قاضی شریح بن حارث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قاضی شریح بن حارث
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 593  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات جون 697 (103–104 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوفہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص قیس بن ابی حازم،  محمد بن سیرین،  ابراہیم بن یزید النخعی،  عامر بن شراحیل شعبی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مؤرخ،  قاضی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

قاضی شریح بن حارث تاریخ اسلام کے مشہور قاضی تھے۔ تابعین کے زمرہ میں وہ نہایت ممتاز شخصیت رکھتے تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

شریح نام، ابو امیہ کنیت، نسب نامہ یہ ہے،شریح بن حارث بن قیس بن الجہم بن معاویہ بن عامر بن رائش بن حارث بن معاویہ بن ثور بن مرقع بن کندہ کندی،بعض روایتوں میں نسب نامہ کے اوپر کے ناموں میں تھوڑا سا اختلاف ہے،ایک روایت یہ بھی ہے کہ شریح نسلاً عرب نہ تھے ؛بلکہ عجم کے ان خانوادوں میں سے تھے،جو کندہ کے حلیف بن کر یمن میں آباد ہو گئے تھے۔

عہد رسالت[ترمیم]

شریح عہد رسالت میں موجود تھے اور بعض روایتوں کے مطابق وہ آنحضرت ﷺ کے شرف زیارت سے بھی مشرف ہوئے،لیکن یہ بیان صحیح نہیں ہے،اسلام کے شرف سے تو بیشک وہ اسی عہد میں مشرف ہو گئے تھے،لیکن دولت دیدار سے محروم رہے حافظ ابن حجر کا بھی یہی فیصلہ ہے؛چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ خلفاء اربعہ کے زمانہ کے شریح کے حالات بہت ملتے ہیں،لیکن کوئی ایسا واقعہ نہیں ملتا،جس سے رسول اللہ ﷺ سے ان کی ملاقات ثابت ہوتی ہو۔علامہ ابن سعد اورحافظ ابن عبدالبر وغیرہ تمام ارباب سیر وطبقات اسی کے قائل ہیں اور شریح کو تابعین ہی میں شمار کرتے ہیں،البتہ تابعین کے زمرہ میں وہ نہایت ممتاز شخصیت رکھتے تھے اورتاریخ اسلام کے مشہور قاضی تھے۔ [1]

فضل وکمال[ترمیم]

شریح نے بہت سے اکابر صحابہ کو پایا تھا اوران کی صحبت اٹھائی تھی پھر وہ فطرۃ نہایت ذہین وطباع تھے [2] اس لیے علمی اعتبار سے انہوں نے اپنے اقران میں نہایت ممتاز حیثیت حاصل کرلی تھی،امام نووی لکھتے ہیں کہ شریح کی توثیق، دینداری ،افضل وکمال ذکاوت اوران کی روایات سے احتجاج پر سب کا اتفاق ہے۔[3]حافظ صفی الدین خزرجی لکھتے ہیں کہ وہ بڑے جلیل القدر اورذکی علماء میں تھے۔

حدیث[ترمیم]

بصرہ کے ممتاز حفاظِ حدیث میں تھے،صحابہ میں انہوں نے حضرت عمر،حضرات علی ،عبد اللہ بن مسعود، زید بن ثابت جیسے اکابر سے استفادہ کیا تھا، امام شعبی،ابووائل ،قیس بن ابی حازم،ابن سیرین ،عبدالعزیز بن رفیع ،مجاہدین جبیر،عطاء بن سائب،انس بن سیرین اورابرہیم نخعی جیسے ائمہ ان کے زمرہ تلامذہ میں تھے۔ [4]

فقہ[ترمیم]

اگرچہ شریح حدیث کے بھی حافظ تھے،لیکن ان کا خاص فن فقہ تھا، حافظ ذہبی اور ابن حجر وغیرہ ان کا خصوصی فن فقہ ہی کو شمار کرتے ہیں اوران کے نام کے ساتھ فقیہ کا لقب لکھتے ہیں [5]وہ مرکز فقہ کوفہ کی جماعت افتاء کے ایک رکن تھے۔ [6]

قیافہ وشاعری[ترمیم]

حدیث وفقہ کے علاوہ وہ عرب کے مروجہ فنون قیافہ اورشاعری میں بھی دستگاہ رکھتے تھے [7] شاعری میں اتنا کمال حاصل تھا کہ ایک مرتبہ انہوں نے نظم میں فیصلہ دیا تھا، اس کا واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت کے خلاف جس کے ایک لڑکا تھا اوراپنے شوہر کی موت کے بعد اس نے دوسری شادی کرلی تھی،اس کی ساس نے قاضی شریح کے یہاں دعویٰ دائر کیا، عورت کا دعویٰ تھا کہ لڑکے کی ولی وہ ہے کیونکہ اس کے باپ کی ماں ہے اورساس کا دعویٰ تھا کہ بہو کے عقد ثانی کے بعد حق تولیت اسے ملنا چاہئے،ساس نے نظم میں اپنا دعویٰ پیش کیا۔ أبا أمية أتيناك وأنت المرء نأتيه أتاك ابني وأماه وكلتانا نفديه ثم تزوجت فهاتيه ولا يذهب بك التيه فلو كنت تأيمت لما نازعتكم فيه ألا يا أيها القاضي فهذه قصتي فيه [8] یعنی ابو امیہ ہم آپ کے پاس انصاف کے لیے آئے ہیں،میرا لڑکا (پوتا) اوراس کی ماں تیرے پاس آئے ہیں اورہم دونوں اس پر فدا ہیں (بہو سے خطاب) جب تم نے دوسری شادی کرلی تو لڑکا مجھے دے دو، زبردستی مت کرو،بیوہ ہوجانے کے بعد تم اس کے بارہ میں مجھ سے کیوں جھگڑا کرتی ہو (قاضی سے خطاب) قاضی صاحب لڑکے کے بارہ میں ہم دونوں کا قصہ یہ ہے۔ بہو نے ساس کے دعوی کا یہ جواب دیا۔ يا أيها القاضي قد قالت لك الجده مقالا فاستمع مني ولا تنظر في رده أعزي النفس عن ابني وكبدي حملت كبده فلما كان في حجري يتيما ضائعا وحده تزوجت رجاء الخير من يكفيني فقده ومن يكفل لي رفده ومن يظهر لي وده قاضی صاحب دادی یعنی میری ساس کا بیان آپ نے سن لیا،آپ میرا بھی سنیے اور اس کو ردنہ کیجئے، میں اپنے لڑکے سے اپنے دل کو تسلی دیتی ہوں،میں نے ہمیشہ اس کوکلیجے سے لگائے رکھا ہے،میری بیوہ گود میں تنہائی کی وجہ سے اس یتیم کے ضائع جانے کا خطرہ تھا،اس لیے میں نے اس کی بھلائی اوراس کی نگہداشت کے خاطرایسے شخص سے شادی کرلی جو اس کو ضائع نہ ہونے دے اور اس کی کفالت کرسکے۔ چونکہ ساس بہو دنوں نے نظم میں دعویٰ پیش کیا تھا، اس لیے قاضی شریح نے نظم ہی میں اس کا فیصلہ دیا۔ قد فھم القاضی ماقلتما وقضا بینکما ثم فصل بقضاء بین بینکماوعلی القاضی جھدا ان عقل قال للجدہ بینی بالصبی وخذی ابنک من ذات العلل انھا لو صبرت کان لھا قبل دعواھا تبغیھا البدل تم دونوں نے جو کچھ کہا قاضی نے اسے سمجھا اوردونوں کے درمیان ایک واضح فیصلہ کردیا، اگر قاضی سمجھدار ہے تو اس پر کوشش کرنا فرض ہے پھر دادی سے کہا لڑکے کو اس حیلہ ساز سے لے کر الگ ہوجا ،اگر وہ نکاح نہ کرتی توبچہ اس کے پاس رہتا۔ [9]

قضا کی استعداد[ترمیم]

ایک قاضی کے لیے جن اوصاف اورصلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ تمام شریح کی ذات میں بدرجہ اتم موجود تھیں، فضل وکمال کا حال اوپر گذرچکا، طبعا وہ نہایت ذہین، ذکی، طباع،فریس اورفہیم تھے [10] پیچیدہ سے پیچیدہ اورظاہر فریب سے ظاہر قریب معاملات کی تہ تک پہنچ جاتے تھے،اس کی مثالیں آیندہ آئیں گی، ان اوصاف نے ان میں قدرۃقضاء کی نہایت اعلیٰ استعداد پیدا کردی تھی، حضرت علی ؓ جن کوزبان رسالت سے اقضا ہم علی ،کی سند ملی تھی،شریح کو، اقضی العرب،عرب کا سب سے بڑا قاضی فرماتے تھے۔[11]

عہد قضاء پر تقرر[ترمیم]

عہد ہ قضا پر تقرر سے پہلے، ان کی یہ استعداد وصلاحیت مشہور ہوچکی تھی اورلوگ متنازع فیہ معاملات میں ان کو حکم بناتے تھے ؛چنانچہ اسی سلسلہ میں حضرت عمرؓنے ان کے ایک فیصلہ کو دیکھ کر انہیں کوفہ کا قاضی بنادیا۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے ایک شخص سے بشرطِ پسندگی ایک گھوڑا خریدا اورامتحان کے لیے ایک سوار کو دیا،گھوڑا سواری میں چوٹ کھاکر باغی ہو گیا، حضرت عمرؓ نے اس کو واپس کرنا چاہا،گھوڑے کے مالک نے لینے سے انکار کر دیا، اس پر نزاع ہوئی اورشریح ثالث بنائے گئے ،انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ اگر گھوڑے کے مالک سے اجازت لے کر سواری کی گئی تھی تو گھوڑا واپس کیا جاسکتا ہے،ورنہ نہیں۔[12]ایک دوسری روایت میں اس واقعہ کی شکل یہ ہے کہ گھوڑا امتحان میں ہلاک ہوگیا، حضرت عمرؓ نے اس کو واپس کرنا چاہا، اس پر تنازعہ ہوا اورشریح حکم مقرر ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ جس کو خریدا ہے اسی کو لینا ہوگا یا جس حالت میں لیا تھا،اسی حالت میں واپس کرنا ہوگا، اس فیصلہ پر حضرت عمرؓ نے ان کو کوفہ کا قاضی بنادیا۔ قاضی شریح نے اس خدمت کو اس قابلیت ،اس خوش اسلوبی اوردیانت سے ادا کیا کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ سے لے کر عبدالملک کے زمانہ تک مسلسل ساٹھ برس قاضی رہے ،اس طویل مدت میں بڑے بڑے انقلابات وحوادث ہوئے، خلافتِ راشدہ کا دور ختم ہوکر اموی حکومت کا آغاز ہوا، ابن زبیرؓ اورامویوں میں خوں ریز معرکہ آرائیاں ہوئیں، ساری دنیائے اسلام میں انقلاب برپا ہوا، لیکن شریح بدستور مسند قضا پر متمکن رہے،ابن زبیرؓ اورعبدالملک کی جنگ کے زمانہ میں اپنا دامن بچانے کے لیے صرف چند برسوں کے لیے مستعفی ہوگئے تھے۔ [13]

زندگی اور کردار[ترمیم]

قاضی شریح ابن حارث مسلم تاریخ کی ایک عجیب و غریب شخصیت ہیں، انہوں نے رسول اللہﷺ کے زمانے میں اسلام قبول کیا مگر ان کی آنحضرتﷺ سے کبھی ملاقات نہیں ہو سکی، یہ ایک نہایت قابل شخص تھے، فقہ اور حدیث کے عالم تھے، شعر و شاعری سے بھی شغف تھا، حضرت عمرؓ نے انہیں قاضی مقرر کیا۔ بعد میں حضرت عثمانؓ نے بھی انہیں اسی عہدے پر برقرار رکھا، حضرت علیؓ (غالباً) انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے مگر کوفہ میں چونکہ قاضی شریح نے کافی اثر و رسوخ پیدا کر لیا تھا اس لیے قاضی کی معزولی ممکن نہ ہو سکی۔ یہ بات دل کو نہیں لگتی کیونکہ حضرت علیؓ نے تو حضرت امیر معاویہؓ کو گورنر کے عہدے سے معزول کرکے جنگ کی تھی تو قاضی شریح کو ہٹانا تو معمولی بات تھی، مگر ساتھ ہی یہ واقعہ بھی تاریخ میں بیان کیا جاتا ہے کہ قاضی شریح نے کوفے میں ایک شاندار مکان خریدا جو ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ قاضی نے اس مکان کی مالیت فقط اسّی دینار ظاہر کی اور دستاویز پر گواہوں کے دستخط بھی لیے۔ حضرت علی ؓکو جب اس بات کا علم ہوا تو آپؓ نے قاضی شریح کو بلا کر نہایت سخت الفاظ میں سرزنش کی اور فرمایا کہ ایک دن موت تمہیں آلے گی، اس دن یہ جھوٹی دستاویز اور جعلی گواہان کچھ کام نہ آئیں گے، موت تمہیں اس گھر سے اکیلے نکالے گی اور گھسیٹتے ہوئے قبر تک لے جائے گی اور پھر تمہارا کوئی پرسانِ حال نہ ہوگا، اگر تم یہ معاملہ کرنے سے پہلے میرے پاس آتے تو میں ایسی دستاویز تیار کرتا کہ تم ایک درہم کے عوض بھی یہ مکان خریدنے کی ہمت نہ کرتے!

ایک واقعہ[ترمیم]

قاضی شریح سے منسوب ایک اور واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت طلحہ کی چوری شدہ زرہ بکتر حضرت علیؓ نے ایک یہودی کے پاس دیکھی، شریح کی عدالت میں یہودی کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا مگر قاضی شریح نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے کر یہ مقدمہ خارج کر دیا۔حضرت امیر معاویہؓ کے زمانے کا ایک واقعہ البتہ زیادہ قابلِ غور ہے، ابن زیاد کوفے کا گورنر تھا، اس نے حضرت حجر بن عدی کندی ؓکے خلاف ایک کیس بنا کر اپنی تحریری گواہی دی اور حضرت امیر معاویہؓ کے پاس بھیجا تو اس وقت قاضی شریح نے ابن زیاد کا ساتھ دیا اور گواہوں میں اپنا نام شامل کرکے حضرت امیر معاویہ ؓکے پاس گئے، اس کے نتیجے میں حضرت حجر بن عدی ؓکو ساتھیوں سمیت قتل کر دیا گیا۔ حضرت عائشہؓ، امام حسینؓ، حسن بصریؒ، ابن عمرؓ سب نے اس قتل کی شدید مذمت کی، حضرت عائشہ ؓ نے تو حضرت امیر معاویہؓ سے شکایت کی جبکہ امام حسینؓ نے بھی تحریری اور زبانی احتجاج کیا [14]

امام حسین کے خلاف[ترمیم]

کہا جاتا ہے کہ واقعہ کربلا کے موقع پر قاضی شریح نے یزید کے کہنے پر امام حسین ؓ کے خلاف فتوی ٰدیا کہ یہ خروج ہے مگر مجھے یہ فتوی ٰکسی مستند کتاب میں نہیں مل سکا، البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قاضی شریح بہرحال امام حسین ؓکے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے، یزید کی مذمت تو دور کی بات اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی بھی زحمت نہیں کی، خانوادہ رسولﷺ دن دہاڑے بیدردی سے قتل ہو گیا مگر قاضی شریح نے بطور چیف جج ایک لفظ بھی نہ کہا، ایسا جج جو زرہ بکتر کا فیصلہ تو یہودی کے حق میں کر دے اور اللہ کے آخری نبیﷺ کی آل اولاد کے قتل پر خاموش رہے، ا س کی قابلیت اور علمیت کس کام کی؟ قاضی شریح کو بالآخر مختار ثقفی نے معزول کرکے کوفے سے جلا وطن کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاصابہ:2/202
  2. الاستیعاب:2/67
  3. (تہذیب الاسماء،جلد اول،ق اول،ص۲۴۴)
  4. تہذیب الاسماء،جلد اول،ق اول،ص244
  5. تذکرۃ الحفاظ،جلد اول،ص51
  6. (اعلام الموقعین:۱/۲۷)
  7. (ابن سعد:۶/۹۰)
  8. (سنن سعید بن منصور،باب ماجاء فی الایلاء،حدیث نمبر:۲۱۰۸)
  9. (ابن سعد:۶/۹۴)
  10. الاستیعاب:2/6
  11. تہذیب الاسماء:اول،243
  12. کتاب الاوائل الباب السابع ذکرۃ القضاۃ
  13. (ابن سعد:۶/۹۱)
  14. قاضی شریح کا کردار از علامہ ڈاکٹر سید مجتبیٰ حسن، ناظم دینیات مسلم یونیورسٹی، علی گڈھ