فلن فلان، مینی ٹوبا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فلن فلان کا شہر کینیڈا کے صوبے مینی ٹوبا میں ساسکیچوان کی سرحد کے پاس موجود ہے۔ شہر کا زیادہ تر حصہ مینی ٹوبا میں جبکہ کچھ حصہ ساسکیچوان میں واقع ہے۔ 2006 کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی کل آبادی 5594 تھی۔

تاریخ[ترمیم]

قیام[ترمیم]

فلن فلان کا قیام 1927 میں ہڈسن بے مائننگ اینڈ سملٹنگ نامی کمپنی کی وجہ سے آیا تھا جو تانبے اور جست کی کان کنی اس علاقے میں کر رہی تھی۔ 1920 کی دہائی میں اس کمپنی نے ریلوے، کانوں، دھاتوں کو پگھلانے اور 101 میگا واٹ کے پن بجلی کے پلانٹ میں بھی سرمایہ کاری کی۔۔ 1928 میں ریل کی پٹڑی کان تک پہنچ گئی تھی۔ 1930 کی دہائی میں یہاں کی آبادی بڑھنے لگی تھی کیونکہ عظیم معاشی بحران کی وجہ سے کسان اپنے فارم وغیرہ چھوڑ کر کان کنی میں قسمت آزمانے آئے۔ یکم جنوری 1933 کو اسے شہر کا درجہ دیا گیا۔ آج بھی یہ شہر کان کنی کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے اور کئی نئی کانیں بھی کام کر رہی ہیں۔ اپنی خوبصورتی اور آس پاس موجود جھیلوں کی وجہ سے فلن فلان کسی حد تک سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

شہر کا نام ایک ناول کے کردار سے لیا گیا تھا۔ ایک پراسپکٹر نے اس علاقے کے سروے کے دوران یہ ناول پایا۔ اس ناول میں ایک کردار جوسیا فلنٹ بیٹی فلانٹن نام کا تھا جو ایک اتھاہ گہری جھیل میں آبدوز چلا رہا تھا۔ زیر آب سونے کی دیواروں والے سوراخ سے گزر کر یہ آبدوز ایک نئی عجیب زیر زمین دنیا میں پہنچی۔ جب ٹام کو اس علاقے میں تقریباً خالص تانبے کی کان ملی تو اس نے فوراً اس کتاب کے بارے سوچا اور اسے فلن فلان کی کان کا نام دے دیا۔ کان کے آس پاس بسنے والے گاؤں نے بھی یہی نام اختیار کیا۔ فلن فلان اور ٹارزانا، کیلیفورنیا ہی دو شہر ہیں جن کے نام کسی سائنس فکشن پر رکھے گئے ہیں۔ فلنٹی کا کردار اتنا اہم تھا کہ مقامی چیمبر آف کامرس نے تین ڈالر کا سکہ بھی اس نام سے جاری کیا۔ یہ سکہ سال بھر تک شہر میں قانونی طور پر استعمال ہوتا رہا تھا۔

ادویاتی چرس کی پیداوار[ترمیم]

فلن فلان کو 2002 میں اس وقت بین القوامی طور پر بدنامی ملی جب کینیڈا کی حکومت نے ساسکاٹون کی ایک کمپنی کو ادویات میں استعمال ہونے والی چرس تیار کرنے کی اجازت دی۔ کینیڈا میں معالجے میں استعمال ہونے والی چرس صرف اور صرف ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے پر مل سکتی ہے۔ کینیڈا میں چرس کو بطور دوا استعمال کرنے والے افراد کو تحقیقی مقاصد کے لیے معلومات لازماً دینی ہوتی ہیں۔

موسم[ترمیم]

فلن فلان کا موسم نیم آرکٹک نوعیت کا ہے اور موسم کی مناسبت سے درجہ حرارت بدلتا رہتا ہے۔ جنوری میں اوسط کم سے کم درجہ حرارت منفی 25 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ اوسط منفی 16 ڈگری رہتا ہے۔ جولائی میں زیادہ سے زیادہ اوسط درجہ حرارت 24 ڈگری اور کم سے کم اوسطاً 13 ڈگری رہتا ہے۔

جغرافیہ[ترمیم]

فلن فلان ساسکیچوان اور مینی ٹوبا کی سرحد پر واقع ہے اور شہر کا بڑا حصہ مینی ٹوبا میں ہے۔ علاقے کا زیادہ تر حصہ پتھریلا ہے اور اسے پتھر پر بنے شہر کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ پتھریلے گرد و نواح کی وجہ سے یہاں کاشتکاری ممکن نہیں۔ تاہم یہاں سے جنوب مشرق میں 130 کلومیٹر دور مینی ٹوبا کے شہر دی پاس میں کاشتکاری ہوتی ہے۔

ذرائع نقل و حمل[ترمیم]

زمینی[ترمیم]

فلن فلان تک جانے کے لیے مینی ٹوبا کی صوبائی شاہراہ نمبر 10 اور ساسکیچوان کی شاہراہ نمبر 167 اختیار کرتے ہیں۔ روزانہ کی بنیادوں پر گرے ہاؤنڈ اور گرے گوز بسیں چلتی ہیں۔ شہر کا اپنا چھوٹا سا پبلک بس سسٹم بھی ہے۔

فضائی[ترمیم]

شہر میں فضائی سفر کی سہولیات کے لیے فلن فلان ائیرپورٹ موجود ہے جو شہر کے جنوب مشرق میں ہے۔ یہاں ونی پگ سے براہ راست پروازیں آتی ہیں۔

ریل[ترمیم]

ہڈسن بے ریلوے آج بھی یہاں مال بردار گاڑیاں چلاتی ہے جو دی پاس اور فلن فلان کے درمیان محدود رہتی ہیں۔

معیشت[ترمیم]

کان کنی[ترمیم]

شہر کی معیشت کا دار و مدار تانبے اور جست کی کان کنی پر ہے۔