قبیلہ ازد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قبیلہ الازد کو الاسد اور الذعر بھی کہا گیا جس کی نسبت الأزد بن نبت بن مالك بن زيد بن كهلان کی طرف کی جاتی ہے[1] اسد یمن کے ایک قبیلہ کے مورث اعلی کا نام ہے اور یہ قبیلہ اسی کے نام سے مشہور ومتعارف ہوا، اسی قبیلہ کو " ازد " اور " ازد شنوہ " بھی کہا جاتا ہے تمام انصار مدینہ اسی قبیلہ سے نسلی تعلق رکھتے تھے
انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قبیلہ ازد کے لوگ روئے زمین پر اللہ کے ازد (یعنی اللہ کا شکر اور اس کے دین کے معاون ومددگار) ہیں لوگ اس قبیلہ کو ذلیل وخوار کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے برخلاف اس قبیلہ کے لوگوں کو عزت وبلندی عطا کرنا چاہتے ہیں یقینا لوگوں پر وہ زمانہ آنے والا ہے جب آدمی یہ کہتا نظر آئے گا کہ کاش میرا باپ ازدی ہوتا اور کاش میری ماں قبیلہ ازد سے ہوتی، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے۔
قبیلہ ازد کی نسبت اللہ کی طرف کرکے ان کو ازد اللہ کہنا یا تو ان کو لقب کے ساتھ کے ساتھ متعارف کرانا تھا یا اس اعتبار سے کہ اس قبیلہ کے لوگ اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کے معاون مددگار ہونے کی حیثیت سے اللہ کا لشکر تھے ان کے فضل وشرف کو ظاہر کرنے کے لیے ان کے قبیلے کی نسبت اللہ کی طرف کی اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ازد اللہ دراصل اسد اللہ (اللہ کے شیر) کے معنی میں استعمال ہوا ہے مطلب یہ کہ قبیلہ ازد کے لوگ معرکہ شجاعت ودلاوری کے شیر ثابت ہوتے ہیں۔ کاش میرا باپ ازدی ہوتا مطلب یہ ہے کہ ایک زمانہ میں اس قبیلہ کا مرتبہ ایسا وقیع ہوتا اور اس قبیلہ سے تعلق رکھنے والے لوگ اتنے باعزت وسربلندہوں گے کہ دوسرے قبائل کے لوگ ان پر رشک کریں گے اور اس آرزو کا اظہار کرتے نظر آئیں گے کہ کاش ہم بھی اس قبیلہ کے ہوتے [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قلائد الجمان فی التعريف بقبائل عرب الزمان مؤلف: أبو العباس أحمد بن علی القلقشندی ناشر: دار الكتاب المصری
  2. مظاہر حق شرح مشکوۃ شریف،نواب قطب الدین خاں دہلوی :جلد پنجم:حدیث نمبر 591