قاضی میاں محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قاضی میاں محمد سبھرالوی سیال شریف کے روحانی پیشوا خواجہ شمس الدین سیالوی کے خلیفہ خاص تھے۔

قاضی میاں محمد سبھرالوی
ذاتی
پیدائش(1230ھ بمطابق 1815ء)
سبھرال شریف خوشاب
وفات(بدھ 25 رمضان المبارک 1329ھ بمطابق 19 ستمبر 1911ء)
سبھرال شریف خوشاب
مذہباسلام
والدین
  • قاضی میاں غلام حسین (والد)
سلسلہچشتیہ
مرتبہ
مقامسبھرال شریف خوشاب
دورانیسویں بیسویں صدی
پیشروشمس الدین سیالوی
جانشینقاضی عبد الرحمن

ولاد ت[ترمیم]

قاضی میاں محمد سبھرالوی کی ولادت 1230ھ بمطابق 1815ء کو قاضی میاں غلام حسین کے گھر ہوئی۔ آپ کے والد ماجد عالم و فاضل بزرگ تھے۔

تعلیم[ترمیم]

قاضی میاں محمد سبھرالوی نے تعلیم کے لیے بہت مشکلات برداشت کیں۔ والد ماجد جو خرچ بھیجتے تھے وہ استاد صاحب کو دیے دیتے کتابوں کے لیے اور خود مشکل سے گزارا کرتے۔ آپ نے کھائی ضلع جہلم، اخلاص، گروٹ، میکی ڈھوک اور مکھڈ شریف ضلع اٹک سے منطق و کلام ، فقہ و فلسفہ اور قرآن و حدیث کی تعلم حاصل کی۔

اساتذہ[ترمیم]

قاضی میاں محمد سبھرالوی کے اساتذہ کرام میں درج ذیل بزرگ ہستیاں شامل تھیں۔

  1. مولانا نور احمد ساکن کھائی تحصیل و ضلع جہلم
  2. مولانا نور محمد کھیڑا ساکن گروٹ ضلع خوشاب
  3. مولانا محمد افضل ساکن میکی ڈھوک ضلع اٹک
  4. مولانا محمد علی مکھڈوی ساکن مکھڈ شریف ضلع اٹک
  5. مولانا حسن دین ساکن اخلاص ضلع اٹک

بیعت و خلافت[ترمیم]

قاضی میاں محمد سبھرالوی تعلیم مکمل کر کے واپس سبھرال آئے۔ سبھرال سے تلاش مرشد کے لیے سیال شریف چلے گئے۔ خواجہ شمس الدین سیالوی کے دست حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ سلوک کی منازل اپنے مرشد کامل کی راہنمائی میں طے کی۔ خواجہ سیالوی نے آپ کو خرقہ خلافت عطا کیا۔

شیخ سے محبت[ترمیم]

قاضی میاں محمد سبھرالوی کو اپنے شیخ سے ازحد قلبی تعلق اور لگاؤ تھا۔ آپ کے وصال شریف کے بعد ثانی لاثانی خواجہ محمد الدین سیالوی کے عہد مبارک میں مختلف اعراس میں شمولیت کے علاوہ بھی سیال شریف حاضری معمول رہا۔ سیال شریف کے فیوض و برکات سے دامن بھرتے رہے حتی کہ حضرت مجاہد اعظم خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی کا دو سالہ دور بھی نصیب ہوا اور یہی سلسلہ جاری رہا۔

درس وتدریس[ترمیم]

قاضی میاں محمد کو خلافت عطا ہونے کے بعد رشد و ہدایت کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنے شیخ کی اتباع میں ایک مدرسہ کی بنا ڈالی۔ دور دور سے شائقین علم حاضر ہوتے اور سیراب ہوکر واپس جاتے۔ تمام عمر شریعت و طریقت کا درس جاری رکھا۔

تلامذہ[ترمیم]

قاضی میاں محمد سبھرالوی سے علمی فیض حاصل کرنے والوں کی تعداد کافی ہے۔ ان میں سے چند افراد کے نام درج ذیل ہیں۔

  1. مولانا غلام فرید ساکن سرکی شریف ضلع خوشاب
  2. مولانا سراج الدین ساکن سرکی شریف ضلع خوشاب
  3. مولانا محمد لطیف ساکن سرکی شریف ضلع خوشاب
  4. قاضی غلام مصطفی ساکن سبهرال ضلع خوشاب
  5. مولانا میاں کمال دین ساکن سبهرال ضلع خوشاب
  6. مولانا غلام محمد ساکن مردوال ضلع خوشاب
  7. مولانا نور محمد ساکن مردوال ضلع خوشاب
  8. قاضی کلیم اللہ سکن کفری ضلع خوشاب
  9. مولانا عبد الحکیم ساکن کفری ضلع خوشاب
  10. قاضی منظور الحق ساکن نوشہرہ ضلع خوشاب
  11. قاضی فضیل احمد ساکن نوشہرہ ضلع خوشاب
  12. مولانا محمد عارف ساکن نوشہرہ ضلع خوشاب
  13. پیر ولایت حسین شاہ ساکن نوشہرہ ضلع خوشاب
  14. قاضی فیض احمد ساکن نوشہرہ ضلع خوشاب
  15. مولانا محمد حیات سکن سوہدی ضلع خوشاب
  16. مولانا حافظ غلام رسول ساکن سوہدی ضلع خوشاب
  17. مولانا قمر الدین ساکن چکرالی ضلع خوشاب

معمولات زندگی[ترمیم]

قاضی میاں محمد سحری کے وقت بیدار ہو کر نماز تہجد سے نماز اشراق تک قرآن پاک ‘نوافل، مرقع شريف اور دلائل الخیرات کے وظائف میں مشغول رہتے۔ بعد ازاں طلبہ کے اسباق کا سلسلہ شروع ہوتا جو سارا دن جاری رہتا۔ نماز ظہر کے بعد ختم خواجگان دلائل الخیرات شریف اور مرقع شریف پڑھتے۔ بعد از فراغت حاضرین کو تبلیغ حق کرتے اور ان کی حاجات سن کر دعائے خیر فرماتے۔ بعد از نماز عشاء مطالعہ کتب اور نوافل میں مشغول ہو جاتے اور یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا۔ جمعہ المبارک کو قرآن و حدیث کا درس دیتے تھے۔ دوران تعلیم اوقات فرصت میں مختلف کتب کی کتابت اور حواشی لکھنے میں مصروف رہتے تھے۔

رسوم بد سے نفرت[ترمیم]

قاضی میاں محمد سبھرالوی بری رسوم کے سخت مخالف تھے۔ آپ ان کے ازالہ کے لیے ہر ممکن کوشش فرماتے تھے۔

  1. ایک مرتبہ سبهرال میں کسی شخص نے شادی کے موقع پر ایک رقاصہ کے رقص کا بندوبست کیا۔ آپ کو معلوم ہوا تو لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ ایسا ناممکن ہے کہ سبهرال میں قاضی میاں محمد بھی ہو اور رقاصہ بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرے۔ ایک بات ہوگی میں چلا جاؤں گا یا وہ نہیں آئے گی۔ اس صورت حال میں صبح ان لوگوں نے اچانک رقاصہ کا پروگرام ملتوی کر دیا۔
  2. ایک مرتبہ سبهر ال کے دو گروپوں میں لڑائی شروع ہوئی اور دونوں گروه نالہ میں موجود تھے اور ایک دوسرے پر پتھر برسا رہے تھے۔ آپ کو علم ہوا تو چلتے ہوئے دونوں کے درمیان کھڑے ہو گئے اور دونوں طرف سے پتھروں کو پکڑ کر نیچے گرا دیتے۔ جب دونوں گروپوں کو علم ہوا تو سخت نادم و شرمسار ہوئے۔

وصال[ترمیم]

قاضی میاں محمد سبھرالوی کا وصال 25 رمضان المبارک 1329ھ بمطابق 19 ستمبر 1911ء بروز بدھ ہوا۔ قاضی غلام مصطفی سبھرالوی اور میاں محمد شریف نے تجہیز و تکفین کی۔ آپ کی نماز جنازہ مولانا میاں محمد شریف سرکی شریف نے پڑھائی۔ آپ کی تدفین سبھرال شریف ضلع خوشاب میں کی گئی۔ آپ کا عرس ہر سال بڑے اہتمام سے انعقاد پزیر ہوتا ہے۔ قاضی غلام مصطفی سبھرالوی نے قطعہ تاریخ وفات رقم کیا۔

قطعہ تاریخ وفات

بست و پنجم ماہ رمضان در سحر یک ہزار و سہ صدی ہجری شمر
ہم براں بست و نہم ایزد بود کز پئے رخت سفر بستہ کمر


اولاد[ترمیم]

قاضی میاں محمد سبھرالوی کے دو بیٹے تھے۔

  1. قاضی عبد الرحمن (سجادہ نشین)
  2. قاضی عبد الرؤف [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فوز المقال فی خلفائے پیر سیال جلد اول مولف حاجی محمد مرید احمد چشتی صفحہ 380 تا 386