قبضہ گروہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(قبضہ گروپ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

قبضہ گروپ ایسے اشخاص یا ٹولے کو کہا جاتا ہے، جو زبردستی یا غیر قانونی طور پر یا قابل اعتراض ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے، کسی وسیلے (عام طور پر زمین کے کسی ٹکرے) پر قبضہ کر لیں۔ زمین ہتھیانے کی اس غنڈہ گردی کے لیے انگریزی سے ماخوز "لینڈ مافیا" (Land mafia) کی اصطلاح بھی مروج ہے۔ عام طور پر قبضہ کا نشانہ سرکاری اراضی بنتی ہے، جیسا کہ پارک، سبز فضاء (green spaces)، ریلوے کی ملکیتی زمین، وغیرہ۔ اس کے علاوہ یتیموں، بیؤاں کی زراعتی اور رہائشی زمین پر قبضہ بھی سننے میں آتا رہا ہے۔ اکثر یہ کسی سطح پر سرکاری اہلکار یا سیاسی رہنماء کی ملی بھگت سے کیا جاتا ہے۔ حالات اتنے سنگین ہو چکے ہیں کہ وزیر اعظم شوکت عزیز نے 2005ء میں اس کے خلاف نئی قانون سازی کرنے کی "نوید" سنائی۔[1] آصف علی زرداری کی صدارت کے دوران قبضہ گروہ اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ مبصرین کے مطابق ان گروہوں نے دہشت گرد تنظیموں کی خدمات حاصل کر لیں۔[2]

قبضہ گروہ کی کچھ اقسام[ترمیم]

  • قبضہ گروہ عام طور پر بااثر افراد ہوتے ہیں جو اپنے پالتو غنڈوں کی مدد سے قبضہ قائم رکھتے ہیں۔
  • مگر اس کے عالاوہ کچھ لسانی یا مذہبی گروہ بھی کسی سرکاری زمین پر جھونپڑیاں بنا کر رہائش اختیار کر لیتے ہیں۔ کئی برس گزرنے کے بعد، بر سر اقتدار سیاست دان ان لوگوں کو سیاسی فائدہ کے لیے زمین کی قانونی ملکیت دے دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کا لاہور کی کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دینا تھا (لگ بھگ 1987ء)۔ (حوالہ چاہیے) اسی طرح پنجاب کے وزیر اعلی چودھری پرویز الہی کا 2008ء کے انتخابات سے پہلے کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دینے کا اعلان۔[3]
  • "مذہبی راہنما" جو مدرسہ بنانے کی آڑ میں سرکاری زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں یا بر سر اقتدار نااہل حکمرانوں سے "آلاٹ" کروا لیتے ہیں۔ اس کی مثال پنجاب کے سابق وزیر اعلی نواز شریف کی لاہور میں ایک خود ساختہ مذہبی راہنما کو وسیع عراضی کی "الاٹمنٹ" ہے۔
  • پراپرٹی ڈیلر جو کسی زمین پر قبضہ کر کے پلاٹ لوگوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری کے زیر سایہ کچھ پراپرٹی ڈیلر نے اسلام آباد کے نواح میں ہزاروں ایکڑ زمیں ہتھیائی (لگ بھگ 1993-1996ء)۔ (حوالہ چاہیے)
  • برطانوی راج کے وقت سے لینڈ مافیا کا ایک ہتکھنڈہ فرقہ وارانہ فسادات[4] کرا کے مطلوبہ جگہ پر عمارتوں کو جلا کر خاکستر کرنا اور آبادی کا انخلاء کرانا ہے، جس کے بعد اراضی پر سستے داموں قبضہ کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔

مثالیں[ترمیم]

مختلف علاقوں میں قبضہ گروہ کی وارداتوں کی چند مثالیں:

کراچی[ترمیم]

  • مہران ٹاؤن کورنگی انڈسٹریل ایریا میں سمندر پار پاکستانیوں کی رہائشی اسکیم کی 1100 ایکڑ اراضی پر حکومتی اتحادی جماعتوں متحدہ، پی پی پختون وغیرہ کی آلہ کار لینڈ مافیا کا قبضہ [5]
  • لیاری علاقہ میں 1000 ایکڑ اراضی پر مختلف قبضہ گروہوں کی واردات [6]
  • فوج سے تعلق رکھنے والا ادارہ NLC ریلوے کی ڈھائی ایکر زمین ہتھیا کر ایسی بلند عمارت تعمیر کرنے کی کوشش میں ہے جو عمارتی تعمیر کے قواعد کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ اس ناجائز دھندے میں سندھ کے بدنام وزیر اعلٰی ارباب رحیم کی ملی بھگت شامل ہے۔[7]
  • 2008-2009ء میں کراچی پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی حکومت کے دوران شہر کے متعدد باغیچوں اور سبز فضاءوں پر حکومتی ملی بھگت سے قبضہ "لینڈمافیا" کو دینے کا عمل جاری رہا[8][9]
  • 2011 تہدّفی قتل پر پاسبان کا بیان کہ اس میں اراضی مافیا کا ہاتھ ہے[10]
  • معروف سماجی خدمت کار پروین رحمان جو اراضی کے تحفظ کی کوشش میں کرفرما تھی کو قبضہ گروہ کے ارکان نے دھمکیاں دینے کے بعد 13 مارچ 2013ء کو قتل کر دیا۔[11]

اسلام آباد[ترمیم]

  • جامعہ حفصہ اسلام آباد اور لال مسجد والوں نے ملحقہ سرکاری زمین پر قبضہ کر کے مدرسہ جامعہ حفصہ میں شامل کی۔ یہ زمین نیشنل بک فاؤنڈیشن کی ملکیت تھی۔ (یاد رہے کہ مدرسہ کے لیے CDA نے 7 مرلہ پلاٹ منتقص کیا تھا۔) جولائی 2007ء میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر فوجی کارروائی کے بعد یہ مدرسہ خالی ہو گیا، جس کے بعد اسے مسمار کر کے زمین واپس سرکار کے حوالے کر دی گئی ہے۔
  • اسلام آباد کے نواح میں اربوں روپے مالیت کی 500 ایکڑ اراضی کوڑیوں کے مول فوجی اور سرکاری افسروں کو "سبزیاں اُگانے اور مرغیاں پالنے" کے مقصد کے تحت دی۔ یہ اراضی اب عالیشان محلات اور عیاش کدوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں میں پرویز مشرف اور شوکت عزیز شامل ہیں۔ یہ حقائق عدالت عظمٰی میں پیش کیے گئے۔[12]

راولپنڈی[ترمیم]

  • راولپنڈی کے علاقے خیابان سرسید کے اکلوتے پبلک پارک پر ایک مذہبی راہنما نے قبضہ کر کے اپنا مدرسہ تعمیر کیا (لگ بھگ ء1993)۔ (حوالہ چاہیے)
  • راولپنڈی کے نواح میں ایک رہائشی سکیم بنام "بحریہ ٹاؤن" کی تعمیر کی گئی۔ اس کے لیے پاکستان کی بحریہ اور اس کے سربراہ کا نام استعمال کیا گیا۔ اس میں اوچھے ہتھکنڈوں سے زمین حاصل کی گئی۔ اس کے علاوہ "مشتملات" پر مبنی زمین بلاقیمت حاصل کی گئی۔ یہ ایسی زمیں ہوتی ہے جو پرانے گاؤں کے درمیان ہوتی تھی اور سرکاری ملکیت سمجھی جاتی ہے۔ بحریہ کے دبدبے پر یہ ساری بدمعاشی ہؤئی۔ بعد میں بحریہ کے سربراہ نے اس سکیم سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ [13] اکتوبر 2009ء میں عدالت اعظمی نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف زبردستی زمینیں ہتھیانے کے پیش نظر عدالتی تحقیقات کا حکم دیا۔[14]
  • اخبار کے مطابق بریگیڈئیر ٹیپو سلطان نے راولپنڈی میں پارک پر قبضہ کیا [15]
  • راجا بازار میں جلنے والا تعلیم القران مدرسہ کی عمارت کا ایک حصہ متروکہ املاک وقف تختہ کی ملکیت زمین پر کی گئی۔[16]

لاہور[ترمیم]

مری[ترمیم]

  • محکمہ جنگلات، پنجاب، کے مطابق پاکستانی فوج نے مری کے علاقہ بھوربن میں 53 ایکڑ جنگلات کی زمین پر ناجائز قبضہ کر لیا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔[17]

ناکام قبضہ گروہ کوششیں[ترمیم]

  • 1980ء کی دہائی میں جامعہ پنجاب لاہور کے ناخداؤں نے یہ تجویز دی کہ جامعہ کے " اولڈ کیمپس" (old campus) جو شہر کے وسطی اور انتہائی قیمتی علاقہ میں ہے، میں تجارتی پلازے بنا کر کرائے پر دے دیے جائیں، جس سے جامعہ کے انتظامی اور تدریسی اخراجات میں مدد ہو گی۔ تاہم حکومت پنجاب کے حاضر دماغ اہلکاروں نے یہ تجویز یہ اعتراض لگا کر واپس کر دی کہ "جامعہ کو اراضی حکومت پنجاب کی طرف سے جامعاتی مقاصد کے لیے دی گئی تھی۔ اگر جامعہ کو تدریسی مقاصد کے لیے "اولڈ کیمپس" کی ضرورت نہیں رہی، تو وہ یہ جگہ حکومت پنجاب کو واپس کر دے۔" اس طرح یہ قبضہ کوشش ناکام ہو گئی۔ (حوالہ چاہیے)
  • پاکستان کے چیف جسٹس جناب افتخار چودھری کی سربراہی میں مَحکمہ نے گوادر (بلوچستان) میں 241,600 ایکڑ رہائشی پلاٹ اور اراضی جو فوج، عدلیہ اور سیاسی بڑوں کے درمیان بانٹے جا رہے تھے، پر تاریخی فیصلہ میں ان کی "الاٹمنٹ" کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا ۔[18] پرویز مشرف نے نو مارچ کو چیف جسٹس جناب افتخار چودھری کو معطل کر کے مختلف الزام لگا دیے۔ ابھی تک واضح نہیں کہ آیا عدالت کے فیصلے پر عمل ہوا ہے یا نہیں۔[19]

بین الاقوامی قبضہ گروپ کی مثالیں[ترمیم]

قبضہ گروپ کی ایک اور قسم بین الاقوامی قبضہ گروپ کی ہے۔ مثلاً

  • سفید فام لوگوں کا براعظم امریکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ وغیرہ پر قبضہ کرنا
  • اسرائیل کا فلسطینی زمین پر قبضہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. روزنامہ نیشن، 28 جون 2005 http://www.nation.com.pk/daily/june-2005/28/index1.php
  2. شیخ رشید احمد، http://www.youtube.com/watch?v=0-U4OJcQ9XM
  3. روزنامہ نیشن، 22 اکتوبر 2007ء، "Pervaiz vows to foil BB's plans"
  4. قدرت اللہ شہاب، "شہاب نامہ"
  5. روزنامہ جنگ 2 جولائی 2006 http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=335001
  6. روزنامہ ڈان 2 جولائی 2006 http://www.dawn.com/weekly/cowas/20060702.htm
  7. روزنامہ ڈان، 22 جولائی 2007ء، کاواسجی کا کالم، "Shoot the messenger"
  8. روزنامہ ڈان، 15 نومبر 2009ء، کاواساجی کا کالم، "": اقتباس:"“Nisar Baloch understandably became a thorn in the side of the land-grabbing mafia, reportedly backed by influential ethnic and political parties of the city. Ironically, he had addressed a press conference only a day before he was murdered where he highlighted the issue in detail and pinpointed (perhaps fatally) the forces lending administrative and political support to the illegal occupation of the land of Gutter Baghicha."
  9. اج كراچی كا سب سے بڑا ليند مافيا گروپ MQM ہے جس نے كراچی ميں كتنے هى پاركس كو قبضہ كركے وہان فليٹ اور اپنے يونٹ آفس بنا ديے ہیں۔
  10. "Land Mafia involved in Katti Pahari violence: IG Sindh"۔ دی نیشن۔ 23 جولائی 2011۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 جولا‎ئی 2011۔
  11. "Parveen Rehman: a fighter for the poor silenced"۔ ڈان۔ 14 مارچ 2013ء۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  12. روزنامہ جنگ، 10 اکتوبر 2007ء، "اسلام آباد:500 ایکڑ اراضی سول اور فوجی افسروں کو سستے داموں دی گئی"
  13. روزنامہ ڈان، 10 دسمبر 2004ءhttp://www.dawn.com/weekly/ayaz/20041210.htm
  14. pkpolitics
  15. روزنامہ نیشن، 3 مارچ 2005ءhttp://www.nation.com.pk/daily/mar-2005/3/nationalnews1.php
  16. "Raja Bazaar mosque, seminary were built on 'disputed' land"۔ ڈان۔ 27 دسمبر 2013ء۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  17. روزنامہ دی نیوز، 3جولائی 2007ء، Army accused of grabbing 53 acres of forest land in Murree
  18. روزنامہ نیشن 10 مارچ 2007ء، http://nation.com.pk/daily/mar-2007/10/index2.php
  19. روزنامہ ڈان، مدیر کے نام خط، "Land embezzlement in Gwadar"