شافعی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(فقہ شافعی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Allah-green.svg

بسلسلہ شرعی علوم
علم فقہ

شریعت اسلامی کی اصطلاح میں امام شافعی کی فقہ پر عمل کرنے والے مسلمان شوافع کہلاتے ہیں۔ فقہ شافعی اور فقہ مالکی کے ماننے والوں کی تعداد فقہ حنفی کے بعد سب سے زیادہ ہے اور آج کل ان کی اکثریت ملائیشیا، انڈونیشیا، حجاز، مصر و شام اور مشرقی افریقا میں ہے۔ فقہ حنفی کی طرح فقہ شافعی بھی کافی وسیع ہے۔

فقہ شافعی کے اصول[ترمیم]

ابن ادریس شافعی نے اپنی کتاب الرسالہ لکھی جو اصول فقہ اور اصول حدیث کی اولین، نفیس اور اساسی کوشش قرار پائی۔ یہ اصول آج تک مسلمہ ہیں اور اصول فقہ میں بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔[1]

استدلال میں اصل حیثیت کس کی؟

امام شافعی نے احکام ومسائل میں استدلال کے چند درجات پر رائے دی ہے جس سے فقہ شافعی میں استدلال کی اصل حیثیت کا پتہ چلتا ہے۔یہ آراء درج ذیل ہیں:

  1. دین میں اصل حیثیت قرآن و سنت کی ہے اور اگر ان سے استدلال نہ ہو سکے تو پھر قیاس جو قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ وجہ یہ ہے کہ قرآن و سنت کے قوانین محدود ہیں اور امتداد زمانہ کے ساتھ پیش آنے والی صورتیں غیر محدود اس لیے جب کوئی واقعہ پیش آئے تو پہلے قرآن و حدیث میں غور کرنا چاہیے اور صحابہ کے تعامل پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ اگر مسئلہ سے متعلق کوئی بات مل جائے جو صورت حال کے چند پہلوؤں سے تو یکساں ہو مگر ہو بہو نہ ہو تو قرآن و حدیث کے بیان شدہ امر اور پیش آمدہ واقعہ میں مماثلت پیدا کرنے کے لیے ہمیں یہ حق ہے کہ ہم اس امر کی جستجو کریں کہ قرآن و حدیث کے اس قاعدہ مغیہ کی علت اور وجہ کیا تھی؟ پھر ہم بھی اس علت کی بنا پر قیاس کرنے کے مجاز ہیں۔ قیاس کے متعلق اس دقیق بات کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے ممتاز محدثین امام شافعی کی اس رائے سے متفق ہو گئے۔[2]
  2. جب حدیث نبوی، متصل سند کے ساتھ ثابت ہو جائے تو اس پر عمل لازمی ہے۔ اور کوفہ و مدینہ کی روایتوں پر اعتماد بھی اسی بنیاد پر کیا جائے۔ ورنہ نہیں۔
  3. حدیث ہمیشہ اپنے ظاہری معنی پر محمول ہونی چاہیے اور جب اس میں متعدد معانی کا احتمال ہو توجو معنی ظاہری معنی کے قریب ہوں وہ لیے جائیں گے۔ زیادہ تاویلات نہ کی جائیں۔
  4. صحابہ کا اجماع خبر واحد سے بالا تر ہے اور اجماع صحابہ نہ ہونے پر خبر واحد قابل عمل ہے۔ حدیث خواہ کسی درجہ کی ہو قرآن کی ناسخ نہیں ہو سکتی۔
  5. جب چند احادیث باہم متعارض ہوں تو ان میں یہ غور کرنا چاہیے کہ راوی کیسے ہیں؟ احکام کی ترتیب اور متقدم و متاخر صحابہ کے مقام کا بھی لحاظ ہونا چاہیے۔
  6. جب حدیث مرسل دوسری سند سے مروی نہ ہو تو بجز سعید بن مسیب کے سبھی ناقابل قبول ہیں۔ دوسری یا تیسری صدی ہجری کی مرسل امام شافعی کے نزدیک قطعی قابل قبول نہیں کیونکہ اس کی سند نہیں ہے۔ ورنہ بغیر سند کے روایات کا ایک سلسلہ چل نکلے گا اور ہر کوئی جو منہ میں آیا کہہ دے گا۔ لقال من شاء ما شاء۔
  7. صحیح و متصل حدیث کے مقابلہ میں، حدیث مرسل و موقوف اور منقطع کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔
  8. امام شافعی کے دور میں اقوال صحابہ جمع ہو گئے تھے۔ بعض اقوال صحیح حدیث کے برعکس تھے اس لیے ابن ادریس شافعی نے یہ طے کیا کہ صحیح حدیث کے مقابلہ میں اقوال صحابہ کوئی وقعت نہیں رکھتے۔
  9. ہر عام حکم میں مستثنیات بھی ہوتے ہیں اور عام قطعی نہیں ہوتا۔
  10. جلب منفعت سے دفع مضرت اولی ہے۔ یعنی فائدہ حاصل کرنے کی بجائے نقصان کو دور کرنا زیادہ بہتر ہے۔
  11. ایک اصل کو دوسرے اصل پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہاں اگر اس کی علت دریافت ہو جائے تو فرع کو اصل پر قیاس کرنا چاہیے۔
  12. اصل کے لیے کیوں اور کیسے کی بات نہیں کی جاسکتی بلکہ یہ بات فرع کے لیے کہی جاسکتی ہے کہ کیوں اور کیسے۔
  13. اجماع وہاں ہوگا جہاں کتاب و سنت خاموش ہوں اور پھر قابل قبول بھی ہوگا ورنہ نہیں۔
  14. اگر اجماع بھی نہ پائے تو پھر مجتہد، قیاس میں غور و خوض کرے۔[3]

مشہور شافعی کتب[ترمیم]

یہ وہ کتب ہیں جن پر شافعی مسلک قائم ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد ادریس زبیر، فقہ اسلامی ایک تعارف ایک تجزیہ، ص 159
  2. محمد ادریس زبیر، فقہ اسلامی ایک تعارف ایک تجزیہ، ص 159
  3. محمد ادریس زبیر، فقہ اسلامی ایک تعارف ایک تجزیہ، ص 159 – 160