قبیصہ بن ذویب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
قبیصہ بن ذویب
معلومات شخصیت

قبیصہ بن ذویبؒ تابعین میں سے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

قبیصہ نام،ابو اسحق کنیت،نسب نامہ یہ ہے،قبیصہ بن ذویب بن حلحلہ بن عمرو ابن کلیب بن حرام بن عبد اللہ بن قمیر بن جشیہ بن سلوں بن کعب بن عمرو خراعی۔

پیدائش[ترمیم]

فتح مکہ کے سال پیدا ہوئے، ایک روایت یہ بھی ہے کہ ہجرت کے سال ولادت ہوئی،لیکن پہلی روایت زیادہ مشہور ہے۔ [1]

عبد الملک کا عہد[ترمیم]

شروع میں مدینہ میں رہتے تھے، پھر شام میں سکونت اختیار کرلی تھی،عبد الملک کے زمانہ میں ان کو بڑا عروج حاصل ہوا،خاتم برداری اور بریددودوعہد ے ان سے متعلق تھے،ممالک محروسہ سے جو خطوط اورخبریں موصول ہوتی تھیں ان کو پڑھ کر عبد الملک کے سامنے پیش کرتے تھے۔ [2]

فضل وکمال[ترمیم]

قبیصہ مدتوں مدینہ میں رہے تھے،ان کے زمانہ میں وہاں صحابہ کی بڑی جماعت موجود تھی،اس کے فیض سے محروم نہ رہے،ان کا شمار علمائے تابعین میں ہے علامہ نووی لکھتے ہیں کہ ان کی توثیق اورعلمی جلالت پر سب کا اتفاق ہے [3] بڑے بڑے ہمعصر علما ان کے علمی کمالات کے معترف تھے،مکحول شامی کہتے تھے کہ میں نے قبیصہ سے بڑا جاننے والا نہیں دیکھا [4] ابن شہاب زہری کہتے تھے کہ وہ اس امت کے علما میں تھے۔ [5]

حدیث[ترمیم]

حدیث میں علامہ ابن سعد ثقۃ مامون اورکثیر الحدیث لکھتے ہیں۔ [6] حدیث میں انھوں نے بلالؓ ،عثمانؓ بن عفان، حذیفہ بن یمانؓ ،عبد الرحمن بن عوف زید بنؓ ثابت،عبادہ بن صامت،عمرو بن العاصؓ،محمد بن سلمہؓ،تمیم داریؓ ابودرداءؓ انصاری،مغیرہ بن شعبہؓ،ابوہریرہؓ،ام المومنین عائشہ صدیقہؓ اورام سلمہ وغیرہ سے استفادہ کیا تھا،ان سے استفادہ کرنے والوں میں،امام زہری،رجاء بن حیوٰۃ عبد اللہ بن ابی مریم،مکحول اورابوقلابہ جرمی وغیرہ لائق ذکر ہیں۔ [7]

فقہ[ترمیم]

فقہ میں بھی درک رکھتے تھے،ابن حبان لکھتے ہیں کہ وہ مدینہ کے فقہا اورصالحین میں تھے [8]ابو الزناد انھیں فقہا میں شمار کرتے تھے [9]زید بن ثابتؓ کے فیصلوں کے بڑے عالم تھے ،شعبی کابیان ہے کہ وہ زید بن ثابتؓ کے سب سے بڑے عالم تھے۔ [10]

وفات[ترمیم]

ابن سعد کے بیان کے مطابق 86 میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (تہذیب الاسماء:1/56)
  2. (ابن سعد:5/131)
  3. (تہذیب الاسماء:5/131)
  4. (ایضاً)
  5. (تہذیب التہذیب:8/346)
  6. (ابن سعد:5/131)
  7. (تہذیب:8346)
  8. (تہذیب:8/347)
  9. (تذکرۃ الحفاظ :1/52)
  10. (ابن سعد:5/131)