فیصل بن حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فیصل بن حسین
(عربی میں: فيصل الأولخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
فیصل بن حسین

شاہ سوریہ
دور حکومت 8 مارچ 1920 – 24 جولائی 1920
وزرائے اعظم
شاہ عراق
دور 23 اگست 1921 – 8 ستمبر 1933
وزیر اعظم عراق
معلومات شخصیت
پیدائش 20 مئی 1886[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
طائف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 7 ستمبر 1933 (47 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
برن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ
Flag of Kingdom of Syria (1920-03-08 to 1920-07-24).svg مملکت شام
Flag of Iraq (1921–1959).svg مملکت عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اہل سنت[2]
اولاد شاہ غازی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد حسین ابن علی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
خاندان بنو ہاشم
نسل شہزادی عزہ
شہزادی راجحہ
شہزادی رئيفہ
غازی بن فیصل
اعزازات
Order of the Bath (ribbon).svg جی سی بی
Legion Honneur GC ribbon.svg گرینڈ کراس آف دی لیگون آف ہانر
UK Order St-Michael St-George ribbon.svg نائیٹ گرینڈ کراس آف دی آرڈر آف سینٹ مائیکل اینڈ سینٹ جورج
Order of the Bath (ribbon).svg جی سی بی
رائل وکٹورین چین
UK Order St-Michael St-George ribbon.svg نائیٹ گرینڈ کراس آف دی آرڈر آف سینٹ مائیکل اینڈ سینٹ جورج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
فیصل بن حسین
پیرس امن کانفرنس، 1919، بائیں سے دائیں: رستم حیدر، نوري السعيد، امیر فیصل، کیپٹن پیسانی (امیر فیصل کے پیچھے)، تھامس لارنس، فیصل کا حبشی غلام، کیپٹن تاسین کیدری
امیر فیصل اور چیم ویزمین(بائیں)، دوستی کی علامت کے طور پر عرب لباس میں

شاہ فیصل بن حسین بن علی ہاشمی (عربی: فيصل بن الحسين بن علي الهاشمي) عراق کے پہلے حکمران (1921ء تا 1933ء) تھے جنہوں نے عربوں کی تحریک آزادی میں بڑی بیدار مغزی سے حصہ لیا تھا۔ شریف حسین کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ 20 مئی 1883ء کو طائف میں پیدا ہوئے۔ مشروطی حکومت کے قیام کے بعد جدہ سے عثمانی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ جدوجہد آزادی کے دوران انہوں نے ایک طرف برطانوی حکومت سے خفیہ مراسلت جاری رکھی اور دوسری طرف ترکوں کو اپنی وفاداری کا یقین بھی دلاتے رہے۔ انہوں نے عثمانی حکومت کی امداد کے نام پر جو رضا کار دستے منظم کیے تھے وہ بغاوت شروع ہونے پر انگریزوں سے مل گئے اور ایک ایسے نازک موقع پر جب انگریز مصر کی طرف سے فلسطین پر حملہ آور ہوئے ان دستوں نے ترکوں کی پشت پر خنجر گھونپ دیا جس کی وجہ سے ترک فوجوں کو بڑے حصے کو انگریزوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے عرب باغیوں کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ جنگ کے بعد 1919ء میں شاہ فیصل نے پیرس امن کانفرنس میں اپنے والد کی طرف سے نمائندگی کی۔ اس کے بعد وہ لندن چلے گئے تاکہ برطانیہ کو جولائی 1915ء کے عرب برطانیہ معاہدے پر عمل درآمد پر آمادہ کریں۔ اس کے بعد وہ دمشق آئے جہاں ان کو شام کا بادشاہ منتخب کیا گیا لیکن فرانسیسیوں نے ان کو جلد ہی دمشق سے بے دخل کر دیا۔ بالآخر انگریزوں نے ان کو 23 اگست 1921ء کو عراق کا بادشاہ تسلیم کر لیا۔ عراق کی مکمل آزادی کے بعد شاہ فیصل صرف ایک سال اور زندہ رہے۔ 8 ستمبر 1933ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔

شاہ فیصل کے بعد ان کے بیٹے شاہ غازی تخت نشین ہوئے۔

علامہ اقبال نے ترکوں کے خلاف بغاوت کے پس منظر میں ان کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

کیا خوب امیر فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا

تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 مدیر: Colin Matthew — عنوان : Oxford Dictionary of National Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس
  2. IRAQ – Resurgence In The Shiite World – Part 8 – Jordan & The Hashemite Factors , APS Diplomat Redrawing the Islamic Map, 14 Feb 2005
  3. ^ 3.0 3.1 "rulers.org"۔ rulers.org۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 January 2012۔ 
  4. ^ 4.0 4.1 "britannica.com"۔ britannica.com۔ 8 September 1933۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 January 2012۔ 
  5. Royal Ark