فریشر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فریشر جسے کبھی کبھی مغربی دنیا میں نوآموز، فریش مین یا فروش بھی کہا جاتا ہے، کسی ایسے طالب علم کو کہا جاتا ہے جو ایک تعلیمی ادارے میں نیا ہو۔ یہ بھارت اور پاکستان کے ضمن کالج کے پہلے سال کے طالب علم کو کہا جاتا ہے۔ عربی زبان میں اس کے لیے مُستجد یا سنفور کے الفاظ مستعمل ہیں۔

کالج زندگی اور پہلا سال[ترمیم]

ایک فریشر کا اطلاق ڈگری اور پوسٹ گریجویشن، دونوں ہی کورسوں میں ہو سکتا ہے۔ ڈگری کا فریشر ایک عام کورس میں تین سالوں میں سے پہلے سال کا طالب علم ہوتا ہے۔ جب کہ انجینیرینگ کے شعبے میں یہ چار سالوں میں پہلے سال کا طالب علم ہوتا ہے۔ پوسٹ گریجویشن چوں کہ عمومًا دو سال کا ہوتا ہے، اس کورس کے پہلے سال کے طالب علم کو فریشر کہتے ہیں۔

فریشر کا استقبال[ترمیم]

عام طور سے بھارت کے کالجوں میں یہ روایت عام ہے کہ سینیر طلبہ، خصوصًا آخری سال کے طالب علم آپسی چندے سے ایک دعوت کا اہتمام کرتے ہیں جسے فریشرز پارٹی کہا جاتا ہے۔ اس دعوت میں سبھی آخری سال کے طلبہ اور نو وارد طلبہ رسمی طور پر شریک ہوتے ہیں۔ اس دعوت کے انعقاد میں کبھی کبھی مالی تعاون تعلیمی ادارے بھی کرتے ہیں، خاص طور پر جب ضرورت یہ ہو کہ جلسہ بڑے پیمانے پر کالج کے احاطے سے باہر ہو، عام ضیافتی پہلو یا طعام سے پہلے رسمی تعارف کی نشست ہوتی ہے۔ جونیر طلبہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ اس میں گلو کاری، رقص کا مظاہرہ، اساتذہ، اداکاروں، سیاست دانوں اور مشاہیر کی نقالی شامل ہوتی ہے۔ محفل میں کئی بار لڑکے اور لڑکیاں مل کر بھی رقص کرتی ہیں۔ عوامی تفریح کے لیے کئی بار باہر سے لوگوں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ کالج کے اساتذہ، غیر تدریسی عملہ اور دیگر لوگ جلسوں کے شروع میں شریک ہوتے ہیں۔ اصل جلسہ کافی دیر تک جاری رہتا ہے۔ یہ جلسے کئی بار بڑی ہوٹلوں اور ریزارٹوں میں منعقد ہوتے ہیں۔ جلسوں میں لاؤڈ اسپیکروں، موسیقی کے آلات، رقص کے فلور کے دھوئیں، سجاوٹ اور خصوصی بیانر وغیرہ کا انتظام ہو سکتا ہے۔

ریگینگ[ترمیم]

فریشروں کے استقبال کا ایک غیر خوش کن پہلو ریگینگ ہے۔ یہ وہ فعل ہے جس میں سینیر کالج طلبہ انتہائی بد تمیری اور کبھی کبھی مخرب اخلاق اور انسانیت سوز انداز میں اپنے نو وارد ساتھیوں کے آگے پیش آتے ہیں۔ اس کے تحت سینیر طلبہ کئی بار نو وارد طلبہ کی پٹائی، ان سے خود کو اذیت پہنچانے لگانا، نازیبا حرکتوں کا مظاہرہ کرنا، جنسی ہراسانی کرنا، آبرو ریزی کرنا، مار پیٹ کرنا، بری طرح زخمی کرنا اور آخری حد یہ کہ کسی طالب علم کا قتل کرنا یا اسے خود کشی کرنا شامل ہے۔ بھارت میں یہ قابل سزا جرم ہے۔ اس لیے کالج سے نکالے جانے علاوہ قید تک کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ جدید طور پر بھارت کے اکثر کالجوں میں مخالف ریگینگ کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو اسے روکنے اور بچوں کی اصلاج کا کام کرتی ہیں۔

  • 2016ء میں بھارت کی ریاست کیرلا کے کوٹایم ضلع میں ایک سرکاری پالٹیکنک کالج میں پہلے سال کی ایک وحشیانہ ریگنگ کے معاملے میں ملزم 5 طلبہ نے پولیس کے سامنے خودسپرد کرنا پڑا تھا . معاملے میں پہلے سال کے ایک طالب علم کو گردے میں شدید چوٹیں آئی تھیں جس کے بعد اسے ہسپتال میں داخل کرانا پڑا تھا.[1]

حوالہ جات[ترمیم]