فہمیدہ ریاض

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فہمیدہ ریاض
Fehmida Riaz.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 28 جولا‎ئی 1946  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
میرٹھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 21 نومبر 2018 (72 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت[1]
Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعرہ،  مترجم،  مصنفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
P literature.svg باب ادب

فہمیدہ ریاض (ولادت: 28 جولائی 1946ء- 22 نومبر 2018ء) پاکستانی ترقی پسند ادیبہ، شاعرہ، سماجی کارکن برئے حقوق انسانی و حقوق نسواں تھیں۔ [2] ان کی مشہور تصانیف میں گوداوری، خط مرموز اور خانہ آب و گل ہے۔ خانہ آب و گل فارسی زبان کی مشہور مثنوی مولانا روم کا پہلا اردو ترجمہ ہے۔15 ادبی کتابوں کی مصنفہ کی پوری زندگی تنازعات سے گھری رہی ہے۔ جب ان کا مجموعہبدن دریدہ منظر عام پر آیا تو ان پر شہوت انگیز اور حساس الفاظ استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا۔ انہوں نے شاہ عبد اللطیف بھٹائی اور شیخ ایاز کی کتابوں کا سندھی زبان سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ فہمیدہ ریاض نے محمد ضیاء الحق کے مذہبی ظلم سے پریشان ہو کر پاکستان ترک کردیا اور بھارت میں پناہ لی جہاں انہوں نے کئی برس گزار دئے۔ [3][4] ان کا شعری مجموعہ اپنا جرم ثابت ہے جنرل ضیاءالحق کے ظلم و ستم کو بیاں کرتی ہے۔ انہوں نے اس مجموعے میں اپنا تجربہ بیان کیا ہے۔ [5]

ذاتی زندگی[ترمیم]

فہمیدہ ریاض کی ولادت 28 جولائی 1946ء کو میرٹھ کے ایک تعلیی خاندان میں ہوئی۔ اس وقت میرٹھ برطانوی حکومت کا حصہ ہے۔ ان کے والد ریاض الدین احمد ایک تعلیم پسند شخص تھے۔وہ صوبہ سندھ میں تعلیم نظام کو بہتر بنانے میں مصروف تھے۔ [6] ان کے والد کا تبادلہ ہو گیا اور وہ لوگ حیدراباد میں مقیم ہوگئے۔ [6] ابھی ان کی عمر چار برس ہی تھی کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا اور والدہ نے ان کی پرورش کی۔ [7] ان ہوں ایام طفولت میں اردو سندھی زبان سیکھ لی اس کے بعد فارسی سے بھی شناسائی حاصل کی۔ [8] تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ریڈیو پاکستان سے جڑگئیں۔ ۔[7] کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد فہمیدہ ریاض کو ان کے اہل خانہ نے ان کو طے شدہ شادی کرنے پر ابھارا۔ انہوں نے اپنے پہلے شوہر کے ساتھ کچھ برس برطانیہ میں گزارے۔ اس کے بعد طلاق لے کر پاکستان آگئیں۔ اس دوران میں انہوں نے بی بی سی اردو ریڈیو میں کام کیا اور فلم کاری میں ڈگری حاصل کی۔ اس شادی سے ان کو ایک بیٹی ہے۔ [6]

دوسری شادی سے ان کو دو اولادیں ہوئیں۔ ان کے دوسرے شوہر کا نام ظفر علی اجان ہے۔ وہ ایک سیاستدان ہیں۔ [6]

عملی زندگی اور پاکستان میں تحریکی سرگرمی[ترمیم]

کراچی میں انہوں نے ایک اشتہاری اجنسی میں کام کرنا شروع کیا مگر جلدی ہی اپنا ایک مجلہ جاری کیا۔ اس مجلہ کا انداز کچھ سیاسی اور لبرل تھا جو جنرل ضیاءالحق کو پسند نہ آیا اور ان پر اور ان کے شوہر پر متعدد الزامات لگائے گئے اور یہاں تک کہ ان کے شوہر ظفر کو جیل بھی جانا پڑا۔ بعد میں مجلہ بھی بند ہوگیا۔ [7] سنسرشب کے بارے میں وہ کہتی تھیں:

ہر ایک کو ایک فن میں سنجیدہ ہونا چاہئے اور کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ فن میں ایسی تقدیس ہے کہ وہ تشدد کو نہیں اپناتا ہے۔ قاری کو چاہئے کہ وسعت قلب کے ساتھ مطالعہ کرے تاکہ معنی کی گہرائی کو پہونچ سکے۔ میں اردو-ہندی انگریزی لغت ایسی دلچپی سے پڑھتی ہوں گویا شاعری پڑھ رہی ہوں۔ مجھے الفاظ بہت بھاتے ہیں۔ [9]

ان کا ماننا تھا کہ“ فیمینزم کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ میرے نزدیک فینزم کا مطلب یہ ہیکہ مرد کی طرح عورت بھی ایک مکمل انسان ہے جس کی لا محدود ذمہ داریاں ہیں۔ ان کو بھی امریکی کالے یا دلت کی طرح سماجی برابری حاصل کرنے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ عورتوں کو معاملہ مزید سنگین ہے۔ ان کو سڑک پر بلا جھجک اور بغیر کسی پریشان کا سامنا کئے ہوئے سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے۔ ان کو تیرنے، محبت کی شاعری کرنے کی آزادی ہے، بلکل اسی طرح جس طرح مرد بلا کسی روک ٹوک کےکرتے ہیں اور ان پر کوئی اخلاقی پابندی عائد نہیں ہوتی ہے۔ یہ نا انصافی بہت واضع ہے، بہت ظالمانہ اور ناقابل معافی ہے۔ “[9]

بھات رت کی طرف جلا وطنی[ترمیم]

اپنے سیاسی خیالات کی بنا پر ان کو کافی مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔ جنرل ضیاءالحق کے دور میں ان پر تقریباً دس مقدمے کئے گئے۔ [5] پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 124A کے تحت ان پر سیڈیشن چارج لگا۔ [10] شوہر کی گرفتاری کے بعد ان کے ایک مداح نے ان کو ضمانت پر رہا کروایا تاکہ پھر سے ان کو جیل نا جانا پڑے، اور پھر ان کو اور ان کے دو چھوٹے بچوں اور بہن سمیت مشاعرہ کے بہانے بھارت بھیج دیا جائے۔ اس وقت بھارت کی مشہور شاعرہ امرتا پریتم نے اس ضمن میں موجودہ وزیر اعظم اندرا گاندھی سے اس ضمن میں بات کی اور محترمہ ریاض کو بھارت میں پناہ مل گئی۔ [5]

ان کے بچوں کو بھارت میں اسکول میں داخلہ مل گیا۔ [10] بھارت میں ان کے کئی رشتہ دار رہتے تھے۔ بعد میں ان کے شوہر جیل سے رہا ہونے کے بعدبھارت آگئے اور ان کے ساتھ رہنے لگے۔ اس خاندان نے تقریباً سات برس جلا وطنی کی زندگی گزاری۔ پھر جنرل محمد ضیاء الحق کی وفات کے بعد بینظیر بھٹو کے ولیمہ کی شام کو وہ بھارت سے پاکستان لوٹ آئیں۔ اس دوران میں ان کا قیام بحیثیت شاعرہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں رہا۔ اپنی جلاوطنی کے دوران میں انہوں ہندی بھی سیکھ لی تھی۔

وفات[ترمیم]

72 سال کی عمر میں 21 نومبر 2018ء کو وہ اس دنیا سے چل بسیں۔ [11]

منتخب ادبی کتب[ترمیم]

ان کی پہلی شاعری احمد ندیم قاسمی کے فنون میں شائع ہوئی، اس وقت ان کی عمر محض 15 برس تھی۔ 22 سال کی عمر میں ان کا پہلا شعری مجموعہ منظر عام پر آیا۔

سال عنوان ناشر
1968ء پتھر کی زبان نئی آواز جامعہ نگر نئی دہلی
2002 خط مرموز آج کی کتابیں، کراچی
گوداوری
کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے
کراچی
گلابی کبوتر
1973ء بدن دریدہ
دھوپ
1999 آدمی کی زندگی آج کی کتابیں، کراچی
1998 کھلے دریچے سے وڈا کتاب گھر، کراچی
حلقہ میری زنجیر کا
اھورا آدمی
پاکستان، لٹریچر اینڈ سوسائٹی
قافلے پرندوں کے
یہ خانہ آب و گل
2011 سب لعل و گوہر سنگ میل بپلکیشنز، لاہور
2017ء تم کبیر اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb15037482f — اخذ شدہ بتاریخ: 26 مارچ 2017
  2. "Pakistani poet Fahmida Riaz is 72. These poems show she was in relentless pursuit of a new order"۔ 
  3. "That Thing That India and Pakistan Do"۔ 
  4. "Hindu Pakistan? Not Quite"۔ 
  5. ^ ا ب پ Amar Sindhu (2013-09-14)۔ "Herald Exclusive: In conversation with Fahmida Riaz"۔ DAWN.COM (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-08-29۔ 
  6. ^ ا ب پ ت "Fahmida Riaz: The Progressive Writer and Poet of Sindh"۔ Sindhi Dunya (en-US زبان میں)۔ 2016-04-07۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-08-30۔ 
  7. ^ ا ب پ "Fahmida Riaz – Profile & Biography | Rekhta"۔ Rekhta (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-08-30۔ 
  8. "Fahmida Riaz"۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-08-30۔ 
  9. ^ ا ب "The Hindu : Literary Review / Interview : `There is something sacred about art'"۔ www.thehindu.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-08-30۔ 
  10. ^ ا ب "Pakistanis seek friendship with India: Fahmida Riaz"۔ hindustantimes.com/ (en زبان میں)۔ 2013-04-08۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-08-30۔ 
  11. "Pakistani poet, author Fahmida Riaz passes away"۔ www.aljazeera.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-11-22۔