مندرجات کا رخ کریں

فقیر محمد چوراہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

حضرت خواجہ سید فقیر محمد چوراہی : آستانہ عالیہ چورہ شریف کے چراغ جنہیں عر ف ِ عام میں امام الفقراءاور حاجی گل صاحب کہا جاتا ہے۔ آپؒ حضرت علی المرتضی کی اولاد میں سے ہیں آپؒ غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کی نسب سے گیلانی سید ہیں۔

ولادت

[ترمیم]

امام طریقت خواجہ خواجگان بابا جی فقیر محمد کی ولادت باسعادت 1213ھ مطابق 1798ء کو تیزئی شریف علاقہ تیراہ کے مقام پر ہوئی ۔[1]

شجرہ نسب

[ترمیم]

آپ کا شجرۂ نسب خلیفہ راشد امیر المومنین حضرت علی بن ابیطالب سے اس طرح ملتا ہے: فقیر محمد چوراہی بن نور محمد تیراہی بن فیض اللہ تیراہی بن قاضی خان محمد تیراہی بن علی ولی محمد بن شیخ سلیمان بن شیخ سلطان بن شیخ الاسلام بن عبد الرسول بن موسی بن شیخ بن حسین بن شہاب الدین احمد متقی بن ابو نصر محمد بن ابو صالح نصر بن عبد الرزاق بن شیخ عبد القادر جیلانی ۔۔

علم ظاہر و باطن

[ترمیم]

آپ نے علو م ظا ہری و با طنی اپنے والد گرا می خواجہ سید محمد فیض اللہ سے حاصل کیے۔ اور ہر چہار سلاسل نقشبندیہ، چشتیہ، سہر وردیہ، قادریہ میں انہی سے بیعت و خلا فت حاصل کی۔ حضرت شا ہ عیسٰی ولی کی نظرخا ص اور توجہ کی بر کت سے آپ کو علم لدّنی سے وا فر حصہ عطا فرما یا گیا تھا۔ اور ایسا شرح صدر ہو ا تھاکہ آپ دقیق سے دقیق مسائل کو شرح و بسط سے سائل کی تشفی فر ما دیا کر تے تھے۔ اور جس طا لب کیطر ف تو جہ خصو صی فر ما دیا کر تے تھے۔ قلیل عرصہ میں ہی اسے درجۂ کما ل تک پہنچا دیا کر تے تھے۔ آپ کی ذات با برکا ت سے عرب و عجم و دیگر مما لک میں نو ر اسلا م پھیلا۔ اس قدر کثرت سے خلق خدا آپ کی ذا ت اقدس اور آپ کے خلفا ء اور سلسلہ سے فیض یا ب ہو ئی۔ کہ اما م ربا نی مجدد الف ثا نی کے بعد کے عرصہ میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ پا ک و ہند، عرب، یورپ جہا ں بھی جا ئیں آپ کو سلسلہ ٔ مجددیہ کے اس عظیم نور کی کر ن ضرور نظر آئے گی۔

مجددی تعلیمات

[ترمیم]

تعلیما ت مجددیہ کے مطا بق آپ کی طبیعت ابتدا ئی زمانہ ہی سے اتباع سنت کی طر ف مائل تھی۔ چنانچہ آپ اپنے معمولا ت زندگی میں چھو ٹی چھوٹی با توں میں اتبا عِ سنت کا بہت لحا ظ فر ما تے تھے۔ حقہ نو شی سے آپ کو سخت نفرت تھی اس سے مریدین کو منع فر ما تے تھے۔ یہا ں تک کہ کسی حقہ نو ش کو ختم خو اجگان میں بھی شرکت کی اجا زت نہ تھی۔ آپ نے نہا یت سادہ طبیعت پائی تھی آپ نے تقریباً اَسی سال تک تیزئی شریف میں قیا م فر ما یا لیکن اس دوران میں آپ نے معمولی سے مکا ن میں ہی رہائش رکھنا پسند فر مایا۔ اسی طرح مہما نو ں کے لیے بھی ایک سا دہ سا مہمان خانہ تعمیر کر وایا۔ آپ کھا نے پینے میں بالکل تکلف نہ فر ماتے تھے۔ دعوت میں ہمیشہ ہی سا دگی کی تلقین فرماتے۔ جو ملتا کھا لیتے، جو ملتا پہن لیتے البتہ اپنے مہمان کی ہر ممکن بہتر میزبانی و عزت افزئی کی کوشش فر ماتے کسی کو ہر گز حقیر خیال نہ فر ماتے۔

و صال

[ترمیم]

فقیر محمدچوراہی کا وصال تقریباً 100 سال کی عمر میں 29 محرم الحرام یکم جولائی 1315ھ بمطابق 1897ء کو بروز جمعرات ہوا۔ آپ کا مزار مقدس ضلع اٹک چورہ شریف کی ذیلی بستی بھورا مار میں مرجع خاص و عام ہے۔[2]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. تاریخ مشائخ نقشبند،محمد صادق قصوری، صفحہ472 ،زاویہ پبلشر داتا دربار مارکیٹ لاہور
  2. جواہر نقشبندیہ