فرینکنسٹائن
پہلی جلد کا سرورق، اشاعت بار اول، 1818ء | |
| مصنف | میری شیلے |
|---|---|
| اصل عنوان | Frankenstein; or, The Modern Prometheus |
| مترجم | مظہر الحق علوی |
| ملک | انگلستان |
| زبان | انگریزی |
| صنف | گوتھک ناول، ہیبت ناک فکشن، سائنس فکشن[1] |
| محل وقوع | انگلستان، آئرستان، اطالیہ، فرانس، اسکاچستان، قدیم سوئس وفاق، سلطنت روس، مقدس رومی سلطنت؛ اٹھارھویں صدی کا اواخر |
| اشاعت | 1 جنوری 1818 |
| ناشر | لیکنگٹن، ہیوز، ہارڈنگ، میور اینڈ جونز |
| صفحات | 280 |
| 823.7 | |
| ایل سی درجہ بندی | PR5397 .F7 |
| قبل ازاں | History of a Six Weeks' Tour |
| بعد ازاں | Valperga |
| ریختہ ای بکس | فرینکنسٹائن |
”فرینکنسٹائن“ (دی ماڈرن پرومیتھیئس) سنہ 1818ء کا گوتھک ناول ہے جو انگریز مصنفہ میری شیلے نے لکھا۔ فرینکنسٹائن وکٹر فرینکنسٹائن نامی ایک نوجوان سائنس دان کی کہانی بیان کرتا ہے جو غیر روایتی سائنسی تجربے میں مختلف انسانی اعضا کو جوڑ کر ایک ذی شعور مخلوق تخلیق کرتا ہے۔ میری نے یہ کہانی 18 سال کی عمر میں ’بَاتھ‘ میں قیام کے دوران لکھنا شروع کی اور اس کا پہلا ایڈیشن 1 جنوری 1818ء کو لندن میں گمنام شائع ہوا اور اس وقت وہ 20 برس کی تھیں۔ ان کا نام پہلی مرتبہ دوسرے ایڈیشن میں ظاہر ہوا جو سنہ 1821ء میں پیرس میں شائع ہوا تھا۔ اس ناول کا اردو ترجمہ مظہر الحق علوی نے کیا اور نسیم بک ڈپو لکھنؤ سے شائع ہوا۔[2]
میری نے 1815ء میں یورپ کا سفر کیا دریائے رائن کے کنارے جرمنی میں سفر کرتے ہوئے وہ گیرنس ہائم میں رکی، جو فرینکنسٹائن قلعے سے 17 کلومیٹر (11 میل) کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں تقریباً ایک صدی قبل کیمیا گر یوہان کونراڈ ڈِپّل نے تجربات کیے تھے۔[3][4][5] اس کے بعد وہ جنیوا، سوئٹزرلینڈ کے علاقے میں گئیں، جہاں کہانی کا بیشتر حصہ وقوع پزیر ہوتا ہے۔ گالون ازم اور خفیہ علوم کے تصورات ان کے ساتھیوں کی گفتگو کا اہم موضوع تھے، خصوصاً ان کے محبوب اور مستقبل کے شوہر پرسی بش شیلے کے لیے۔
1816ء میں میری، پرسی، جان ولیم پولیڈوری اور لارڈ بائرن نے ایک مقابلہ کیا کہ کون سب سے بہترین ہیبت ناک کہانی لکھے گا۔[6] کئی دن سوچ وِچار کرنے کے بعد میری کو یہ خیال آیا کہ ایک سائنس دان جو جاندار تخلیق کرتا ہے اور پھر اپنی تخلیق سے خوفزدہ ہو جاتا ہے، اس پر کہانی لکھی جائے۔[7]
فرینکنسٹائن انگریزی ادب کی سب سے معروف تصانیف میں سے ایک ہے۔ یہ گوتھک ناول اور رومانوی تحریک کے عناصر سے مزین ہے اور اس نے ادب اور مقبول ثقافت پر گہرا اثر چھوڑا حتیٰ کہ اس نے خوفناک کہانیوں، فلموں اور ڈراموں کی ایک مکمل صنف کو جنم دیا۔ ناول کی اشاعت کے بعد سے ’فرینکنسٹائن‘ کا نام اکثر اس مخلوق کے لیے استعمال ہونے لگا جو کہانی میں تخلیق کی گئی تھی۔[8][9][10]
پلاٹ
[ترمیم]جنیوا کے ایک متمول خاندان کا بیٹا وکٹر فرینکنسٹائن جوانی میں کیمیا گری کے مطالعے میں محو رہتا ہے مگر بعد میں جدید سائنس خصوصاً کیمیا اور برقیات میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔ اپنی والدہ کی وفات پانے کے بعد وہ یونیورسٹی آف انگولشٹاڈ میں پڑھنے جاتا ہے جہاں وہ جاندار پیدا کرنے کا ایک نیا طریقہ دریافت کرتا ہے اور ایک خوفناک قد آور مخلوق تخلیق کرتا ہے۔ مخلوق زندہ ہوتے ہی وہ خوفزدہ ہو کر بھاگ جاتا ہے۔
مخلوق بھٹکتے ہوئے انسانی بستیوں سے بچتی ہے ایک جھونپڑی کے ساتھ والے گھر میں چھپ کر رہتی ہے اور وہاں رہنے والے خاندان کو دیکھ کر بولنا اور پڑھنا سیکھتی ہے۔ بعد میں اپنی اصل حقیقت جان کر وہ انتقام کے جذبات میں مبتلا ہو جاتی ہے، جنیوا جا کر وکٹر کے چھوٹے بھائی ولیم کو قتل کر دیتی ہے اور الزام ایک بے قصور نوکرانی پر ڈال دیتی ہے۔
بعد میں مخلوق وکٹر سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس کے لیے ایک عورت بھی بنائے تاکہ وہ اکیلا نہ رہے۔ وکٹر ابتدا میں مان جاتا ہے لیکن ادھورا کام تباہ کر دیتا ہے جس پر مخلوق وکٹر کے دوست ہنری کلیرول کو قتل کر دیتی ہے۔ وکٹر کے گھر لوٹنے پر مخلوق اس کی شادی کی رات بیوی کو قتل کر دیتی ہے اور وکٹر کا والد بھی غم سے مر جاتا ہے۔
وکٹر بدلہ لینے کے لیے مخلوق کا پیچھا کرتے ہوئے آرکٹک پہنچ جاتا ہے مگر وہاں تھکن اور سردی سے مر جاتا ہے۔ آخر میں مخلوق آ کر وکٹر کے مرنے پر غم ظاہر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ خود کو جلا کر ختم کر دے گی پھر برف میں غائب ہو جاتی ہے۔
اخذ
[ترمیم]فلمیں
[ترمیم]اس ناول پر بہت سی فلمیں بھی بنائی گئی ہیں۔
فرینکنسٹائن (1931)
[ترمیم]فرینکنسٹائن (1931) Frankenstein (1931) میں بوریس کارلوف نے مونسٹر کا کردار ادا کیا تھا۔ اگر چہ مووی کی کہانی ناول سے تھوڑا ہٹ کر تھی ۔ لیکن ہالی وڈ نے بعد میں مونسٹرز کے کردار کے لیے اسی چہرے کو کاپی کیا۔ اس فلم کا شمار گوتھک ہارر سینما کی کلاسیک فلموں میں ہوتا ہے۔
برائیڈ آف فرینکنسٹائن (1935)
[ترمیم]برائیڈ آٖف فرینکنسٹائن(1935) Bride of Frankenstein (1935) اصل میں 1931 والی فلم کا سیکوئل۔ ناقدین اسے پہلی فلم سے بھی بہتر مانتے ہیں۔
سن آف فرینکنسٹائن (1939)
[ترمیم]سن آف فرینکنسٹائن (1939) Son of Frankenstein (1939) میں مونسٹر اور فرینکنسٹائن خاندان کی کہانی کا سلسلہ آگے بڑھایا گیا ہے۔
دی کرس آف فرینکنسٹائن (1957)
[ترمیم]دی کرس آف فرینکنسٹائن (1957) The Curse of Frankenstein (1957) ہیمّر اسٹوڈیوز کی رنگین ہارر فلمہے۔ اس میں پیٹر کوشنگ اور کرسٹوفر لی نے اس فلم کے دو مرکزی کردار نبھائے۔
فرینکنسٹائن مسٹ بی ڈسٹرائیڈ (1969)
[ترمیم]فرینکنسٹائن مسٹ بی ڈسٹرائیڈ (1969) Frankenstein Must Be Destroyed (1969) فرینکسٹائن سیریز کی ایک اور گہری اور سنجیدہ فلم ہے۔
ینگ فرینکنسٹائن (1974)
[ترمیم]ینگ فرینکنسٹائن (1974) Young Frankenstein (1974) میل بروکس کی کامیڈی پیروڈی فلم ہے۔اس فلم میں فرینکنسٹائن کے روایتی ہارر کو مزاح کے ساتھ پیش کیا گیا۔
دی برائیڈ (1985)
[ترمیم]دی برائیڈ(1985) The Bride (1985)یہ فلم"Bride of Frankenstein" کی جدید ری ٹیلنگ۔ اسٹنگ اور جینیفر بیلز کی مرکزی کرداروں میں اداکاری کی ہے۔
فرینکنسٹائن اَن باؤنڈ (1990)
[ترمیم]فرینکنسٹائن اَن باؤنڈ (1990) Frankenstein Unbound (1990) سائنس فکشن اور گوتھک امتزاج، وقت کے سفر کا عنصر بھی ہے۔
میری شیلیز فرینکنسٹائن (1994)
[ترمیم]میری شیلیز فرینکنسٹائن (1994) Mary Shelley’s Frankenstein (1994) کینیٹھ برینا کی فلم ہے جس میں وکٹر کا کردار خود برینا نے اور مونسٹر کا کردار رابرٹ ڈی نیرو نے کیا۔اس فلم کا مواد ناول کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ اس کے ویژل افیکٹ ، تاریک ماحول اور رابرٹ ڈی نائرو کی عمدہ اداکاری ، مونسٹر کے روپ میں چہرے پر بے بسی تنہائی کے احساسات نے فلم کو ناول کے ماحول کے ساتھ مکمل ایڈجسٹ کر دیا۔
وکٹر فرینکنسٹائن (2015)
[ترمیم]وکٹر فرینکنسٹائن Victor Frankenstein (2015) جیمز میک ایووئے اور ڈینیئل ریڈکلف کی فلم۔ ہے اس میں ایگور کی نظر سے کہانی بیان کی گئی ہے۔
فرینکنسٹائن (2014)
[ترمیم]فرینکنسٹائن (2014) I, Frankenstein (2014) جدید ایکشن فینٹسی ورژن ہے جس میں مونسٹر مختلف مافوق الفطرت جنگوں میں شامل دکھایا گیا ہے۔
فرینکنسٹائن (2025)
[ترمیم]فرینکنسٹائن (2025) میں ریلیز ہونے والی فلم ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Brian Stableford (1995). "Frankenstein and the Origins of Science Fiction". In David Seed (مرتب). Anticipations: Essays on Early Science Fiction and its Precursors (بزبان انگریزی). Syracuse University Press. pp. 47–49. ISBN:978-0-8156-2640-4. Retrieved 2018-07-19.
- ↑ میری شیلے۔ فرینکنسٹائن۔ ترجمہ از مظہر الحق علوی (پہلا ایڈیشن)۔ لکھنؤ: نسیم بک ڈپو
- ↑ Hobbler, Dorthy and Thomas. The Monsters: Mary Shelley and the Curse of Frankenstein. Back Bay Books; 20 August 2007.
- ↑ Garrett, Martin. Mary Shelley. Oxford University Press, 2002
- ↑ Seymour, Miranda. Mary Shelley. Atlanta, GA: Grove Press, 2002. pp. 110–11
- ↑ Joe McGasko. "Her 'Midnight Pillow': Mary Shelley and the Creation of Frankenstein". Biography (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2019-02-19. Retrieved 2019-02-18.
- ↑ Mary W. Shelley. "Frankenstein: or, The Modern Prometheus" (بزبان انگریزی). Paragraphs 11-13. Retrieved 2022-12-29 – via Project Gutenberg.
- ↑ Bergen Evans, Comfortable Words, New York: Random House, 1957
- ↑ Bryan Garner, A Dictionary of Modern American Usage, New York, Oxford: Oxford University Press, 1998.
- ↑ Merriam-Webster's Dictionary of American English, Merriam-Webster: 2002.
- فرینکنسٹائن
- اٹھارہویں صدی میں ہونے والے واقعات پر ناول
- انتقام کے بارے میں ناول
- برطانوی ناول جن پر فلمیں بنیں
- جرمنی میں سیٹ ناول
- سائنس فکشن ناول جن پر فلمیں بنیں
- سوئٹزرلینڈ میں سیٹ ناول
- میری شیلی کے ناول
- ناولوں پر مبنی وڈیو گیم
- 1818ء کے برطانوی ناول
- برطانوی گوتھک ناول
- سنسر شدہ کتابیں
- گمنام شائع شدہ کام
- 1810ء کی دہائی کے سائنس فکشن ناول
- برطانوی ہیبت ناک ناول
- مکاتیبی ناول
- ناول ہائے فرینکنسٹائن
- معذوری کے متعلق ناول
- 2005ء کی ڈراونی فلمیں
- اولین ناول
- انگریزی زبان کے ناول
- رومانیت
- ہیبت ناک ناول
- گوتھک ناول
- نسائیتی سائنس فکشن ناول
- جارجیائی دور
- مذہب پر تنقیدی کتابیں
- فنطاسیہ ناول
- انیسویں صدی کے ناول
- 1810ء کی دہائی کی کتابیں
- انگریزی ناول
- برطانوی سائنس فکشن ناول
- انیسویں صدی میں ہونے والے واقعات پر ناول
- ہیبت ناک ادب
- برطانوی ادب
- دائرہ عام کی کتب
- 1810ء کی دہائی کے انگریزی زبان کے ناول
- 1810ء کی دہائی کے فنطاسیہ ناول
- جرمن زبان کے ناول
- کاتالان زبان کے ناول
- چینی زبان کے ناول
- کوریائی زبان کے ناول
- ہسپانوی زبان کے ناول
- فرانسیسی زبان کے ناول
- جاپانی زبان کے ناول
- روسی زبان کے ناول
- ازبک زبان کے ناول
- عربی زبان کے ناول
- 1810ء کی دہائی کا مصنف کا پہلا ناول