قانون لینز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لینز کا قانون Heinrich Lenz نے 1834 میں بنایا تھا۔ اس کے مطابق برقی مقناطیسی امالے electromagnetic induction کی وجہ سے بننے والی امالی برقی رو induced current کی سمت ہمیشہ ایسی ہوتی ہے کہ اسے پیدا کرنے والی حرکت یا تبدیلی کی مخالفت ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک برقی جنیریٹر ایک دفعہ اسٹارٹ کرنے کے بعد بغیر ایندھن خرچ کیے ہمیشہ ہمیشہ بجلی مہیا کرتا رہتا جو ناممکن بھی ہے اور قانون بقائے توانائی کے خلاف بھی ہے۔

اگر ایک طاقتور مقناطیسی میدان میں ایک دھاتی سکہ گرایا جائے تو اس کے گرنے کی رفتار ہلکی ہو جاتی ہے کیونکہ مقناطیسی میدان میں حرکت کرتے ہوئے سکہ میں پیدا ہونے والی برقی رو لینز کے قانون کے مطابق حرکت کی مخالفت کرتی ہے(اور سکہ گرم بھی ہو جاتا ہے) دیکھیے * آہستہ نیچے گرنا.
اسی طرح اگر ایک مقناطیس کو کسی تانبے پیتل یا ایلومینیم کی عمودی کھڑی نلکی کے اندر گرایا جائے تو وہ بہت آہستہ نیچے گرتا ہے دیکھیئے یوٹیوب پر

مزید دیکھیے[ترمیم]