مندرجات کا رخ کریں

فونیشن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

صوتیات کی ذیلی شاخوں میں فونیشن (Phonation) کی اصطلاح کے معنی میں تھوڑا سا فرق پایا جاتا ہے۔ بعض ماہرین صوتیات (phoneticians) کے نزدیک، فونیشن وہ عمل ہے جس کے ذریعے ووکل فولڈز (vocal folds) تقریباً متواتر ارتعاش (quasi-periodic vibration) کے ذریعے مخصوص آوازیں پیدا کرتے ہیں۔ یہ تعریف ان ماہرین میں رائج ہے جو حنجرہ (larynx) کی تشریح و فعلیات (anatomy and physiology) اور تقریری آواز (speech production) کا عمومی مطالعہ کرتے ہیں۔ تاہم، صوتیات کی دیگر ذیلی شاخوں، جیسے لسانی صوتیات (linguistic phonetics) کے ماہرین، اس عمل کو مسموعیت (voicing) کہتے ہیں۔ جبکہ وہ فونیشن کی اصطلاح کسی بھی ایسی ارتعاشی حالت (oscillatory state) کے لیے استعمال کرتے ہیں جو حنجرے (larynx) کے کسی بھی حصے میں ہوا کے بہاؤ (airstream) کو تبدیل کرے، جس میں مسموعیت (voicing) صرف ایک حصہ ہے۔ اس وسیع تر تعریف میں غیر مسموع (voiceless) اور فوقِ مزماری (supra-glottal) فونیشنز بھی شامل ہیں۔

مسموعیت

[ترمیم]

فونیشن (Phonation)کو بعض اوقات مسموعیت (voicing) کا ہی مترادف کہا جاتا ہے یہ عمل اس وقت ہوتا ہے جب پھیپھڑوں سے ہوا مزمار (glottis) کے ذریعے باہر نکلتی ہے، جس سے حنجرے میں دباؤ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ جب یہ کمی کافی زیادہ ہو جاتی ہے، تو ووکل فولڈز(vocal folds) ارتعاش (oscillate) کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ فونیشن حاصل کرنے کے لیے درکار کم سے کم دباؤ میں کمی کو فونیشن تھریشولڈ پریشر (PTP) کہتے ہیں،[1] [2] اور نارمل ووکل فولڈز والے انسانوں کے لیے یہ تقریباً 2-3 سینٹی میٹر (cm) ہوتا ہے۔ ارتعاش کے دوران ووکل فولڈز کی حرکت زیادہ تر اطرافی (lateral) ہوتی ہے، حالانکہ کچھ اوپری (superior) جزو بھی ہوتا ہے۔ تاہم، ووکل فولڈز کی لمبائی کے ساتھ تقریباً کوئی حرکت نہیں ہوتی۔ ووکل فولڈز کا ارتعاش حنجرے کے ذریعے ہوا کے دباؤ اور بہاؤ کو منظم کرنے کا کام کرتا ہے اور یہ منظم شدہ ہوا کا بہاؤ زیادہ تر مسموع فونز (voiced phones) کی آواز کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔

جو آواز حنجرہ پیدا کرتا ہے وہ ایک ہارمونک سیریز (harmonic series) ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، یہ ایک بنیادی تعدد(جسے بنیادی فریکوئنسی (fundamental frequency) کہتے ہیں، جو پچ (pitch) کے ادراک کے لیے بنیادی اکوسٹک اشارہ ہے) اور اس کے ساتھ ہارمونک اوورٹونز (harmonic overtones) پر مشتمل ہوتی ہے، جو بنیادی فریکوئنسی کے ضرب ہوتے ہیں۔[3] سورس-فلٹر تھیوری (source–filter theory) کے مطابق، نتیجے میں پیدا ہونے والی آواز صوتی نالی (vocal tract) میں موجود گونجنے والے چیمبر کو متحرک کرتی ہے تاکہ انفرادی تقریری آوازیں پیدا ہو سکیں۔

اگر ووکل فولڈز ایک دوسرے کے کافی قریب نہ ہوں، کافی تناؤ میں نہ ہوں یا بہت زیادہ تناؤ میں ہوں یا حنجرے میں دباؤ میں کمی کافی زیادہ نہ ہو تو وہ ارتعاش نہیں کریں گے۔[4] لسانیات میں، ایک فون (phone) کو غیر مسموع(voiceless) کہا جاتا ہے اگر اس کی ادائیگی کے دوران کوئی فونیشن نہ ہو۔ تقریر میں، غیر مسموع فونز کا تعلق ایسے ووکل فولڈز سے ہوتا ہے جو مسموعیت کے دوران کے ووکل فولڈز کے مقابلے میں لمبے، بہت زیادہ تناؤ میں اور اطرافی طور پر (ابڈکٹڈ) پوزیشن میں ہوں۔[5] [6]

بنیادی فریکوئنسی، جو پچ کے ادراک کے لیے بنیادی اکوسٹک اشارہ ہے، کو مختلف طریقوں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کریکوتھائیرائڈ مسل (cricothyroid muscle) کے سکڑنے سے ووکل فولڈز میں تناؤ بڑھا کر حاصل کی جاتی ہیں۔ تناؤ میں چھوٹی تبدیلیاں تھائیروایریٹنائیڈ مسل (thyroarytenoid muscle) کے سکڑنے یا تھائیرائیڈ اور کریکوئڈ کارٹیلیجز (thyroid and cricoid cartilages) کی نسبتی پوزیشن میں تبدیلیوں سے متاثر ہو سکتی ہیں، جیسا کہ اس وقت ہو سکتا ہے جب حنجرہ نیچے یا اوپر کیا جائے یا تو ارادتاً یا زبان کی حرکت کے ذریعے جس سے حنجرہ ہائیوئڈ ہڈی (hyoid bone) کے ذریعے منسلک ہوتا ہے۔[6] تناؤ کی تبدیلیوں کے علاوہ، بنیادی فریکوئنسی حنجرے میں دباؤ میں کمی سے بھی متاثر ہوتی ہے، جو زیادہ تر پھیپھڑوں کے دباؤ سے متاثر ہوتی ہے اور ووکل فولڈز کے درمیان فاصلے کے ساتھ بھی مختلف ہوگی۔ بنیادی فریکوئنسی میں تغیر (variation) لسانی طور پر intonation اور tone پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اس وقت ووکل فولڈز کے ارتعاش کے آغاز کے بارے میں دو اہم نظریات ہیں: مائیو ایلاسٹک تھیوری (myoelastic theory) اور ایرو ڈائنامک تھیوری (aerodynamic theory)۔[7] یہ دونوں نظریات ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں اور یہ بالکل ممکن ہے کہ دونوں نظریات درست ہوں اور ارتعاش کو شروع کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے بیک وقت کام کر رہے ہوں۔ ایک تیسرا نظریہ، نیورو کروناکسک تھیوری (neurochronaxic theory)، 1950 کی دہائی میں کافی مقبول تھا، لیکن اس کے بعد سے اسے بڑے پیمانے پر مسترد کر دیا گیا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. I.R. Titze (1988)۔ "The physics of small-amplitude oscillation of the vocal folds"۔ Journal of the Acoustical Society of America۔ ج 83 شمارہ 4: 1536–1552۔ Bibcode:1988ASAJ...83.1536T۔ DOI:10.1121/1.395910۔ PMID:3372869
  2. J. C. Lucero (1995)۔ "The minimum lung pressure to sustain vocal fold oscillation"۔ Journal of the Acoustical Society of America۔ ج 98 شمارہ 2: 779–784۔ Bibcode:1995ASAJ...98..779L۔ DOI:10.1121/1.414354۔ PMID:7642816۔ S2CID:24053484
  3. The human instrument. Principles of Voice Production, Prentice Hall (currently published by NCVS.org)
  4. J. C. Lucero (1998)۔ "Optimal glottal configuration for ease of phonation"۔ Journal of Voice۔ ج 12 شمارہ 2: 151–158۔ DOI:10.1016/S0892-1997(98)80034-9۔ PMID:9649070
  5. Margaret Greene؛ Lesley Mathieson (2001)۔ The Voice and its Disorders۔ John Wiley & Sons; 6th Edition۔ ISBN:978-1-86156-196-1
  6. 1 2 Willard Zemlin (1998)۔ Speech and hearing science : anatomy and physiology۔ Allyn and Bacon; 4th edition۔ ISBN:0-13-827437-1
  7. Titze, I. R. (2006). The Myoelastic Aerodynamic Theory of Phonation, Iowa City:National Center for Voice and Speech, 2006.

بیرونی روابط

[ترمیم]

سانچہ:Nonverbal communication