مندرجات کا رخ کریں

فریڈرک نٹشے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
فریڈرک نٹشے
(جرمن میں: Friedrich Nietzsche)[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نیچہ ت 1875ء

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (جرمن میں: Friedrich Wilhelm Nietzsche)[2][3]  ویکی ڈیٹا پر  (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 15 اکتوبر 1844(1844-10-15)
روکن، پروشیا
وفات 25 اگست 1900ء(1900-08-25) (55 سال)
وائمر، جرمنی
طرز وفات طبعی موت   ویکی ڈیٹا پر  (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ناؤمبرگ (1850–)[4]  ویکی ڈیٹا پر  (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت مملکت پرشیا (–17 اپریل 1869)[5]
جرمنی [6][7]  ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عارضہ سکتہ
الجھاؤ (1888–)  ویکی ڈیٹا پر  (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
پروفیسر [4]
برسر عہدہ
1869  – 1878 
در جامعہ بازیل  
عملی زندگی
مادر علمی
تخصص تعلیم علم زبان [8]  ویکی ڈیٹا پر  (P812) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ڈاکٹریٹ [9][8]  ویکی ڈیٹا پر  (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فلسفی [10][11][12][7][13][4][14]،  شاعر [4]،  مصنف [10][11][12][15][7][14]،  نغمہ ساز [7][14]،  ماہر تعلیم ،  ڈراما نگار [7][14]  ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان جرمن [4]  ویکی ڈیٹا پر  (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان جرمن [16][17][4]،  اطالوی ،  فرانسیسی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل کلاسیکی علم زبان [18]،  فلسفہ [19]  ویکی ڈیٹا پر  (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ بازیل [4]  ویکی ڈیٹا پر  (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں زرتشت نے کہا [8]،  دی برتھ آف ٹریجڈی [8]  ویکی ڈیٹا پر  (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر شوپنہائر [4]،  ہیراکلیطس ،  ایمرسن ،  ڈارون ،  بارامانیاس ،  اگوست کومتے ،  پاسکل ،  نکولو مکیاویلی ،  رچرڈ واگنر [4]،  اڈالبرٹ ستیفٹر ،  ایڈ گرایلن پو ،  پروتاگورس ،  ہپولیٹ ٹین ،  سپینوزا ،  زرتشت ،  ڈبلیو بی . یٹس ،  مائیکل ڈی مونٹین ،  دی مقراطیس ،  ایپیکور ،  کرسچن جوہان ہینرچ ہائنے ،  ستاں دال ،  آسوالڈ اسپینگلر ،  یوہان یوآخم ونکلمین ،  گوئٹے ،  پال ٹیلیچ ،  جین جیکس روسو ،  ولیم شیکسپیئر ،  اسٹیفن زویگ ،  ایڈم میکیوچز ،  امپی دوکلیز ،  افلاطون ،  ارسطو ،  گوٹفریڈ ویلہم لائبنیز ،  والٹیئر ،  سقراط ،  گورگ ویلہم فریدریچ ہیگل ،  امانوئل کانٹ ،  فیودر دوستوئیفسکی [20]،  دیانوسس ،  سکندر اعظم ،  ہومر [4]،  جولیس سیزر ،  ایس کلس [4]،  منو ،  تھوسی ڈائڈز [21][22][23]،  چیزرے بورجا [21][22][23]،  نپولین [21][22][23]  ویکی ڈیٹا پر  (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں فرانسیسی جرمن جنگ 1870-71 [4]  ویکی ڈیٹا پر  (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر  (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فریڈرخ ولہیلم نیچہ (جرمن: Friedrich Wilhelm Nietzsche، تلفظ [ˈfʁiːdʁɪç ˈvɪlhɛlm ˈniːtʃə] ( سنیے)؛[ا] 15 اکتوبر 1844ء – 25 اگست 190ء) ایک جرمن فلسفی اور مصنف تھے جنھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک کلاسیکی ماہرِ لسانیات کے طور پر کیا اور اپنے تعلیمی کیریئر کے اوائل میں ہی فلسفے کی طرف مائل ہو گئے۔ 1869ء میں، 24 سال کی عمر میں، انھیں یونیورسٹی آف بازل میں کلاسیکی لسانیات کا پروفیسر مقرر کیا گیا۔ اپنی زندگی کے بیشتر حصے میں صحت کے مسائل کا شکار رہنے کی وجہ سے، انھوں نے 1879ء میں یونیورسٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک آزاد مصنف کے طور پر زندگی گزاری، اپنی زندگی کا بیشتر حصہ نسبتاً تنہائی اور مالی عدم تحفظ میں گزارا اور اپنی حالت کو بہتر بنانے والے موسموں کی تلاش میں سوئٹزرلینڈ، اٹلی اور جنوبی فرانس کے درمیان منتقل ہوتے رہے اور اگلے عشرے میں انھوں نے اپنی زیادہ تر بنیادی تحریریں مکمل کیں۔ 1889ء میں، 44 سال کی عمر میں، وہ اعصابی خرابی کا شکار ہوئے اور اس کے بعد ذہنی صلاحیتوں کے مکمل خاتمے، فالج اور عروقی ہذیاں (واسکولر ڈیمینشیا) کا شکار ہو گئے؛[ب] انھوں نے اپنے باقی ماندہ 11 سال پہلے اپنی والدہ اور بعد میں اپنی بہن کی دیکھ بھال میں گزارے، یہاں تک کہ ان کی موت ہو گئی۔ ان کی تصانیف اور ان کے فلسفے نے نہ صرف وسیع علمی تحقیق کو جنم دیا بلکہ عوامی سطح پر بھی بہت دلچسپی پیدا کی۔ نیچہ کے کام میں شاعری، ثقافتی تنقید اور فلسفیانہ مضامین شامل ہیں جبکہ ان میں اقوالِ زریں اور طنز و مزاح کا شوق نمایاں ہے۔ ان کے فلسفے کے ممتاز عناصر میں منظرہ پسندی کے حق میں معروضی سچائی پر ان کی تنقید؛ مسیحی اخلاقیات کی ایک شجراتی تنقید اور اس سے متعلق آقا و غلام کی اخلاقیات کا نظریہ؛ مذہب کے کمزور ہونے ("خدا مر چکا ہے")[27] اور اس کے بعد آنے والے مجہول نفیئیت کے بحران دونوں کے جواب میں زندگی کا اثبات؛ اپولونی اور دیونیوسوسی دوہریت کا تصور؛ اور انسانی موضوع کو مسابقتی ارادوں کے اظہار کے طور پر پیش کرنا شامل ہے، جنھیں مجموعی طور پر ارادہ اقتدار سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بعد کے کام نے بااثر تصورات تیار کیے جیسے کہ فوق البشر، اقدار کی دوبارہ تشخیص اور ابدیت کے چکر کی ان کی منفرد تشکیل۔ ان کے کام کے مجموعے نے موضوعات کی ایک وسیع رینج کو چھوا، بشمول جمالیات، لسانیات، تاریخ، موسیقی، مذہب، المیاہ، ثقافت اور سائنس اور یونانی المیہ، آرتھر شوپن ہاور، رالف والڈو ایمرسن اور رچرڈ ویگنر جیسے متنوع ذرائع سے ترغیب حاصل کی۔ نیچہ کی موت کے بعد، ان کی بہن الیزابتھ فورسٹر نیچہ ان کے مسودات کی نگران اور مرتب بنیں۔ انھوں نے ان کی غیر مطبوعہ تحریروں کو اپنے جرمن انتہائی قوم پرستانہ نظریے کے مطابق ڈھالنے کے لیے تبدیل کیا، جو اکثر نیچہ کی بیان کردہ آراء کے متضاد یا مبہم تھیں، کیونکہ نیچہ واضح طور پر سام دشمنی اور قوم پرستی کے مخالف تھے۔[حوالہ درکار] ان کے شائع کردہ ایڈیشنوں کے ذریعے، نیچہ کے کام کو فسطائیت اور ناتسیت سے جوڑ دیا گیا۔ بیسویں صدی کے اسکالرز جیسے والٹر کاؤفمان، آر جے ہولنگڈیل اور جارج باتائی نے اس تشریح کے خلاف نیچہ کا دفاع کیا اور جلد ہی ان کی تحریروں کے درست ایڈیشن دستیاب کرائے گئے۔ اس کے بعد 1960ء کی دہائی میں نیچہ کی تصانیف نے نئی مقبولیت حاصل کی اور تب سے ان کے افکار نے فلسفے میں 20ویں اور 21ویں صدی کے مفکرین پر وسیع اثرات مرتب کیے ہیں—خاص طور پر براعظمی فلسفہ کے مکاتب فکر جیسے کہ وجودیت، مابعد جدیدیت اور پس ساختایات میں—اس کے ساتھ ساتھ فن، ادب، موسیقی، شاعری، سیاست اور مقبول عام ثقافت پر بھی۔

زندگی

[ترمیم]

نطشے کا جنم 15 اکتوبر 1844 کو روکّن، سیکسنی میں ہوا۔ ان کا باپ، کارل لوڈوگ نطشے، ایک لوتھیرن پادری تھے، جن کا 1829 میں دماغی خونریزی سے انتقال ہوا، جب نطشے تقریباً پانچ سال کے تھے۔ بعد ازاں نطشے کا چھوٹا بھائی بھی جلد ہی وفات پا گیا، جس کے بعد وہ اپنے گھر کی خواتین ماں، بہن، دادی اور خالہ کے ساتھ رہے۔

ابتدائی تعلیم کے بعد، نطشے نے بون اور لیپزِگ یونیورسٹیوں میں مطالعہ کیا اور ابتدا میں مذہب پر توجہ دی مگر بعد میں کلاسیکی لسانیات (Classical Philology) کی جانب رجوع کیا۔1869 میں وہ یونیورسٹی باسِل (سوئٹزرلینڈ) کے شعبہ کلاسیکی لسانیات کے پروفیسر مقرر ہوئے، اس وقت ان کی عمر صرف 24 برس تھی۔ [28] تاہم صحت کے مسائل اور دماغی مسائل کی وجہ سے انھوں نے 1879 میں پروفیسر کے عہدے کو چھوڑ دیا[29]

ان کی باقی زندگی کا بیشتر حصّہ تنہائی میں گذرا۔ وہ سوئٹزرلینڈ، اٹلی اور دیگر ممالک میں قیام کرتے رہے اور 25 اگست 1900 کو ویمر میں انتقال کر گئے[30]۔

نطشے کی تشکیل

[ترمیم]

نطشے 15 اکتوبر 1844ء کو روکن پرشیا میں پیدا ہوا۔ پرشیا فوجی اور سیاسی لحاظ سے ایک طاقتور ریاست بنتا جا رہا تھا۔ آسٹریا کو وہ جرمن معاملات سے علاحدہ کر چکا تھا۔ 1871ء میں پرشیا نے نپولین کی فتوحات کے نشے میں چور فرانس کو بد ترین شکست دی اور ورسائی پیرس کے مقام پر تمام چھوٹی چھوٹی جرمن ریاستوں کو متحد کر کے جرمن سلطنت کی بنیاد رکھی۔ نطشے اس ابھرتی ہوئی طاقتور جرمن سلطنت کی آواز بن گيا۔

نظریات

[ترمیم]

دلچسپ باتیں

[ترمیم]
  • بقول امریکی فلسفی ول ڈیورنٹ کے نیچہ ڈارون کا بیٹا اور بسمارک کا بھائی تھا۔
  • اقبال تعلیم کے لیے جرمنی جاتے ہیں اور نٹشے سے متاثر ہو کر آتے ہیں یہ بات جرمنی جانے سے پہلے اور بعد میں اقبال کی شاعری میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ اقبال کا مرد مومن کا تصور نٹشے کے فوق البشر کے بہت قریب ہے۔

تصانیف

[ترمیم]
  • المیہ کا جنم (The Birth of Tragedy) - 1872
  • مابین سچ اور جھوٹ ایک غیر اخلاقی احساس (On Truth and Lies in a Nonmoral Sense) - 1873
  • یونانیوں کے المناک دور میں فلسفہ (Philosophy in the Tragic Age of the Greeks) - 1873
  • اندیشہ ہائے بے ہنگم (Untimely Meditations) 1873-1876
  • بشر، سراپا بشر (Human, All Too Human) 1878-1880
  • طلوع فکر (The Dawn) - 1881
  • جشن دانش (The Gay Science) - 1882
  • یوں بولا زرتشت (Thus Spoke Zarathustra) - 1883-1885
  • خیر و شر سے ماورا (Beyond Good and Evil) - 1886
  • اخلاق کا نسب نامہ (On the Genealogy of Morality) - 1887
  • واگنر کا مقدمہ (The Case of Wagner)
  • اصنام کا زوال (Twilight of the Idols)
  • الدجال (The Antichrist)
  • خود آگہی کا اعجاز (Ecce Homo)
  • واگنر زوال آمادگی پر نطشے رد (Nietzsche contra Wagner)
  • زور غلبہ کی آرزو (The Will to Power)؛ مختلف غیر مطبوعہ مخطوطات جو اس کی بہن ایلزبتھ نے تدوین و ترامیم کے بعد شائع کیے

نٹشے اور اقبال

[ترمیم]

فریڈرک ولیم نٹشے۔ جرمن فلسفی‘ شاعر‘ موسیقار‘ ثقافتی نقاد اور ماہر لسانیات۔ اس کے فلسفہ قوت اور نظریہ فوق البشر کو جدید یورپ میں بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ علامہ اقبال نے تصورِ مومن شاید اسی کے تصورِ فوق البشر سے مستعار لیا تھا‘ جو سراسر غلط ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے ایک مکتوب بنام نکلسن میں اپنے تصورات کو واضح کر دیا تھا۔ علامہ اقبال نے نطشے کے منفی اور مثبت دونوں پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔ نٹشے کے بہت سے خیالات اسلامی تعلیمات سے مشابہ تھے لیکن وہ خدا کی ذات کا منکر تھا۔ جس کی وجہ سے اقبال نے اس کو ’قلبِ او مومن دماغش کافر است‘ کہا۔[31]

اقبال کے نزدیک نٹشے کی واردات کچھ ایسی ہی واردات تھی۔ اسے ذات انسانی میں الوہیت کی ایک جھلک تو نظر آئی لیکن وہ اس کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہا، جس کی وجہ تھی اس کی مادہ پرستی۔ بایں ہمہ اقبال کے نزدیک اس کے ذوق طلب کا جو عالم تھا یہ:

نہ جبریلے، نہ فردوسے، نہ حورے، نے خداوندے

کفِ خاکے کہ می سوزد ز جانِ آرزو مندے13؎

یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اقبال کے یہاں نٹشے کی قدردانی ہمدردی کی قدردانی ہے اخذ و اکتساب یا اثر پذیری کی قدردانی نہیں۔ اقبال کو یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ نٹشے کو کوئی ایسا رہنما نہ ملا جو اس کے واردات قلب اور افکارِ دماغ کی تربیت کرتا۔ وہ بڑا ذہین و فطین اور غیر معمولی قابلیتوں کا انسان تھا۔ ایک عظیم نابغہ جو اپنے دور کی مادیت پرستی کا شکار ہو گیا۔ اقبال کے نزدیک نٹشے کا معاملہ ایک ایسے مریض کا معاملہ ہے جس کا مداوا اطبا کی بجائے کوئی صاحب نظر انسان ہی کرسکتا تھا۔ وہ اگر زندہ ہوتا تو شاید اقبال خود بھی اس کی رہبری کرتا:

اگر ہوتا وہ مجذوبِ فرنگی اس زمانے میں

تو اقبال اس کو سمجھاتا مقامِ کبریا کیا ہے؎

لیکن یہ جو کچھ عرض کیا جارہا ہے اس لیے کہ اقبال اور نٹشے کے ذہنی روابط کے بارے میں اب تک جو کچھ لکھا گیا بڑا غلط بلکہ سر تا سر غلط ہے، چغل فہمی اور غلط بیانی پر مبنی جس کی ذمہ داری اقبال کے انگریز ناقدین اور اپنے اہل وطن کی خود اپنی روایات سے بے خبری پر عائد ہوتی ہے۔ بہرحال اس غلط بیانی اور غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اقبال اور نطشے کے خیالات میں جو سطحی مشابہت ہے اور وہ بھی صرف ایک پہلو سے اسے ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی تاآنکہ لوگ بھول گئے کہ یورپ میں اقبال کا ہم نوا فی الحقیقت کون ہے۔ انھوں نے گوئٹے کو نظر انداز کر دیا اور التفات کیا تو نٹشے کے فوق البشر سے۔ ایک روز یہی ذکر تھا۔ فرمایا میرے کم نظر ناقدین اس سطحی مشابہت کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ میں نے اگر نطشے کے بعض خیالات کو ہمدردی کی نگاہوں سے دیکھا یا اسرارِ خودی میں کوئی ایسی حکایت لے آیا جس کی مثال نٹشے کے یہاں موجود ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نطشے سے متفق الرائے ہوں یا میں نے اپنے خیالات اس سے اخذ کیے۔ ایک صاحب فن کا حق ہے جس حکایت کو جس مطلب کے لیے چاہے استعمال کرے

مذہبی تاریخ میں سطحی مشابہت حق پرستی اور فریب پرستی کے فریقین کو فارق کرنے کے لیے ضروری ہے اسی لیے انسانیت کا آخری نجات دہندہ اقبال کے قانونی اور اجتہادی پہلو کا شجر ہوگا نہ کہ شاعرانہ جدیدیت جو دراصل ایک بے لوث حکیمانہ خضری فلاحی اقدام ہے جس کا مقصد مشرقی موسویت اور جرمن حلاجیت کا اجماع ہے تاکہ انسانیت یکسو ہو کر انوار توحید و تکریم سے لطف اندوز ہو سکے

وفات

[ترمیم]

نٹشے کی وفات 25 اگست 1900ء ہے۔ الحاد کی تاریخ

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/memorial/1481 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 فروری 2026
  2. 1 2 جيني ویب سائٹ پر پروفائل ID: https://www.geni.com/profile/index/6000000022464951164 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 فروری 2026
  3. 1 2 عنوان : Biographisches Jahrbuch und Deutscher Nekrolog — جلد: 5 — صفحہ: 388-426 — بنام: Nietzsche, Friedrich Wilhelm — اخذ شدہ بتاریخ: 16 فروری 2026
  4. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 عنوان : Biographisches Jahrbuch und Deutscher Nekrolog — جلد: 5 — صفحہ: 388-426 — بنام: Nietzsche, Friedrich Wilhelm — اخذ شدہ بتاریخ: 25 فروری 2026
  5. https://www.e-periodica.ch/digbib/view?pid=bzg-002:1941:40::163#168 — اخذ شدہ بتاریخ: 8 دسمبر 2020
  6. تاریخ اشاعت: 25 ستمبر 2012 — Libris-URI: https://libris.kb.se/katalogisering/31fhj7hm1w1m1l6 — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018
  7. 1 2 3 4 5 جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118587943 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2024
  8. 1 2 3 4 عنوان : Biographisches Jahrbuch und Deutscher Nekrolog — جلد: 5 — صفحہ: 388-426 — بنام: Nietzsche, Friedrich Wilhelm — اخذ شدہ بتاریخ: 20 فروری 2026
  9. عنوان : Gemeinsame Normdatei — ربط: https://d-nb.info/gnd/118587943 — اخذ شدہ بتاریخ: 2 اپریل 2015 — اجازت نامہ: CC0
  10. 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — ربط: https://d-nb.info/gnd/118587943 — اخذ شدہ بتاریخ: 24 جون 2015 — اجازت نامہ: CC0
  11. 1 2 BeWeb person ID: https://www.beweb.chiesacattolica.it/persone/persona/1369/ — اخذ شدہ بتاریخ: 14 فروری 2021
  12. 1 2 abART person ID: https://cs.isabart.org/person/15739 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 اپریل 2021
  13. RKDartists ID: https://rkd.nl/artists/439285 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 دسمبر 2025
  14. 1 2 3 4 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118587943 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
  15. عنوان : Library of the World's Best Literature — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.bartleby.com/lit-hub/library
  16. مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb11917712p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
  17. کونر آئی ڈی: https://plus-legacy.cobiss.net/cobiss/si/sl/conor/7943267
  18. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=jn19990006124 — اخذ شدہ بتاریخ: 8 فروری 2025
  19. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=jn19990006124 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 فروری 2026
  20. مصنف: نطشے — عنوان : Götzen-Dämmerung oder wie man mit dem Hammer philosophirt — بنام: Nietzsche, Friedrich Wilhelm — اقتباس: Достоевский — единственный психолог, кстати говоря, от которого я многому научился; он принадлежит к прекраснейшим случайностям моей жизни, к лучшим даже, чем, например, открытие Стендаля.
  21. 1 2 3 http://anthropology.ru/ru/text/percev-av/fnicshe-dela-semeynye
  22. 1 2 3 http://www.nietzsche.ru/biograf/litera/niet-gercen/
  23. 1 2 3 http://virlib.eunnet.net/sofia/06-2003/text/0613.html
  24. John C. Wells (1990)۔ "Nietzsche"۔ Longman Pronunciation Dictionary۔ Harlow, UK: لونگ مین۔ ص 478۔ ISBN:978-0582053830
  25. Duden – Das Aussprachewörterbuch 7. Berlin: ببلیوگرافیشس انسٹی ٹیوٹ. 2015. ISBN 978-3411040674. p. 633.
  26. Eva-Maria Krech; Eberhard Stock; Ursula Hirschfeld; Lutz Christian Anders (2009). Deutsches Aussprachewörterbuch [German Pronunciation Dictionary] (بزبان جرمن). Berlin: Walter de Gruyter. pp. 520, 777. ISBN:978-3110182026.
  27. Lester H. Hunt (1985)۔ "Politics and Anti-Politics: Nietzsche's View of the State"۔ History of Philosophy Quarterly۔ ج 2 شمارہ 4: 453–468۔ ISSN:0740-0675
  28. https://www.biography.com/scholars-educators/friedrich-nietzsche
  29. https://www.biography.com/scholars-educators/friedrich-nietzsche
  30. https://www.britannica.com/biography/Friedrich-Nietzsche
  31. (تحریر و تحقیق: میاں ساجد علی‘ علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی)
 یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
  1. /ˈnə, ˈni/ NEE-chuh, NEE-chee;[24][25][26]
  2. جنوری 1889ء میں ذہنی خرابی اور اگلے سال دو فالج کے جھٹکوں کے بعد، اس وقت کے رائج طبی نمونے کے مطابق نیچہ میں ابتدائی طور پر آتشک (سفیلس) کی تشخیص کی گئی تھی۔ فالج اور عروقی ہذیاں سے لڑنے والے 11 برسوں کے پہلے دو سالوں کے دوران، نیچہ عظمت کے وہم کا شکار ہونے کے باوجود خطوط لکھنے کے قابل تھے، جن پر وہ اکثر دیونیوسوس کے طور پر دستخط کرتے تھے۔