قاصد سرسوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید علی قاصد زیدی قاصد سرسوی (Qasid Sirsivi (क़ासिद सिरसीवी معروف شاعر اہلبیت ادیب نقاد اور ماہر لسانیات تھے۔

نام-علی قاصد زیدی

تخلص-قاصد سرسوی

والد-سوزخوان سید حامد حسن زیدی سرسوی مرحوم

ولادت-1/فروری/1924

وطن - سرسی، ضلع سنبھل، یوپی، ہندوستان

وفات-4/نومبر/2016 بمقام - کراچی، پاکستان

عمر-92 سال

پیدائش


آپ 1/فروری/1924ء میں مغربی اترپردیش کے مردم خیز علاقے سرسی میں پیدا ہوئے - آپ کے والد سوزخوان حامد حسن سرسوی تھے-آپ کے والد اپنے بھائی سوزخوان سید لیاقت حسین زیدی سرسوی کے ساتھ مل کر سوزخوانی کیا کرتے تھے-نظم رفتگان سرسی میں قاصد سرسوی نے ان دونوں بزرگوں کا ذکر کچھ یوں کیا ہے


تھے لیا قت اور حامد سوزخوان باکمال

سال رحلت سن چھیتر اور چوھتر ہوا


ابتدائی زندگی و تعلیم


آپ نے ابتدائی تعلیم سرسی میں حاصل کی بعدہ منصبیہ عربی کالج، میرٹھ سے منشی اور کامل کے امتحانات پاس کیے - اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی-اے.B.A کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے ہی فاضل فارسی کا امتحان دیا اور اس میں پورے صوبہ پنجاب میں ممتاز مقام حاصل کیا(1)-سن 1948 میں ہجرت کرکے کراچی چلے گئے تھے اور آخر عمر تک وہیں رہے-

سماجی و ادبی سرگرمیاں

آپ نے کراچی اور اسلام آباد میں 35 سال تک اسٹنٹ اسٹیٹ آفیسر کے طور پر ملازمت کی- شاعری میں حکیم محمد ہادی نقوی قائد سرسوی مرحوم سے شرف تلمذ تھا(2)-غزلیں، سلام، منقبت، قصاید، مسدس، قطعات، نوحے وغیرہ خاصی تعداد میں کہے ہیں۔کلام موجود ہے مگر غیر مطبوعہ ہے-آپ کی کچھ غزلیں بزم شعر و ادب(اسلام آباد) کے شائع کردہ گلدستہ "نشاطِ تخیل" میں شائع ہوئ ہیں-اس کے علاوہ آپ نے نثر کے میدان میں بھی کافی کام کیا ہے-آپ کے کئی مقالے رسالہ البرھان(سرپرست علامہ سبطین سرسوی رح) میں بھی شائع ہوئے ہیں اس کے علاوہ مشہور مجلہ رثائ ادب میں بھی آپکے مضامین شائع ہوئے ہیں- اور نشاط تخیل کے مولف کے مطابق آپ نے روزنامہ حریت کے لیے بھی آپ نے ادبی، سماجی اور اخلاقی مضامین لکھے ہیں(3) آپ نے سن 1975ء میں سرسی سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک مجلہ خیابانِ سرسی شائع کیا آپ اس کے مولف تھے-آپ نے اردو کے علاوہ فارسی زبان میں بھی شعر کہے ہیں جو رسالہ البرھان میں شائع ہوئے- آپ نے امام شافعی کی دو معروف شعروں کا جو عربی سے اردو میں منظوم ترجمہ کیا ہے وہ بطور نمونہ پیش ہے

یا اھل بیت النبوۃ ان حبکم فرض اللہ فی القرآن انزلہ کفا کم من عظیم فضلکم انکم من لم یصل علیکم لا صلاۃ لہ امام شافعی رحمۃ اللہ

محبت آپ کی اے اہل بیت ختم رسل

بحکم رب علی فرض ہے فضول نہیں

دلیل آپکی عظمت کی ہے یہی کافی

بنا درود عبادت کوئی قبول نہیں

منظوم ترجمہ از قاصد سرسوی

اس کے علاوہ آپ کا یہ شعر بہت مشہور ہے

ہم خوشی میں بھی رہے وابستہء یادِ حسین (ع)

رسمِ شادی پر بھی ہم پہلے عزاخانے گئے

وفات

4/نومبر /2016ء کو آپ نے کراچی میں وفات پائی اور قبرستان وادی حسین(ع) کراچی میں دفن ہیں-

حوالہ جات 1.ہم مسلمانوں کے بارہ امام 2.ہم مسلمانوں کے بارہ امام 3 .گلدستہ نشاط تخیل