فرنگی محل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فرنگی محل
مقام لکھنؤ
تعمیر سترہویں صدی

فرنگی محل لکھنؤ میں وکٹوریہ روڈ اورچوک کے درمیان واقع ہے۔ عظیم الشان یادگار عمارت کا فرنگی نام اس لیے پڑا کیونکہ اولین مالکین یورپ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور حکومت میں دیگر فرانسیسی تاجروں کے ساتھ یہاں رہنے والے نیل (Niel) نامی ایک فرانسیسی اس عمارت کا اولین مالک تھا۔ یہ ایک شاندار رہائش گاہ تھی، تاہم، یہ ایک غیر ملکی کی ملکیت تھی اور اسی سبب سے ایک شاہی فرمان کے تحت حکومت کی طرف سے اسے ضبط کیا گیا تھا۔

یہ عمارت قرقی کے بعد اسلامی معاملات پر بادشاہ کے مشیر ملا اسد بن قطب شہید اور ان کے بھائی ملا اسد بن قطب الدین شہید کے تحویل میں دے دی گئی تھی۔ ان دو بھائیوں نے اس رہائشی مرکز کو ایک عظیم الشان اسلامی ادارے تبدیل کر دیا تھا جس کی حیثیت اکثر انگلینڈ کے کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں کے ساتھ مقابلۃً پیش کی جاتی تھی۔ گاندھی جیسے کئی کانگریسی رہنماؤں نے بھی فرنگی محل میں چند دن گزارے اور وہ کمرہ جہاں وہ ٹھہرے تھے ان کی یاد میں وقف کیا گیا ہے۔ فرنگی محل اسلامی ثقافت اور روایات کے تحفظ اور اضافے میں اہم حصہ ادا کرتا آیا ہے۔[1]

خلافت تحریک، تحریک آزادی اور قومی یکجہتی میں فرنگی محل کا اہم کردار[ترمیم]

جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے، گاندھی نے کچھ وقت فرنگی محل میں بتایا تھا۔ جب وہ یہاں آئے تھے، وہ اپنی بکری بھی ساتھ لائے تھے۔ فرنگی محل عمارت اور اطراف واکناف کے مسلمانوں نے ان کے احترام میں کچھ دنوں کے لیے گوشت کا استعمال روک دیا تھا۔ فرنگی محل ہی کے مولوی عبدالباری نے 1920ء میں پہلی بار گاندھی کو ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترکہ قائد قرار دیاتھا۔ انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد اور تحریک آزادی سے مسلمانوں کو جوڑنے کے قائل تھے۔ گاندھی کے علاوہ تحریک آزادی کے دیگر قائدین جیسے کہ سروجنی نائیڈو اور جواہر لعل نہرو نے بھی فرنگی محل کا دورہ کیا تھا اور یہاں کے علما سے مشورہ کیا تھا۔ فرنگی محل کے علما خلافت تحریک کے کٹر حامی تھے۔ انہوں نے انگریز حکومت کے خلاف جہاد کا فتوٰی جاری کیا تھا جس کی وجہ سے کئی علما کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔[2]

فرنگی محل کی علمی شخصیات کی نمایاں خدمات[ترمیم]

  • مسلمانوں میں رسومات رائج کرکے دینی حمیت ابھارنا: آج کے دور میں مسلمانوں میں منائ جانے والی رسومات جیسے کہ آخری چہار شنبہ، عیدمیلادالنبی ﷺ وسیع پیمانے پر داغ بیل ڈالنے کا سہرا فرنگی محلی علما کے سر بندھتا ہے۔
  • مولانا محمد علی جوہر فرنگی محل کے فارغ التحصیل تھے۔
  • جیساکہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے، خلافت تحریک میں نمایاں کردار ادا کرنے والے مولانا عبد الباری بھی اسی فرنگی محل سے وابستہ تھے۔ انہوں نے عالمی سطح پر وہابی تحریک کے حامیوں کی جانب سے بزرگانِ دین اور صحابہ کرام کی قبور کی مسماری کے خلاف آواز بھی اُٹھائ تھی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]