فیروز دیلمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فیروز دیلمی
معلومات شخصیت
وفات سنہ 673  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
یمن  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Derafsh Kaviani flag of the late Sassanid Empire.svg ساسانی سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد ضحاک بن فیروز دیلمی  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فیروز بن الدیلمی جنہیں صرف الدیلمی بھی کہا جاتا ہے۔

نام ونسب[ترمیم]

فیروز نام،ابو عبداللہ کنیت، نسلاً عجمی تھے، حمیری قبائل کے ساتھ رہتے تھے۔

فیروز الدیلمی[ترمیم]

آپ حمیری فارسی ہیں اور ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں کسریٰ نے سیف بن زیک یزن کے ہمراہ یمن بھیجا۔ جنہوں نے حبشیوں کو نکال کر یمن پر قبضہ کیا اور صنعاء میں رہے۔ جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کا علم ہوا تو حاضر خدمت ہو کر اسلام لائے۔ آپ نے یمن میں اسود عنسی مدعی نبوت کو قتل کیا، یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات سے بالکل قریب ہوا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یمن میں وفات پائی۔ آپ سے ضحاک بن فیروز دیلمی اور عبد اللہ نے روایات لیں۔[1] بعض محدثین کہتے ہیں ہمیں فیروز بن الدیلمی نے روایت کی اور بعض صرف الدیلمی ہی کہتے ہیں دونوں سے یہی شخصیت مراد ہوتی ہیں۔[2]

اسلام[ترمیم]

ان کے اسلام کا زمانہ متعین طور سے نہیں بتایا جاسکتا،ایک وفد میں آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوئے۔ قبولِ اسلام کے وقت دو حقیقی بہنیں فیروز کے عقد میں تھیں،آنحضرتﷺ نے فرمایا،ان میں سے ایک کو رکھو اوردوسری کو الگ کردو، صنعاء میں انگور کی بڑی پیداوار تھی اوراس کی شراب بنتی تھی ،ان کے اسلام لانے کے وقت شراب حرام ہوچکی تھی،اس لیے آنحضرتﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ہمارے ملک میں انگور کی کثرت ہے،لیکن شراب حرام ہوچکی ہے، اب اس کو کس مصرف میں لایا جائے،فرمایا انہیں خشک کرلیا کرو، عرض کیا خشک کرنے کے بعد کیا کریں، فرمایا صبح کو بھگودیا کرو اور شام کو پی لیا کرو، اورشام کو بھگو کر صبح کو پی لیا کرو، انگور کا مسئلہ حل کرنے کے بعد عرض کیا یا رسول اللہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں،آپ کس کو ہمارا ولی بناتے ہیں،فرمایا خدا اور رسول کو،عرض کیا یا رسول اللہ !یہ ہمارے لیے بس ہے۔[3] اسود عنسی کے قتل میں شرکت مشہور مدعیِ نبوت اسود عنسی کی شورش کو دبانے کے بعد اس کے کامل استیصال کے لیے قیس بن ہبیرہ کی ماتحتی میں جو مہم روانہ کی گئی تھی،اس میں فیروز بھی تھے ان کا شمار اسودعنسی کے قاتلوں میں ہے، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قیس نے قتل کیا تھااور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ فیروز قاتل تھے،کچھ روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ قتل فیروز نے کیا تھا،لیکن سرقیس نے تن سے جدا کیا تھا،حضرت عمرؓ ،اسود کے قتل کا سر افیروز کے سر باندھتے تھے، اور فرماتے تھے ،اس شیر نے قتل کیا ہے (فتوح البلدان بلاذری:۱۱۲) بہرحال اگر فیروز نے تنہا قتل نہیں کیا،تو اس کے قاتلوں میں ضرور تھے، ولا خلاف أن فيروز الديلمي ممن قتل الأسود بن كعب العنسي المتنبي (استیعاب:۲/۵۳۵) اسود کے قتل کی خبر آنحضرتﷺ کی وفات سے چند روز پیشتر مدینہ میں آگئی تھی اورآپ کو اس پر بڑی مسرت تھی،ایک دن صبح سویرے آپ نے فرمایا کہ کل مبارک اہل بیت کے ایک مبارک فرد نے اسود کو قتل کیا ہے۔

وفات[ترمیم]

حضرت عثمان کے عہدِ خلافت میں وفات پائی۔ [4] فضل وکمال ان سے ان کے لڑکے ضحاک،عبداللہ اورسعید نے روایت کی ہے۔ [5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد8صفحہ588نعیمی کتب خانہ گجرات
  2. طبقات بن سعد جلد 3 صفحہ 428
  3. مسند احمد بن حنبل:۴/۲۳۲
  4. اسد الغابہ:۴/۱۴۶
  5. تہذیب الکمال:۳۱۱