فصیل جدہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فصیل جدہ (عربی: سور جدة) جدہ شہر کے گرد ایک حفاظتی فصیل تھی جو سولہویں صدی سے بیسویں صدی تک موجود رہی۔ فصیل جدہ یہ سعودی عرب کے مغربی شہر جدہ کے تاریخی علاقے میں واقع تھی۔ اسے پرتگیزی حملوں سے بچاو کے لیے آخری برجی سلطان الاشرف قانصوہ غوری کے حکم سے 917ھ بمطابق 1509ء میں تعمیر کیا گیا۔

دروازے[ترمیم]

فصیل جدہ میں آٹھ دروازے تھے جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔

باب الصبہ[ترمیم]

باب الصبہ (عربی: باب الصبة) سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ اس کا نام لغوی معنی ڈالنا ہیں کیونکہ درآمد شدہ اناج میں اس دروازے پر ڈال دیا جاتا تھا جہاں سے تاجر لوگ اس کو تھیلوں میں بھر کر وزن کر کے گوداموں میں منتقل کر دیتے تھے۔ اس وقت یہ دروازہ کئی اہم سرکاری محکموں سے گھرا ہوا تھا اس لیے بھی کافی اہمیت کا حامل تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ بلدیہ اور بائیں جانب ڈاک خانہ وتار گھر اور ایک پولیس اسٹیشن تھا۔ اس کے عدالت بھی اس کے قریب تھی۔ [1]

باب المدینہ[ترمیم]

باب المدینہ (عربی: باب المدينة) سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ یہ شامی محلے میں واقع باغ کے سامنے واقع تھا جو منہدم کر دیا گیا ہے۔ یہ دروازہ قشلہ اس میں موجودہ فوجی بیرکوں تک جانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ مدینہ منورہ جانے کے لیے مسافر اس دروازے سے روانہ ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ مکہ جانے کے لیے بھی مسافر یہی دروازہ استعمال کرتے تھے کیونکہ قافلے جدہ کے مغربی دروازے باب مکہ تک آسانی سے منتقل نہیں ہو سکتے تھے۔ [2]

باب المغاربہ[ترمیم]

باب المغاربہ (عربی: باب المغاربة) سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر کی مغربی دیوار میں تیسرا دروازہ تھا۔ اس کا مقام شارع شاہ عبدالعزیز پر واقع موجودہ عمارت جفالی ہے۔ بحری راستے سے آنے والے حجاج کے لیے شہر میں داخلے کا واحد دروازہ تھا۔ [3] اس کے بعد حجاج باب المدینہ یا باب مکہ سے حرمین کو روانہ ہو سکتے تھے۔

باب النافعہ[ترمیم]

باب النافعہ کا مقام، پیچھے مرکز المحمل کی عمارت نظر آ رہی ہے

باب النافعہ (عربی: باب النافعة) سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر کی فصیل میں مغرب سے جنوب کی طرف پہلا دروازہ تاہم قدیم ترین نہیں ہے۔ یہ جزوی طور شارع شاہ عبد العزیر پر واقع "مرکز المحمل" کی جگہ پر موجود تھا۔ [4]

باب جدید[ترمیم]

باب جدید

باب جدید (عربی: باب جديد) سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ سعودی عہد آغاز میں ایک نیا دروازہ بنایا گیا اسی منسبت سے اس کا نام باب جدید تھا۔ یہ 1930ء کی دہائی کے اواخر اور 1940ء کی دہائی کے آغاز میں بنا۔ یہ فصیل جدہ میں بنایا گیا آضری دروازہ تھا۔ یہ ایک دہرا دروازہ تھا میں سے ٹریفک باآسانی اندر اور بار جا سکتی تھی۔ [5] اصل دروازہ مسمار ہو چکا تھا تاہم اسی مقام پر اب نیا دروازہ بنایا گیا ہے۔ یہیں پر ہر سال تاریخی جدہ کا میلہ بھی سجایا جاتا ہے۔ [6]

باب شریف[ترمیم]

باب شریف (عربی: باب شريف) سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ باب شریف کو جدہ کا جنوبی دروازہ تصور کیا جاتا ہے۔ [7] اس کا نام شریف مکہ کی مناسبت سے ہے۔ عام طور پر اسی دورازے سے قاصد آیا جاتا کرتے تھے۔ باب شریف واحد دروازہ ہے جو اپنی جگہ پر سلامت ہے باقی تمام دروازے مسمار کر دیے گئے تھے۔

باب صریف[ترمیم]

باب صریف کا مقام بحر الاحمر ہوٹل کے قریب

باب صریف (عربی: باب صريف) سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ یہ مغربی دیوار میں چوتھا دروازہ تھا۔ اس کا مقام بحر الاحمر ہوٹل اور فیصلیہ عمارت کے درمیان تھا۔ اس کی وجہ تسمیہ غیر معلوم ہے۔ [8]

باب مکہ[ترمیم]

باب مکہ (عربی: باب مكة) سعودی عرب کے شہر قدیم جدہ کی فصیل میں موجود آٹھ دروازوں میں سے ایک ہے۔ یہ مکہ کی سمت مشرقی دروازہ ہے۔ یہ بدو بازار کے سامنے واقع ہے اور یہاں پرانی چیزوں کو بازار بھی لگتا تھا۔ شیخ اسد قبرستان بھی اس کے ساتھ ہی ہے جو فصیل شہر سے باہر تھا۔ [9]

اصل دروازہ مسمار ہو چکا ہے تاہم اسی مقام پر نیا دروازہ اسی طرز پر بنایا گیا ہے۔ باب مکہ روایتی خریداری کے لیے آج بھی بہت مقبول ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ جدہ کے مرکز میں ایک پرکشش علاقہ بن گیا ہے۔ جدید خریداری مراکز بننے کے باوجود یہ مقام خریداروں، زائرین اور سیاحوں سے بھرا رہتا ہے جو مکہ جدہ میں فعال تجارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں اشیا مناسب قیمتوں پر فروخت ہوتی ہیں اور اس کے علاوہ یہاں کئی تاریخی مقامات بھی موجود ہیں جن میں مسجد شافعی اور بیت نصیف سب سے اہم ہیں۔ [10]

حوالہ جات[ترمیم]