فضل الله نوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فضل الله نوری
Sheikh Fazlollah Noori.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 24 دسمبر 1843 ایران
لاشاک  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 31 جولائی 1909 ایران
تہران  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات پھانسی  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات سزائے موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iran.svg ایران  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
مکتب فکر شیعہ
عملی زندگی
استاذ میرزا حسن شیرازی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص روح اللہ خمینی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شیخ فضل اللہ بن عباس مازندرانی( 24 دسمبر 1843 – 31 جولائی 1909) جنہیں فضل اللہ نوری بھی کہا جاتا ہے، 20 ویں صدی کے اوائل میں قاجار ایران کےایک شیعہ عالم دین تھے جو اخوانی شیعیت کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ نوری ایک امیر درباری عالم تھے جو شاہی خاندان کی شادیوں اور معاہدوں کے ذمہ دار تھے۔ آپ دولت مندوں کی وقف کردہ املاک کو سنبھالنے اور مذہبی چندوں کے انتظام کی وجہ سے کافی شاہانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ [1] ایران میں برپا ہونے والے ایشیا کے پہلے جمہوری انقلاب میں ایک متنازعہ سیاسی شخصیت کے طور پر انہوں نے شاہی دربار کے ماحول کے مطابق اپنا سیاسی موقف تبدیل کیا۔پانچویں قاجار بادشاہ مظفرالدین شاہ کی زندگی میں آپ نے جمہوری تحریک کا ساتھ دیا کیونکہ بادشاہ نے جمہوری اصلاحات کے مطالبات کو تسلیم کیا اور سیاسی اختیارات پارلیمنٹ کو دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ تاہم ان کی موت کے بعد یہ محسوس کرتے ہوئے کہ نئے بادشاہ محمد علی شاہ قاجار نے پارلیمنٹ کو بند کرنے اور قرون وسطیٰ کی بادشاہی مطلق العنانیت کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا ہے، آپ جمہوریت کے خلاف ہو گئے۔ [2]آپ نے شاہ کے ساتھ مل کر جدید پارلیمانی نظام کے خلاف شدید پروپیگنڈہ کیا اور جدید معاشرے کے تحریری آئین کو مذہبی فقہ سے خلط کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ اسلام کے مطابق فرد واحد کو مطلق العنان حاکم ہونا چاہئیے، قوانین بنانے کا حق دربار کے علماء کے پاس ہونا چاہئیے اور پارلیمنٹ ( مجلس ) کا کردار بادشاہ کے مشیروں کا ہونا چاہئیے۔ [3] [4] انہوں نے شاہ کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ کے ارکان اور جمہوریت نواز علماء کو قتل کرایا جس کے نتیجے میں انقلاب کی کامیابی کے بعد شیخ ابراہیم زنجانی کی سربراہی میں قائم ہونے والی عدالت نے غداری کے الزام میں انہیں پھانسی کی سزا سنائی۔ اسے توپخانہ چوک میں ایک ہجوم کے سامنے پھانسی دے دی گئی۔ [5]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

آپ ملا عباس کجوری کے بیٹے تھے۔ کجور اور تہران میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد شیخ فضل اللہ عراق چلے گئے جہاں انہوں نے ایک ممتاز شیعہ عالم مرزا حسن شیرازی سے تعلیم حاصل کی۔ تہران واپس آنے کے بعدانہوں نے ایک ممتاز عالم دین کے طور پر پہچان بنائی اور شاہی دربار کے قریب ہو گئے۔ تاجر اور دربار کے عہدیدار اپنے قانونی مقدمات کے تصفیہ کے لیے ان سے رجوع کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کچھ کتابیں اور رسالے بھی تصنیف کئے۔ [6]

1880 کی دہائی میں قاجار حکومت کی طرف سے غیر ملکی تاجروں کو بڑھتی ہوئی کاروباری رعایت کے جواب میں فضل اللہ نوری سیاست میں آ گئے۔ اپنے استاد مرزا شیرازی کے فتوے کی تشہیر میں کردار ادا کیا۔ [6]

جمہوریت کے خلاف پروپیگنڈا اور مراجع کا جواب[ترمیم]

چوتھے قاجار بادشاہ ناصر الدین شاہ کو جمال الدین افغانی کے پیروکار مرزا رضا کرمانی نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ یکم مئی 1896 کو شاہ عبدالعظیم کے مزار پر حاضری اور دعا مانگ رہے تھے۔ ان کے بیٹے مظفر الدین شاہ کو حکومت سنبھالتے ہی مالی بحران کا سامنا کرنا پڑاکیوں کہ سالانہ سرکاری اخراجات بہت زیادہ بڑھ چکے تھے۔ اپنے دور حکومت میں مظفر الدین شاہ نے معیشت میں کچھ اصلاحات کی کوشش کی۔ تاہم سابقہ دور میں اٹھاۓ گئے قرضوں نے نے اس کوشش کوناکام بنایا۔ مراعات اور غیر ملکی مداخلت کے بارے میں تعلیم یافتہ اشرافیہ اور مذہبی رہنماؤں کے درمیان پھیلی تشویش کے نتیجے میں 1906 میں عوام نے آئینی جمہوریت کیلئے احتجاج شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں شاہ نے اکتوبر 1906 میں مجلس (قومی مشاورتی اسمبلی) بنانے کی تجویز کو قبول کیا، جس کے ذریعے بادشاہ کی طاقت کو کم کر دیا گیا مگر اس منصب کو باقی رکھا گیا کیونکہ شاہ نے عوام کو آئین اور پارلیمنٹ بنانے کا حق دے دیا تھا۔ بادشاہ مظفرالدین شاہ نے اپنی موت سے کچھ دیر پہلے 1906 میں بننے والے ایران کے پہلے آئین پر دستخط کیے۔ نوتشکیل شدہ پارلیمنٹ کے ارکان نجف کے مرجع اعلی آخوند خراسانی سے مسلسل رابطے میں رہے اور جب بھی قانون سازی کے بلوں پر بحث ہوتی تو فقہی رائے کے لیے تفصیلات ان کی طرف ٹیلی گراف کے ذریعے بھیجی جاتی تھیں۔ [7] 3 جون 1907 کو ایک خط میں پارلیمنٹ نے آخوند کو آئین مخالفوں کے ایک گروہ کے بارے میں بتایا جوشرعی نظام کے نام پر جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے جواب میں نجف سے تین مراجع نے متفقہ فتویٰ دیتے ہوۓ کہا: [7] [8]

فارسی:

اساس این مجلس محترم مقدس بر امور مذکور مبتنی است. بر هر مسلمی سعی و اهتمام در استحکام و تشیید این اساس قویم لازم، و اقدام در موجبات اختلال آن محاده و معانده با صاحب شریعت مطهره علی الصادع بها و آله الطاهرین افضل الصلاه و السلام، و خیانت به دولت قوی شوکت است.

الاحقر نجل المرحوم الحاج میرزا خلیل قدس سره محمد حسین، حررّہ الاحقر الجانی محمد کاظم الخراسانی، من الاحقر عبدالله المازندرانی [9]

’’پارلیمنٹ کی بنیاد اسلام کے اصولوں پر رکھی گئی ہے، لہٰذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اس کی حمایت کرے۔ اور جو لوگ اسےناکام بنانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کایہ عمل شریعت کے منافی ہے۔‘‘
- مرزا حسین تہرانی، محمد کاظم خراسانی، عبداللہ مازندرانی۔
آیات ثلاث: (دائیں سے بائیں) آیۃ اللہ العظمی ٰ شیخ عبداللہ مازندرانی، آیۃ اللہ العظمی ٰ مرزا حسین تہرانی اور آیۃ اللہ العظمی ٰ آخوند خراسانی

جمہوری تحریک کے آغاز میں شیخ فضل اللہ نوری نجف کے مراجع تقلید کی حمایت کرتے رہے۔ تاہم جب نئے بادشاہ محمد علی شاہ قاجار نے جمہوریت کو ختم کرنے اور فوجی اور غیر ملکی حمایت سے اپنی مطلق العنان حکومت دوبارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا، تو شیخ فضل اللہ نے ان کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ [2]

دریں اثنا نئے بادشاہ نے سمجھ لیا تھا کہ وہ شاہ سے وفاداری کے نام پر آئینی جمہوریت کو ختم نہیں کر سکتے نہ اس طرح پرانا دور واپس لا سکتے ہیں، اس لیے انہوں نے مذہب کا کارڈ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ [10] نوری ایک امیر اور اعلیٰ درجے کے درباری تھے۔ [1] انہوں نے پارلیمنٹ کے ادارے کی بنیادوں کو نشانے پر رکھ لیا۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو ساتھ لے کر 21 جون 1907 کو شاہ عبدالعظیم کے مزار پر دھرنا شروع کر دیاجو 16 ستمبر 1907 تک جاری رہا۔ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مذہب کے تصور کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر پیش کیاجس میں جدید دور کے ہر سوال کا جواز پہلے سے موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت "کیمسٹری، فزکس اور غیر ملکی زبانوں کی تعلیم" کی اجازت دے گی، جس کے نتیجے میں الحاد پھیلے گا۔ [11] اپنی باتوں کو ملک کے گوشہ و کنار تک پہنچانے کیلئے انہوں نے ایک پرنٹنگ پریس خریدا اورایک اخبار "روزنامہ شیخ فضل اللہ" شروع کیا اور چھوٹے چھوٹے کتابچے شائع کیے۔ [12] اس کا خیال تھا کہ حکمران خدا کے علاوہ کسی ادارے کے سامنے جوابدہ نہیں ہے اور لوگوں کو اختیارات کو محدود کرنے یا بادشاہ کے طرز عمل پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمہوری طرز حکومت کی حمایت کرنے والے بے ایمان اور بدعنوان اور مرتد ہیں۔ [13] انہوں نے خواتین کی تعلیم کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ لڑکیوں کے اسکول بدکاری کے اڈے ہیں۔ [14] اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدید صنعت کے لیے فنڈز مختص کرنے، جدید طرز حکمرانی، اقلیتوں کے لیے مساوی حقوق اور آزادی صحافت کی بھی مخالفت کی۔ ان کا ماننا تھا کہ لوگ مویشی ہیں، لیکن کھلا تضاد یہ ہے کہ وہ انہی مسلم بھائیوں کو بیدار بھی کرنا چاہتے تھے۔ [15]

جمہوریت مخالف مولویوں نے لوگوں کو تشدد پر بھی اکسایا اور پارلیمنٹ کے باہر جلسہ کرتے ہوئے نوری گروپ کے ایک مولوی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے قریب جانا زنا، چوری اور قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ [16] زنجان میں ملا قربان علی زنجانی نے چھ سو غنڈوں کی ایک فوج کو جمع کیا جنہوں نے جمہوریت کے حامی تاجروں کی دکانیں لوٹ لیں اور کئی دنوں تک شہر پر قبضہ کر کے نمائندے سعد السلطنہ کو قتل کر دیا۔ [17] نوری صاحب نے جمہوریت کے حامیوں کو ہراساں کرنے کے لیے جرائم پیشہ گروہوں سے رابطہ کر کے کرائے کے غنڈوں کو بھرتی کیا۔ 22 دسمبر 1907 کو نوری ایک ہجوم کی قیادت کرتے ہوئے توپخانہ اسکوائر کی طرف گئے اور تاجروں پر حملہ کیا اور دکانوں کو لوٹ لیا۔[18]  بادشاہ اور جاگیرداروں سے نوری کے تعلقات نے ان کے جنون کو مزید تقویت دی۔ حتیٰ کہ انہوں نے مدد کے لیے روسی سفارت خانے سے رابطہ کیا اور ان کے آدمیوں نے مساجد میں جمہوریت کے خلاف تقریریں کیں، جس کے نتیجے میں افراتفری پھیل گئی۔  [19] اس معاملے میں آخوند خراسانی سے مشورہ کیا گیا اور 30 دسمبر 1907 کو ایک خط میں تینوں مراجع نے کہا: [20]

فارسی:

چون نوری مخل آسائش و مفسد است، تصرفش در امور حرام است.

محمد حسین (نجل) میرزا خلیل، محمد کاظم خراسانی، عبدالله مازندرانی [21]

"چونکہ نوری مصیبت اور فتنہ کا باعث ہے، اس لیے اس کا کسی بھی معاملے میں دخل دینا حرام ہے۔"
- مرزا حسین تہرانی، محمد کاظم خراسانی، عبداللہ مازندرانی۔

تاہم، نوری نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور چند ہفتوں بعد آخوند خراسانی اور باقی دو مراجع نے انہیں تہران سے نکالے جانےکا فتویٰ دے دیا: [22]

فارسی:

رفع اغتشاشات حادثه و تبعید نوری را عاجلاً اعلام.

الداعی محمد حسین نجل المرحوم میرزا خلیل، الداعی محمد کاظم الخراسانی، عبدالله المازندرانی [23]

"امن بحال کریں اور نوری کو جلد از جلد شہر بدر کریں۔"
- مرزا حسین تہرانی، محمد کاظم خراسانی، عبداللہ مازندرانی۔

جہاں تک نوری کے استدلال کا تعلق ہے، آخوند خراسانی نے شاہ عبدالعظیم کے مزار پر لگے ہوۓ مجمعے کی سب ایرانیوں پر اپنی راۓ تھوپنے کی کوشش کا الزامی رد کرتے ہوۓ کہا کہ وہ "بہارستان چوک پر موجود پارلیمنٹ" کی حمایت کرتے ہیں۔ [24]

آخوند خراسانی کو جدید دور میں اصولی شیعہ مکتب فکر کا سب سے بڑا نظریہ پرداز کہا جاتا ہے۔

شیعہ اسلام میں امام کی غیبت سے مراد اس عقیدے کی طرف اشارہ ہے کہ امام مہدی ، جو کہ اسلام کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل سے پیدا ہوۓ ہیں ، ایک دن حضرت عیسیٰ کے ساتھ آئیں گے اور عالمی انصاف قائم کریں گے۔ آخوند خراسانی اور ان کے ساتھیوں نے امام کی غیر موجودگی میں مذہبی سیکولرازم کا ایک نظریہ پیش کیا، جو آج بھی شیعہ مدارس میں غالب ہے اور جس کے مطابق مذہبی رہنما اپنی مذہبی حیثیت کی بنیاد پر کوئی سیاسی عہدہ قبول نہیں کرتے۔ یہ نظریہ آیت الله خمینی کے نظریہ ولایت مطلقہ فقیہ کے برعکس ہے اور اس کے مطابق مثالی حکمران یعنی امام مہدی کی عدم موجودگی میں سیکولر جمہوریت بہترین دستیاب آپشن ہے۔ مثالی حکمران یعنی امام مہدی کی غیبت میں جمہوریت ایک کامل نظام نہیں لیکن غیر معصوم کی آمریت سے بہتر ہے۔ [25] وہ آئینی جمہوریت کی مخالفت کو امام مہدی کے خلاف بغاوت سمجھتے ہیں۔ [26] انہوں نے آئینی جمہوریت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اورکہا کہ "جمہوری آئین کی بنیادوں" پر اعتراض غیر اسلامی ہے۔ [17] آخوند کے مطابق، "ایک صحیح مذہب انسانوں کے اعمال اور کردار پر پابندیاں عائد کرتا ہے"، جو کہ مقدس متن یا منطقی استدلال سے سمجھی جاتی ہیں اور یہ پابندیاں بنیادی طور پر استبداد کو روکنے کے لیے ہیں۔ [27]ان کاکہنا ہے کہ اسلامی نظام حکومت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ امام معصوم حاضر نہ ہو۔ غیبت امام میں مناسب قانون سازی سے ریاستی جبر کو کم کرنے، امور کے بہتر انتظام اور امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کی کوشش ہی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا : [28]

"شیعہ عقیدہ کے مطابق صرف امام معصوم کو حکومت کرنے، لوگوں کے معاملات چلانے، مسلم معاشرے کے مسائل کو حل کرنے اور اہم فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کے زمانے میں تھا یا امیر المومنین علی علیہ السلام کی خلافت کے زمانے میں تھا اور جیسا کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور واپسی کے وقت ہوگا۔ اگر سیاسی ولایت مطلقہ معصوم کے علاوہ کسی کے پاس ہو تو یہ غیر اسلامی حکومت ہوگی۔ چونکہ یہ غیبت کا زمانہ ہے، اس لیے دو طرح کی غیر اسلامی حکومتیں ہو سکتی ہیں: پہلی نسبتاً عادلانہ جمہوریت جس میں لوگوں کے معاملات ایماندار اور پڑھے لکھے لوگوں کے ہاتھ میں ہوں اور دوسری ظالم حکومت کہ جس میں ایک آمر کو مطلق اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ لہٰذا شریعت اور عقل دونوں کی رو سے عدل ظلم سے بہتر ہے۔ انسانی تجربے اور محتاط غور و فکر سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ جمہوریت ریاست کے جبر کو کم کرتی ہے اور چھوٹی برائی کو ترجیح دینا واجب ہے۔"

- محمد کاظم خراسانی

فارسی: سلطنت مشروعه آن است کہ متصدی امور عامه ی ناس و رتق و فتق کارهای قاطبه ی مسلمین و فیصل کافه ی مهام به دست ‏شخص معصوم و موید و منصوب و منصوص و مأمور مِن الله باشد مانند انبیاء و اولیاء و مثل خلافت ‏امیرالمومنین و ایام ظهور و رجعت حضرت حجت، و اگر حاکم مطلق معصوم نباشد، آن سلطنت غیرمشروعه است، ‏چنان‌ کہ در زمان غیبت است و سلطنت غیرمشروعه دو قسم است، عادله، نظیر مشروطه کہ مباشر امور عامه، عقلا و متدینین ‏باشند و ظالمه و جابره است، مثل آنکه حاکم مطلق یک نفر مطلق‌ العنان خودسر باشد. البته به صریح حکم عقل و به فصیح ‏منصوصات شرع «غیر مشروعه ی عادله» مقدم است بر «غیرمشروعه ی جابره». و به تجربه و تدقیقات صحیحه و غور ‏رسی‌ های شافیه مبرهن شده که نُه عشر تعدیات دوره ی استبداد در دوره ی مشروطیت کمتر می‌شود و دفع افسد و اقبح به ‏فاسد و به قبیح واجب است.[29]

- محمد کاظم خراسانی

آخوند کے نزدیک "جیسا کہ شریعت مقدسہ اور مذہب کی تعلیمات سے واضح ہے"، ایک اسلامی حکومت صرف معصوم امام ہی تشکیل دے سکتے ہیں۔[30] آقا بزرگ تہرانی کے بقول آخوند خراسانی کہتے تھے کہ اگر کسی بھی دور میں صحیح معنوں میں اسلامی حکومت کے قیام کا امکان ہو تو خدا امام زمانہ کی غیبت کو ختم کردے گا۔ اس لیے آخوند نے فقیہ کی حکومت کے خیال کو باطل قرار دیا۔[31] آخوند کے مطابق شیعہ فقہا کو جمہوری اصلاحات کی حمایت کرنی چاہیے۔ وہ اجتماعی عقل کو فردی عقل پر ترجیح دیتے ہیں اور فقیہ کے کردار کو ایک مومن کے ذاتی زندگی کے معاملات میں مذہبی رہنمائی فراہم کرنے تک محدود سمجھتے ہیں۔ [32] وہ جمہوریت کی تعریف ایک ایسے نظام حکمرانی کے طور پر کرتے ہیں جو ریاست کے سربراہ اور سرکاری ملازمین پر کلی "حدود اور شرائط" نافذ کرتا ہے تاکہ وہ ان حدوں کے اندر کام کریں جو قوم کے ہر فرد کیلئے یکساں ہوں۔ آخوند کا خیال ہے کہ جدید سیکولر قوانین روایتی مذہب کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مذہبی احکام اور مذہب کے دائرہ سے باہر کے قوانین دونوں ہی "ریاستی استبداد" کا مقابلہ کرتے ہیں۔[33] آئین سازی کا تصور "انسانوں کی موروثی اور فطری آزادیوں" کے دفاع کے اصول پر قائم ہے اوراس کے برعکس مطلق طاقت مطلق بدعنوانی کا موجب بن کر قوم کی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا راستہ بند کر دیتی ہے۔ [34]

نوری نے شریعت کی تشریح اپنی انا اور تنگ نظری کی بنیاد پر کی، جبکہ آخوند خراسانی گہری ہمہ جانبہ تحقیق کے بعد کوئی رائے قائم کرتے اور معاشرے میں مذہب سے وابستگی کو ایک فرد یا ایک تشریح کی پیروی سے بالاتر سمجھتے تھے۔ [35] جوری نے شریعت کو ایک جدید معاشرے کے تحریری آئین کے ساتھ خلط ملط کیا، لیکن آخوند خراسانی دونوں کے فرق اور دائرہ کار کو سمجھتے تھے۔ [3]

سزاۓ موت[ترمیم]

شیخ ابراہیم زنجانی اس عدالت کے سربراہ تھے جس نے فضل اللہ نوری کو موت کی سزا سنائی۔[36]

نوری نے محمد علی شاہ قاجار کے ساتھ مل کر روسی فضائیہ کی مدد سے 1907 میں مجلس (پارلیمنٹ)کو برخاست کر کے بمباری کرائی اور متعدد افراد کے قتل کا جواز فراہم کیا تھا۔ آخوند خراسانی نے محمد علی شاہ کی بغاوت کا جواب دیتے ہوئے اس کو "سفاک جابر" قرار دیا اور لوگوں سے ٹیکس ادا کرنا بند کرنے اور ظالم سے لڑنے کو کہا۔ [37] ایک بیان میں، جس پر دوسرے دو مراجع نے بھی دستخط کیے، انہوں نے کہا:

فارسی:

به عموم ملت ایران، حکم خدا را اعلام می داریم، الیوم همت در دفع این سفاک جبار، و دفاع از نفوس و اعراض و اموال مسلمین از اهم واجبات، و دادن مالیات به گماشتگان او از اعظم محرمات، و بذل جهد و سعی بر استقرار مشروطیت به منزله جہاد در رکاب امام زمان ارواحنا فداه، و سر موئی مخالفت و مسامحه به منزله خذلان و محاربه با آن حضرت صلوات الله و سلامه علیه است. اعاذ الله المسلمین من ذلک. ان شا الله تعالیٰ

الاحقر عبدالله المازندرانی، الاحقر محمد کاظم الخراسانی، الاحقر نجل الحاج میرزا خلیل [38]

"ایرانی قوم کی شرعی ذمہ داری یہ ہے: آج اس ظالم غاصب کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرنا اور مسلمانوں کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرنا سب سے بڑا واجب ہے۔ اس حکومت کے افسروں کو ٹیکس دینا گناہ کبیرہ ہے۔ جمہوریت کی بحالی کے لیے کام کرنا اتنا ہی اچھا ہے جتنا امام مہدی کے مقصد کے لیے لڑنا اور آئین کی مخالفت کرنا ان کے لشکر سے نکل جانے کے مترادف ہے۔ خدا ہم سب کی مدد کرے۔"
- مرزا حسین تہرانی، محمد کاظم خراسانی، عبداللہ مازندرانی۔

16 جولائی 1909 کو شاہ کو معزول کر دیا گیا اور جمہوریت بحال ہوئی۔ نوری کو گرفتار کیا گیا، مقدمہ چلایا گیا اور " بدعنوانی اور بغاوت" کا مجرم ثابت ہونے پر سزاۓ موت سنا دی گئی۔ [5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

کتابیات[ترمیم]

  • Farzaneh، Mateo Mohammad (March 2015). Iranian Constitutional Revolution and the Clerical Leadership of Khurasani. Syracuse, NY: Syracuse University Press. ISBN 9780815633884. OCLC 931494838. 
  • Hermann، Denis (1 May 2013). "Akhund Khurasani and the Iranian Constitutional Movement". Middle Eastern Studies. 49 (3): 430–453. ISSN 0026-3206. JSTOR 23471080. doi:10.1080/00263206.2013.783828. 
  • احمد کسروی, Tārikh-e Mashruteh-ye Iran (تاریخ مشروطهٔ ایران) (History of the Iranian Constitutional Revolution), in Persian, 951 p. (Negāh Publications, Tehran, 2003), آئی ایس بی این 964-351-138-3. Note: This book is also available in two volumes, published by Amir Kabir Publications in 1984. Amir Kabir's 1961 edition is in one volume, 934 pages.
  • Ahmad Kasravi, History of the Iranian Constitutional Revolution: Tārikh-e Mashrute-ye Iran, Volume I, translated into English by Evan Siegel, 347 p. (Mazda Publications, Costa Mesa, California, 2006). آئی ایس بی این 1-56859-197-7

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Farzaneh 2015, pp. 195.
  2. ^ ا ب Arjomand، Said Amir (16 Nov 1989). The Turban for the Crown: The Islamic Revolution in Iran (بزبان انگریزی). Oxford: Oxford University Press. صفحات 50–52. ISBN 978-0-19-504258-0. 
  3. ^ ا ب Farzaneh 2015, p. 201.
  4. Jahanbegloo، Ramin (2004). Iran: Between Tradition and Modernity. Lexington Books. صفحہ 82. ISBN 9780739105306. 
  5. ^ ا ب Abrahamian, Ervand, Tortured Confessions by Ervand Abrahamian, University of California Press, 1999 p. 24
  6. ^ ا ب Martin، Vanessa. "NURI, Ḥājj Shaikh FAŻL-ALLĀH – Encyclopaedia Iranica". www.iranicaonline.org (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 14 نومبر 2017. 
  7. ^ ا ب Farzaneh 2015, pp. 173–174.
  8. Bayat, Mangol (1991). “Iran's First Revolution: Shi'ism and the Constitutional Revolution of 1905-1909”. Studies in Middle Eastern History. Oxford, New York: Oxford University Press. p. 181. ISBN 978-0-19-506822-1.
  9. محسن کدیور، ”سیاست نامه خراسانی“، ص۱۶۹، طبع دوم، تہران سنه ۲۰۰۸ء
  10. Arjomand, Said Amir (16 November 1989). The Turban for the Crown: The Islamic Revolution in Iran. Oxford: Oxford University Press. pp. 48–49. ISBN 978-0-19-504258-0.
  11. Farzaneh 2015, pp. 196.
  12. Farzaneh 2015, pp. 197.
  13. Farzaneh 2015, pp. 198.
  14. Farzaneh 2015, pp. 199.
  15. Arjomand, Said Amir (16 November 1989). The Turban for the Crown: The Islamic Revolution in Iran. Oxford: Oxford University Press. p. 51. ISBN 978-0-19-504258-0.
  16. Farzaneh 2015, pp. 193.
  17. ^ ا ب Farzaneh 2015, pp. 160.
  18. Farzaneh 2015, p. 205.
  19. Bayat, Mangol (1991). “Iran's First Revolution: Shi'ism and the Constitutional Revolution of 1905-1909”. Studies in Middle Eastern History. Oxford, New York: Oxford University Press. p. 182. ISBN 978-0-19-506822-1.
  20. Farzaneh 2015, pp. 212.
  21. محسن کدیور، ”سیاست نامه خراسانی“، ص۱۷۷، طبع دوم، تہران سنه ۲۰۰۸ء
  22. Hermann 2013, pp. 437.
  23. محسن کدیور، ”سیاست نامه خراسانی“، ص١٨٠، طبع دوم، تہران سنه ۲۰۰۸ء
  24. Farzaneh, Mateo Mohammad (2015). “The Iranian Constitutional Revolution and the Clerical Leadership of Khurasani”. Syracuse, New York: Syracuse University Press. p. 203. ISBN 978-0-8156-5311-0.
  25. Farzaneh 2015, pp. 152.
  26. Farzaneh 2015, pp. 159.
  27. Farzaneh 2015, pp. 161.
  28. Farzaneh 2015, pp. 162.
  29. محسن کدیور، ”سیاست نامه خراسانی“، ص ۲۱۴-۲۱۵، طبع دوم، تہران سنه ۲۰۰۸ء
  30. Hermann 2013, pp. 434.
  31. Farzaneh 2015, pp. 220.
  32. Hermann 2013, pp. 436.
  33. Farzaneh 2015, pp. 166.
  34. Farzaneh 2015, pp. 167.
  35. Farzaneh 2015, pp. 200.
  36. Hermann 2013, p. 440.
  37. Hermann 2013, pp. 446.
  38. محسن کدیور، ”سیاست نامه خراسانی“، ص ۲۱۰، طبع دوم، تہران سنه ۲۰۰۸ء