قادر آباد
| قادر آباد Qadirabad | |
|---|---|
| شہر اور یونین کونسل | |
قادرآباد میں موجود تاریخی مقبرہ | |
| Location in Pakistan | |
| متناسقات: 32°17′51″N 73°29′58″E / 32.29750°N 73.49944°E | |
| ملک | پاکستان |
| صوبہ | پنجاب، پاکستان |
| ضلع | ضلع منڈی بہاؤالدین |
| تحصیل | تحصیل پھالیہ |
| ڈویژن | گوجرانوالہ |
| آبادی | |
| • کل | 30،000 |
| منطقۂ وقت | پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5) |
| ڈاکخانہ قادرآباد | 50460 |
| ٹیلی فون کوڈ | 0544 |
قادرآباد پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ میں واقع ایک قدیم، تاریخی، زرخیز، ثقافتی اور جغرافیائی لحاظ سے اہم قصبہ ہے۔ یہ علاقہ اپنی شاندار روایات، مذہبی ہم آہنگی، زراعت، تعلیم، محنتی عوام اور مہمان نواز طرزِ زندگی کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ یہاں کی زمین زرعی لحاظ سے نہایت زرخیز ہے اور قدرتی مناظر، بالخصوص دریائے چناب کی قربت، اسے ایک منفرد جغرافیائی حیثیت عطا کرتی ہے۔
رقبہ، آبادی اور جغرافیہ
[ترمیم]قادرآباد، ضلع منڈی بہاؤالدین کی یونین کونسلوں میں سے ایک ہے۔ اس کی مجموعی زمین کا تخمینہ تحصیل پھالیہ کے دائرہ کار میں تقریباً 6 مربع کلومیٹر کے درمیان ہے، حالانکہ سرکاری طور پر رقبہ مخصوص طور پر درج نہیں، مگر زرعی پھیلاؤ، آبادی اور عمارات کے تناظر میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے۔
آبادی
[ترمیم]2017ء کی مردم شماری کے مطابق قادرآباد کی آبادی تقریباً 30 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ تاہم مقامی ذرائع اور تازہ اندازوں کے مطابق یہ تعداد اب 50 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہاں مختلف قومیں اور برادریاں آباد ہیں جن میں گجر، آرائیں، مغل، بھٹی، آرائیں، رانا، مرزا، ملک اور دیگر شامل ہیں۔
جغرافیہ
[ترمیم]قادرآباد دریائے چناب کے قریب واقع ہے، جو اسے قدرتی وسائل سے مالا مال کرتا ہے۔ یہاں کی زمین میدانی اور زرخیز ہے، جو زراعت کے لیے نہایت موزوں ہے۔ قصبے کے گرد و نواح میں منڈی بہاؤ الدین کی دیگر بستیاں شامل ہیں۔
- نواحی گاؤں
قادرآباد کے گرد و نواح میں کافی چھوٹے بڑے گاؤں ہیں۔ جن کے نام اور قادرآباد سے فاصلہ درج ذیل میں ہے۔
| نواحی گاؤں | فاصلہ |
|---|---|
| طارق آباد | 5کلومیٹر |
| کوڑے کرم شاہ | 2۔5 کلومبٹر |
| الہن | 4 کلومیٹر |
| ٹھٹھی شاہ محمد | 6 کلومیٹر |
| میلو | 8 کلومیٹر |
| نوشہرہ بھٹیاں | 9 کلومیٹر |
| فرخپور | 10 کلومیٹر |
| چوک کلاں | 5 کلومیٹر |
| جاگو کلاں | 3 کلومیٹر |
| کالاشادیاں | 9 کلومیٹر |
| سیدا شریف | 6 کلومیٹر |
| بھیکو | 4 کلومیٹر |
آب و ہوا
[ترمیم]قادرآباد کا موسم عمومی طور پر پنجاب کے دیگر حصوں جیسا ہے: گرمیوں میں درجہ حرارت 40 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے۔ سردیوں میں درجہ حرارت 4 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو جاتا ہے۔ بارش زیادہ تر مون سون کے دوران (جولائی تا ستمبر) ہوتی ہے، جس سے فصلوں کو فائدہ اور بعض اوقات نقصان بھی ہوتا ہے۔ یہاں کی آب و ہوا زرعی پیداوار کے لیے نہایت سازگار ہے، خاص کر گندم، چاول، گنا اور سبزیاں۔
تاریخ
[ترمیم]قادرآباد کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ قدیم دور میں یہ علاقہ مغلیہ سلطنت کے زیرِ اثر تھا۔ اس قصبے کا نام مشہور شخصیت مِرزا قادر بیگ کے نام پر رکھا گیا، جو یہاں کے قدیم حاکم یا بزرگ تھے۔ ان کی اور ان کے بھائی کی قبریں آج بھی قصبے میں موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مغلیہ دور میں یہاں قادرآباد قلعہ نما بستی تھی، جس کے گرد دیواریں اور تین دروازے بنائے گئے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ علاقہ ماضی میں ایک مضبوط دفاعی اہمیت رکھتا تھا۔
برصغیر کی تقسیم (1947ء) کے وقت یہاں ہندو، سکھ اور مسلمان آباد تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہندو اور سکھ بھارت چلے گئے، جبکہ مشرقی پنجاب اور ہریانہ سے مہاجرین آ کر یہاں آباد ہوئے۔
انتظامی صورت حال
[ترمیم]قادرآباد یونین کونسل کا درجہ رکھتا ہے اور تحصیل پھالیہ کی انتظامیہ کے زیرِ انتظام ہے۔ یہاں منتخب چیئرمین، کونسلر اور نمبرداروں کا نظام رائج ہے۔ مقامی سطح پر فیصلہ سازی کے اختیارات یونین کونسل کے پاس ہوتے ہیں، جبکہ ترقیاتی کاموں اور دیگر سہولیات کا اختیار تحصیل اور ضلعی حکومتوں کے پاس ہوتا ہے۔
پولیس کا انتظام قریبی تھانے کے تحت ہوتا ہے جبکہ صفائی ستھرائی، واٹر سپلائی اور نکاسی آب کے مسائل بھی مقامی انتظامیہ کی نگرانی میں آتے ہیں۔
تھانہ قادرآباد
[ترمیم]تھانہ قادرآباد، پھالیہ پولیس سرکل کے ماتحت کام کرتا ہے۔ یہ تھانہ قصبہ قادرآباد اور اس سے ملحقہ دیہات میں امن و امان کی بحالی، جرائم کی روک تھام اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ جو 1810ء میں قائم کیا گیا تھا۔
معاشی حالات
[ترمیم]قادرآباد کی معیشت کا دارومدار درج ذیل شعبوں پر ہے:
1. زراعت: گندم، چاول، گنا، کپاس، مکئی، سبزیاں، آم، مالٹا اور امرود کی کاشت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔
2. مویشی پالنا: بھینس، گائے، بکری اور مرغیوں کی افزائش دیہی معیشت کا حصہ ہے۔
3. کاروبار: مقامی سطح پر زرعی اجناس کی خرید و فروخت، کپڑے، ادویات، کھاد، موبائل اور روزمرہ اشیاء کی دکانیں موجود ہیں۔
4. ترسیلاتِ زر: بڑی تعداد میں لوگ سعودی عرب، یو اے ای، قطر، عمان اور یورپ میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں جو رقوم بھیجتے ہیں۔
تعلیمی ادارے
[ترمیم]تعلیم کے میدان میں قادرآباد نے خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ یہاں موجود تعلیمی ادارے درج ذیل ہیں:
- گورنمنٹ ہائیر سکینڈری اسکول
- گورنمنٹ پرائمری اسکول
- گورنمنٹ پرائمری اسکول لوکڑی مردان شاہ
- گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول نمبر 2
- گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول
- گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین
نجی اسکولوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔
- مدارس دینیہ
تعلیم یافتہ نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لیے گجرات، لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔
تاریخی مقام اور دربار
[ترمیم]- یادگارمقبرہ
- دربار حضرت پیراعتبارحسین شاه
- دربار بابا شاہ سکندر
- دربار حضرت مردان شاہ
- دربار حضرت علامہ صادق صاحب
- دربار بابا قادر پیر(ان کے نام سے ہی قادرآباد کا نام ہے)
جغرافیہ
[ترمیم]قادرآباد دریائے چناب کے شمالی کنارے آباد ہے۔ قادرآباد سے
| قریبی شہر | فاصلہ |
|---|---|
| پھالیہ | 20 کلومیٹر |
| منڈی بہاؤ الدین | 40کلومیٹر |
| گجرات | 70کلومیٹر |
| سیالکوٹ(ائرپورٹ) | 115کلومیٹر |
| سرگودھا | 90 کلومیٹر |
| لاہورائرپورٹ | 180کلومیٹر(جی ٹی روڈ) |
| اسلام آبادائرپورٹ | 200کلومیٹر( موٹروے) |
ذرائع آمد ورفت
[ترمیم]قادرآباد کا قریبی ریلوے اسٹیشن منڈی بہاؤ الدین ریلوے اسٹیشن ہے۔ قریبی ائرپورٹ سیالکوٹ اور لاہور ہیں۔
مین روڑ
- __قادرآباد تا سیدا شریف، پھالیہ، منڈی بہاؤ الدین، گجرات
- __قادرآباد تا میانوال
- __قادرآباد تا گوجرہ، فیصل آباد
مزید دیکھیے
[ترمیم]- منڈی بہاوالدین
- پھالیہ
- نین رانجھا
- قادر آباد
- ملکوال
- گوجرہ
- ناصراقبال بوسال
- پیراعتبارحسین شاہ
- گجر
- صاحبوال سیداں
- رتووال
حوالہ جات
[ترمیم]- Qadirabad*
- https://m.facebook.com/QadirAbad-Mandi-Bahaud-Din-Pakistan-648100952003192/?ref=bookmarks
| پیش نظر صفحہ پاکستان جغرافیہ سے متعلق موضوع پر ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں مزید اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کرسکتے ہیں۔ |