قاضی عبد الحلیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قاضی عبد الحلیم چکوالی سیال شریف کے روحانی پیشوا خواجہ شمس الدین سیالوی کے خلیفہ خاص تھے۔


قاضی عبد الحلیم چکوالی
ذاتی
پیدائش(1140ھ بمطابق 1727ء)
وفات(1300ھ بمطابق 1882ء)
مذہباسلام
والدین
  • قاضی حافظ فتح نور (والد)
سلسلہچشتیہ
مرتبہ
مقامڈھاب کلاں چکوال
دوراٹھارہویں انیسویں صدی
پیشروشمس الدین سیالوی
جانشینقاضی سید نور

ولادت[ترمیم]

قاضی عبد الحلیم کی ولادت 1140ھ بمطابق 1727ء میں ڈھاب کلاں ضلع چکوال میں ہوئی۔ آپ کے والد محترم کا نام قاضی حافظ فتح نور تھا۔ آپ کا تعلق قریش خاندان سے تھا اور سلسلہ نسب حضرت غازی عباس علمدار سے جا ملتا ہے۔

تعلیم[ترمیم]

عبد الحلیم نے بہکڑی ضلع چکوال میں استاد اخوان صاحب سے سراجی ، علم میراث کی مشہور درسی کتاب پڑھی۔ آپ کے استاد ہزارہ کے باشندے تھے۔ پکھلی یا دهمتوڑ گاؤں تھا۔ علاوه از پادشاہان نزد بهیں ضلع چکوال میں کچھ عمہ تعلیم حاصل کی۔

استاد کا احترام[ترمیم]

عبد الحلیم کو اپنے استاد گرامی کا ازحد احترام ملحوظ خاطر تھا۔ ان کی وفات کے بعد جب بھی ڈھاب کلاں سے چکوال تشریف لے جاتے تو قبر پر نظر پڑتے ہی گھوڑی سے اتر پڑتے۔ قبر پر حاضری کے بعد پیادہ چل پڑتے اور جب تک قبر دکھائی دیتی گھوڑی پر سوار نہ ہوتے تھے ۔ ان کی وفات حسرت آیات پر مندرجہ ذیل اشعار کہے

ملک تساڈا چھچھ ہزارہ پکھلی تے دھمتوڑ اس درے تے آندی آہی خلق خدا دی دوڑ
ہن دھیاں پتر خویش قبیلہ ہر متھے تے موڑ ٹھوک ونج کے ڈٹھی حافظ دنیا دی گل چھوڑ

سیال شریف سے عطائے خلافت[ترمیم]

قاضی مظہر الحق نیره قاضی حافظ عبد الحلیم کا بیان ہے کہ ڈھاب كلاں کی ایک غریب خاندان کی لڑکی کسی طرح یہاں سے فرار ہو کر سیال شریف پہنچ گئی اور وہاں بطور خادمہ رہنے لگی۔ وہ اس قدر مقبول و منظور ہوئی کہ خواجہ سیالوی کی اس پر خصوصی نظر کرم ہوگئی اور ولیہ کے درجہ پر پہنچ گئی۔ قاضی عبد الحلیم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے خواجہ شمس العارفین کی خدمت بابرکت میں ایک منظوم عریضہ لکھا۔ خواجہ سیالوی عریضہ ملاحظہ فرما کر بہت محظوظ ہوئے۔ آپ نے قاضی صاحب کو ایک نوازش نامہ تحریر فرمایا اور ساتھ ہی خلافت نامہ بھی عطا فرمایا۔ بقول قاضی مظہر الحق نوازش نامہ اور اجازت نامہ ان کے کتب خانہ میں موجود ہے۔ قاضی عبد الحلیم کا منظوم خط درج ذیل تھا۔

اول صفت خدا دی کیجئے خالق مالک اللہ وت درود محمد تائیں جس دا نور تجلی
چار یار محمد والے جیوں اسمانی تارے دین نی دا روشن کیتا ظاہر بار نگارے
آل اصحاب نبی دی اتے وسہ مینہ کرم دا جنہاں بحر مودت وچو پیتا جام شرم دا
اوہا رس کرامت والی توسے دے وچ آئی مست الست ہوئی خلق الله ودھیا دین عشق خدائی
واہ وا مرشد کامل اکمل عظت حرمت والا شمس الدین مبارک بنده وچ سیال اجالا
کچھے چم کرے بلغاری نظر کرے جہاں بھرکے ڈبی بیڑی غفلت والی بنے لائے پھڑکے
ایڈ ملاح نہیں ڈٹھا کوئی ونج ہلاوے جپے غفلت دے گرداباں وچوں کڈھ گھنے جاں پنے
مرشد جیندا خاص حضوری وطن جنہاندا تونسہ نیواں ہو کے جہڑا جاوے لکھ مراداں پاوے

درس و تدریس[ترمیم]

قاضی عبد الحلیم نے ڈھاب کلاں میں دینی مدرسہ قائم کیا جس میں دینی تعلیم دی جاتی تھی اور بے شمار لوگ اس دینی مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔ آپ کے تلامذہ میں سحبان زمان علامہ محمد حسن فیضی (متوفی 1319ھ مدفون بھین ضلع چکوال) بہت مشہور ہوئے۔

معمولات[ترمیم]

قاضی عبد الحلیم کا سب سے بڑا وظیفہ قرآن مجید کی تلاوت تھا۔ مسجد کے جس ستون کے پاس بیٹھ کر تلاوت فرمایا کرتے تھے اس کے پاس آپ نے زندگی میں ہزار سے بھی زیادہ ختم قرآن کئے۔ دیگر اوراد و وظائف اور درود شریف کی تلاوت کا بھی معمول تھا۔ تہجد زندگی بھر ناغہ نہ ہوا۔ بوقت وصال بھی نماز تہجد ادا کی۔ لوگوں کو مختلف وظائف پڑھنے کی اجازت دیتے تھے۔

شاعری[ترمیم]

قاضی عبد الحلیم کا تخلص قاضی اور حافظ تھا۔ آپ ایک ہمہ صفت موصوف اور جامع جمع علوم شخصیت تھے۔ آپ اپنے زمانے کے نہ صرف ولی اللہ، حکیم حاذق اور عالم بے بدل تھے بلکہ آپ پنجابی زبان کے بہترین شاعر بھی تھے۔ فی البدیہ کہنے میں آپ کا ثانی مشکل سے ملے گا۔ آپ عربی میں بھی شعر کہہ لیا کرتے تھے۔ شعرگوئی کا ملکہ بہت زیادہ تھا۔ آپ کا کلام قلمی مسودات کی شکل میں آپ کے جانشینان کے پاس محفوظ ہے۔ اپنے چھوٹے صاحبزادے قاضی فضل نور کو مخاطب ہو کر فرمایا

نصیحت سن جگر گوشہ اساڈی گیا جوبن اساڈا رت تساڈی
نہیں ونجناں نہیں ونجناں کدائیں نہ کر بچیا جوانی نوں اضانہیں
جان پوسن کم کرسیں باد بابا توں پڑھ بچیا جے آکھی لوگ شابا
صرف و نحو و فقہ منطق معانی مطالعہ کر رموز آسمانی
نہ گھن ٹھیکری نہ دے در یگانے ملیسیں ہتھ تے ننگھ ویسن زمانے

قاضی عبد الحلیم کا زندگی بھر کا معمول رہا کہ مسجد میں ہی رہے۔ زندگی کے آخری یوم میں نماز تہجد سے فارغ ہوئے اور سفر آخرت کی تیاری ہونے لگی۔ اس وقت آپ کا سر چودھری امیر خان رئیس اعظم ڈھاب کلاں کی گود میں تھا۔ نماز فجر میں ابھی تاخیر تھی۔ امیر خان نے عرض کیا کہ قاضی صاحب آپ نے زندگی بھر مختلف نصائح سے لوگوں کو مستفید فرمایا۔ جاتی دفعہ بھی کوئی نصیحت فرمائیں۔ اس کی فرمائش پر فی البدیہ شعر کہے۔

الف آ مسافرا سمج کدیں تینوں نت بلاندی آ گور میاں پلے بنھ بتھا تیرا دور بناں پچوں دت پہنچاسیا کور میاں
سروں نگے تے پیراں سی گئے بہتیرے جنہاں کول سن لکھ کروڑ میاں سلطان سکندر تے مہتر سلیمان جیسے اوہ بھی گئے جہان نوں چھوڑ میاں
فجر وقت بلوچ ایہ کوچ کرسن ایتھے آن لبسی کوڑی ہور میاں حافظ کئی امام محراب بیسن مڑ آو ناں نہیں اذیاں بھور میاں

بحثیت مفتی[ترمیم]

قاضی صاحب مفتی کی حیثیت سے بھی بلند مقام کے مالک تھے ۔ بڑے عجیب اور انوکھے انداز میں پوری تحقیق سے لا یخل مسائل حل فرمایا کرتے تھے۔ علاقہ جھنگ کا ایک آدمی حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ میری گندم سینکڑوں من کلیان میں پڑی تھی۔ رات کو سور آئے گندم کھاتے رہے اور اور پیشاب بھی کر گئے۔ مختلف علمائے کرام کے پاس گیا ہوں اور انہوں نے گندم کو ضائع کرنے کا فتوی دیا ہے۔ اتنے ذخیرہ کو ضائع کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا بہت بڑا مالی نقصان ہے۔ آپ کی شہرت سن کر آیا ہوں۔ قاضی صاحب نے فرمایا : فتوی لکھ دیتا ہوں اور یہ فتوی علمائے کرام کے پاس لے جانا۔ اگر انہوں نے دستخط کر دیئے تو پھر سمجھ لینا کہ فتوی صحیح ہے ورنہ اس پر عمل نہ کرنا۔ قاضی صاحب نے فرمایا کہ علمی مسئلہ تو یہی ہے لیکن علمائے کرام نے عقل سے کام نہیں لیا۔ تم ایسا کرو کہ گندم لوگوں میں تقسیم کر دو اور انہیں کہو کہ یہ گندم پلید ہے کھانے کے قابل نہیں ہے۔ اس کو بطور بیج بوقت کاشت زمین میں ڈال دو۔ پھر جب اگے گی تو صاف اور پاک ہوگی۔ فصل پکنے پر جتنی کسی کو دی تھی ان سے لے لینا اور اسے بے شک استعال کرنا۔ یہ عقلی بات تھی جو علماء کے ذہن میں نہیں آئی تھی۔

وصال[ترمیم]

قاضی عبد الحلیم نے نماز فجر سے قبل وفات پائی۔ آپ کی وفات حسرت کی خبر سن کر علاقہ بھر سے مخلوق خدا کی آمد کا تانتا لگ گیا۔ بے پناہ مخلوق جمع ہوگئی ۔ اس موقع پر اہلیان ڈھاب کلاں نے قاضی صاحب کی دینی خدمات کاحق صحیح طور پر ادا کیا۔ اتنا کھانا پکایا کہ ہر آدمی کھا کر گیا اور کئی دنوں تک لوگوں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری رہا اور اسی طرح کھانا پکتا رہا۔ قاضی عبد الحلیم کا وصال 1300ھ بمطابق 1882ء کو ہوا۔ آپ مزار ڈھاب کلاں میں مرجع خلائق ہے۔

اولاد[ترمیم]

قاضی عبد الحلیم کی اولاد میں پانچ بیٹے تھے۔

  1. قاضی سید نور
  2. قاضی احمد نور
  3. قاضی سرور نور
  4. قاضی محمد نور
  5. قاضی فضل نور [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فوز المقال فی خلفائے پیر سیال جلد اول مولف حاجی محمد مرید احمد چشتی صفحہ 494 تا 501