سیدفقیر محمد شاہ گیلانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(فقیر محمدچوراہی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
سید فقیر محمد شاہ گیلانی

حضرت خواجہ سیّد فقیر محمد شاہ گیلانی چوراہی رحمۃ اللہ علیہ [1][ترمیم]

فرزند دوم حضرت باباجی رحمۃ اللہ علیہ[ترمیم]

تیزئی شریف(علاقہ تیراہ) 1213ھ           29محرم الحرام 1315ھ چوراشریف[ترمیم]

1798ء                        1897ء

مادہ ئتاریخِ رحلت؛ غفرلہ  1315ھ[ترمیم]

صاحبزادگان[ترمیم]

1۔سیّد گل نبی شاہ گیلانی[ترمیم]

   2۔ سیّد محمدنبی شاہ گیلانی(چھوٹی عمر میں فوت ہوگئے) [ترمیم]

 3۔سیّد احمد نبی شاہ گیلانی[ترمیم]

  4۔سیّد سید شاہ گیلانی[ترمیم]

   5۔سیّد قادر شاہ گیلانی[ترمیم]

(رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)[ترمیم]

مشہور خلفا ء[ترمیم]

1۔امیر ملت، حافظ جماعت علی، علی پوری

   2۔ جماعت علی ثانی لاثانی، علی پوری 

3۔حافظ عبدالکریم راولپنڈی   

4۔ حافظ غلام محمد بگوی  (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

وِلادت و تعارُف[ترمیم]

حضرت قبلہ عالم خواجہ سیّد نورمحمد شاہ گیلانی عرف حضرت باواجی رحمۃ اللہ علیہ کے دوسرے فرزند کا اسمِ مبارک فقیر محمد، اسمِ بامسمیٰ تھا    ؎؎

چیست فقر اے بندگانِ آب و گل

یک نگاہِ راہ بین و یک زندہ دل   

  فقر ذوق و شوق و تسلیم و رضا ست

ما امینیم ایں متاعِ مصطفےٰ است

(اے پانی اور مٹی کو پوجنے والے! فقر کیاہے؟ ایک راستہ دیکھنے والی آنکھ اورایک زندہ دِل۔فقرکیا ہے؟ یہ تو ذوق و شوق اور تسلیم و رضا ہے۔ درحقیقت فقر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی متاعِ بے بہاہے، جس کے ہم امین ہیں۔)

آپ کی وِلادتِ باسعادت غالباً 11213ھ 798ء میں تیزئی شریف (علاقہ تیراہ) میں ہوئی۔

تعلیم و بیعت[ترمیم]

آپ نے علومِ ظاہری و باطنی اپنے والد گرامی حضرت باباجی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کئے اور قلیل عرصہ میں خلافت و مجازِ بیعت ہوئے اور اس درجہ کمال حاصل کیا کہ شاید و باید۔ ایاّمِ صغر سنی سے ہی ذکر و فکر، مراقبہ اور اتباعِ شریعت میں مصروف رہے۔

آپ اپنے وقت کے ابدال تھے۔

مقام[ترمیم]

بوقت ولادت حضرت خواجہ سیّد فیض اللہ حمۃ اللہ علیہ نے اپنے لب ہائے مبارک خواجہ سیّد فقیر محمد رحمۃ اللہ علیہ کے منہ میں ڈالے اور فرمایا؛ ”یہ لڑکا بڑا نیک بخت ہوگا، اِس کے وجود سے کثیر دُنیا کو فیضِ عظیم حاصل ہوگا۔“ چنانچہ آپ کا چہرہ انور، انوارِ اِلٰہی سے درخشاں تھا۔

آپ کو وہ کمالات حاصل تھے، جو اس وقت دوسروں کو بہت کم حاصل تھے۔ قرآنِ مجید کے ایک ایک حرف کے جملہ فوائد و خو اص، اسرار و نکات آپ کو ایسے معلوم تھے کہ دوسروں کے لئے اُن کو سمجھنا دُشوار تھا۔ اپنے وقت میں مرجعِ الی اللہ تھے۔ وِلادت کے وقت والدہ محترمہ کا دودھ نہ پیتے تھے، والدہ ماجدہ نے ہر چند کوشش فرمائی مگر لاحاصل،اِتنے میں خواجہ فیض اللہ رحمۃ اللہ علیہ تشریف لے آئے اور اپنی زبانِ مبارک و لعابِ دہن آپ کے منہ میں ڈالا تو آپ نے اپنی والدہ محترمہ کا دودھ پیا۔

واصل اِلی اللہ[ترمیم]

آپ اس دُنیائے دوں سے 29محرم الحرام1315ھ 1897ء مابین ظہر و عصر عالم جاوِدانی کو سدھار گئے۔

خوارق و تصرفات[ترمیم]

1۔گفتہ او گفتہ اللہ بود

حضرت خواجہ سیّدفقیر محمدرحمۃ اللہ علیہ امرتسر میں مسجد خیردین مرحوم میں تشریف فرما تھے کہ ایک برقعہ پوش عورت حاضر خدمت ہوئی اور عرض کی کہ مَیں بیوہ ہوں، میر الڑکا علی محمد بی۔ اے میں تعلیم حاصل کر رہا تھے کہ اس کا والد فوت ہو گیا۔ گھر کا سامان بیچ کر لڑکے کی تعلیم جاری رکھی لیکن میری بدقسمتی کہ سب کچھ خرچ کر دینے کے بعد بھی لڑکا فیل ہو گیا۔ اب مزید تعلیم دِلوانا میرے بس کی بات نہیں، اس طرح سابقہ محنت اور خرچہ رائیگاں گیا۔

یہ کہہ کر وہ عورت رونے لگی، آپ نے اُسے تسلی دی اور فرمایا؛

”فکر نہ کرو! لڑکا پاس ہو جائے گا۔“

تسلی اور تشفی دے کر رُخصت فرمایا، ناواقف لوگ سمجھے کہ محض تسلی دینے کے لئے آپ نے اس عورت کو یہ بات کہہ دی ہے، لیکن اُسی شام اطلاع آ گئی کہ علی محمد پاس ہے پہلے اطلاع غلط دی گئی ہے۔ اصل میں ایک سکھ لڑکا فیل ہوا ہے۔ سُبحان اللہ!   ؎

شاہ بن جاؤں مَیں اگر مجھ کو

اپنے کوچے کا تُو گدا جانے

علی محمد پسرور میں مجسٹریٹ رہے، پھر سنیئر سب جج ہو گئے اور بعدمیں سیشن جج کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ع

نگاہِ مردِ مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

2۔حضرت خواجہ ایک دفعہ چک قریشیاں میں خلیفہ مولوی غلام نبی رحمہ اللہ کے گھر تشریف فرما تھے[ترمیم]

حضرت خواجہ ایک دفعہ چک قریشیاں میں خلیفہ مولوی غلام نبی رحمہ اللہ کے گھر تشریف فرما تھے کہ کچھ مستورات حاضرِ خدمت ہوئیں آپ اس وقت باہر تشریف لے جا رہے تھے۔ اس لئے مولوی صاحب نے ایک خاتون سے مخاطب ہو کرکہا؛ ”چچی صاحبہ! آپ کے کام کبھی ختم نہ ہوئے، آپ باربار حضور کو تکلیف دیتی ہیں۔“

آپ نے وہیں کھڑے کھڑے فرمایا؛ ”کلمہ پڑھسی!“

مولوی صاحب نے عرض کی؛ ”حضور! یہ تیسری عورت برہمن ہے۔“

فرمایا؛ ”مَیں باہمنی مسلمانی نہ جان سی، کلمہ پڑھانا سی پڑھا چھوڑسی۔“(مَیں برہمن، مسلمان نہیں جانتا، کلمہ پڑھانا تھا، پڑھا دیا ہے۔) سب کو کلمہ کی تلقین فرمائی اور مسجد تشریف لے گئے۔ دوسرے لوگوں نے سنا تو حضور کی سادگی پر ہنسنے لگے کہ برہمنی پر کلمہ کا کیا اثر ہوگا لیکن بقول کسے    ؎

گفتہ ئ او گفتہئ اللہ بود

گرچہ ز حلقومِ عبداللہ بود

(اولیأ اللہ کی بات، اللہ تعالی ہی کی بات ہوتی ہے، بظاہر وہ بات ایک اللہ کے بندے کے لبوں سے نکلتی ہے۔)

3۔ڈھوک گرجہ[ترمیم]

ڈھوک گرجہ(جو کہ راولپنڈی سے چار کوس کے فاصلہ پر ہے)میں ایک شخص پیر بخش نے پانی کی قلت کی وجہ سے رفاہِ عامہ کے لئے کنْواں کھدوایا مگر پانی نہ نکلا۔ پیر بخش راولپنڈی میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا قصہ عرض کیا۔ آپ نے فرمایا؛

”پانی آجائے گا، اُسے سنبھالنے کی فکر کرو!“

پیربخش جب واپس گھر پہنچا تو پوتے نے بتایا؛ ”بابا! کنْویں میں پانی آگیا ہے۔“ بہت حیران ہوا، جا کر دیکھا، واقعی پانی آ گیا تھا، چکھا تو کسی پہاڑی علاقے کا معلوم ہوا۔ اِردگرد زمین میں اور بھی کنویں کھودے اور پانی کی تکلیف سے رہائی حاصل ہوئی   ؎

جہاں سرمستیاں تقسیم ہوتی ہیں نگاہوں میں

وہ اہلِ دل کا مے خانہ بڑی مشکل سے ملتا ہے

4۔ زبانِ ولی[ترمیم]

ایک دفعہ ”مرجال“ میں مسجد میں قیام پذیر تھے کہ میاں محمد مستری حاضرِ خدمت ہوا۔ آپ نے خیریت پوچھی تو اُس نے عرض کی کہ میرے لڑکے کو لقوہ ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا؛ ”اُسے جنگلی کبوتر کا شوربا پلاؤ!“

عرض کی؛ ”حضور! یہاں جنگلی کبوتر نہیں ملتے۔“

ارشاد فرمایا؛ ”مل جائے گا۔“

میاں محمد جب گھر پہنچا تو دیکھا کہ ایک جنگل کبوتر گھر میں بیٹھا ہے، اس نے بآسانی اسے پکڑ لیا۔ حتیٰ کہ کبوتر اُڑنے کوشش بھی نہیں کی۔ اسے ذبح کرکے شوربا لڑکے کو پلا گیا تو لڑکا فی الفورتندرست ہو گیا   ؎

آنکہ بخشد بے یقیناں را یقیں

آنکہ لرزد از سجود او زمیں

(وہ کہ جو بے یقینوں کو یقین کی دولت عطاکرے، وہ کہ جس کے سجدوں سے زمین لرزے۔)

احباب جو حاضر تھے، سخت حیران تھے کہ جنگل کبوتر کہاں سے آیا اور پھر اُس نے اُڑنے کی کوشش کیوں نہ کی۔

تا آنکہ گردن از حکمش مپیچ

تا نہ پیچد گردن ازحکم تو ہیچ

(تو اللہ کے حکم سے گردن مت پھیر! تاکہ کوئی بھی تیرے حکم سے گردن نہ پھیرے)

5۔بند کو کو ئی نقصان نہیں پہنچا۔[ترمیم]

ایک دفعہ آپ سفر پنجاب پر تشریف لے جارہے تھے، چورا کے زمیندار یٰسین کو معلوم ہوا تو لنگر سٹیشن پر جا کر ملاقات کی اور عرض کی؛ ”حضور! میرا ارادہ بند باندھنے کا تھا پہلے کئی دفعہ باندھا ہے لیکن ہر دفعہ ٹوٹ جاتا ہے۔“

آپ نے چند کنکریاں لے کر دم فرمایا اور فرمایا؛ ”یہ کنکریاں بند میں رکھ دینا!“

یٰسین زمیندار نے بموجب اِرشاد بند بنایا اور آپ کی دی ہوئی کنکریاں اس میں رکھ دیں، اس کے بعد بارہا پانی بند کے اوپر سے بھی گزرا لیکن بند کو کو ئی نقصان نہیں پہنچا۔

وہ بند اب بھی موجود ہے۔

6۔دیدہئ بینا[ترمیم]

آپ کے صاحبزادے قبلہ سیّد محمد سَید شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ مقرب خاں کو مصریال سے کچھ اشیا ئ دے کر حضور کی خدمت میں بھیجا۔ جب وہ اشیا ء لے کر حاضر ہوا، حضور نے اُسے دیکھتے ہی ارشاد فرمایا؛ ”فوراً سیدھے گھر چلے جاؤ!“

عرض کی؛ ”حضور! صاحبزادہ صاحب نے فرمایا،مصریال جلدی واپس آنا“

آپ نے فرمایا؛ ”گھر سے ہو کر مصریال جانا۔“

مقرب خاں بھرپور ضلع جہلم کا رہنے والا تھا۔ جب گاؤں پہنچا تو راستے میں گاؤں کی ایک عورت ملی۔ مقرب خاں کو دیکھ کر حیران رہ گئی، دریافت کرنے لگی؛

”تمھیں خبر مل گئی ہے؟“

مقرب خاں نے پوچھا؛ ”خبر؟ کیسی خبر؟“

اس نے بتایا کہ تیرا والدفوت ہوگیا ہے۔ گھر پہنچا تو میّت کو غسل دیا جارہا تھا۔ چناچنہ جنازہ میں شامل ہو گیا۔ سب گاؤں والے حیران ہوئے اور پوچھا کہ تم کیسے پہنچ گئے؟

مقرب خاں نے بتایا؛ ”حضرت صاحب نے گھر جانے کی ہدایت کی تھی، شاید یہی وجہ تھی!“

7۔ تصرفِ ولی[ترمیم]

ایک دفعہ آپ علاقہ پنڈی گھیپ موضع بَن(جو چورا شریف سے بارہ کوس مشرق کی طرف ہے) کی مسجد میں تشریف فرما تھے۔ مسجد میں انبوہِ کثیر موجود تھا۔ آپ اچانک اُٹھ کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا؛”فورا ً سب اشیا ئ باہر نکالو!“

کسی نے عرض کی؛ ”حضور! مجلس بہت پُر لطف تھی۔“

فرمایا؛ ”باتیں پھر کریں گے، پہلے سامان باہر نکالو!“

آپ مسجد کے اندر ٹھہرے رہے۔ سامان نکل چکا تو آپ باہر تشریف لے آئے۔ فی الفور مسجد کی چھت گر گئی، حاضرین حیران رہ گئے   ؎

کہ من فقیرم و ایں دولت ِ خداداد است

(مَیں فقیر ہوں اور فقرکی یہ دولت خدائے وحدہٗ کی عطائے خاص ہے۔)

8۔لعابِ دہن[ترمیم]

ایک دفعہ آپ علی پور سیّداں ضلع سیالکوٹ میں تھے،امیر ملت، حافظ سیّد جماعت علی شاہ محدث علی پوری اور سیّد جماعت علی شاہ ثانی لاثانی علی پوری قدس اللہ اسرارہم آپ کے ہمراہ تھے۔لوگوں نے عرض کیا کہ حضور! کنواں لگوایا تھا مگر پانی کھاری نکلا۔

حضور ان کے ساتھ کنْویں پر تشریف لے گئے،اپنا لعاب مبارک کنْویں میں ڈالا اور دُعا فرمائی۔ اُس روز سے آج تک پانی میٹھا ہے   ؎

تیغِ ایُّوبی، نگاہِ بایزید

گنج ہائے ہر دو عالم را کلید

(دو نوں جہاں میں ہر خزانے کی کنجیاں یہی ہیں،صلاح الدین ایوبی کی تلوار اور حضرت بایزید بسطامی قدس اللہ اسرارہم کی نگاہ۔)

9۔ برکاتِ ولی[ترمیم]

ایک گاؤں میں سادات رہتے تھے، سوائے ایک دو گھروں کے باقی سب شیعہ تھے۔ حضرت خواجہ کی تشریف آوری کے بعد اللہ تعالےٰ نے انھیں ہدایت بخشی اور وہ سب سنی العقیدہ ہو گئے۔ عارفِ صادق بن گئے اور ایسے صوفی بنے کہ نماز روزہ کے پابند ہونے کے علاوہ صاحب ذکر و تہجد گزار اور عابد و زاہد ہوگئے۔ کیونکہ   ؎

عقل و دل را مستی از یک جامِ مے

(عقل اور دل دونوں کو ایک جام سے مستی ملے)

10۔میرے گھر میں چھ لڑکیا ں ہیں مگر لڑکا نہیں ہے۔“[ترمیم]

ایک دفعہ آپ موضع ڈیریانوالہ ضلع سیالکوٹ مسجد پٹھاناں میں مقیم تھے۔ وہاں پر ایک شخص ولی داد خاں نے حاضر ہو کر عرض کی؛ حضور! میرے گھر میں چھ لڑکیا ں ہیں مگر لڑکا نہیں ہے۔“ حضور نے قند سیاہ یعنی گُڑ دَم کر کے دیا اور فرمایا؛ ”اپنی بیوی کو کھلا دو!“ پھر دُعا فرماکر کہا؛  ”اللہ تعالیٰ لڑکا عطا فرمائے گا، اس کا نام محمد شریف رکھنا۔“

جب اگلے سال حضور تشریف لائے تو ولی داد نے بچہ حاضر کرکے عرض کی؛

”حضور! یہ وہی لڑکا ہے، جس کا نام آپ نے محمد شریف رکھا تھا۔“

تاضمیرش رازدانِ فطرت است

مردِ صحرا پاسبانِ فطرت است(مردِ صحرا کا ضمیر فطرت کا رازدان ہے، مردِ صحرا ہی فطرت کا پاسبان ہے۔)

11۔غیرت ِ ولی[ترمیم]

آپ کی رہائش کچھ عرصہ لحاظ شریف ملک تیراہ ؔ میں رہی۔ وہاں ایک شخص نے آپ کے گھر نقب لگاکر کچھ سامان چوری کر لیا۔ معلوم ہونے کے باوجود حضور اس سے چشم پوشی فرماتے رہے لیکن غیرتِ الٰہی سے اس کی اولاد میں تمام لُولہے (ٹانگوں سے معذور) ہو گئے، اس کے بعد پیدائشی لولہے پیدا ہونے لگے   ؎

چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد

میلش اندر طعنہ پاکاں برد

(۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

آخر اس کے ساتھیوں نے اُسے مشورہ دیا کہ حضرت صاحب سے معافی مانگنی چاہیے اور دُعا کرانی چاہیے۔ کہنے لگا؛ ”مجھے شرم آتی ہے۔“لیکن ایک ساتھی اُسے حضور کی خدمت میں لے گیا اور حضور کی خدمت میں معافی کی درخواست کی۔

آپ نے کمال شفقت سے اُس کو معافی دی اور اپنا مال بھی معاف فرما دیا۔ اس روز سے اس کی اولاد صحیح ہو گئی۔

12۔ آدابِ ولی[ترمیم]

مولوی علم دین سکنہہ گیگی ضلع گجرات حضور کی خدمت میں قرب کی وجہ سے بڑے مرتبہ پر پہنچا۔ حضرت خواجہ حالانکہ ہر دو شاہ صاحبان علی پوری اور دیگر خلفا ئ کی بڑی عزت فرمایا کرتے تھے۔ مگر مولوی علم دین گستاخ ہو گیا تھا۔ شاہ صاحبان اس کو ”حاجی صاحباں“ کہہ کر پکارتے تھے لیکن وہ ہمیشہ شاہ صاحبان کو جماعت علی کہہ کر بُلاتا۔

مولوی علم دین حضور کی گھوڑی کی خدمت کرتا تھا۔ ایک دن وہ گھوڑی پر سوار ہوا تو کسینے حضور سے عرض کی کہ مولوی علم دین آپ کی گھوڑی پر سواری کرتا ہے۔ آپ نے فراخ دلی سے اسے نظر انداز کردیا۔ چند دن بعد پھر کسی نے بتایا کہ اس نے آپ کی اجازت کے بغیر گھوڑی فروخت کردی ہے۔ آپ نے ایک شخص محمد دین کو اس کے پاس بھیجا کہ اُسے کہو گھوڑی واپس کرے۔مگر اس نے کوئی پرواہ نہ کی۔ جس شخص کے ہاتھ گھوڑی فروخت کی گئی تھی، جب اُسے اصل حقیقت معلوم ہوئی تو وہ گھوڑی لے کر حاضر ہو گیا۔

مولوی علم دین، جس نے آپ کے فرمان کی پرواہ نہ کی تھی اور سارا وزیر آباد اس کا مرید تھا۔ آخر حضور کی اس سے ناراضگی دیکھ کر سب برگشتہ ہو گئے اور باقی عمر ذلیل رہا۔

حضور اِس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد رِحلت فرما گئے اور اُسے عاق کرنے کی ایک تحریر اپنی وظائف کی کتاب میں چھوڑ گئے۔ علم دین کی حالت عبرتناک تھی۔ اس کی بیوی تک اسے جواب دے گئی اور گھر بھی ویران ہو گیا  ع

بے ادب محروم ماند از فضل ربّ

(بے ادب اللہ کے فضل سے محروم رہتا ہے۔)

13۔رُشد و ہدایت[ترمیم]

حضرت خواجہ قدس سرہٗ جامع مسجد خیر دین امرتسر میں تھے۔ ضعیف العمری میں بیٹھنا دُشوار تھا اس لئے لیٹے ہوئے مراقبہ میں تھے۔حافظ شاہ صاحب علی پوری رحمۃ اللہ علیہ حاضر خدمت تھے اور پاؤں دبا رہے تھے، حضور نے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا؛

”حافظ جی! کیہ آکھسی؟“

عرض کیا؛ ”حضور! یہ جو شخص کتے پکڑے ہوئے ہے، اس کا نام غلام رسول تھا۔ میرے ایک دوست مولوی کا لڑکا ہے لیکن اب عیسائی ہو گیا ہے۔ کثیر فہمائش کے باوجود اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے مرتد ہونے کا ہمیں بہت دُکھ ہے۔ اس کو اس لئے ساتھ لے کرحاضر ہوا ہوں کہ حضور اس کو ہدایت فرمائیں!“

آپ نے ایک نظر اُٹھا کر غلام رسول کی طرف دیکھا اور فرمایا؛

”اونکڑیا! اپنا ورثہ تاں کوئی نہ چھوڑسی تے کلمہ اساڈا پرانا ورثہ ہوسی، توں کیوں چھوڑسی؟“

آپ نے کوئی دلیل نہ دی، بس یہی فرمایا کہ معاً اس پر کیفیت طاری ہوگئی اور زارو قطار رونے لگا۔ عرض کی؛ ”حضور! اب پھر وارث بنا دیں“۔ آپ نے کلمہ کی تلقین فرمائی پھر توجہ فرمائی اور دُعائے خیر کے بعد ارشاد فرمایا؛  ”جاؤ! غسل کرکے کپڑے بدل کے آؤ!“

کتے تو اسی وقت ہاتھ سے چھوٹ گئے تھے، اسی طرح آہ و زاری کرتا ہوا گھر گیا۔ تھوڑی دیر بعد غسل کر کے اور کپڑے تبدیل کرکے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مزید عنایات او ر خیر وبرکت کا مستحق ہوا   ؎

ساقی تیرا کرم کہ مے مرے قلب و نگاہ میں

پہلے کچھ اور تھی مگر اب روشنی ہے اور

14۔ مستجاب الدعا[ترمیم]

موضع لونکی ضلع گوجرانوالہ میں ایک دفعہ تشریف فرما تھے کہ حافظ مہرالدین نے عرض کی کہ میرے چھوٹے بھائی عمر رسیدہ ہو گئے ہیں مگر کوئی فرزند نہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا؛ ”اللہ تعالیٰ لڑکا دے گا، اس کا نام عبداللطیف رکھنا۔“اگلے سال آپ وہاں دوبارہ تشریف لے گئے تو بچہ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ آپ کا عبداللطیف سلام کے لئے حاضر ہے۔ آپ نے خوش ہوکر فرمایا؛ ”دو اور ہوں گے“۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا   ؎

جلاسکتی ہے شمع کشتہ کو موجِ نفس ان کی

اِلٰہی کیا چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں

15۔ عطائے ولی[ترمیم]

ایک درویش نے عرض کی کہ مجھے کشفِ قبور کا بہت شوق ہے۔ آپ نے فرمایا؛ ”اچھا! قبرستان میں جا کر تین مرتبہ سورۃ الملک پڑھ کر مراقبہ کریں۔“ اُس نے کہا؛ ”یہ تو مَیں پہلے بھی پڑھا کرتا ہوں۔“ فرمایا؛ ”پہلے اپنی مرضی سے پڑھتے تھے، اب میری اجازت سے پڑھو!“۔اُس روز حسب الارشاد قبرستان میں سورۃ الملک پڑھ کرمراقبہ میں گیا تو ایسا کشف حاصل ہوا کہ اپنے وقت میں نظیر نہ رکھتا تھا۔

حلیہ مبارک[ترمیم]

حضرت خواجہ سید فقیرمحمد شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا قد مبارک دراز، چہرہ گندم گوں، بینی سرخ و دراز، ریش مبارک سفید، چشم مبارک موزوں اور گیسوئے مبارک شانوں تک معلق رہتے۔ رات سرمہ طاق سلائیاں لگاتے، پیشانی کشادہ، بالوں پر حنا لگاتے، انگشت مبارک نرم اورلمبی، سینہ فراخ اور باوجود ضعیف العمری کے بینائی اور سماعت میں کچھ فرق نہ آیا۔

جب باہر تشریف لے جاتے تو سر پر لنگی رکھ لیتے۔ پیرانہ سالی کے باوجودرفتار کافی تیز ہوا کرتی تھی، بلکہ بہت سے آدمیوں سے آگے بڑھ جاتے۔

معمولات[ترمیم]

نمازِ تہجد کے بعد ذِکر میں مشغول رہتے۔ بعد از نمازِفجر طلوعِ آفتاب تک مراقبہ میں رہتے، پھر تلاوتِ قرآنِ پاک دو تین سپارے پڑھنے کے بعد ختم شریف پڑھتے۔ طعام قبل از دوپہر تناول فرماتے، پھر قیلولہ فرماتے۔ اکثر اوقات نمازِ ظہر کے وضو کی سے عشا ئ تک کی نمازیں ادا فرماتے۔ ظہر کے بعد بھی تلاوتِ قرآن فرماتے۔ اس کے بعد احباب کی حاجات کی طرف متوجہ ہوتے۔

نمازِ عصر کے بعد ختم شریف حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہٗ پڑھا کرتے،نماز باجماعت ادا کرنے کے عادی تھے۔ بعد از نمازِ مغرب کھانا تناول فرماتے۔نمازِ عشا ئ اوّل وقت میں ادا فرماتے۔ جہاں کہیں بھی تشریف لے جاتے، آپ کا قیام مسجد میں ہی ہوتا۔ اکثر دُعا فرماتے اور اِسی سے لوگوں کے اکثر مسائل حل ہو جاتے۔ بفضل اِلٰہی چاروں طریقِ سلاسل کے صاحبِ مجاز و اِرشاد تھے لیکن عموماً نقشبندیہ طریق میں بیعت فرماتے۔ بعض اوقات صرف بیعت فرما کر خلفا ئ سے حلقہ کراتے، کبھی کبھی خود بھی توجہ فرماتے۔ آپ کو اشعار سے بھی کسی قدر دل لگی تھی۔اکثر یہ اشعار پڑھتے    ؎

یا  رسول  اللّٰہ  اُنظر  حالنا

یا حبیب  اللّٰہ  اسمع  قالنا

اِنَّنی  فی  بحر  ھمِّ  مُغرقٌ

خُذ  یدی  سَھل  لنا  اثقالنا

(اے اللہ کے رسولﷺ! ہمارے حالِ زار پر نظر کیجئے!اے اللہ کے رسولﷺ! ہماری عرض سنیے!بے شک مَیں غم کے سمندر میں غرق ہو رہا ہوں، میرا ہاتھ تھام لیجئے! اور میری مشکلات آسان فرما دیجئے!)

اخلاق و عادات[ترمیم]

لباس[ترمیم]

سادہ، نیلگوں لباس عموماً پہنتے، پاجامہ سفید، سر پر کلاہ اور اس پرلنگی خط داریا سبز دستار رکھتے۔ بدن پر کبھی لنگی نیلگوں یا چادر اوڑھتے، پاپوش پوٹھوہاری استعمال کرتے۔ ہاتھ میں ہمیشہ عصا رکھتے۔

عادات[ترمیم]

طبیعت میں تصنع و تکلف نام کو نہ تھا۔ مسکنت، تمکنت، وقارآپ کی شخصیت سے ظاہر تھا۔ طبیعت میں جمالیت اِس قدر تھی کہ سالہا سال کسی پر غصہ نہ فرماتے اور کبھی کسی کو آپ سے ضرر نہ پہنچتا، چہرہ انور سے انوار و برکاتِ صدیقی عیاں تھیں۔

شکستہ دلوں کی دل جوئی فرماتے، غریب و امیر میں کوئی تمیز نہ فرماتے، ہر ایک سے ایک جیسا سلوک فرماتے۔ سفر و حضر میں جیسی بھی جگہ مل گئی، اسی پر مطمئن ہو جاتے۔

محفل[ترمیم]

سفر میں خلفا ئ و درویش ہمراہ رہتے۔ محفل آرائی و زیبائش سے متنفر تھے لیکن سفر میں درویشوں کو تکلیف نہ دیتے۔ آ پ کی مجلس میں اُمرأ و علمأو غربأ سب موجود رہتے۔

دعوت[ترمیم]

اگر ایک دفعہ کسی کی دعوت قبول کر لی تو پھر کسی دوسرے کی دعوت کو ترجیح نہ دی، خمیری روٹی اور کھچڑی بہت مرغوب تھی، کسی خاص چیزکے عادی نہ تھے، جو کچھ موقع پر حاضر ہوتا برضا و رغبت کھا لیتے، ہمیشہ پاکیزہ اشیا ئ پسندفرماتے۔ آخر وقت میں احبابِ راولپنڈی کے اصرار پر چائے پینا شروع کی۔

عفو و درگزر[ترمیم]

آپ تحمل و بردباری میں بے مثال تھے، اگر کسی سے کوئی قصور یا خطا ہوتی تو معاف فرمادیتے۔ کسی سے کوتاہی یا غلطی سے در گزر فرماتے اور ساتھ ہی یہ فرماتے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا اور تمھارا دونوں کا گناہ معاف فرمائے۔

مجلس[ترمیم]

جو کوئی آپ کی مجلس میں ایک بار بیٹھتا آپ کا گرویدہ ہو جاتا،اُس کا اُٹھنے کو جی نہچاہتا۔ آپ ہر ایک کو اس کی باطنی حیثیت اور دلی اخلاص کے مطابق دوست بناتے۔ جس کو دوست بناتے، اُسے ایسا مطمئن فرماتے کہ پھر اُسے کوئی حاجت نہ رہتی۔

باوجودیکہ آپ نہایت خوش اخلاق تھے پھر بھی پُروقار اور بارُعب نظر آتے اور مجلس میں کسی کو لب کشائی کی جرأت نہ ہوتی۔ غلاموں کو لفظ ”مرید“ کہہ کر نہ پکارتے بلکہ لفظ ”یار“ یا دوست سے بلاتے۔ ایک دن آپ کے نبیرہ نے کہہ دیا کہ فلاں شخص تو ہمارا مرید ہے تو آپ سخت ناراض ہوئے پھر بُلوا کرفرمایاکہ میرے باپ دادا میں سے کسی نے مرید نہیں پکارا اور نہ مَیں نے پکارا، تم اس قابل کیسے ہو گئے کہ مرید کہہ کر بلاؤ اور تنبیہہ فرمائی کہ آئندہ ایسا نہ کرنا۔

ارشاداتِ قدسیہ[ترمیم]

1۔فرمایاکرتے؛ اپنا باطن درُست کروکیونکہ بعد از مرگ اعمالِ باطن ہی سے نجات مل سکے گی مگر ظاہر احکامِ شرعیہ کا لحاظ بھی بہت ضروری ہے کیونکہ ظاہری دُرستگی کے بغیر باطنی اعمال کی دُرستگی ناممکن ہے۔[ترمیم]

2۔آپ نے فرمایا؛ خدا سے خدا کے لئے پیار کرو اور یاد رکھو کیونکہ مقصد کے لئے یاد کرنا مقصد کی یاری ہے۔ خدا کی یاد بلااغراضِ نفسانی ہونی چاہیے۔[ترمیم]

3۔ آپ اکثر اپنے احباب سے یہ حدیث قدسی بیان فرماتے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو فرماتا ہے کہ جو شخص میرے حکم پر راضی نہیں، میری بلا پر راضی نہیں، میری نعمتوں پر شاکر نہیں اور میرے عطیہ پر قانع نہیں، وہ شخص میرے سوا کسی اور کو اپنا ربّ بنالے۔[ترمیم]
4۔ عموماً یہ حدیث بیان فرماتے؛ ”خیرالناس من ینفع الناس“ یعنی بہتر شخص وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔[ترمیم]
وصیت[ترمیم]
آپ کی آخری وصیت جو احباب کو فرمائی، وہ یہ تھی؛[ترمیم]
1۔جس جگہ جاؤ تویاروں میں حمدو شکر نہ چھوڑ جاؤ، یعنی بوجہ تکلیف یاروں کو یہ کہنے کا موقع نہ دو کہ خدا کا شکر ہے کہ پیر صاحب چلے گئے۔[ترمیم]
2۔یاروں کا آپس میں حسد و کینہ نہیں ہونا چاہیے جس کو خدا خیر و برکت دے اس سے مستفید و مستفیض ہونا چاہیے۔[ترمیم]
3۔سفر میں ذکرکو ہر حال میں مقدم رکھنا چاہیے اگر کسی جگہ ذکر میں کچھ قصور واقع ہو تو اس جگہ نہ رہیں کیونکہ وہاں کے لوگ خیر وبرکت سے محروم رہ جائیں گے۔[ترمیم]
4۔یاروں کے ساتھ سیر کو ہرگز نہ جانا چاہیے جب تک وہ خود خواہشمند نہ ہوں۔[ترمیم]
5۔پیر کو چاہیے کہ بغیر انتظار ہی چلا جائے تاکہ لوگوں کو کسی طرح کی بدگمانی پیدا نہ ہو۔[ترمیم]

خلفا ء[ترمیم]

آپ کے خلفا ء تو لاتعداد ہیں، ان میں چند مشہور خلفأ کاذکر یہاں کیا جاتاہے؛

1۔امیر ملت، حافظ سیّد جماعت علی شاہ قدس سرہٗ، علی پور شریف ضلع سیالکوٹ[ترمیم]

2۔حاجی سیّد جماعت علی شاہ صاحب ثانی قدس سرہٗ، علی پور شریف ضلع سیالکوٹ[ترمیم]

3۔جناب عبدالکریم قدس سرہٗ، راولپنڈی۔[ترمیم]

4۔جناب مولوی غلام نبی قریشی رحمہٗ اللہ تعالیٰ،  چک قریشیاں۔[ترمیم]

5۔جناب مولوی محمد حسنرحمہٗ اللہ تعالیٰ ، گجرات[ترمیم]

6۔فاضل اجل، جناب مولانا غلام محمد بگوی رحمہٗ اللہ تعالیٰ ، امام بادشاہی مسجد، لاہور۔[ترمیم]

7۔ جناب صاحبزادہ نواب الدین علیرحمہٗ اللہ تعالیٰ  [ترمیم]

8۔جناب حافظ فتح الدین رحمہٗ اللہ تعالیٰ ، رنگ پور، ضلع سیالکوٹ۔[ترمیم]

9۔جناب راجہ شیرباز خاں رحمہٗ اللہ تعالیٰ ، بڑکی، تحصیل گوجرخاں۔[ترمیم]

10۔ جناب سیّد غلام قادر شاہ رحمہٗ اللہ تعالیٰ ،کوٹلی سیّداں۔[ترمیم]

11۔ جناب حافظ جی جوڑی والا رحمہ ا للہ تعالیٰ  [ترمیم]

اب چند خلفا ئ کا تذکرہ فرداًفرداً کیا جاتا ہے۔[ترمیم]

  1. جواہر نقشبندیہ صفحہ نمبر 404.