فیوزر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

Farnsworth–Hirsch fusor یا محض فیوزر سے مراد وہ آلہ ہے جسے TV کے موجد Philo T. Farnsworth نے 1964 کے لگ بھگ جوہر کے مرکزوں کو آپس میں ملانے (nuclear fusion) کے لیئے بنایا تھا۔ دوسری ایسی مشینوں میں جن میں magnetically confined plasma کو گرم کیا جاتا ہے کافی پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔ اسکے برعکس فیوزر ایک بہت ہی سادہ سی مشین ہے جسے گھر میں بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں inertial electrostatic confinement تکنیک استعمال ہوتی ہے۔ اسے آج بھی neutron source کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے

فیوزر کے گرم پلازمہ سے شعاعیں نکل رہی ہیں۔.


بناوٹ[ترمیم]

فیوزر میں موجود ڈیوٹیریم سے لال گلابی شعاعیں نکل رہی ہیں۔ ڈیوٹیریئم کی فیوزن سے نیوٹرون خارج ہوتے ہیں۔

فیوزر کی بناوٹ پرانے زمانے کے ریڈیو ٹی وی کے والو (ویکیوم ٹیوب) سے ملتی جلتی ہے لیکن فیوزر کی جسامت کافی بڑی ہوتی ہے۔ شیشے کی ایک بڑی سی بوتل کے اندر دھاتی جالی سے بنا ایک بڑا گولہ ہوتا ہے اور اسکے اندر ایسا ہی ایک چھوٹا گولہ ہوتا ہے۔ بوتل میں سے ساری ہوا نکال دی جاتی ہے۔ چند ہزار وولٹ کی بیٹری یا کسی اور DC پاور سپلائ سے بیرونی جالی کو مثبت (پوزیٹو) اور اندرونی جالی کو منفی (نیگیٹو) کنکشن دیا جاتا ہے۔ جب اس میں ہائیڈروجن کے یا کسی اور چیز کے مثبت آئین (ions) داخل کیئے جاتے ہیں تو وہ اندرونی منفی جالی کی طرف تیز رفتاری سے جاتے ہیں لیکن مرکز سے آگے گزرنے کے بعد پھر پلٹتے ہیں اور اندرونی جالی کے اندر آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں اور اس طرح گرم گیسوں کا پلازمہ بن جاتا ہے۔ اس دوران وہ کبھی کبھار آپس میں بھی ٹکراتے ہیں اور جالی سے بھی۔ جالی سے ٹکرانا انرجی کا ضیاع ہے مگر اسے روکا نہیں جا سکتا۔ جالی سے ٹکرانے پر جالی کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور پلازمہ کا کم۔ آئین جب آپس میں پورے زور سے ٹکراتے ہیں تو فیوزن کی وجہ سے ہائیڈروجن سے ڈیوٹیریم بن جاتی ہے۔ پلازمہ کا درجہ حرارت جتنا زیادہ ہو گا فیوزن اتنا ہی تیزی سے ہو گا۔
فیوزر کی بناوٹ میں کوئی مقناطیس استعمال نہیں ہوتے۔

تعاملات[ترمیم]

(1)  2
1
D
 
3
1
T
 
→  4
2
He
 
3.5 MeV  n0  14.1 MeV  )
(2i)  2
1
D
 
2
1
D
 
→  3
1
T
 
1.01 MeV  p+  3.02 MeV            50%
(2ii)        →  3
2
He
 
0.82 MeV  n0  2.45 MeV            50%
(3)  2
1
D
 
3
2
He
 
→  4
2
He
 
3.6 MeV  p+  14.7 MeV  )
(4)  3
1
T
 
3
1
T
 
→  4
2
He
 
      n0            11.3 MeV
(5)  3
2
He
 
3
2
He
 
→  4
2
He
 
      p+            12.9 MeV
(6i)  3
2
He
 
3
1
T
 
→  4
2
He
 
      p+  n0        12.1 MeV    51%
(6ii)        →  4
2
He
 
4.8 MeV  2
1
D
 
9.5 MeV            43%
(6iii)        →  4
2
He
 
0.5 MeV  n0  1.9 MeV  p+  11.9 MeV  6%
(7i)  2
1
D
 
6
3
Li
 
→  4
2
He
 
22.4 MeV
(7ii)        →  3
2
He
 
4
2
He
 
  n0            2.56 MeV
(7iii)        →  7
3
Li
 
p+                  5.0 MeV
(7iv)        →  7
4
Be
 
n0                  3.4 MeV
(8)  p+  6
3
Li
 
→  4
2
He
 
1.7 MeV  3
2
He
 
2.3 MeV  )
(9)  3
2
He
 
6
3
Li
 
→  4
2
He
 
p+                  16.9 MeV
(10)  p+  11
5
B
 
→  4
2
He
 
                    8.7 MeV

مزید دیکھیئے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]