فیصل آباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فیصل آباد
Faisalabad

لائل پور
Lyallpur
میٹروپولس
Skyline of فیصل آبادFaisalabad
Faisalabad is located in پاکستان
Faisalabad
Faisalabad
فیصل آباد کا پنجاب، پاکستان میں مقام
متناسقات: 31°25′45″N 73°4′44″E / 31.42917°N 73.07889°E / 31.42917; 73.07889متناسقات: 31°25′45″N 73°4′44″E / 31.42917°N 73.07889°E / 31.42917; 73.07889
ملک پاکستان
صوبہ پنجاب
ضلع ضلع فیصل آباد
سابقہ نام لائل پور
دفتری زبان اردو
علاقائی زبان پنجابی زبان
قیام اول 1892
قائم از سر جیمز براڈووڈ لائل
حکومت
 • قسم میونسپل کارپوریشن
 • فیصل آباد کا میئر رزاق ملک
 • فیصل آباد کا نائب میئر 3 زونل میئرز
رقبہ
 • میٹروپولس 1,300 کلو میٹر2 (490 مربع میل)
 • زمینی 840 کلو میٹر2 (325 مربع میل)
 • آبی 430 کلو میٹر2 (165 مربع میل)
 • میٹرو 5,860 کلو میٹر2 (2,261 مربع میل)
بلندی 184 میل (605 فٹ)
آبادی (2016)[1]
 • میٹروپولس 4,075,000
 • درجہ تیسرا
 • کثافت 3,200/کلو میٹر2 (8,300/مربع میل)
نام آبادی فیصل آبادی
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
 • گرما (روشنیروز بچتی وقت) پاکستان کا معیاری وقت (UTC+4)
زپ کوڈ 38000
ٹیلیفون کوڈ 041
گاڑی رجسٹریشن Three letters beginning with F and random four numbers (e.g. FDA 1234)
زبانیں (1981) 98.2% پنجابی زبان
1.8% دیگر[2]
ویب سائٹ www.faisalabad.gov.pk

فیصل آباد پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے، جس کا سابق نام لائل پور (Lyallpur) تھا۔ 1979ء میں اسے سعودی عرب کے شاہ فیصل بن عبدالعزیز السعود کے نام پر فیصل آباد کا نام دیا گیا۔ اپنے دیہاتی تمدن کی وجہ سے ایک وقت تک اسے ایشیا کا سب سے بڑا گاؤں کہا جاتا تھا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ وہ ایک عظیم شہر بن کر نمودار ہوا اور اب اسے کراچی اور لاہور کے بعد پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ دنیا کے عظیم قوال و موسیقار نصرت فتح علی خان کا تعلق اسی شہر سے تھا۔

فہرست

نام[ترمیم]

تاریخ[ترمیم]

شہر فیصل آباد کی تاریخ صرف ایک صدی پرانی ہے۔ آج سے کم و بیش 100 سال پہلےجھاڑیوں پر مشتمل یہ علاقہ مویشی پالنے والوں کا گڑھ تھا۔ 1892ء میں اسے جھنگ اور گوگیرہ برانچ نامی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا۔ 1895ء میں یہاں پہلا رہائشی علاقہ تعمیر ہوا، جس کا بنیادی مقصد یہاں ایک منڈی قائم کرنا تھا۔ ان دنوں شاہدرہ سے شورکوٹ اور سانگلہ ہل سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مابین واقع اس علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان میں واقع دوآبہ رچنا کا اہم حصہ ہے۔ [8] لائلپور شہر کے قیام سے پہلے یہاں پکا ماڑی نامی قدیم رہائشی علاقہ موجود تھا، جسے آجکل پکی ماڑی کہا جاتا ہے اور وہ موجودہ طارق آباد کے نواح میں واقع ہے۔ یہ علاقہ لوئر چناب کالونی کا مرکز قرار پایا اور بعد ازاں اسے بلدیہ کا درجہ دے دیا گیا۔

موجودہ ضلع فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ کرتے۔ اس زمانے کے انگریز سیاح اسے ایک شہر بنانا چاہتے تھے۔ اوائل دور میں اسے چناب کینال کالونی کہا جاتا تھا، جسے بعد میں پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل سر جیمز بی لائل کے نام پر لائلپور کہا جانے لگا۔

خط زمانی[ترمیم]

  • 1896ء میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال سے کچھ علاقہ الگ کر کے اس پر مشتمل لائلپور تحصیل قائم ہوئی جسے انتظام و انصرام کے لئے ضلع جھنگ میں شامل کر دیا گیا۔
  • 1902ء میں اس کی آبادی 4 ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔
  • 1903ء میں گھنٹہ گھر کی تعمیر کا آغاز ہوا اور وہ 1905ء میں مکمل ہوا۔
  • 1904ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا، اس سے قبل یہ ضلع جھنگ کی ایک تحصیل تھا۔
  • 1906ء میں لائلپور کے ضلعی ہیڈکوارٹر نے باقاعدہ کام شروع کیا۔ یہی وہ دور تھا جب اس کی آبادی سرکلر روڈ سے باہر نکلنے لگی۔
  • 1908ء میں یہاں پنجاب زرعی کالج اور خالصہ اسکول کا آغاز ہوا، جو بعد ازاں بالترتیب جامعہ زرعیہ فیصل آباد جو زرعی یونیورسٹی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اور خالصہ کالج کی صورت میں ترقی کر گئے۔ خالصہ کالج آج بھی جڑانوالہ روڈ پر میونسپل ڈگری کالج کے نام سے موجود ہے۔
  • 1909ء میں ٹاؤن کمیٹی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا اور ڈپٹی کمشنر کو پہلا چیئرمین قرار دیا گیا۔
  • 1910ء میں پنجاب کے نہری نظام کی قدیم ترین اور مشہورنہر لوئر چناب تعمیر ہوئی۔
  • 1920ء میں سرکلر روڈ سے باہر پہلا باقاعدہ رہائشی علاقہ ڈگلس پورہ قائم ہوا۔
  • 1930ء میں یہاں صنعتی ترقی کا آغاز ہوا۔
  • 1934ء میں مشہورِ زمانہ لائلپور کاٹن ملز قائم ہوئی۔
  • 1942ء قائد اعظم محمد علی جناح فیصل آباد تشریف لائے اور انہوں نے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا۔
  • 3 مارچ 1947ء کو قیام پاکستان کا اصولی فیصلہ اور لائلپور کی پاکستان میں شمولیت بارے خبر ملنے پر لائلپور کے مسلمانوں نے شکرانے کے نوافل ادا کئے اور مٹھایاں بانٹیں۔
  • 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کے باعث شہر کا رقبہ بھی وسعت اختیار کر گیا۔ قیامِ پاکستان کے وقت شہر کا رقبہ صرف 3 مربع میل تھا، جو اب 10 مربع میل سے زیادہ ہو چکا ہے۔ بہت سے نئے رہائشی علاقے بھی قائم ہوئے، جن میں پیپلزکالونی اور غلام محمدآباد جیسے بڑے علاقے بھی شامل ہیں۔
  • 1977ء میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر لائلپور کو میونسپلٹی سے ترقی دے کر میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا۔
  • 1982ء میں اسے ضلع فیصل آباد، ضلع جھنگ اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ پر مشتمل ڈویژنل صدر مقام قرار دیا گیا۔ اسی موقع پر اس کا نام لائلپور سے تبدیل کرتے ہوئے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہید کے نام پر فیصل آباد رکھ دیا گیا۔ [9]
  • 2005ء میں یہاں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام لاگو کیا گیا۔

گھنٹہ گھر[ترمیم]

گھنٹہ گھر فیصل آباد کا تازہ منظر

فیصل آباد کی اہم خصوصیت شہر کا مرکز ہے، جو ایک ایسے مستطیل رقبے پر مشتمل ہے، جس کے اندر جمع اور ضرب کی اوپر تلے شکلوں نے اسے 8 حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اس کے درمیان میں، جہاں آ کر آٹھوں سڑکیں آپس میں ملتی ہیں، مشہورِ زمانہ گھنٹہ گھر کھڑا ہے۔ گھنٹہ گھر کے مقام پر ملنے والی آٹھوں سڑکیں شہر کے 8 اہم بازار ہیں، جن کی وجہ سے اسے آٹھ بازاروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ گھنٹہ گھر سے شروع ہو کر بیرونی طرف پھیلتے ہوئے بازار اس جگہ کو برطانوی پرچم کی شکل دیتے ہیں، جو سر جیمزلائل نے اپنے ملک کی یادگار کے طور پر یہاں چھوڑا ہے۔

گھنٹہ گھر کی تعمیر کا فیصلہ ڈپٹی کمشنرجھنگ کیپٹن بیک (Capt Beke) نے کیا اور اس کا سنگ بنیاد 14 نومبر 1903ء کو سر جیمز لائل نے رکھا۔ جس جگہ کو گھنٹہ گھر کی تعمیر کے لئے منتخب کیا گیا وہاں لائلپور شہر کی تعمیر کے وقت سے ایک کنواں موجود تھا۔ اس کنوئیں کو سرگودھا روڈ پر واقع چک رام دیوالی سے لائی گئی مٹی سے اچھی طرح بھر دیا گیا۔ یونہی گھنٹہ گھر کی تعمیر میں استعمال ہونے والا پتھر 50 کلومیٹر کی دوری پر واقع سانگلہ ہل نامی پہاڑی سے لایا گیا۔

1906ء کے اوائل میں گھنٹہ گھر کی تعمیر کا کام گلاب خان کی زیرنگرانی مکمل ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ گلاب خان کا تعلق اسی خاندان سے تھا، جس نے بھارت میں آگرہ کے مقام پر تاج محل تعمیر کیا تھا۔ گھنٹہ گھر 40 ہزار روپے کی لاگت سے 2 سال کے عرصے میں تعمیر ہوا۔ اس کی تکمیل پر ایک تقریب کا انعقاد ہوا، جس کے مہمانِ خصوصی اس وقت کے مالیاتی کمشنر پنجاب مسٹر لوئیس تھے۔

گھنٹہ گھر میں نصب کرنے کے لئے گھڑی بمبئی سے لائی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ لائلپور کا گھنٹہ گھر ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا، جو 80 سال قبل فوت ہو چکی تھیں۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر سے پہلے شہر کے آٹھوں بازار مکمل ہو چکے تھے۔

برطانوی پرچم یونین جیک پر مبنی فیصل آباد شہر کا نقشہ اس دور کے ماہرتعمیرات ڈیسمونڈ ینگ (Desmond Yong) نے ڈیزائن کیا، جو درحقیقت سرگنگا رام کی تخلیق تھا، جو اس دور کے مشہورآبادیاتی منصوبہ ساز (town planner) تھے۔

آٹھ بازاروں پر مبنی شہر کا کل رقبہ 110 مربع ایکڑ تھا۔ گھنٹہ گھر کے مقام پر باہم جڑنے کے علاوہ یہ آٹھوں بازار گول بازار نامی دائرہ شکل کے حامل بازار کی مدد سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یونین جیک کی بیرونی مستطیل آٹھوں بازاروں کے آخری سروں کو بھی سرکلر روڈ کی شکل میں آپس میں ملاتی ہے۔

گھنٹہ گھر کی تعمیر کے وقت اس کے گرد 4 فوارے بنائے گئے تھے، جو کچہری بازار، امیں پور بازار، جھنگ بازار اور کارخانہ بازار کی سمت موجود تھے اور انہیں آٹھوں بازاروں میں سے دیکھا جا سکتا تھا، مگر مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ ان میں سے 2 فوارے غائب ہو چکے ہیں۔ اب صرف کچہری بازار اور جھنگ بازار کی سمت والے فوارے قائم ہیں۔

اگرچہ 100 سال گزرنے کے باوجود گھنٹہ گھر کی بیرونی حالت درست حالت میں ہے، تاہم اس کی اندرونی حالت شکست و ریخت کا شکار ہے۔ اگر اس کی مرمت پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اہل فیصل آباد زلزلے کے کسی چھوٹے جھٹکے سے ایک اہم تاریخی ورثے سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

گھنٹہ گھر کی اندرونی سیڑھیوں اور ستونوں کا پلستر ٹوٹنا شروع ہو چکا ہے۔ سیاح اس کی اڑی ہوئی رنگت اور ہر طرف اڑتی ہوئی دھول سے پریشان ہوتے ہیں۔

آٹھ بازار[ترمیم]

گھنٹہ گھر اور بازار

گھنٹہ گھر کے گرد قائم 8 بازاروں کے نام اس سمت واقع کسی اہم علاقے کی غمازی کرتے ہیں۔ [10] [11]

  1. ریل بازار - سمت بجانب مشرق - اس کی بیرونی سمت ریلوے روڈ واقع ہے، جو ریلوے اسٹیشن کو جا نکلتا ہے۔
  2. کچہری بازار - سمت بجانب شمال مشرق - اس کی بیرونی طرف عدالتیں قائم ہیں۔
  3. چنیوٹ بازار - سمت بجانب شمال - اس طرف ضلع چنیوٹ واقع ہے۔
  4. امیں پور بازار - سمت بجانب شمال مغرب - یہاں سے ایک سڑک امیں پور بنگلہ کی طرف جاتی ہے۔
  5. بھوانہ بازار - سمت بجانب مغرب - اس سمت میں بھوانہ واقع ہے۔
  6. جھنگ بازار - سمت بجانب جنوب مغرب - اس بازار کا رخ جھنگ کی طرف ہے۔
  7. منٹگمری بازار - سمت بجانب جنوب - اس بازار کا نام ساہیوال کے پرانے نام منٹگمری کی وجہ سے رکھا گیا، جو اسی سمت واقع ہے۔
  8. کارخانہ بازار - سمت بجانب جنوب مشرق - اس جانب قدیم دور میں کارخانے قائم تھے، جن میں سے چند ایک اب بھی باقی ہیں۔
  • گول بازار - یہ بازار مذکورہ بالا آٹھوں بازاروں کو دوحصوں میں تقسیم کرتے ہوئے گزرتا ہے اور اس گول دائرہ نما بازار کے ذریعے وہ سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

آٹھ بازاروں کی کہاوت[ترمیم]

قیام پاکستان کے موقع پر انگریزوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ لائلپور کے آٹھ بازاروں کی صورت میں اپنی شناخت، برطانوی پرچم (یونین جیک) ہمیشہ کے لئے اس خطے میں امر کر کے جا رہے ہیں، جبکہ ردعمل میں یہاں کے باسیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ برطانیہ کے پرچم کو صبح و شام اپنے قدموں تلے روندھتے رہیں گے۔

جغرافیہ[ترمیم]

پاکستان کے نقشے میں فیصل آباد کا مقام

فیصل آباد صوبہ پنجاب (پاکستان) کے شمال مشرقی حصے میں لاہور سے 120 کلومیٹر دور مغرب کی سمت واقع ہے۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اس سے 360 کلومیٹر دور شمال کی سمت واقع ہے۔ ضلع فیصل آباد 30.35 سے 31.47 شمالی عرض بلد اور 72.73 سے 73.40 مشرقی طول بلد کے درمیان میں سطح سمندر سے 605 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ فیصل آباد کی نواحی اضلاع کے ساتھ کوئی قدرتی حدود موجود نہیں ہیں اور یہ بالعموم میدانی خطے پر مشتمل ہے۔

حدودِ اربعہ[ترمیم]

آبی ذخائر[ترمیم]

  • دریائے چناب شہر کی شمال مغربی سمت میں 30 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔
  • دریائے راوی شہر کی جنوب مشرقی سمت میں 40 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔
  • نہر لوئر چناب آب رسانی کا واحد ذریعہ ہے، جو قابل کاشت رقبے کے 80 فیصد حصے کو سیراب کرتی ہے۔

رقبہ[ترمیم]

  • فیصل آباد کا کل رقبہ 5،856 مربع کلومیٹر ہے، جس میں سے 830 مربع کلومیٹر پر فیصل آباد شہر قائم ہے۔

آب و ہوا[ترمیم]

ضلع فیصل آباد کی آب و ہوا دو انتہاؤں کو چھوتی ہے۔ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ (122 فارن ہائیٹ) تک جا پہنچتا ہے اور سردیوں میں کبھی کبھار درجہ حرارت صفر تک گر جاتا ہے۔ تاہم یومیہ اوسط درجہ حرارت گرمیوں میں 39 سے27 سینٹی گریڈ اور سردیوں میں 21 سے 6 سینٹی گریڈ کے درمیان میں رہتا ہے۔ [12] [13][14] [15]

آب ہوا معلومات برائے فیصل آباد
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
اوسط بلند °س (°ف) 19.4
(66.9)
22.4
(72.3)
27.3
(81.1)
33.8
(92.8)
38.9
(102)
40.7
(105.3)
37.3
(99.1)
36.3
(97.3)
36
(97)
33.6
(92.5)
27.5
(81.5)
21.8
(71.2)
31.25
(88.25)
یومیہ اوسط °س (°ف) 11.9
(53.4)
14.9
(58.8)
19.9
(67.8)
25.9
(78.6)
31.1
(88)
34
(93)
32.3
(90.1)
31.6
(88.9)
30.1
(86.2)
25.6
(78.1)
18.9
(66)
13.7
(56.7)
24.16
(75.47)
اوسط کم °س (°ف) 4.4
(39.9)
7.4
(45.3)
12.6
(54.7)
18.1
(64.6)
23.3
(73.9)
27.4
(81.3)
27.4
(81.3)
26.9
(80.4)
24.2
(75.6)
17.6
(63.7)
10.4
(50.7)
5.7
(42.3)
17.12
(62.81)
اوسط عمل ترسیب مم (انچ) 14
(0.55)
15
(0.59)
21
(0.83)
14
(0.55)
13
(0.51)
26
(1.02)
102
(4.02)
91
(3.58)
33
(1.3)
6
(0.24)
3
(0.12)
8
(0.31)
346
(13.62)
ماخذ: Climate-Data.org، بلندی: 188 میٹر

موسم گرما[ترمیم]

موسم گرما اپریل سے شروع ہو کر اکتوبر تک ختم ہوتا ہے۔ مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں گرم ترین موسم ہوتا ہے۔

موسم سرما[ترمیم]

موسم سرما کا آغاز ماہ نومبر میں ہوتا ہے، جو مارچ تک جاری رہتا ہے۔ دسمبر اور جنوری سرد ترین مہینے ہوتے ہیں۔

آبادی[ترمیم]

آبادی کے لحاظ سے فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ صنعتی شہر ہونے کی وجہ سے اس کی آبادی دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ بےشمار لوگوں نے زندگی کی بہتر سہولیات کی تلاش میں دیہات چھوڑ کر شہر کی طرف ہجرت کی اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس وقت شہر کی آبادی 19،86،000 ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 46 فیصد آبادی 15 سال سے کم عمر، 52 فیصد 15 سے 64 سال کی عمر میں اور باقی 2 فیصد 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔ آبادی کا تناسب فی مربع کلومیٹر 9،594 ہے۔[17] [18]

1961ء میں فیصل آباد کی آبادی 4،30،000 تھی، جو 1972ء تک بڑھ کر 8،30،000 کو جا پہنچی اور 1981ء میں یہاں کل 11،00،000 سے زیادہ نفوس آباد تھے۔ 2006ء میں فیصل آباد کی آبادی 45،82،175 نفوس پر مشتمل تھی۔ 47 سالوں میں فیصل آباد کی آبادی میں ایک ہزار گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس کی سالانہ شرح 21.3 فیصد ہے۔ آبادی کے اسی تیزی سے بڑھتے ہوئے تناسب نے اسے جلد ہی کراچی اور لاہور کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا شہر بنا دیا۔ [19]

سیاست[ترمیم]

قومی اسمبلی پاکستان کی پارلیمان کا ایوان زیریں ہے۔ جس کی صدارت اسپیکر کرتا ہے جو صدر اور ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین کی عدم موجودگی میں ملک کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا سربراہ عموماً وزیر اعظم منتخب ہوتا ہے جو قائد ایوان بھی ہوتا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی 342 نشستوں پر مشتمل ہے۔ فیصل آباد سے قومی اسمبلی کی 11 نشستیں ہیں جس کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔ [20]

پنجاب صوبائی اسمبلی[ترمیم]

پنجاب صوبائی اسمبلی پاکستان میں پنجاب کا قانون ساز ایوان ہے کو کہ لاہور میں واقع ہے۔ یہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 106 کے تحت قائم کی گئی۔ اس ایوان کی 371 نشستیں ہیں جن میں سے 305 پر براہ راست انتخابات منعقد ہوتے ہیں جبکہ 66 نشستیں خواتین اور غیر مسلم اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ فیصل آباد سے پنجاب صوبائی اسمبلی کے لیے بائیس حلقے ہیں جن کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔ [21]


انتظامی تقسیم[ترمیم]

فیصل آباد ڈویژن[ترمیم]

فیصل آباد ڈویژن پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ایک انتظامی تقسیم تھی۔ 2000 کی حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں اس تیسرے درجے کی تقسیم کو ختم کر دیا گیا۔ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد پنجاب نے اسکے آٹھ ڈویژنوں کو بحال کر دیا۔ [22]

انتظامیہ[ترمیم]

فیصل آباد ڈویژن کے چار اضلاع مندرجہ ذیل ہیں۔

2005ء میں ملک کے دوسرے بڑے شہروں کی طرح فیصل آباد میں بھی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام لاگو کیا گیا، جس کے مطابق اسے 8 مختلف ٹاؤن میں تقسیم کر دیا گیا۔ ماضی کی تحصیلیں بھی اس نئے نظام کے تحت ٹاؤن کا درجہ پا گئیں۔[23]

Faisalabad Map Urdu.png

یونین کونسلیں[ترمیم]

قصبہ جات[ترمیم]

علم و سائنس[ترمیم]

مشہورِ زمانہ زرعی یونیورسٹی اور ایوب زرعی تحقیقی ادارہ کی وجہ سے یہ شہر پاکستان بھر میں نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ زرعی یونیورسٹی کا قیام 1908ء میں پنجاب زرعی کالج کے نام سے عمل میں آیا تھا۔ فیصل آباد کو ایک وقت میں سائنسدانوں کا شہر بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہاں پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر سے زیادہ تعداد میں پی ایچ ڈی سائنسدان موجود ہیں۔ صرف زرعی یونیورسٹی میں 200 سے زیادہ پی ایچ ڈی سائنسدان ہیں۔ اسی طرح ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف زرعی بائیوٹیکنالوجی اور نیوکلیئرحیاتیاتی وجینیاتی انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ میں بھی سیکڑوں سائنسدان اپنی پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

اہم تعلیمی ادارے[ترمیم]

فیصل آباد میں اعلیٰ و ثانوی تعلیم کے لئے بہت سے تعلیمی ادارے قائم ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

جامعات[ترمیم]

دانشگاہیں (کالجز)[ترمیم]

دیگر ادارے[ترمیم]

صحت[ترمیم]

فیصل آباد میں صحت کی صورتحال پاکستان کے دوسرے شہروں سے کچھ خاص بہتر نہیں، تاہم پچھلے چند سالوں سے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال ماضی کی نسبت کافی بہتر ہوئی ہے۔

سرکاری ہسپتال[ترمیم]

ٹرسٹ ہسپتال[ترمیم]

نجی ہسپتال[ترمیم]

الرازی ہسپتال، بٹالہ کالونی

شہر میں بےشمار چھوٹے بڑے نجی ہسپتال موجود ہیں، جو مریضوں کو نسبتاً مہنگےعلاج کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر گلی محلے میں ایک آدھ نجی کلینک ضرور موجود ہوتا ہے۔

  • نیشنل ہسپتال، جناح کالونی
  • فیصل ہسپتال، پیپلز کالونی
  • مکی ہسپتال، پیپلز کالونی
  • ساحل ہسپتال، سرگودھا روڈ
  • غفور بشیر چلڈرن ہسپتال
  • واپڈا ہسپتال
  • مدینہ ٹیچنگ ہسپتال
  • ہلال احمر میٹرنٹی ہسپتال
  • النور ہسپتال
  • الرازی ہسپتال، بٹالہ کالونی

پینے کا پانی[ترمیم]

زیرزمین شوریدہ پانی نے پچھلے چند سالوں سے مقامی آبادی کو کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ صاف پانی کے حصول کے لئے لوگوں کو ایسے نجی اداروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو واٹرفلٹرنگ پلانٹ کی مدد سے پانی صاف کر کے بیچتے ہیں۔

علاوہ ازیں شہر کے وسط سے گزرنے والی نہر یہاں کے باسیوں کو صاف پانی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نہر کے دونوں اطراف ہر ایک دو کلومیٹر کے فاصلے پر زمین سے پانی نکالنے والی موٹریں نصب ہیں، جن سے لوگ صبح و شام مفت پانی بھرتے ہیں۔ نہر کا تازہ پانی زمین چوس لیتی ہے اور اس قدرتی فلٹرنگ نظام کے بعد اس پانی کو موٹروں کی مدد سے نکال لیا جاتا ہے۔ صاف پانی کے حصول کے سلسلے میں یہ فیصل آباد میں ایک منفرد تجربہ ہے جو مخیر حضرات نے فی سبیل اللہ مہیا کر رکھا ہے۔

صنعت / معیشت[ترمیم]

فیصل آباد ٹیکسٹائل کا شہر

آزادی کے بعد فیصل آباد پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر بن کر ابھرا ہے۔ اس کی معیشت کا بڑا انحصار کپڑے کی صنعت ہے۔ شہر اور اس کے گردونواح میں بسے دیہات میں ہر طرف ٹیکسٹائل ملز اور پاورلومز کا جال بچھا ہوا ہے۔ صنعتی نیٹ ورک اور پارچہ بافی مصنوعات کی بدولت اسے پاکستان کا مانچسٹر بھی کہا جاتا ہے۔ [25][26][26] یہ پاکستان میں قائم پارچہ بافی صنعت کا مرکز ہے۔ قیام پاکستان کے وقت فیصل آباد میں صرف 5 صنعتی یونٹ تھے، جو محض ایک سال بعد 1948ء میں 43 کو جا پہنچے۔ اب یہاں ہزاروں کی تعداد میں صنعتی یونٹ قائم ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں 512 بڑے صنعتی یونٹ، 92 انجینئرنگ یونٹ اور 90 کیمیکل یونٹ قائم ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں 12،000 کے قریب گھریلو صنعتیں بھی قائم ہیں، جن میں 60،000 پاور لومز بھی نصب ہیں۔[27]

کپڑے کے علاوہ یہاں آٹا، چینی، گھی، مکھن، سبزیاتی تیل، ادویات، ریشم، صابن، کیمیائی کھادیں، فائبر، کینن مصنوعات، زیورات، گھریلو فرنیچر، رنگائی، کپڑے کی مشینری، ریلوے مرمت، بائیسکل، ہوزری، قالین بافی، نواڑیں، طباعت، اشاعت، زرعی آلات اور لکڑی کی مصنوعات بھی پائی جاتی ہیں۔ [28]

پاکستان کا 25 فیصد زرمبادلہ فیصل آباد پیدا کرتا ہے، یوں یہ زرمبادلہ پیدا کرنے والے شہروں میں پاکستان بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔ [29] [30][31] پاکستان کی سب سے قدیم اور ایشیا کی سب سے بڑی اور اکلوتی زرعی یونیورسٹی کی بدولت یہ شہر ایک بڑی زرعی مارکیٹ بن چکا ہے۔ فیصل آباد کی بڑی فصلیں کپاس، گندم، گنا، سبزیاں اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں کپڑے اور غلہ کی ہول سیل مارکیٹیں/تھوک منڈیاں قائم ہیں۔ یہاں ٹیکسٹائل یونیورسٹی بھی قائم ہے جو اپنی نوعیت میں پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے اور فیصل آباد کی صنعتی ترقی میں اس یونیورسٹی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔

گھنٹہ گھر کے گرداگرد قائم آٹھوں بازار مختلف قسم کی مارکیٹیوں پر مشتمل ہیں، جو شہر کی صنعتی و تجارتی افزائش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت سے شہر کی ترقی میں بہتری عمل میں آئی ہے۔ صنعتی ترقی میں درمیانے طبقے کی شمولیت انتہائی اہم ہے۔

خشک گودی (ڈرائی پورٹ)[ترمیم]

فیصل آباد میں خشک گودی بھی قائم ہے، جس کا حجم 60 میٹرک ٹن کارگو یومیہ ہے۔ اس گودی کے لئے مخصوص سڑکوں اور ریلوے اسٹیشن کا انتظام بھی ہے، جس کے ذریعے وہ لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کراچی کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتی ہے۔ فیصل آباد کا برآمدی کارگو ہر سال پہلے سے بڑھ رہا ہے۔ فیصل آباد موٹروے کی بدولت انتہائی تیزی سے ترقی کر ر ہا ہے۔ جسے پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے تعمیر کرکے فیصل آباد کو تعداد بلحاظ صنعت دنیا کا سب بڑا شہر ہونے کا اعزاز دلوادیا۔ جبکہ اس سے پہلے یہ اعزاز مانچسٹر کو حاصل تھا۔

ذرائع آمدورفت[ترمیم]

شہر میں سفر کی مناسب سہولتیں میسر ہیں اور شہر کے بڑے حصوں کو ملانے والی سڑکوں کی حالت بہترین ہے۔

شاہراہیں[ترمیم]

پاکستان کے مروجہ نظام شاہراہیں کے تحت قائم بین الاضلاعی شاہراہوں کے ذریعے یہ شہر سرگودھا،چنیوٹ، جھنگ، سمندری، اوکاڑہ، جڑانوالہ اور شیخوپورہ کے ساتھ متصل ہے۔ فیصل آباد کو شیخوپورہ کے راستے لاہور سے ملانے کے لئے ایکسپریس ہائی وے موجود ہے۔ [32]

موٹروے[ترمیم]

فیصل آباد کے سرگودھا روڈ سے نکلنے والی ایم 3 موٹروے پنڈی بھٹیاں کے مقام پر اسے لاہور اور اسلام آباد کو ملانے والی ایم 2 موٹروے سے ملاتی ہے۔ فیصل آباد کو ملتان سے ملانے کے لئے ایم 4 موٹروے ابھی زیرتعمیر ہے، جس کا (گوجرہ تک) پہلا حصہ 16 مارچ، 2015ء کو کھول دیا گیا۔ [33][32] [34]

ریلوے اسٹیشن[ترمیم]

فیصل آباد کا مرکزی ریلوے اسٹیشن 19 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ آجکل وہاں سے پاکستان کے اکثر بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور اور ملتان کے لئے ریل گاڑیاں جاتی ہیں۔ [35] [36] [37] اس کے علاوہ چک جھمرہ میں چک جھمرا جنکشن ریلوے اسٹیشن بھی موجود ہے۔

ہوائی اڈا[ترمیم]

شہر سے 15 کلومیٹر کی مسافت پر جھنگ روڈ پر بین الاقوامی فیصل آباد ہوائی اڈا موجود ہے، جہاں پاکستان کی قومی ہوا باز کمپنی (شرکت)پی آئی اے کے علاوہ نجی کمپنیوں کے جہاز بھی مسافروں کو اپنی خدمات دیتے ہیں۔ [38] [39][40]

قابلِ دید مقامات[ترمیم]

فیصل آباد میں عوامی دلچسپی کے بہت سے مقامات ہیں، جن میں اہم تعمیرات، اسٹیڈیم، عوامی باغات اور تفریحی مقامات شامل ہیں۔

لائلپور میوزیم.jpg

لائلپور میوزیم ۔فیصل آ باد[ترمیم]

لائلپور میوزیم پاکستان کا علاقائی عجائب گھر ہے۔جو ساندل بار کے علاقے کی ترجمانی کرتا ہے۔ ساندل بار ،دریائےراوی اور دریائےچناب کے درمیان ایک علاقہ ہے۔اس خطے سے وابسطہ صدیوں پرانی ثقافت کولائلپور میوزیم کے توسط سے اُجاگر کیا گیا ہے۔

لائلپور عجائب گھر ،دس مختلف گیلریوں پر مشتمل ہے۔ گراؤنڈ فلور پر پانچ گیلریاں ہیں جن میں پتھر کے دور سے لیکر چناب کالونی تک کے مختلف ادوار کو  ایک ترتیب سے دکھایا گیا ہے۔ جن میں تعین سمت سوچ گیلری، ساندل بار گیلری، قدیم ورثہ گیلری، مسلم تا انگریز گیلری اور چناب کالونی گیلری شامل ہے۔ فرسٹ فلور بھی پانچ گیلریوں پر مشتمل ہے جن میں لائلپور گیلری ، سوچ و عمل گیلری، معاشرتی خوبصورتی گیلری، پارچہ بافی گیلری اور تحریک و تاریخ کی گیلری ہے۔

گھنٹہ گھر[ترمیم]

شہر کے مرکز میں واقع گھنٹہ گھر فیصل آباد کی سب سے اہم تاریخی عمارت ہے۔

گمٹی + قیصری دروازہ[ترمیم]

گمٹی

ریل بازار کی بیرونی سمت واقع قیصری دروازہ اور اس کے باہر چوک میں واقع بارہ دری جیسی مختصر عمارت گمٹی کہلاتی ہے، جس کے گرد ٹریفک کا گول چکر موجود ہے۔ یہاں سے ایک سڑک چناب کلب کو نکل جاتی ہے۔ قیصری دروازے کی تعمیر 1897ء کو مکمل ہوئی۔ سن تعمیر دروازے پر نمایاں طور لکھا ہے۔

چناب کلب[ترمیم]

چناب کلب فیصل آباد کا ایک اہم تاریخی کمیونٹی سنٹر ہے۔ [41]

تفریحی مقامات[ترمیم]

اہم رہائشی علاقے[ترمیم]

تجارتی مراکز[ترمیم]

ڈی گراؤنڈ، فیصل آباد
  • آٹھ بازار
  • امین پوربازار
  • سبزی منڈی،سدھار ،غلام محمد آباد
  • میٹرو کیش اینڈ کیری
  • اسٹیٹ لائف بلڈنگ (شہر کی بلند ترین عمارت)
  • دو برج شاپنگ مال
  • پیراڈائز ان شاپنگ مال
  • سٹی شاپنگ مال
  • دوبئی شاپنگ مال
  • ٹائم سکوائر شاپنگ مال
  • ستارہ مال
  • رسول پلازہ
  • جھال خانوآنہ، ستیانہ روڈ
  • ریکس سٹی (کمپیوٹر مارکیٹ)، ستیانہ روڈ
  • رحمن سٹی، ستیانہ روڈ
  • رپل پلازہ، ڈی گراؤنڈ
  • خان پلازہ، ہریانوالہ چوک
  • چن ون، پیپلز کالونی
  • کوہ نور ون شاپنگ مال، جڑانوالہ روڈ
  • میڈیا کوم شاپنگ مال
  • میڈیا کوم ٹریڈ سٹی
  • سنٹر پوائنٹ

مساجد[ترمیم]

جامع مسجد سنی رضوی مع مزار مولانا سردار احمد، جھنگ بازار فیصل آباد
  • جامع مسجد کچہری بازار (کچہری بازار )
  • جامع مسجد گول ، (غلام محمد آباد)
  • جامع مسجد عمر (گلبہار کالونی)
  • جامع مسجد جامعۃالنور(گارڈن کالونی)
  • جامع مسجد سنی رضوی، جھنگ بازار
  • جامع مسجد خضراء، پیپلز کالونی
  • جامع مسجد بوستان زہراء، پیپلز کالونی
  • جامع مسجد آل عمران ، سدھوپورہ
  • جامع مسجد فیصان مدینہ، سوساں روڈ، مدینہ ٹاؤن
  • جامع مسجد مدنی، سمن آباد
  • جامع مسجد مدنی، بٹالہ کالونی
  • جامع مسجد گلزار مدینہ (کوتوالی روڈ)

مزارات[ترمیم]

دينی مدارس[ترمیم]

  • الجامعہ السلفیہ فیصل آباد
  • جامعہ اسلامیہ امداديہ، ستیانہ روڈ : رمضان 1403ھ بمطابق 1983ءشیخ الحدیث مولانا نذیر احمد(رح) نے اپنے شیخ و مرشد عارف باللہ حضرت ڈاکٹرعبدالحی عارفی کی سرپرستی میں قائم فرمایا۔
  • جامعہ دارالقرآن: آفيسرکالونی عقب کريسنٹ ٹیکسٹائل ملز سرگودھا روڈ یہ مدرسہ حضرت قاری رحیم بخش پانی پتی (رح)کے شگرد خاص قاری یٰسن صاحب کی زیر سر پرستی چل رہا ہے
  • جامعہ ضیاء القرآن (باغ والی مسجد) نزد جناح کالونی: یہ مدرسہ حضرت قاری رحیم بخش پانی پتی (رح) کے شگرد خاص قاری یٰسن صاحب کی زیرسرپرستی چل رہا ہے
  • جامعۃ الحسنین (فیصل آباد) یہ ادارہ معروف عالمی مبلغ حضرت مولانا طارق جمیل صاحب کی زیر نگرانی چل رہا ہے
  • جامعہ دارالعلوم: فوارہ چوک (پيپلز کالونی) یہ ادارہ معروف عالمی مبلغ استاذ العلماء حضرت مفتی زین العابدین (رح) نے قائم فرمایا تھا
  • جامعہ مدینۃ العلم (بکرمنڈی) یہ ادارہ استاذ العلما ء حضرت قاری محمد الیاس صاحب کی زیرسرپرستی چل رہا ہے
  • جامعہ عبیدیہ (ڈی ٹائپ کالونی): یہ ادارہ پیرطریقت حضرت مولانا جاوید حسین شاہ صاحب کی زیرنگرانی چل رہا ہے
  • جامعہ فاروق اعظم (جھنگ روڈ)
  • جامعۃ النور (معروف ادارۃ النور): پیپلز کالونی نزد بابر چوک پر واقع ہے یہ ادارہ (استاذ العلماء استاذ الحدیث حضرت مولانا محمد خاں صاحب کی زیرنگرانی چل رہا ہے
  • جامعہ عبداللہ بن عباس (شیخوپورہ روڈ) پر واقع ہے
  • دارالعلوم نوریہ رضویہ، فیصل آباد : علامہ سید ہدایت رسول شاہ قادری کی زیرسرپرستی، فیصل آباد گلبرگ اے میں واقع عظیم درسگاہ
  • جامعۃ و مدرسۃ الدینہ مدینہ ٹاؤن سردار آباد
  • جامع مسجد سنی رضوی مع مزار مولانا سردار احمد، جھنگ بازار فیصل آباد
  • جامعہ علوم اسلامی ملت ٹاؤن
  • جامعہ المعصومین فیص آباد 1965ء
  • فیضان مدینہ: سوسان روڈ مدینہ ٹاءون

جامعہ قاسمیہ،14اے بلاک،غلام محمدآباد،فیصل آباد1960ء:بانی امام الخطباء مولانا ضیاء القاسمی (رح)یہ ادارہ صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی کی زیر نگرانی چل رہا ہے

جامعہ عمر فاروق اسلامیہ،سمندری،ضلع فیصل آباد:جس کی بنیاد علامہ ضیاءالرحمن فاروقیشہید (رح) نے شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد(رح) اور شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی (رح)کی سرپرستی میں 1988ءمیں رکھی

شرب و طعام[ترمیم]

مکڈونلڈز، فیصل آباد

ہوٹل[ترمیم]

  • فیصل آباد سرینا ہوٹل، کلب روڈ
  • دی ڈینسٹی ہوٹل، جڑانوالہ روڈ
  • ہوٹل لارڈز ان، پیپلز کالونی
  • ہوٹل ون، پیپلز کالونی نمبر 1، ہریانوالہ چوک
  • رپل ہوٹل، رپل پلازہ، ڈی گراؤنڈ
  • ڈی پرل کانٹیننٹل، ڈی گراؤنڈ
  • ہالی ڈے ان، ڈی گراؤنڈ
  • خیام گارڈن، ستیانہ روڈ
  • ریکس ہوٹل، ستیانہ روڈ
  • ساندل بار ہوٹل، ستیانہ روڈ
  • معراج ہوٹل، بٹالہ کالونی، ستیانہ روڈ
  • پرل کانٹیننٹل ہوٹل، کشمیر پل، مشرقی کینال روڈ
  • لائلپور جمخانہ، مغربی کینال روڈ
  • البراق ہوٹل، ریلوے روڈ
  • پرائم ہوٹل، کوتوالی روڈ
  • ریز ہوٹل، کوتوالی روڈ
  • گریس ہوٹل، سرکلر روڈ، چنیوٹ بازار
  • سٹی ہوٹل، امیں پور بازار
  • سبینا ہوٹل، پریس مارکیٹ
  • ہوٹل ایسٹ ان، شیخوپورہ روڈ
  • نیشنل ہوٹل، سرگودھا روڈ

کھیل[ترمیم]

اقبال اسٹیڈیم، فیصل آباد

سینما[ترمیم]

  • منروا سینما
  • بابر سینما
  • نگینہ سینما
  • سبینا سینما
  • نشاط سینما
  • ریگل سینما
  • ناولٹی سینما

ذرائع ابلاغ[ترمیم]

اخبارات[ترمیم]

ریڈیو[ترمیم]

  • فیصل آباد ریڈیو (سرکاری)
  • ایف ایم ریڈیو پاکستان فیصل آباد 93 (سرکاری)
  • ایف ایم ریڈیو 101 (سرکاری)
  • ایف ایم ریڈیو 103 (نجی)
  • ایف ایم ریڈیو 89(نجی)
  • ایف ایم ریڈیو 90 (نجی)
  • ایف ایم ریڈیو 94.6 (نجی)

فلم / ڈراما[ترمیم]

  • عزیزی اسٹوڈیو - انگریزی فلموں کو مزاحیہ پنجابی ترجمہ کے ساتھ پیش کرنے والا پاکستان کا سب سے منفرد اسٹوڈیو

تصاویر[ترمیم]

جڑواں شہر[ترمیم]

شہر علاقہ ملک سال
مانچسٹر Flag of England.svg انگلستان Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ 1997
کوبے Flag of Hyogo Prefecture.svg ہیوگو پریفیکچر Flag of Japan.svg جاپان 2000
لاس اینجلس Flag of California.svg کیلیفورنیا Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا 2009
ووہان Flag of چین ہوبئی Flag of the People's Republic of China.svg چین 1986
سینٹ پیٹرز برگ Flag of Saint Petersburg Russia.svg سینٹ پیٹرز برگ1 Flag of Russia.svg روس 1962
قرطبہ Flag of Andalusia.svg اندلوسیا Flag of Spain.svg ہسپانیہ 1986
کانپور Seal of Uttar Pradesh.png اتر پردیش Flag of India.svg بھارت 1970

قابل ذکر شخصیات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://citypopulation.de/world/Agglomerations.html
  2. Stephen P. Cohen (2004)۔ The Idea of Pakistan۔ Brookings Institution Press۔ صفحہ۔202۔ 
  3. "History of Faisalabad"۔ Punjab Portal۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 June 2016۔ 
  4. Integrated Slums Development Programme (ISDP) (March 2001). Faisalabad CITY PROFILE and SELECTION OF WARDS. http://www.asb.org.pk/faisalabadprofile.doc۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 July 2015. 
  5. His surname Lyall was joined with "pur" which in old Sanskrit language means city.
  6. "Spoken Sanskrit Dictionary"۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 June 2016۔ 
  7. "A History of Faisalabad City"۔ The Faisalabad Chamber of Commerce & Industry۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 July 2015۔ 
  8. "City of Faisalabad"۔ The University of Faisalabad۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 December 2015۔ 
  9. Shahid Javed Burki (2015)۔ Historical Dictionary of Pakistan۔ Rowman & Littlefield۔ صفحات۔196۔ https://books.google.com/?id=rk-sBwAAQBAJ&pg=PA196&lpg=PA196&dq=faisalabad+named+after#v=onepage&q=faisalabad%20named%20after&f=false۔ 
  10. "The Best Planned Localities of Pakistan: 8 bazaars of Faisalabad:"۔ 
  11. "Clock Tower of Faisalabad, Pakistan"۔ The Lovely Planet۔ 
  12. "Pakistan Weather"۔ Pakistan Meteorological Department۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 June 2016۔ 
  13. "Weather Advisory for Farmers"۔ Pakistan Meteorological Department۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 June 2016۔ 
  14. "Regional Agrometeorological Center Faisalabad"۔ Pakistan Meteorological Department۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 June 2016۔ 
  15. "Climate: Faisalabad – Climate graph, Temperature graph, Climate table"۔ Climate-Data.org۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 September 2013۔ 
  16. "Report of Baseline Survey Faisalabad, Pakistan"۔ Asian Urban Information of Kobe۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 January 2016۔ 
  17. India Unbound: from Independence to the Global Information age by Gurcharan Das
  18. "Chapter 6: Faisalabad, Pakistan"۔ The 2004 Baseline Survey on Millennium Development Goals in AACs۔ Asian Urban Information Center of Kobe۔ 2004۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 December 2015۔ 
  19. "Major cities – population"۔ Pakistan Demographics Profile 2014۔ IndexMundi۔ 2014۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 December 2015۔ 
  20. http://www.na.gov.pk/en/index.php
  21. http://www.pap.gov.pk/index.php/home/en
  22. "Office of Div Commissioner restored"۔ 
  23. فیصل آباد سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ٹاؤنز از ویب سائٹ حکومت فیصل آباد
  24. http://www.tuf.edu.pk
  25. International Conference on Soil Sustainability and Food Security. University of Agriculture, Faisalabad. 2005. http://uaf.edu.pk/downloads/2nd_path/Brochure_SSFS_2015.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 June 2016. 
  26. ^ 26.0 26.1 Jaffrelot، Christophe (2002)۔ Pakistan: Nationalism Without A Nation۔ Zed Books۔ صفحہ۔57۔ https://books.google.com/books?id=I2avL3aZzSEC&pg=PA57۔ 
  27. "Cluster Profile Light Engineering, Faisalabad"۔ Small & Medium Enterprise Development Authority Ministry of Industries۔ 6 September 2012۔ صفحہ Introduction–3۔ 
  28. Batool، Amina؛ Shaheen، Salma؛ Majeed، Samina؛ Kahn، Rao Shehzad Akhtar Alli؛ Kahn، Muhammad Hayat؛ Gulshan، Abid Hussain۔ "Faisalabad Industrial Cluster"۔ Scope and Development of Industrial Clusters in Pakistan۔ Directorate of Training and Research, Lahore۔ صفحہ 10۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 June 2016۔ 
  29. Sharif, Farhan (26 April 2012)۔ "Pakistan's Textile Industry Is Dangerously Fragile"۔ Bloomberg۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 June 2016۔ 
  30. Islam، Shamsul (17 March 2013). "Romanian honorary consulate in Faisalabad". The Express Tribune. http://tribune.com.pk/story/521987/romanian-honorary-consulate-in-faisalabad/۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 July 2016. 
  31. "Foreign Consulates in Faisalabad"۔ Embassy Pages۔ 18 January 2016۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 July 2016۔ 
  32. ^ 32.0 32.1 "National Highway Authority"۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 June 2016۔ 
  33. Mahboob Elahi (12 June 2007). Performance Benchmarking in WASA Faisalabad. Anjuman Samaji Behbood. http://www.asb.org.pk/WASA%20faisalabad.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 June 2016. 
  34. "Japan gifts WASA Faisalabad with Equipment to improve Sewerage and Drainage system"۔ www.jica.go.jp۔ Japan International Cooperation Agency۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 June 2016۔ 
  35. "Ministry of Railways"۔ Government of Pakistan۔ Ministry of Railways Government of Pakistan۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 June 2016۔ 
  36. Siddiqui، Zaheer Mahmood (7 December 2014). "Karachi-Faisalabad route: Railways to resume cargo express". Dawn. http://www.dawn.com/news/1149270۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 June 2016. 
  37. "Railways to earn Rs 12b from freight trains". The Nation. 8 February 2016. http://nation.com.pk/business/08-Feb-2016/railways-to-earn-rs12b-from-freight-trains۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 June 2016. 
  38. "Pakistan Civil Aviation Authority"۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 June 2016۔ 
  39. "Qatar Airways becomes Faisalabad's second international service"۔ anna.aero۔ PPS Publications۔ 17 July 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 June 2016۔ 
  40. "Gulf Air adds Faisalabad and Multan to Pakistan network"۔ www.gulfair.com۔ Gulf Air۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 June 2016۔ 
  41. "THE CHENAB CLUB – History"۔ اصل سے جمع شدہ 6 February 2004 کو۔ 
  42. Andrew McGlashan۔ "Iqbal Stadium"۔ ESPN Sports Media Ltd.۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 December 2015۔ 

اندرونی روابط[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

دستاویزی فلم[ترمیم]