مندرجات کا رخ کریں

فرعی صنف بندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

فرعی صنف بندی یا شاختیت (Cladism) حیاتیات میں درجہ بندی کا ایک طریقہ جس میں محتلف صنفوں کی درجہ بندی ان کی شاخوں/فرعوں کے ارتقائی مراحل کے مطابق کی جاتی ہے۔

جماعت بندی کے اس طریقہ میں جانداروں کو کوئی ایک یا کچھ مشترکہ خصائص (Characters) کے حامل ہونے کی بنیاد پر گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ لازم ہے کہ ان جانداروں نے یہ خصائص اپنے کسی مشترکہ جد (Ancestor) سے حاصل کیے ہوں اور یہ خصائص کسی جدی گروہ (Ancestoral group) میں موجود نہ رہے ہوں۔ جماعت بندی کے ماہر وِلی ہینگ (Willi Hennig) نے یہ طریقہ بیسویں صدی عیسوی کے آٹھویں عشرے میں وضع کیا۔ یہ جانداروں کے درمیان موجود ارتقائی تعلقات کے از سر نو تعین کا وہ طریقہ ہے جس میں زمانی امور سے زیادہ جدی اور مشترکہ اجداد جیسے امور پر زور دیا جاتا ہے۔

گروہ بندی کے شاختیاتی طریقے میں مشترکہ خاصیت کی حامل انواع کو ایک Clade (فرع یا شاخ) میں رکھا جاتا ہے۔ اس کلیڈ کے اندر موجود انواع میں سے کچھ کو کسی اور خاصیت کی بنیاد پر، جو دیگر انواع میں موجود نہیں، ایک اور کلیڈ میں رکھ دیا جاتا ہے یوں کلیڈ کے اندر کلیڈ بنتے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح بننے والے خاکے کو کلیڈوگرام (Cladogram) کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر فقاریہ (Vertebrates) ایک کلیڈ میں آتے ہیں۔ ان کے اندر موجود چار ہاتھ پاؤں کے حامل جانور (Tetrapods) کو ایک اور کلیڈ میں رکھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح کلیڈ کے اندر ایک اور کلیڈ بنتا ہے۔ اس مثال میں فقاری کلیڈ کو Primitive اور ٹیٹرا پوڈ کلیڈ کو ماخوذ (Derived) یا Advanced clade کہا جائے گا۔ زندہ جانداروں میں کلیڈوگرام بنانے کے لیے جینیاتی کیریکٹر یا رویے کے ساتھ ساتھ جسمانی خد و خال کو بھی معیار بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس رکازیات میں خصوصیات کا تعلق ڈھانچے سے ہونا ضروری ہے۔

رکازیات میں شاختیاتی انداز فکر خاص طور پر بڑی معنویت کا حامل ثابت ہوا ہے۔ اس کی مدد سے رکازی شہادتوں میں موجود خلا کی نشان دہی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں رکازی مطالعے کے مقابلے میں یہ علم زیادہ معروضی لگتا ہے۔ اس میں رکازیات جیسی کوئی مجبوری نہیں کہ دریافت ہونے والے ایسے محدود آثار کو بھی بنیاد بنایا جائے جن کا نمائندہ ہونا ضروری نہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]