فینولک ایکسٹریکشن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈی این اے اور آر این اے کا فرق۔ ڈی این اے میں دو دھاگے نما مالیکیول ایک دوسرے کے گرد لپٹے ہوئے ہوتے ہیں جبکہ آر این اے صرف ایک دھاگے نما مالیکیول پر مشتمل ہوتا ہے۔ ڈی این اے میں یوریسل نہیں ہوتا جو آر این اے میں موجود ہوتا ہے۔ آر این اے میں تھائیمین نہیں ہوتا جو ڈی این اے میں موجود ہوتا ہے۔
بینزین (C6H6) سے ایک ہائیڈروجن ایٹم نکل جانے سے فینائیل گروپ (-C6H5) بنتا ہے۔ پانی (H2O) سے ایک ہائیڈروجن ایٹم نکل جانے سے ہائیڈروآکسل گروپ (-OH) بنتا ہے۔ فینائیل گروپ اور ہائیڈروآکسل گروپ مل کر فینول (C6H5OH) بناتے ہیں۔

فینولک ایکسٹریکشن (انگریزی: Phenol extraction) تجربہ گاہوں میں استعمال ہونے والا ایک طریقہ ہے جس کی مدد سے کسی محلول میں سے مختلف اجزا الگ کیے جاتے ہیں۔ اس طریقے سے ڈی این اے اور آر این اے کو خلیات میں سے خالص حالت میں الگ کیا جاتا ہے۔
جب جانداروں کے مردہ خلیات کو کچل کر فینول کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو دو محلول حاصل ہوتے ہیں۔ نیچے کے محلول میں فینول کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ اوپر کے محلول میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ چربی (lipids) اور چربی نما مرکبات جو پانی میں حل نہیں ہو سکتے وہ سب نیچے فینول میں حل ہو جاتے ہیں۔ RNA جو پانی میں حل پزیر ہوتا ہے وہ اوپر پانی میں چلا جاتا ہے۔ پروٹین ویسے تو پانی میں حل ہو جاتے ہیں مگر فینول کی موجودگی میں وہ de-nature ہو جاتے ہیں یعنی ان کے مولیکیول کے بیرونی قطبی (polar) حصے گھوم کر اندرونی جانب چلے جاتے ہیں جبکہ اندرونی غیر قطبی (non polar) حصے اب باہر آ جاتے ہیں۔ اس نئی ترتیب کی وجہ سے اب پروٹین کا مالیکول پانی میں حل نہیں ہوتا۔ (انڈے کی سفیدی بھی پروٹین ہوتی ہے اور پانی میں حل ہو جاتی ہے مگر گرم کرنے پر وہ بھی ڈی نیچر ہو جاتی ہے اور پھر پانی میں حل نہیں ہوتی)۔ اس کے بعد محلول کو اچھی طرح ہلانے کے بعد کچھ آرام کرنے کا وقفہ دیا جاتا ہے۔ اب اوپر کی پانی والی تہ احتیاط سے الگ کر لی جاتی ہے جس میں نمک یا ڈیٹرجنٹ ملانے سے RNA محلول سے باہر آجاتا ہے۔
فینول اور پانی جہاں ملتے ہیں وہاں پروٹین اور DNA موجود ہوتے ہیں۔ اس تہ کو بھی الگ کر کے اور اچھی طرح دھو کر اس میں سے DNA حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اکثر اس طریقے میں کلوروفورم بھی ملائی جاتی ہے جس سے کام زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔
جینشین وائیلٹ (crystal violet) اور میتھائل اورینج جیسے رنگوں کی مدد سے ڈی این اے کی محض8 نینوگرام کی مقدار کو بھی شناخت کیا جا سکتا ہے۔

اس تصویر میں تین لال لکیریں ایک ہائیڈروجن بونڈ کو ظاہر کر رہی ہیں۔ گوانین (G) اور سائیٹوسین (C) کے درمیان تین ہائیڈروجن بونڈ ہوتے ہیں جبکہ ایڈینائین (A) اور یوراسل (U) کے درمیان صرف دو ہائیڈروجن بونڈ ہوتے ہیں۔ یوراسل صرف RNA میں پایا جاتا ہے۔ DNA میں یوراسل کی جگہ تھایمین موجود ہوتا ہے۔
ایڈینائین اور گوانین کا تعلق پیورین (purines) کے کیمیائی گروہ سے ہے جن میں دو حلقے (rings) ہوتے ہیں۔
سائیٹوسین، تھایمین اور یوریسل کا تعلق پائیریمیڈین(Pyrimidines) کے کیمیائی گروہ سے ہے جن میں صرف ایک حلقہ (ring) ہوتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

Phenolic Extraction of Nucleic Acids