فرہنگ اصطلاحات فن خطاطی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فن خطاطی ایک فن تحریر ہے جو دنیا کے ہر گوشے میں اور ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ ذیل میں درج اصطلاحات اسی فن سے متعلق ہیں۔ یہ دراصل محمد راشد شیخ کی کتاب "تذکرہ خطاطین" کا ایک باب ہے جس میں مصنف نے فن خطاطی میں استعمال ہونے والی مختلف اصطلاحوں کا تعارف پیش کیا ہے۔

فہرست[ترمیم]

اصطلاح تفصیل
اجازہ اجازہ ایک سند یا ڈپلوما ہے جو استاد خطاط اپنے طالب علم کو مخصوص استعداد کے حاصل کرنے کے بعد عطا کرتا ہے۔ اجازہ کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ طالب علم مخصوص امتحان میں کامیابی حاصل کرے۔ اس امتحان میں طالب علم اساتذہ کی موجودگی میں دی گئی عبارت کی خطاطی کرتا ہے۔ ترکی میں یہ روایت صدیوں سے موجود ہے کہ اجازہ حاصل کیے بغیر کوئی خطاط اپنے نمونے پر توقیع (دستخط) نہیں کرتا۔
اعراب اعراب زبر، زیر، پیش کو کہتے ہیں۔ اولین تحریریں اعراب اور نقطوں کے بغیر تھیں۔ پچاس ہجری میں ابو الاسود دویلی نے وضع کیے۔ بعد میں انہی نقطوں کو جنہیں مختلف رنگوں سے لکھا جاتا تھا، اعراب کے طور پر استعمال کیا گیا۔
انسی قلم کے خط کی بائیں طرف والی نوک جو لکھتے وقت کاتب سے نسبتاً قریب ہوتی ہے، انسی کہلاتی ہے۔ جبکہ دائیں طرف والی کو وحشی کہا جاتا ہے۔
تذہیب تذہیب لفظ ذہب سے مشتق ہے جس کے معنی عربی میں سونے کے ہیں۔ اور تذہیب کے لغوی معنی سونے کا ملمع کرنا ہے لیکن اسلامی فنون میں اس کا اطلاق ہر اس سجاوٹ یا نقاشی پر ہوتا ہے جس میں سنہری رنگ کا کام کیا گیا ہو۔ موجودہ عہد میں خطاطی کے نمونوں کے گرد سنہری نقش و نگار کے علاوہ فرشیوں اور قالین پر سنہری نقش و نگار بھی تذہیب کے زمرہ میں آتے ہیں۔
تعلیق عربی زبان میں لٹکانے یا معلق کرنے کو کہتے ہیں۔ خط تعلیق میں حروف ایک دوسرے سے معلق ہوتے ہیں۔ اس خط کو ایران میں ساتویں صدی ہجری میں خواجہ تاج الدین نے ایجاد کیا۔ یہ خط ایران کے قدیم خطوط مثلاً پہلوی، اوستائی اور کوفی سے اثر ق ول کرکے وجود میں آیا۔ بعد میں ضرورت کی بنا پر نیز کثرت استعمال کی وجہ سے درباروں میں رائج ہو گیا۔ اس خط کی سہل اور آسان شکل کو ترسیل کہتے ہیں۔ خط تعلیق میں تمام حروف خمیدہ اور ترچھی شکلوں کی جانب مائل نظر آتے ہیں۔
توقیع توقيع کے لفظی معنی دستخط یا فرمان شاہی کے ہیں۔ یہ خط ثلث کی ترمیم شدہ شکل ہے، جس کے الفاظ ثلث سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ سلطنت عثمانیہ کی سرکاری دستاویزات کی کتابت کے لیے یہ خط مستعمل تھا۔ عموماً قرآن مجید کی کتابت کے دوران میں سورتوں کے نام اس خط میں لکھے جاتے ہیں۔ توقیع خطاط کے مختصر دستخط کو بھی کہتے ہیں جو عموماً ہر خطاط اپنے خطی نمونے کے بعد اس میں مناسب جگہ پر لکھتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی خطاط اپنی پوری فنی زندگی کے مختلف ادوار میں ایک یا ایک سے زائد توقیعات لکھتا ہے۔
ثلث ثلث عربی میں ایک تہائی کو کہتے ہیں۔ خط ثلث تمام اسلامی خطوط میں خوبصورت ترین خط ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ مثلاً

١) یہ مشکل ترین خط ہے اور جو شخص اس خط پر عبور حاصل کرلے وہ باقی خطوط بھی بآسانی لکھ سکتا ہے گویا ایسا شخص ایک تہائی خطاطی پر حاوی ہوجاتا ہے۔ ٢) اس خط میں چھ حصوں میں سے گردش دو حصے اور سطح چار حصے ہوتی ہے۔ اسی تناسب کی وجہ سے اسے ثلث کہتے ہیں۔ ٣) ثلث( تہائی )، نصف( آدھا )، ثلثين( دوتہائی ) مختلف خطوط کے نام ہیں۔ یہ نام ہر خط کو لکھنے کے لیے درکار وقت کی بنا پر پڑے۔ ٤))مختلف خطوط لکھنے کے لیے کاغذ کے مختلف سائز مخصوص تھے۔ سب سے بڑے سائز کا کاغذ طومار کہلاتا تھا جس کی چوڑائی گھوڑے کے چوبیس بالوں کے برابر تھی۔ خط ثلث لکھنے کے لیے اس کاغذ کا ایک تہائی کاغذ( یعنی آٹھ بالوں کی چوڑائی ) درکار تھی۔ اسی لیے اسے ثلث کہا گیا۔

جلی جلی کے معنی ہے صاف اور واضح۔ اگر کسی خط کو بڑے اور آسانی سے پڑھے جانے والے حروف میں لکھا جائے تو اسے جلی کہتے ہیں۔ جلی کوئی علاحدہ خط نہیں بلکہ عام طور پر خط کے نام کے بعد لکھا جاتا ہے مثلاً ثلث جلی، نستعلیق جلی، دیوانی جلی وغیرہ۔ عموماً جلی لکھنے کے لیے قلم کا قط ایک سینٹی میٹر یا اس سے زائد رکھا جاتا ہے۔
جلی دیوانی یہ خط دیوانی کی زیادہ پیچیدہ اور زیادہ آرائش والی شکل ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے عہد میں یہ خط، سلطان اور شاہی محل کی اہم ترین دستاویزات کی کتابت کے لیے مستعمل تھا۔ اس کا پڑھنا آسان نہیں اس لیے اس کو پڑھنے کے لیے خاص مہارت درکار ہے۔
حلیہ حلیہ یا حلیۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خطاطی کے اس خوبصورت نمونے کو کہتے ہیں جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہ سے مروی ایک روایت کی خطاطی کی جاتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اوصاف مبارکہ بیان کیے گئے ہیں۔ حلیہ لکھنے کی ابتدا قرآن مجید کی کتابت کے حوالے سے مشہور ترک خطاط حافظ عثمان( ١٦٤٢_ ١٦٩٨) نے کی۔ اس کے بعد تمام ترک خطاطوں نے حلیہ ہائے مبارکہ لکھے اور یہ روایت برابر قائم ہے۔
خط ابتدا میں خط اس لکیر کو کہتے تھے جسے زمین پر کھود کر یا ریت پر، لکڑی کی نوک یا انگلی سے بنایا جائے۔ بعد کے ادوار میں خط کے معنی رسم کتابت کے ہو گئے یعنی عربی زبان لکھنے کا طریقہ۔ د نیا کی کسی قوم نے مسلمانوں سے زیادہ اپنے خط میں حسن و جمال کے پہلو پیدا نہیں کیے اور نہ ہی کسی قوم نے اپنے خط کی اتنی اقسام ایجاد کی جتنی مسلمانوں نے کی۔
دیوانی دیوانی کے معنی ہیں سرکاری۔ یہ خط ترکوں کا ایجاد کردہ ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے عہد میں دیوان شاہی کے فرامین اور اہم کاغذات کی کتابت کے لیے مستعمل تھا اس لیے دیوانی کہلایا۔ اس خط کو خط ہمایونی بھی کہا جاتا ہے۔
رقاع رقاع جمع ہے رقعہ( کاغذ کا پرزہ یا مکتوب ) کی۔ حسابی کام رقعوں پر اسی خط میں کیا جاتا تھا۔ نیز یہ خط رقعات و مکاتیب لکھنے کے لیے بھی مستعمل تھا۔ خط رقاع کو خط اجازہ بھی کہا جاتا ہے۔
رقعہ رقعہ مکتوب کو کہتے ہیں۔ یہ خط خطِ رقاع میں کئی تبدیلیوں کے بعد عالمِ وجود میں آیاـ اس کی ایجاد کا اصل مقصد روزمرّہ اور عام تحریر کے لیے ایک ایسے خط کی ضرورت تھی جسے سہولت اور تیز رفتاری سے لکھا جاسکے ـ اس میں دیگر خطوط کی بہ نسبت سیدھا پن زیادہ ہے۔ آج کل روزمرہ خط کتابت کے لیے عرب ممالک میں یہی خط مستعمل ہے۔ اس کے علاوہ اخبارات واشتہارات کی سرخیوں کے لیے بھی یہی خط استعمال کیا جاتا ہے۔
ریحانی اسے خط محقق سے اختراع کیا گیا ہے چنانچہ یہ خط محقق کے تابع اور محقق کی خوبصورت شکل ہےـ یہ خوبصورتی میں ریحان کی سی نزاکت رکھتا ہے اس نازکی اور نفاست کی وجہ سے خط ریحانی کہلایا ـ
زلفِ عروس اسے زلفِ عروس اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس خط کے شروع میں اور آخر میں نیم گولائی دے کر زلف کی ہیئت پیدا کی جاتی ہے ـ دیکھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ زلف کے بال حروف کے دامن سے گزر رہے ہیں ـ
مشق ________؟؟ زیر مشق چمڑے یا موٹے کاغذ کی اس تہ کو کہتے ہیں جس پر کاغذ پھیلا کر کتابت کی جاتی ہے ـ
سیاقت یہ خط مختصر نویسی( short hands) سے مشابہ ہے ـ اس کی ابتدا ترکوں نے کی ـ یہ خط صرف بیع ناموں اور جائداد سے متعلق کاغذات کی کتابت کے لیے مستعمل تھا ـ اس کی ایجاد کا اصل مقصد رازداری تھا تاکہ کاغذات کو کوئی غیر متعلقہ شخص نہ پڑھ سکے ـ اس خط میں حروف کے نقاط بھی نہیں لکھے جاتے تھے تاکہ بہ مشکل پڑھا جاسکے ـ
سیاہ مشق سیاہ مشق خطاطی کی ایک خاص قسم ہے ـ اس میں حروف یا الفاظ بار بار لکھے جاتے ہیں۔ اگر حرف یا لفظ صحیح لکھا گیا ہو تو مکرر لکھنے سے خوشنویس کی گرفت میں آجاتا ہے ـ اگر غلط لکھا گیا ہو تو مکرر لکھنے سے اسے صحیح لکھا جاسکتا ہے۔ عربی زبان میں اس انداز کی مشق کو -_-_-؟ کہتے ہیں ـ
شکستہ خط نستعلیق کا لکھنا محنت طلب اور دقت طلب ہوتا ہے۔ مرتضٰی قلی شاملو ،حاکم ہرات نے تعلیق اور نستعلیق کی آمیزش سے خط شکستہ وضع کیا۔ اس کے دائرے اور شوشے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ خط شکستہ کو تیز رفتاری سے بآسانی لکھا جاسکتا ہے۔
صعود حقیقی صعود حقیقی قلم کی نیچے سے اوپر کی جانب حرکت کو کہتے ہیں۔ اس میں قلم بالکل مستقیم نیچے سے اوپر کی جانب جاتا ہے۔
صعود مجاز صعود مجازی بھی قلم کی نیچے سے اوپر کی جانب حرکت کو کہتے ہیں مگر اس میں قلم سیدھا اوپر کی جانب نہیں جاتا بلکہ حرف کی شکل کے مطابق یہ حرکت خم دار ہوتی ہے ـ
طغری' یہ خط عہد بنی عباس میں ایجاد ہوا۔ اس میں تین عدد عمود لکھے جاتے ہیں۔ ان کے گرد بقیہ عبارت لکھی جاتی ہے۔ اول اول سلاطین کے نام اس خط میں لکھے جاتے تھے پھر عام افراد بھی اس خط میں اپنے نام لکھوانے لگے۔ سلاطین عثمانی کے طغرے اس فن میں ترک خطاطوں کے مہارتِ کے شاھد ہیں۔ بعض خطاطوں نے کہا بسم اللہ، کلمہء طیبہ، احادیث مبارکہ اور آیات قرآنی بھی خطِ طغری' میں لکھی ہیں ـ
غبار یہ بہت باریک خط ہے۔ اسے غبار( خاک) کی طرح نہایت باریک لکھا جاتا ہے کہ آنکھ بہ مشکل پڑھ سکے۔ اس خط کی ظاہری شکل غبار سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس خط کو رقاع اور نسخ سے اختراع کیا گیا ہے ـ
قطعہ قطعہ ایک مخصوص خطی نمونے کا نام ہے جس کا نام سائز عموماً درمیانی سائز کی کتاب کے برابر ہوتا ہے ـ حلیۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح قطعہ کی ایجاد کا سہرا بھی ترکوں ہی کے سر ہے۔

اس میں کاغذ کے ایک جانب یا تو ایک خط( مثلاً نسخ یا تعلیق ) یا دو خطوط( مثلاً ثلث+نسخ یا محقق +ریحانی) میں خطاطی کی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ ثلث + نسخ میں قطعے لکھے گئے۔ قطعے کے درمیان میں اور چاروں طرف خوبصورت رنگین نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اسے گتے پر چسپاں کر کے فریم کر دیا جاتا ہے۔

کراسہ موجودہ عربی زبان میں کراسہ نوٹ بک یا کاپی کو کہتے ہیں۔ فن خطاطی میں کراسہ خطاطی سیکھنے کے لیے رہنما کتاب کو کہا جاتا ہے جس میں مفردات اور مرکبات اصول کے تحت لکھنے کے لیے رہنمائی کی گئی ہو۔ مختلف عربی خطوط سیکھنے کے لیے جو کراسے معروف ہیں ان میں محمد شوقی آفندی، شیخ عبد العزیز الرفاعی، مصطفی عزت، ہاشم محمد بغدادی، سید ابراہیم وغیرہ کے کراسے فنی حیثیت سے بلند مقام کے حامل ہیں۔ لاہوری طرز نستعلیق سیکھنے والوں کے لیے تاج الدین زریں رقم کی معروف کتاب "مرقع زریں" بھی کراسہ کہی جا سکتی ہے۔
کوفی خط کوفی شہر کوفہ میں ایجاد ہوا اسی لیے کوفی کہلایا۔ یہ مروجہ عربی خطوط میں قدیم ترین ہے۔ اسے خلیل بن احمد بصری نے ٦٠ھ میں خط حری میں اصلاح کے بعد ایجاد کیا۔ اس زمانے سے قرآن مجید کی کتابت خط کوفی میں ہونے لگی نیز مساجد و عمارات میں بطور تزئینی خط کے بھی اس کا استعمال شروع ہوا۔ خط کوفی کے اجزاء میں مستقیم سطور اور مختلف زاویے شامل ہیں۔ خط کوفی کے بے شمار اقسام ہیں جن میں کوفی اولیہ، کوفی سادہ، کوفی بنایی، کوفی تربیعی، کوفی تزئینی، کوفی جمیل، کوفی مبسوط، کوفی مورق، کوفی مشجر، کوفی مشکول، کوفی موشح وغیرہ شامل ہیں۔
گلزار اس خط میں حروف کے داخلی حصہ کو گل بوٹوں اور پتوں سے ماہرانہ انداز میں مزین کیا جاتا ہے۔ گویا کہ ایک گلزار کا منظر پیش کرتا ہے۔ اس خط کے لکھنے کے دوران میں اس نے بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ خوش نویسی کے اصول کی رعایت باقی رہے۔ عموماً نستعلیق ہی میں لکھا جاتا ہے۔
متعاکس۔.۔ متناظر کسی بھی خط کو اگر اس طرح لکھا جائے کہ ایک طرف اصل خط اور دوسری طرف اس کا عکس الٹی لکھائی کی صورت میں لکھا جائے تو اسے متعاکس یا متناظر کہتے ہیں۔ ایسا لکھنے کے لیے انتہائی مہارت درکار ہے کیونکہ ایک جانب لکھے حروف کو بالکل الٹ اسی طرح لکھنا کہ کوئی فرق نہ نظر آئے نہایت مشکل کام ہے۔
محقق یہ خط ثلث سے ماخوذ ہے۔ پڑھنے میں صاف ہونے کی بنا پر محقق کہلایا۔ یہ خط اسناد اور دستاویزات کی کتاب کے لیے مستعمل تھا۔
مرقع مرقع اس البم کو کہتے ہیں جس میں کئی قطعے یا خطاطی کے دیگر نمونے ترتیب سے رکھے گئے ہوں۔ مرقع میں تمام نمونے علاحدہ علاحدہ یا یکجا ہوتے ہیں۔
مسلسل یہ کوئی علاحدہ خط نہیں بلکہ اگر کسی خط کو اس طرح لکھا جائے کہ تمام حروف باہم پیوست ہوں اور کوئی دوسرے حروف سے جدا نہ ہو تو وہ خط مسلسل کہلائے گا مثلاً ثلث مسلسل، دیوانی مسلسل، کوفی مسلسل وغیرہ۔ خط کی تمام اقسام کو بشرط حفاظت اصول و معیار خط مسلسل سے مربوط کرکے لکھا جاسکتا ہے۔
نزول حقیقی اگر قلم کی حرکت اوپر سے نیچے کی جانب ہو اور خط مستقیم میں ہو تو یہ نزول حقیقی کہلاتا ہے۔
نزول مجازی قلم کی حرکت اوپر سے نیچے ہو لیکن خط۔ مستقیم میں نہ ہو تو یہ نزول مجازی کہلاتا ہے۔
نسخ قخط نسخ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں دو آراء پائی جاتی ہے۔ پہلی رائے کے مطابق خط نسخ کی ایجاد سے قبل کتابت قرآن مجید خط کوفی میں ہوتی تھی۔ خط نسخ نے خط کوفی کو منسوخ کر دیا اس لیے یہ نسخ کہلایا۔ اس کے بعد کتابت قرآن مجید اسی خط میں ہونے لگی۔ دوسری رائے کے مطابق چونکہ قرآن مجید کی کتابت ایک نسخے سے دوسرے کو نقل کر کے کی جاتی تھی اس لیے یہ نسخ(یعنی نقل کرنا) کہلایا۔ یہ وہ معروف ترین خط ہے جو تقریباً ایک ہزار سال سے اپنی خوبیوں کی بنا پر کتابت قرآن مجید کے لیے مستعمل اور پسندیدہ ہے۔ اس خط کی خوبی یہ ہے کہ الفاظ کا عرض طوالت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے اس لیے حروف پر اعراب و نقاط اپنے صحیح مقام پر بآسانی لگائے جاسکتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]