مندرجات کا رخ کریں

قدرت اللہ شہاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
قدرت اللہ شہاب
معلومات شخصیت
پیدائش 26 فروری 1917ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گلگت   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 24 جولا‎ئی 1986ء (69 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسلام آباد   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
پاکستان (14 اگست 1947–)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سفارت کار ،  آپ بیتی نگار   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت انڈین سول سروس   ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باب ادب

قدرت اللہ شہاب (26فروری1917ء-24جولائی1986ء)[1] ، پاکستان کے نامور اردو ادیب اور بیورو کریٹ تھے۔ ان کی پیدائش گلگت میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے ریاست جموں و کشمیر اور موضع چمکور صاحب ضلع انبالہ میں حاصل کی۔ جموں کے پرنس آف ویلز کالج سے بی۔ ایس۔ سی۔ کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم -اے انگلش کیا۔[2] 1941ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔[3] ابتدا میں شہاب صاحب نے بہار اور اڑیسہ میں خدمات سر انجام دیں۔[4] 1943ء میں بنگال میں متعین ہو گئے۔ آزادی کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل ہوئے۔ بعد ازاں پہلے گورنر جنرل پاکستان غلام محمد، پھر اسکندر مرزا اور بعد ازاں صدر ایوب خان کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔ پاکستان میں جنرل یحیی خان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد انھوں نے سول سروس سے استعفا دے دیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہو گئے۔ انھوں نے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کی شرانگیزیوں کا جائزہ لینے کے لیے ان علاقوں کا خفیہ دورہ کیا اور اسرائیل کی زیادتیوں کا پردہ چاک کیا۔ ان کی اس خدمت کی بدولت مقبوضہ عرب علاقوں میں یونیسکو کا منظور شدہ نصاب رائج ہو گیا جو ان کی فلسطینی مسلمانوں کے لیے ایک عظیم خدمت تھی۔ پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل انہی کی مساعی سے عمل میں آئی۔ صدر یحییٰ خان کے دور میں وہ ابتلا کا شکار بھی ہوئے اور یہ عرصہ انھوں نے انگلستان کے نواحی علاقوں میں گزارا۔ شہاب صاحب ایک بہت عمدہ نثر نگار اور ادیب بھی تھے۔ ان کی تصانیف میں یاخدا، نفسانے، ماں جی اور ان کی خود نوشتہ سوانح حیات “شہاب نامہ“ قابل ذکر ہیں۔[5]

تصانیف

[ترمیم]

قدرت اللہ شہاب نے درج ذیل کتابیں لکھیں۔[6]

  1. شہاب نامہ خودنوشت سوانح حیات[7][8]
  2. یاخدا
  3. نفسانے
  4. ماں جی
  5. سرخ فیتہ

وفات

[ترمیم]

قدرت اللہ شہاب نے 24 جولائی 1986ء کو اسلام آباد میں وفات پائی اور اسلام آباد کے سیکٹر H-8 کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[9][10][11]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. مشکور علی (24 جولائی 2024)۔ "قدرت اللہ شہاب کی چندراوتی"۔ WE News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-07-24
  2. "قدرت اللہ شہاب"۔ jang.com.pk۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-07-24
  3. "قدرت اللہ شہاب ۔۔۔۔جنہوں نے اہم سیاسی و تاریخی واقعات کو الفاظ کے کیمرے میں قید کیا". Daily Pakistan (بزبان انگریزی). 24 Jul 2023. Retrieved 2025-07-24.
  4. ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی (2 اگست 2020)۔ "کچھ ذکر قدرت اللہ شہاب کا"۔ ہم سب۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-07-24
  5. "قدرت اللہ شہاب اور شہاب نامہ"۔ Nawaiwaqt۔ 18 ستمبر 2022۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-07-24
  6. "قدرت اللہ شہاب کی کتابیں | ریختہ"۔ Rekhta۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-07-24
  7. "شہاب نامہ کے خالق قدرت اللہ شہاب کی 38 ویں برسی"۔ urdu.dunyanews.tv۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-07-24
  8. "شہاب نامہ ۔ قدرت اللہ شہاب | Urdu Nama : اردونامہ فورم: اردو خبریں، شاعری، ٹیکنالوجی، کھیل، صحت"۔ urdunama.org۔ 12 دسمبر 2011۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-07-24
  9. "Roznama Dunya: خصوصی ایڈیشن :- قدرت اللہ شہاب". Roznama Dunya: خصوصی ایڈیشن :- (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-07-24.
  10. "قدرت اللّٰہ شہاب…!"۔ jang.com.pk۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-07-24
  11. ویب ڈیسک (24 جولائی 2020)۔ "نام ور ادیب قدرت اللہ شہاب کی برسی"۔ ARYNews.tv | Urdu - Har Lamha Bakhabar۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-07-24