مندرجات کا رخ کریں

فن تاریخ گوئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

فنِ تاریخ گوئی سے مراد کسی شعر، مصرع یا نثر کے حروف کے ابجد سے کسی واقعہ کی تاریخ کا برآمد کرنا ہے۔ یہ روایت اردو کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی ہے۔ جو شعر برآمد ہو اسے 'مادہ' یا مادۂ تاریخ' کہا جاتا ہے۔ فارسی و اردو میں یہ 'تاریخ' اور عربی میں قطعہ تاریخ اور ترکی میں یہ 'رمز' بھی کہلاتا ہے۔ اردو میں یہ روایت کئی صدیوں سے جاری ہے مگر اب اس کا رواج اردو سے عدم واقفیت کی بنا پر کم ہوتا جا رہا ہے۔ عربی زبان کے ہر حرف کی ایک عددی قدر ہوتی ہے، جسے ان زبانوں میں تاریخ‌ نویسی (chronogram) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو عربی رسم الخط اختیار کرتی ہیں۔

کتب میں

[ترمیم]

علمِ تاریخ‌ گوئی (کرونوگرام) اسلامی علمی روایت میں ایک قدیم اور نفیس فن سمجھا جاتا ہے، جس کے ذریعے کسی عبارت یا عنوان کے حروف کی عددی قدریں (ابجدی نظام کے تحت) اس طور ترتیب دی جاتی ہیں کہ ان سے کسی خاص سنِّ تحریر یا واقعے کی تاریخ اخذ کی جا سکے۔ امام احمد رضا خان فنِ تاریخ‌ گوئی میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ نہ صرف اُن کی کتب بلکہ ان میں شامل کئی رسائل بھی ایسے عنوانات کے حامل ہیں جن سے سنِّ تصنیف حاصل ہوتا ہے۔ آپ کے فتاویٰ رضویہ میں درج ذیل رسالہ "النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی" (ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر) اس کی ایک مثال ہے، جس کے عنوان کے حروف کی عددی قیمتیں ابجدی نظام کے مطابق 1327 ہجری کے برابر ہیں۔[1][2]

رسالہ " النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی" سے حاصل شدہ سنِّ تصنیف 1327 ہجری
جزو عربی حروف ابجدی اقدار جزوی مجموعہ
النمیقۃ ا، ل، ن، م، ی، ق، ة 1 + 30 + 50 + 40 + 10 + 100 + 5 236
الأنقی ا، ل، ا، ن، ق، ی 1 + 30 + 1 + 50 + 100 + 10 192
فی ف، ی 80 + 10 90
فرق ف، ر، ق 80 + 200 + 100 380
الملاقی ا، ل، م، ل، ا، ق، ی 1 + 30 + 40 + 30 + 1 + 100 + 10 212
والملقی و، ا، ل، م، ل، ق، ی 6 + 1 + 30 + 40 + 30 + 100 + 10 217
کل ابجدی مجموعہ 1327

قبر کی تختیوں میں

[ترمیم]

شیراز میں واقع فارسی شاعر خواجہ حافظ کے مزار پر فارسی عبارت خاکِ مصلیٰ کندہ ہے (مصلیٰ شیراز کا ایک باغ یا تفریح گاہ تھی جسے حافظ کی مشہور نظم "ترکِ شیرازی" اور دیگر کلام نے شہرت دی)۔ اس عبارت کے حروف کی عددی قدریں جمع کرنے پر ہجری سنہ 791 بنتا ہے، جو عیسوی 1389/1390 کے برابر ہے۔[3]

اسمائے ذاتی میں

[ترمیم]

فنِ تاریخ‌ گوئی کا استعمال صرف تصنیفات کے عنوانات تک محدود نہیں، بلکہ بعض اوقات شخصی ناموں میں بھی اس ہنر کو برتا جاتا ہے تاکہ وہ کسی اہم تاریخی سال کی نمائندگی کریں جیسے سالِ ولادت یا وفات۔ امام احمد رضا خان نے اپنا تاریخی نام "المختار" منتخب فرمایا، جس کے حروف کی ابجدی قیمتیں 1272 ہجری کے برابر بنتی ہیں، جو ان کے سالِ ولادت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔[4][5]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد دوم، لاہور: رضا فاؤنڈیشن، 1991ء، صفحہ 113۔
  2. اُوشا سانیال۔ میکرز آف دی مسلم ورلڈ: احمد رضا خان ۔ آکسفورڈ: ون ورلڈ، 2005، صفحہ 114۔
  3. سروستانی، کوروش کمالی۔ "حافظ - HAFEZ xiii–xiv: HAFEZ’S TOMB (ḤĀFEẒIYA)"۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا، جلد 11، fasc. 5 (15 دسمبر 2002): صفحات 507–505۔ تازہ ترین ترمیم 12 اکتوبر 2016 (اخذ شدہ 24 جولائی 2025)۔
  4. بستاوی، اعلیٰ حضرت، صفحہ 25۔
  5. شجاعت علی القادری، من ہو احمد رضا، صفحہ 15۔