مجاہد الاسلام قاسمی
| قاضی مجاہد الاسلام قاسمی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| اصل نام | مجاہد الاسلام |
| پیدائش | 1936ء جالے، دربھنگہ، بہار، برطانوی ہند |
| وفات | 4 اپریل 2001 (عمر 64–65 سال) نئی دہلی، بھارت |
| یادگاریں | مجلہ بحث و نظر (بانی و مدیر) |
| قومیت | بھارتی |
| آبائی علاقہ | دربھنگہ، بہار |
| مذہب | اسلام |
| فقہی مسلک | حنفی |
| مکتب فکر | دیوبندی |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | دار العلوم مئو |
| پیشہ | عالم دین، فقیہ، مصنف، قاضی |
| درستی - ترمیم | |
قاضی مجاہد الاسلام قاسمی (1936–2002ء) ایک بھارتی دیوبندی عالم دین، فقیہ، مصنف اور تنظیمی رہنما تھے۔ وہ اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا)، دار العلوم الاسلامیہ (امارت شرعیہ)، المعہد العالی للتدریب فی القضاء و الافتاء، آل انڈیا ملی کونسل کے بانی اور امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے قاضی القضاۃ اور نائب امیر شریعت رہے۔ ان کو برصغیر کے حسین احمد مدنی، محمد ابراہیم بلیاوی اور محمد طیب قاسمی جیسے ممتاز علما سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔
ابتدائی و تعلیمی زندگی
[ترمیم]مجاہد الاسلام قاسمی کی پیدائش 1936ء میں بھارتی ریاست بہار کے ضلع دربھنگہ کے قصبہ جالے میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام مولانا عبد الاحد قاسمی تھا۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے گھر پر حاصل کی۔[1] بعد ازاں مدرسہ محمود العلوم دملہ، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ اور دار العلوم مؤ میں تعلیم پائی۔ [2] 1951ء میں دار العلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور 1955ء میں فراغت حاصل کی۔[1] دار العلوم دیوبند میں انھوں نے حسین احمد مدنی، محمد ابراہیم بلیاوی، اعزاز علی امروہی اور محمد طیب قاسمی سے اکتساب علم کیا۔ [3] [4]
تدریسی و فقہی خدمات
[ترمیم]فراغت کے بعد جامعہ رحمانی، مونگیر میں تدریسی خدمات انجام دیں٬ [5] اور وہاں علیا درجات کی تدریس سے وابستہ رہے۔ 1962ء میں امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ سے وابستہ ہو کر قضاء و افتاء کے شعبے میں شامل ہوئے۔ امارت شرعیہ میں قضاء کے نظام کو منظم کیا اور مختلف علاقوں میں دارالقضاء قائم کروائے۔[6] [7] [8] ان کا شمار ملک کے ان علما میں ہوتا تھا جنھوں نے مسلم پرسنل لا کے تحفظ اور فقہی مسائل کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ انھوں نے فقہ اسلامی کی تعلیم و تربیت کے لیے دو ادارہ دار العلوم الاسلامیہ اور المعہد العالی للتدریب فی القضاء و الافتاء کے بانی بھی رہے، جو امارت شرعیہ کے زیرِ انتظام قائم ہوا۔[3]
ملی خدمات
[ترمیم]مجاہد الاسلام قاسمی نے دینی اور فقہی تعلیم و تحقیق کے فروغ کے لیے متعدد ادارے قائم کیے، انھوں نے اپریل 1989 میں اسلامی فقہ اکیڈمی (انڈیا)[9] اور آل انڈیا ملی کونسل کی بنیاد رکھی۔ آل انڈیا ملی کونسل کا قیام 1992ء میں عمل میں آیا، جس کا ابتدائی اجلاس 23–24 مئی 1992ء کو بمبئی (ممبئی) میں منعقد ہوا۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد ملک میں مسلمانوں کے مسائل پر مشترکہ موقف اختیار کرنا اور سماجی و سیاسی معاملات میں سرگرم کردار ادا کرنا تھا۔ [10] وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور بعد میں اس کے صدر منتخب ہوئے۔ فقہ اسلامی کے موضوع پر انھوں نے اسلامی فقہ اکیڈمی (انڈیا) قائم کی، جو ملک بھر کے علما اور مفتیان کے مابین علمی مباحث کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مجمع الفقہ الاسلامی جدہ میں ہندوستان کے نمائندہ رکن کی حیثیت سے بھی شریک رہے۔ ان کا شمار ہندوستان کے ان علما میں کیا جاتا ہے جنھوں نے مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک، شاہ بانو مقدمہ اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد کے حالات میں متحرک کردار ادا کیا۔ [1]
تصانیف
[ترمیم]انھوں نے قضاء، افتاء اور فقہی موضوعات پر کتب تحریر اور ادارت کیں، جن میں "اسلامی عدالت"[11]، مباحث فقہیہ ( فقہی تحریرات کا مجموعہ) [12] اور چار جلدوں پر مشتمل "صنوان القضاء" شامل ہیں۔ [13]
صحافت اور ادب
[ترمیم]مجاہد الاسلام قاسمی نے 1988ء میں سہ ماہی فقہی مجلہ بحث و نظر کا اجرا کیا، جس میں فقہی، سماجی اور ملی موضوعات پر مضامین اور تبصرے شائع ہوتے تھے۔ وہ تا دمِ حیات اس کے مدیر رہے۔ ان کی تحریریں فقہی ہونے کے باوجود ادبی شائستگی اور سادگی کی حامل ہوتی تھیں۔ اور فقہی مباحث میں ادبی سلاست کو لحاظ ہوتا تھا۔ [3] [14]
طرز خطابت
[ترمیم]ان کی تقاریر میں علمی وسعت، ادبی جمال اور جذباتی تاثر کی آمیزش ہوتی تھی۔ مذہبی اجتماعات اور ملی کانفرنسوں میں ان کی تقریریں نہایت مؤثر سمجھی جاتیں اور اہل علم میں پسند کی جاتیں۔ [15]
عہدے اور مناصب
[ترمیم]قاضی مجاہد الاسلام قاسمی متعدد اداروں اور تنظیموں سے وابستہ رہے، جن میں قابلِ ذکر یہ ہیں:
| منصب | تنظیم | مقام | از | تا |
|---|---|---|---|---|
| صدر | آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ | بھارت | ||
| صدر و بانی | آل انڈیا ملی کونسل | بھارت | ||
| صدر | اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) | بھارت | ||
| قاضی القضاۃ | امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ | پٹنہ | ||
| رکن | انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی (مکہ مکرمہ) | مکہ مکرمہ | ||
| رکن | المجمع العلمی العالمی | |||
| صدر | وفاق المدارس الاسلامیہ بہار | بہار | ||
| صدر | مولانا سجاد اسپتال، امارت شرعیہ | پٹنہ | ||
| صدر | مولانا منت اللہ رحمانی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ | پٹنہ | ||
| سرپرست | مختلف تعلیمی و فلاحی ادارے | بھارت |
وفات
[ترمیم]ان کا انتقال 4 اپریل 2002ء (21 محرم 1423ھ) کو دہلی کے اپولو اسپتال میں ہوا۔ ان کی نماز جنازہ 5 اپریل 2002ء کو جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں ادا کی گئی، جس کے بعد تدفین بہار کے دربھنگہ ضلع کے مہدودلی میں ان کے ذاتی مکان کے احاطے میں عمل میں آئی۔ [3] [16] [1]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ ت قمر اعظم صدیقی۔ "قاضی مجاہد الاسلام قاسمی : ایک بے مثال شخصیت"۔ مضامین ڈاٹ کام۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-06-24
- ↑ محمد کلیم (2017)۔ علم حدیث میں فضلاء دار العلوم دیوبند کی خدمات (مقالہ برائے پی ایچ ڈی)۔ ص 258
- ^ ا ب پ ت ٹ عبد الرحمن چمپارنی (26 اپریل 2020)۔ "قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی کے سوانحی نقوش اور خدمات"۔ بصیرت آن لائن۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-06-24
- ↑ ابوالکلام قاسمی قاسمی (2002)۔ تذکرہ علمائے بہار (دوم ایڈیشن)۔ پٹنہ: مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ۔ ص 230
- ↑ قاسمی 2023, p. 14
- ↑ قاسمی 2023, p. 16
- ↑ قاسمی قاسمی 2002, p. 32
- ↑ کلیم 2017, p. 259
- ↑ قاسمی 2023, p. 21
- ↑ مولانا اسرار الحق قاسمی، مدیر (مئی تا اگست 2002ء)۔ "قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نمبر"۔ ماہنامہ ملی اتحاد۔ نئی دہلی۔ ج 5 شمارہ 26–43: 6
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(معاونت) - ↑ قاسمی 2023, p. 17
- ↑ قاسمی 2023, p. 18
- ↑ "مجاہد الاسلام قاسمی — ریختہ"۔ ریختہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-06-24
- ↑ قاسمی 2023, p. 20
- ↑ قاسمی 2023, p. 72
- ↑ اختر امام عادل قاسمی (2023)۔ تذکرہ فقیہ العصر (حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی)۔ بہار، بھارت: دائرۃ المعارف الربانیہ، سمستی پور بہار۔ ص 8