قبر اور خخبر (ناول)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قبر اور خخبر
مصنف ابن صفی
اصل عنوان قبر اور خخبر
ملک پاکستان
زبان اردو
سلسلہ عمران سیریز
صنف ناول، (جاسوسی ادب)
تاریخ اشاعت
1956ء
طرز طباعت کارڈ کور

قبر اور خخبر ابن صفى کی عمران سيريز کا تیرھواں ناول ہے۔

خلاصہ[ترمیم]

جب سر سلطان کے قریبی دوست کرنل جوزف کا قتل ہو جاتا ہے تو سر سلطان عمران کو طلب کرتے ہیں۔ کرنل جوزف کے جسم میں ایک خنجر پیوست ہوتا ہے جو کبھی ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کی ایک رقاصہ ممی بیڈ فرڈ کا ہوا کرتا تھا۔

عمران تفتیش شروع کرتا ہے اور کیپٹن فیاض کا پیچھا کرتے کرتے ٹپ ٹاپ نائٹ کلب پہنچ جاتا ہے۔ یہاں پر اسے سونیا کا پتا چلتا ہے جو سونیاز کارنر کی مالکا ہوتی ہے اور کسی زمانے میں ممی بیڈ فرڈ کی قریبی دوست بھی رہ چکی ہوتی ہے۔

عمران ممی کی قبر پر جاتا ہے مگر کچھ خاص معلوم نہیں کر سکتا۔ وہ سونياز کارنر جاتا ہے اور سونيا سے ملتا ہے۔ وہ اسے ان چھ آدميوں کے متعلق بتاتی ہے جنھوں نے پندرہ سال قبل ممي بيڈ فورڈ کو زنا بالجبر کا نشانہ بنانے کے بعد اسے قتل کرکے اس کی لاش کو پھينک ديا تھا۔

ابھی عمران سونيا سے باتيں کر ہی رہا ہوتا ہے کہ پارکر نامی ايک آدمی کمرے میں آتا ہے اور عمران سے لڑ پڑتا ہے۔ عمران اس کا اور سونيا دونوں کا مار مار کر بھرکس نکال ديتا ہے اور ان دونوں کو بيھوش حالت ميں چھوڑ کر چلتا بنتا ہے۔

جوليانا فٹزواٹر رابطہ قام کرکے ايکس ٹو يعنی عمران کو کرنل جوزف کے گھر ميں دريافت ہونے والے ايک خفيہ کمرے کے بارے ميں بتاتی ہے جہاں پر يوں لگتا ہے جيسے کسی کی زبردست جھڑپ ہوئی ہو۔

اتنے میں عمران کو فیاض سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پتا لگتا ہے جو ممی کی قبر پر دیکھا گیا ہے۔ عمران اس کو آمادہ کرتا ہے کے وہ اخبار میں اس کا حلیا چھپوا دے۔

رات کو جب عمران جوزف لاج تفتیش کررھا ہوتا ہے تو اسے ایک میز کے خفیا خانے سے انتہائی نازک نوئیت کی حکومتی دستاویزات ملتی ہیں۔ عمران اپنے باس سر سلطان کو ان دستاويزات کے بارے میں فون پر بتاتا ہے اور وہ اسے فورا طلب کرتے ہیں۔ عمران سر سلطان سے اگلواتا ہے کے کس طرح انھوں نے ایک نوجوان حسینا کے عشق میں مبتلا ھو کر ان دستاویزات کو کھویا اور وہ کتنا شرمندہ ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کے اس لڑکی کا نام گلوریا کارٹر ہے۔

اب عمران کو گلوریا کی تلاش ھوتی ہے کیونکے کاغزات میں سے دہ کلاز غائیب ھوتے ہیں جنھیں ڈھوندھنا سخت ضروری ہوتا ہے۔ اخرکار عمران گلوریا سے مل بیٹھتا ہے اور خوب اس کا ناک میں دم کرتا ہے۔

انسپکٹر پرویز ایک مشتبا آدمی کا تعاقب کرتے کرتے ایک ہوٹل پہنچتا ہے جہاں پر دو آدمی اسے دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔

جولیا ایکسٹو کو بتاتی ہے کے پارکر گلوریا کے ساتھ دیکھا گیا ہے اور اس نے آدھا گھنٹا اس کے گھر کے اندر گزارا ہے۔ کیپٹن جعفری بتاتا ہے کے کارٹر گلوریا کے گھر سے نکلنے کے بعد سیدھا سونیاز کارنر گیا تھا اور وہ وہیں رہتا بھی ہے۔ جوليا ايکسٹو کو بتاتي ہے کے پارکر اور گلوريا کا منٹو پارک کے اندر جھگڑا ہو گيا ہے۔ اتنے ميں کيپٹن جعفري کا فون اتا ہے اور وہ خبر ديتا ہے کے پارکر کا پيچھا کرتے کرتے وہ چيري بلاسم کلب گيا تھا جہاں اس نے پارکر کو گلوريا کے قتل کا منصوبا بناتے ہوہے سنا ہے۔

عمران چھ بجے چيري بلاسم پہنچ جاتا ہے اور گلوريا کو اس کے قتل کے منصوبے کا بتا کر اس کا اعتماد حاصل کرنے کي کوشش کرتا ہے۔ گلوريا بڑي چالاکي سے شراب پينے کي اداکاري کرتي ہے اور تھوڑي سي شراب چپکے سے اپنے بٹوے ميں رکھ کر عمران کے ساتھ اپنے گھر اجاتي ہے۔ جب وہ اپني بلی کو وہي شراب پلاتي ہے تو بلی تڑپ تڑپ کر مر جاتي ہے۔ گلوريا ششدر رہ جاتي ہے اور اب اسے عمران پر يقين ا ہي جاتا ہے۔

عمران کے ضور دينے پر وہ آخرکار خفيا دستاويزات کے بقيا دو کلاز بھي عمران کے حوالے کر ديتي ہے۔ گلوريا سے مزيد معلوم ہوتا ہے کے کرنل جوزف اور پارکر اصل ميں اکٹھے کام کر رہے تھے اور پارکر نے انہيں تشدد کے دوران میں غلطي سے جان سے مار ديا تھا جب کے وہ صرف ان سے وہ خفيا دستاويزات ہتھيانا چاہتا تھا جو عمران نے کرنل جوزف کے گھر ميں اتفاقا ڈھونڈھ نکالي تھيں۔ کرنل جوزف ان چھ آدميوں ميں سے ايک تھا جنھون نے ممي بيڈفورڈ کے ساتھ زيادتي کي تھي۔ پارکر نے موقعے کا فايدہ اٹھانے کا سوچا اور ان کے مردہ جسم ميں ممي بيڈفورڈ کا چاقو اس ليے گھونپ ڈالا تاکے وہ بقيا پانچ آدميوں کوخوفزدہر کر سکے اور وہ اسے رقوم ادا کرتے رہيں۔

پارکر کو سونیاز کارنر پر گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اور آخر ميں عمران گلوريا کو سر سلطان کے پاس لے جاتا ہے اور وہ ان سے ان کو دھوکا دينے کي معافي مانگتی ہے۔ اس طرح عمران سر سلطان کو بدنامي سے بچا ليتا ہے اور ملک کو لاحق خطرہ بھی ٹل جاتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]