) میں تھیں اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی میں اور اب پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہیں۔

عہدے[ترمیم]

وہ سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاکستان کی وفاقی وزیر اطلاعات رہیں۔

ملک کی نمائندگی[ترمیم]

فردوس عاشق اعوان 2010ء میں خاص طور پر ثانیہ مرزا اور شعیب ملک کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے حیدرآباد، بھارت گئیں۔ انہوں نے ازدواجی جوڑے کو حکومت پاکستان کی طرف سے تحائف بھی پیش کیے۔ بھارت کے انگریزی روزنامہ دی ہندو کے مطابق اس ازدواجی جوڑے کو پاکستان اسی وقت ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کا برانڈ ایمبیسیڈر چنا گیا تھا، حالانکہ صحافیوں سے سوالات پوچھے جانے کے وقت دونوں اس بات سے بے خبر تھے اور تاحال اس مخصوص اعلان کی کسی اور ذریعے سے تصدیق نہیں کی جا سکی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]