قدرت اللہ شہاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
قدرت اللہ شہاب
معلومات شخصیت
پیدائش 26 فروری 1917  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گلگت  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 24 جولا‎ئی 1986 (69 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسلام آباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سفارت کار،  آپ بیتی نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت انڈین سول سروس  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

قدرت اللہ شہاب (1986ء-1917ء) پاکستان کے نامور اردو ادیب اور بیورو کریٹ تھے۔ ان کی پیدائش گلگت میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ریاست جموں و کشمیر اور موضع چمکور صاحب ضلع انبالہ میں حاصل کی۔ جموں کے پرنس آف ویلز کالج سے بی۔ایس۔سی۔ کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم -اے انگلش کیا۔ 1941ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔ ابتدا میں شہاب صاحب نے بہار اور اڑیسہ میں خدمات سر انجام دیں۔ 1943ء میں بنگال میں متعین ہو گئے۔ آزادی کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل ہوئے۔ بعد ازاں پہلے گورنر جنرل پاکستان غلام محمد، پھر اسکندر مرزا اور بعد ازاں صدر ایوب خان کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔ پاکستان میں جنرل یحیی خان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے سول سروس سے استعفی دے دیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کی شرانگیزیوں کا جائزہ لینے کے لیے ان علاقوں کا خفیہ دورہ کیا اور اسرائیل کی زیادتیوں کا پردہ چاک کیا۔ ان کی اس خدمت کی بدولت مقبوضہ عرب علاقوں میں یونیسکو کا منظور شدہ نصاب رائج ہو گیا جو ان کی فلسطینی مسلمانوں کے لیے ایک عظیم خدمت تھی۔پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل انہی کی مساعی سے عمل میں آئی۔ صدر یحییٰ خان کے دور میں وہ ابتلا کا شکار بھی ہوئے اور یہ عرصہ انہوں نے انگلستان کے نواحی علاقوں میں گزارا۔ شہاب صاحب ایک بہت عمدہ نثر نگار اور ادیب بھی تھے۔ ان کی تصانیف میں یاخدا، نفسانے، ماں جی اور ان کی خود نوشتہ سوانح حیات “شہاب نامہ“ قابل ذکر ہیں۔ قدرت اللہ شہاب نے 24 جولائی 1986ء کو اسلام آباد میں وفات پائی اور اسلام آباد کے سیکٹر H-8 کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔He is a great and nice person in Pakistan history

شہاب نامہ سے اقتباس[ترمیم]

  • "آئی سی ایس نے لوٹ کھسوٹ میں جنم لیا۔ مار دھاڑ میں پروان چڑھی۔ سلطنت آرائی میں عروج پایا۔ اور برصغیر میں آزادی کے نزول کے ساتھ ہی دم توڑ دیا۔"
  • " 1940ء میں جب میں آئی سی ایس میں داخل ہوا تو میرا گروپ 30 افراد پر مشتمل تھا۔ ان میں سے 19 کا انتخاب لندن میں اور 11 کا دہلی میں ہوا تھا۔ گروپ میں 15 انگریز 12 ہندو اور 3 مسلمان تھے۔"
  • "قاہراہ پہنچ کر معلوم ہوا کہ مصر کی انقلابی حکومت نے حاجیوں کی آمد و رفت کے لیے نہایت اعلیٰ درجہ کے انتظامات کر رکھے ہیں۔ حاجیوں کو لے کر ہر روز دو ہوائی جہاز پرواز کرتے تھے۔ ہر تیسرے روز ایک سمندری جہاز بھی جدہ کے لیے روانہ ہوتا تھا۔ وزارت خارجہ کا جو افسر ان انتظامات کی دیکھ بھال پر مامور تھا۔ وہ میری درخواست دیکھ کر بڑا چیں بچیں ہوا۔
” آپ پاکستانی ہو کر انگریزی میں درخواست کیوں لکھتے ہیں؟“ اس نے میری جواب طلبی کی۔
میں نے معذرت کی کہ مجھے عربی نہیں آتی، اس لیے درخواست انگریزی میں لکھنا پڑی۔
” آپ کی اپنی زبان کیا ہے؟" افسر نے پوچھا۔
"اردو" میں نے جواب دیا۔
"پھر انگریز کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ ہے؟" افسر نے طنزیہ پوچھا۔
میرے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا کہ میں یہ تسلیم کروں کہ انگریزی کے ساتھ میرا فقط غلامی کا رشتہ ہے۔"[1]
  • جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے، وہاں پر پہلے میر پور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا۔ راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے۔ دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے۔ انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا۔ ”بیت المال کس طرف ہے؟" آزاد کشمیر میں سرکاری خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا تھا۔
میں نے پوچھا۔ ”بیت المال میں تمہارا کیا کام ہے ؟" بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا۔ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میر پور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں۔ اب انہیں اس کھوتی پہ لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں۔“ ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں۔ آج بھی جب وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا۔ مجھے تو چاہیے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھوں۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں؟
  • ایک روز ایک پرائمری سکول کا استاد رحمت الٰہی آیا۔ وہ چند ماہ کے بعد ملازمت سے ریٹائر ہونے والا تھا۔ اس کی تین جوان بیٹیاں تھیں۔ رہنے کے لیے اپنا گھر بھی نہیں تھا۔ پنشن نہایت معمولی ہو گی۔ اسے یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ ریٹائر ہونے کے بعد وہ کہاں رہے گا؟ لڑکیوں کی شادیاں کس طرح ہو سکیں گی؟ کھانے پینے کا خرچ کیے چلے گا؟ اس نے مجھے سرگوشی میں بتایا کہ پریشانی کے عالم میں وہ کئی ماہ سے تہجد کے بعد رو رو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریادیں کرتا رہا ہے۔ چند روز قبل اسے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ جس میں حضور نے فرمایا کہ تم جھنگ جا کر ڈپٹی کمشنر کو اپنی مشکل بتاؤ۔ اللہ تمہاری مدد کرے گا۔
پہلے تو مجھے شک ہوا کہ یہ شخص ایک جھوٹا خواب سنا کر مجھے جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میرے چہرے پر شک اور تذبذب کے آثار دیکھ کر رحمت الٰہی آبدیدہ ہو گیا اور بولا ”جناب میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ اگر جھوٹ بولتا تو اللہ کے نام پر بولتا۔ حضور رسول پاک کے نام پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہوں؟"
اس کی اس منطق پر میں نے حیرانی کا اظہار کیا تو اس نے فوراً کہا ” آپ نے سنا نہیں کہ باخدا دیوانہ و با مصطفیٰ ہشیار باش۔"
یہ سن کر میرا شک پوری طرح رفع تو نہ ہوا لیکن سوچا کہ اگر یہ شخص غلط بیانی سے بھی کام لے رہا ہے تو ایسی عظیم ہستی کے اسم مبارک کا سہارا لے رہا ہے جس کی لاج رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے رحمت الٰہی کو تین ہفتہ کے بعد دوبارہ میرے پاس آنے کے لیے کہا۔ اس دوران میں نے خفیہ طور پر اس کے ذاتی حالات کا کھوج لگایا اور یہ تصدیق ہو گئی کہ وہ اپنے علاقے میں نہایت سچا پاکیزہ اور پابند صوم و صلوٰۃ آدمی مشہور ہے اور اس کے گھریلو حالات بھی وہی تھے جو اس نے بیان کئے تھے۔
اس زمانے میں کچھ عرصہ کے لیے صوبائی حکومت نے ڈپٹی کمشنر کو یہ اختیار دے رکھا تھا کہ سرکاری بنجر زمین کے آٹھ مربعے تک ایسے خواہشمندوں کو طویل میعاد پر دیئے جا سکتے ہیں جو انہیں آباد کرنے کے لیے آمادہ ہوں۔ میں نے اپنے مال افسر کو بلا کر کہا کہ وہ کسی مناسب جگہ کراؤن لینڈ کے ایسے آٹھ مربعے تلاش کرے جنہیں جلد از جلد زیر کاشت لانے میں کوئی خاص دشواری پیش نہ آئے۔ غلام عباس مال افسر نے غالباً یہ سمجھا کہ شاید اراضی میں اپنے کسی عزیز کو دینا چاہتا ہوں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پکی سڑک کے قریب نیم آباد سی زمین ڈھونڈ نکالی اور رحمت الٰہی کے نام الاٹمنٹ کی ضروری کاروائی کر کے سارے کاغذات میرے حوالے کر دیئے۔
دوسری پیشی پر جب رحمت الٰہی حاضر ہوا تو میں نے یہ نذرانہ اس کی خدمت میں پیش کر کے اسے مال افسر کے حوالے کر دیا کہ قبضہ وغیرہ دلوانے اور باقی ضرریات پوری کرنے میں وہ اس کی پوری پوری مدد کرے۔
تقریباً نو برس بعد میں صدر ایوب کے ساتھ کراچی میں کام کر رہا تھا کہ ایوان صدر میں میرے نام ایک رجسٹرڈ خط موصول ہوا۔ یہ ماسٹر رحمت الٰہی کی جانب سے تھا کہ اس زمین پر محنت کر کے اس نے تینوں بیٹیوں کی شادی کر دی ہے اور وہ اپنے اپنے گھر میں خوش و خرم آباد ہیں۔ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ حج کا فریضہ بھی ادا کر لیا ہے اور اپنے گزارے اور رہائش کے لیے تھوڑی سی ذاتی زمین خریدنے کے علاوہ ایک کچا سا کوٹھا بھی تعمیر کر لیا ہے۔ اپنی خوشحالی میں اب اسے آٹھ مربعوں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ چنانچہ اس الاٹمنٹ کے مکمل کاغذات اس خط کے ساتھ واپس ارسال ہیں کہ کسی اور حاجت مند کی ضرورت پوری کی جا سکے۔
میں یہ خط پڑھ کر کچھ دیر تک سکتے میں آ گیا۔ میں اسی طرح گم سم بیٹھا تھا کہ صدر ایوب کوئی بات کرنے کے لیے میرے کمرے میں آ گئے۔ "کس سوچ میں گم ہو؟"
انہوں نے میری حالت بھانپ کر پوچھا۔ میں نے انہیں رحمت الٰہی کا سارا واقعہ سنایا تو وہ بھی نہایت حیران ہوئے۔ کچھ دیر خاموشی طاری رہی پھر وہ اچانک بولے۔ تم نے بڑا نیک کام سر انجام دیا ہے۔ میں نواب صاحب کو لاہور ٹیلیفون کر دیتا ہوں کہ وہ یہ اراضی اب تمہارے نام کر دیں۔“
میں نے نہایت لجاجت سے گزارش کی کہ میں اس انعام کا مستحق نہیں ہوں۔
یہ سن کر صدر ایوب حیرانی سے بولے ”تمہیں زرعی اراضی حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں؟“
”جی نہیں سر۔" میں نے التجا کی۔ "اخیر میں فقط دو گز زمین ہی کام آتی ہے۔ وہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح مل ہی جاتی ہے۔"
میرا اندازہ ہے کہ میری یہ بات سن کر صدر کچھ چِڑھ سے گئے۔ زمین حاصل کرنے کے وہ خود بڑے رسیا تھے۔
  • ایک روز ایک بڑے زمیندار صاحب ملاقات کے لیے آئے۔ خود تو بڑی حد تک ناخواندہ تھے لیکن تعلیم کے فضائل اور فوائد پر ایک طویل تقریر کرنے کے بعد بولے ”جناب آپ اس پس ماندہ ضلع کے لیے نیکی کا ایک اور کام بھی کرتے جائیں۔ فلاں گاؤں میں اگر ایک پرائمری سکول کھول دیا جائے تو اس علاقے پر یہ ایک احسان عظیم ہو گا۔ اگر آپ قبول فرمائیں تو بندہ سکول کے لیے زمین مفت، کمروں کی تعمیر کے لیے بیس ہزار روپے نقد اور ایک استاد کی ایک برس کی تنخواہ اپنی جیب سے ادا کرنے کے لیے حاضر ہے۔"
میں نے ان کی روشن خیالی اور فیاضی کی تعریف کر کے کہا ”نیکی اور پوچھ پوچھ ؟ آپ جب فرمائیں گے سکول کھولنے کا بندوبست ہو جائے گا۔ بلکہ میں تو یہ کوشش بھی کروں گا کہ اس سکول کا افتتاح کرنے کے لیے عزت ماب وزیر تعلیم کو بذات خود یہاں مدعو کیا جائے۔“
زمیندار صاحب خوش خوش میری جان و مال کو دعائیں دیتے ہوئے تشریف لے گئے۔
کوئی ایک ہفتہ بعد اسی علاقے کے ایک اور بڑے زمیندار ملنے آئے۔ چھوٹتے ہی انہوں نے روہانسا ہو کر گلہ شکوہ شروع کر دیا۔ جناب میں نے کیا قصور کیا ہے کہ مجھے اس قدر کڑی سزا دی جا رہی ہے ؟ بندہ بالکل بے گناہ ہے۔“
میں نے حیران ہو کر اس شکوے کی وضاحت طلب کی کہ ان کے ساتھ کیا ظلم ہو رہا ہے اور کون یہ ظلم کر رہا ہے ؟ انہوں نے گلو گیر آواز میں یہ تفصیل سنائی، پچھلے ہفتے سکول کے بارے میں جو شخص ملنے آیا تھا وہ یہ سکول اپنے گاؤں میں نہیں بلکہ میرے گاؤں میں کھلوا رہا ہے۔ ہمارے درمیان پشتوں سے خاندانی دشمنی چلی آ رہی ہے۔ پہلے ہم ایک دوسرے کے مویشی چرا لاتے تھے۔ کبھی ایک دوسرے کے مزارعوں کو قتل کروا دیتے تھے۔ کبھی ایک دوسرے کی فصلیں اجاڑ دیتے تھے۔ لیکن اب وہ کمینہ میرے گاؤں کی نسلیں برباد کرنے پر اتر آیا ہے۔ اس لیے آپ سے سکول کھولنے کا وعدہ لے کر گیا ہے۔"
فروغ تعلیم کے فضائل پر یہ نرالی منطق سن کر میں سکتے میں آ گیا۔ چند منٹ سوچنے کے بعد میں نے گزارش کی۔ ”آپ بھی اینٹ کا جواب پتھر سے کیوں نہیں دیتے؟ جو پیشکش انہوں نے کی ہے، اگر وہی بار آپ بھی اٹھا لیں۔ تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ان کے گاؤں میں بھی بہ یک وقت ویسا ہی سکول قائم کر دیا جائے گا۔"
یہ سن کر ان کی کسی قدر تشفی تو ہوئی، لیکن اس کے بعد دونوں میں سے کوئی بھی اپنی اپنی فیاضی کی پیشکش لے کر دوبارہ میرے پاس نہ آیا۔ کچھ عرصہ بعد میں نے یہ واقعہ جھنگ کے بیرسٹر یوسف صاحب کو سنایا تو وہ مسکرا کر بولے۔ حیران ہونے کی کوئی بات نہیں۔ تعلیم جیسی خطرناک وبا کو اپنے اپنے گاؤں سے دور رکھنے کے لیے دونوں نے اسے اپنا مشترکہ فرض سمجھ کر مک مکا کر لیا ہو گا۔ بڑی زمینداریوں اور جاگیروں میں ابھی تک تعلیم ہی کو سب سے بڑا اور تباہ کن دشمن سمجھا جاتا ہے۔"
  • نتھ نگر کے فسادات اور نئی فیکٹریاں
"نتھ نگر کے مسلمانوں کو اس قدر لب بستہ پا کر ایک رات میں بھاگلپور کے بیرسٹر نور الحسن کے ہاں چلا گیا، اور ان سے درخواست کی کہ اس معمہ کی عقدہ کشائی میں وہ میری رہنمائی فرمائیں۔ پہلے تو وہ بڑی دیر تک ٹال مٹول کرتے رہے لیکن میرے مسلسل اصرار پر انہوں نے مجھ سے حلف لیا کہ اگر نتھ نگر میں کبھی کوئی انکوائری ہوئی تو میں ہرگز ہرگز کسی کو یہ نہ بتاؤں گا کہ مجھے کوئی معلومات بیرسٹر نور الحسن سے بھی حاصل ہوئی تھیں۔ میں نے بڑی خوشی سے حلف اٹھا کر انہیں یقین دلایا کہ کسی جگہ کسی صورت میں ان کا نام کبھی نہ آئے گا۔
میری یقین دہانی سے مطمئن ہو کر بیرسٹر صاحب نے اپنی انگریز بیوی کو دوسرے کمرے میں بھیج دیا۔ ڈرائنگ روم کی کھڑکیاں اور دروازے بند کئے اور میرے کان کے پاس منہ لا کر ہلکی ہلکی سرگوشیوں میں بتایا کہ پچھلے پندرہ برس سے یہ رواج چل نکلا ہے کہ نتھ نگر میں جب کوئی نئی فیکٹری تعمیر ہونے لگتی ہے تو اس وقت وہاں پر ایک آدھ ہندو مسلم فساد ضرور ہوتا ہے۔ سیٹھ صاحبان ہندو کاشت کاروں سے فیکٹری کے لیے زمین کا سودا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ قیمتیں بڑھانے کے لیے کسانوں سے ایجی ٹیشن شروع کرا دیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ ایجی ٹیشن سیاسی رنگ پکڑ لیتی ہے۔ اس مرحلے پر بھاگلپور کی راشٹریہ سوائم سیوک سنگ کا صدر کمار اندر دیو نرائن سنگھ سیٹھوں سے منہ مانگی رقم وصول کرتا ہے اور اس کا سیکرٹری ست نرائن پانڈے اپنے مسلح غنڈے مسلمانوں پر چھوڑ کر ہندو مسلم فساد کروا دیتا ہے۔ کچھ مسلمان مارے جاتے ہیں۔ چند مسلمان لڑکیاں اغوا ہو جاتی ہیں۔ ہندو کسان اپنی ایجی ٹیشن کو بھول کر بڑی دلجمعی سے مسلمانوں کی لوٹ مار میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ رات بھر کی لوٹ کھسوٹ کے بعد علاقے پر کرفیو نافذ ہو جاتا ہے۔
کرفیو کی آڑ میں کمشنر یا کلکٹر فیکٹری کا سنگ بنیاد رکھ دیتا ہے۔ سیٹھ صاحبان گورنمنٹ کے کسی فنڈ میں خاطر خواہ عطیہ کا اعلان فرماتے ہیں اور اس طرح نتھ نگر میں بڑی خوش اسلوبی سے ایک نئی فیکٹری کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
"کیا اس بار بھی سیٹھ بدری پرشاد جھن جھنیا نے کمار اندر دیو نرائن سنگھ کے ساتھ کوئی ساز باز کی ہے؟“ میں نے پوچھا۔
بیرسٹر نور الحسن نے اپنے بند ڈرائنگ روم میں گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا، اور پھر اپنے ہونٹوں کو عین میرے کان کے ساتھ ملا کر آہستہ سے بولے۔ سننے میں آیا ہے کہ اس بار پچاس ہزار روپے پر سودا طے ہوا ہے۔
اگلا سارا دن میں نے بھاگلپور کلکٹریٹ کے ریکارڈ روم میں صرف کیا۔ پچھلے دس برس کے دوران نتھ نگر میں جتنی نئی فیکٹریاں لگی تھیں' ان سب کی فائلیں نکال کر پڑھیں۔ واقعی بیرسٹر نور الحسن کی بات حرف بہ حرف صحیح تھی۔ ہر فیکٹری کی بنیاد ہندو مسلم فساد پر کھڑی ہوئی تھی۔ لیکن یہ عجیب بات تھی کہ ان فسادات کے سلسلے میں نہ کہیں کمار اندر دیو نرائن سنگھ کا نام آتا تھا، نہ ست نرائن پانڈے کا۔ بلکہ پولیس اور مجسٹریوں کی تحقیقاتی رپورٹوں میں بالالتزام مسلمانوں ہی کو مورد الزام ٹھرایا گیا تھا۔"
  • دہلی اور مشرقی پنجاب کے علاوہ بھارت کے طول و عرض میں بہت سی اور جگہ بھی ہندو اور سکھ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں حسب توفیق مصروف عمل تھے۔ مسلمانوں کے لیے بھارت کی ہر شاہراہ، ہر پگڈنڈی پاکستان کی طرف جاتی تھی اور چند ماہ کے اندر اندر ڈیڑھ کروڑ سے اوپر لٹے پٹے مہاجر پاکستان میں ہجرت کر کے آ گئے۔
15 اگست 1947ء کو جب بھارت پر آزادی کی دیوی کا نزول ہوا تو امرتسر شہر نے اس روز سعید کو عجیب طور پر منایا۔ جان کونیل نے اپنی کتاب " آکنلیک" میں لکھا ہے کہ اس روز سکھوں کے ایک ہجوم نے مسلمان عورتوں کو برہنہ کر کے ان کا جلوس نکالا۔ یہ جلوس شہر کے گلی کوچوں میں گھومتا رہا۔ پھر سارے جلوس کی عصمت دری کی گئی۔ اس کے بعد کچھ عورتوں کو کرپانوں سے ذبح کر دیا گیا۔ باقی کو زندہ جلا دیا گیا۔ واہ گرو کا خالصہ، واہ گرو کی فتح![1]
  • قدرت اللہ شہاب کے ہاتھ 1947ء کے اوائل میں کانگریس کی ایک مسلم کُش خفیہ دستاویز آ گئی جس کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
"ایک دو روز کی تگ و دو، منت سماجت اور حیلے بہانوں کے بعد آخر بڑی مشکل سے مجھے قائداعظم تک رسائی حاصل ہوئی۔ جب میں ان کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ کچھ لکھنے میں مصروف تھے۔ فارغ ہو کر ایک نظر مجھ پر ڈالی اور گرجدار آواز میں بولے۔
"کیا بات ہے؟"
"سر میں آپ کے لیے ایک مفید دستاویز لے کر آیا ہوں۔ میرا نام قدرت اللہ شہاب ہے۔ میں اڑیسہ میں ڈپٹی ہوم سیکرٹری ہوں۔" میں نے ایک ہی سانس میں زیادہ سے زیادہ باتیں کہنے کی کوشش کی۔
"کیسی دستاویز؟"
میں نے آگے بڑھ کر کانگریس کا سرکلر ان کی خدمت میں پیش کیا۔ وہ بڑے سکون سے اسے پڑھتے رہے۔ میں کھڑا ہوا ان کے چہرے کا جائزہ لیتا رہا۔ ان کے جذبات میں ہلکا سا ارتعاش بھی پیدا نہ ہوا۔ ایک بار پڑھ چکے تو مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور فرمایا۔ ”"ہاں یہ ہمارے لیے مفید ہو سکتی ہے۔“یہ کہہ کر وہ دوبارہ اس کے مطالعے میں مصروف ہو گئے۔ اس کے بعد مجھ سے دریافت کیا۔ ”یہ تم نے کہاں سے حاصل کی ہے ؟"
میں نے فرفر ساری بات کہہ سنائی۔
”ویل ویل، تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ This is breach of Trust
میں نے اپنا قومی فرض پورا کرنے کے موضوع پر تقریر کرنے کی کوشش کی تو قائداعظم نے مجھے کسی قدر سختی سے ٹوک دیا اور فرمایا۔
Don't You see each copy is numbered. Its disappearance would be easily tracked down to you, are you prepared to face the consequences?
میں نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔
"yes Sir, I am fully prepared"”
“کیا میں اسے اپنے پاس رکھ سکتا ہوں ؟" قائداعظم نے دستاویز کی طرف اشارہ کر کےکہا۔
”جی ہاں سر! یہ میں آپ ہی کے لیے لایا ہوں۔“
"آل رائٹ“ تم جا سکتے ہو۔“ قائداعظم نے حکم دیا۔
میں دروازے سے باہر نکلنے لگا تو قائداعظم نے بلند آواز سے پکار کر پوچھا۔ ” تم نے اپنا نام کیا بتایا تھا؟"
"قدرت اللہ شہاب"
”بوائے دوبارہ اایسی حرکت مت کرنا۔ قائداعظم نے فرمایا، مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت ان کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ تھی یا نہیں تھی۔ لیکن ان کے لہجے میں مجھے شفقت کا ہلکا سا گداز ضرور محسوس ہوا۔
یہ اپریل ۱۹۴۷ء کی بات ہے۔ اس وقت ہندوستان کی بساط سیاست پر مسلمانوں کے خلاف جو خطرناک چالیں چلی جا رہی تھیں۔ ان کا پس منظر بڑا سبق آموز ہے۔
جب سے لاہور میں ۱۹۴۰ء کا پاکستان ریزولیوشن منظور ہوا تھا، اسی وقت سے گاندھی جی لنگر لنگوٹ کس کر اسے ناکام بنانے کے لیے میدان عمل میں اترے ہوئے تھے۔ ۱۹۴۲ء میں جب برطانیہ کو جرمنی اور جاپان کے ہاتھوں چاروں طرف شکست نصیب ہو رہی تھی تو انہوں نے ایک منجھے ہوئے سیاسی جواری کی طرح حالات کو آنک تول کر اپنا پانسہ پھینکا، اور مسلمانوں کو اعتماد میں لیے بغیر ”ہندوستان چھوڑ دو" (Quit India) تحریک کا کھڑاگ کھڑا کر دیا۔ جب یہ پوچھا جاتا تھا کہ اگر انگریز واقعی چلے جائیں، تو ہندوستان کس کے حوالے کر کے جائیں۔۔۔۔ تو گاندھی جی کے چیلے چانٹوں کا جواب بڑا جازم اور غیر مبہم ہوتا تھا۔
"To God or to Anarchy"
طوائف الملوکی کی صورت میں پوبارہ اکثریت ہی کی تھی اور برصغیر میں اکثریت ہندو قوم کی تھی۔
ڈیڑھ دو برس بعد جب جنگ عظیم کا پانسہ پلٹنا شروع ہوا اور برطانیہ کا پلہ بھاری دکھائی دینے لگا، تو گاندھی جی نے بھی پینترا بدلا۔ جس وقت برطانیہ شکست کھا رہا تھا، گاندھی جی جنگ کے بائیکاٹ کا پرچار اس اصول کی بنا پر کر رہے تھے کہ جنگ و جدال اہنساپرم دھرم کے منافی ہے۔ لیکن لڑائی کا نقشہ بدلتے ہی اہنسا کا اصول بھی موم کی ناک کی طرح مڑ گیا۔ اب گاندھی جی نے برٹش حکومت کو یہ پیشکش کی، اگر ہندوستان کی آزادی کا اعلان کر کے اقتدار فوراً منتقل کر دیا جائے، تو جنگ کے ہر شعبے میں برطانیہ کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا جائے گا۔ مہاتما گاندھی کے سیاسی دین میں اہنسا کے اصول کو مصلحتوں کی بے حد لچک حاصل تھی۔ جب جی چاہا ہارتے ہوئے انگریز کے خلاف جنگی بائیکاٹ کے لیے استعمال کر لیا اور جونہی حالات بدلے جیتے ہوئے انگریز کے ساتھ جنگی تعاون کے لیے کام میں لے آئے۔ امور ریاست اور سیاست میں ریا کاری کو فنون لطیفہ کا درجہ دینے والے کوٹلیا کا ارتھ شاستر بھی گاندھی جی کے عملی ہتھکنڈوں کے سامنے بازیچہ اطفال نظر آتا ہے۔
جنگ ختم ہوتے ہی انگلستان میں لیبر پارٹی بر سر اقتدار آ گئی۔ اس پارٹی کے ساتھ کانگرس کے گہرے تعلقات تھے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر گاندھی جی نے گرگٹ کی طرح ایک اور رنگ بدلا۔ اب انہوں نے برملا یہ رٹ لگانی شروع کر دی کہ انگریزوں کے بعد ہندوستان میں سیاسی اقتدار کی وارث صرف آل انڈیا کانگرس ہے۔ جہاں تک مسلم لیگ کا تعلق ہے، اقتدار حاصل کرنے کے بعد کانگرس خود اس سے نپٹ لے گی۔
اہنساپرم دھرم کا یہ دیرینہ پجاری اب باضابطہ تلوار سونت کر میدان جنگ میں اترنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔
مطالبہ پاکستان کے متعلق گاندھی جی کا موقف یہ تھا کہ ہندوستان ایک اٹوٹ اور ناقابل تقسیم اکائی ہے۔ اس کو تقسیم کرنے کی کوشش گئو ماتا کا جسم کاٹنے کے مترادف ہے۔ جراحی کا یہ عمل بھارت ماتا پر کرنے سے پہلے ان کی اپنی لاش پر کرنا پڑے گا۔
اس پس منظر میں برطانوی کیبنٹ مشن آزادی ہند کی گتھی سلجھانے مارچ ۱۹۴۶ء میں ہندوستان وارد ہوا۔ مشن میں لارڈ پیتھک لارنس، سرسٹیفورڈ کرپس اور مسٹر اے وی الیگزینڈر شامل تھے۔
رجحان طبع اور میلا خاطر کے لحاظ سے لاڈ پیتھک لارنس گاندھی جی کی مہاتمائی کے اسیر تھے۔ وہ گاندھی جی کو مشرقی دانائی اور روحانیت کا منبع سمجھتے تھے۔ اور ان دونوں کا آپس میں گرو اور چیلے کا سا تعلق تھا۔
مشن کے سب سے زیادہ تیز، طرار اور فعال ممبر سر سٹیفورڈ کرپس تھے۔ پنڈت نہرو کے ان کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔ مشن کی بیشتر اہم تجاویز پنڈت نہرو اور گاندھی جی کے خفیہ مشورے کے بعد مرتب کی جاتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے سر سٹیفورڈ کرپس اپنے ایک ذاتی دوست سدھیر گھوش کو دلال کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
مشن کے تیسرے ممبر اے وی الیگزینڈر کو کانگریسی لیڈروں کے ساتھ کسی قسم کی ذہنی یا جذباتی یا ذاتی وابستگی تو نہ تھی، لیکن ان کو یہ وہم لاحق تھا، کہ کانگرس کے مرد آہن ولبھ بھائی پٹیل کی خوشنودی حاصل کئے بغیر مستلبی میں آزاد ہندوستان اور انگلستان کے باہمی تعلقات خوشگوار نہیں رہ سکتے۔
اس ملی بھگت کے مقابلہ میں قائداعظم کی ذات یکتا و تنہا تھی۔ ان کا واحد ہتھیار ان کا ذاتی کردار تھا جس کا ایک نمایاں جوہر ان کی سیاسی بصیرت تھی۔ لیکن اس سے بھی بڑا جوہر ان کی کامل ثابت قدمی اور دیانتداری تھی، جسے نہ خوف دبا سکتا تھا، نہ خوشامد ڈگمگا سکتی تھی، نہ لالچ خرید سکتا تھا۔
جب کیبنٹ مشن ہندوستان آ رہا تھا، تو وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی نے اپنے بیان میں یہ اعلان کیا تھا۔ ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق کا ہمیں خیال ہے۔ لیکن ہم یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ کوئی اقلیت اکثریت کے حقوق پر کسی قسم کا ویٹو استعمال کر سکے۔"
اس اعلان پر کانگرس نے بڑی بغلیں بجائیں۔ مسلم لیگ کے لیے یہ ایک طرح کی وارنگ تھی کہ وہ کانگرس کے عزائم میں زیادہ روڑے اٹکانے کی کوشش نہ کرے۔ قائداعظم نے اس دھمکی کا بڑا خوبصورت جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ایک مکڑی اپنا جالا بن کر تیار کرے اور پھر مکھی کو مدعو کرے کہ وہ تشریف لائے اور جالے میں آ کر پھنس جائے۔ اب اگر مکھی اس دعوت کو قبول نہیں کرتی۔ تو وزیراعظم اٹیلی کے الفاظ میں یہی کہا جائے گا، کہ مکھی مکڑی کے خلاف ویٹو استعمال کر رہی ہے۔
کیبنٹ مشن ہندوستاں میں تین ماہ کے قریب رہا۔ اس عرصے کی داستاں انگریزوں اور ہندوؤں کی سیاسی چیرہ دستیوں منافقتوں ریاکاریوں، دروغ بافیوں اور فریب سازیوں کی عجیب و غریب بھول بھلیاں ہے۔ کانگرس نے اپنا دام تزویر قدم قدم پر بچھا رکھا تھا۔ اور برٹش حکومت کے نمائندے مسلم لیگ کو گھیر گھار کر اسے اس میں پھنسانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے تھے۔ قائداعظم نے ان سب کا مقابلہ بڑی بے لاگ راست بازی اور ثابت قدمی سے کیا۔ کیبنٹ مشن کا فیصلہ یہ تھا کہ برصغیر کو پاکستان اور بھارت کے دو الگ الگ اور خود مختار حصوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ متحدہ ہندوستان میں امور خارجہ دفاع اور ذرائع آمد و رفت مرکزی حکومت کے اختیار میں ہوں گے۔ صوبوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ایک گروپ میں ہندو اکثریت کے صوبے ہوں گے۔ دوسرے گروپ میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان ہوں گے۔ تیسرے گروپ میں بنگال اور آسام کے صوبے ہوں گے۔ تین مرکزی شعبوں کو چھوڑ کر باقی سب امور میں ہر گروپ خود مختار ہو گا۔
اب منااقضانہ سیاست کاری کا ایک نیا منظر ظہور میں آیا۔ ایک الگ پاکستان کا مطالبہ کرنے والی مسلم لیگ نے تو یہ تجویز منظور کر لی۔ لیکن اکھنڈ بھارت کی رٹ لگانے والی کانگرس نے اسے مسترد کر دیا۔
مسلم لیگ کی طرف سے اس تجویز کی منظوری قائد اعظم کی سیاسی بصیرت کا عملی شاہکار ہے۔ مطالبہ پاکستان رو ہو جانے کے بعد یہ تجویز بھاگتے چور کی سب سے اچھی لنگوٹی تھی۔ اس میں کم از کم یہ گارنٹی تو موجود تھی، کہ صوبوں کی گروپ بندی کی وجہ سے ایک طرف پنجاب، سرحد سندھ اور بلوچستان اور دوسری طرف بنگال اور آسام کے مسلمانوں کو اپنے معاملات میں بڑی حد تک ہندو مرکزیت کے اثر سے خود مختاری حاصل ہو گی۔ اس کے علاوہ قائداعظم ہندو ذہنیت سے بڑی اچھی طرح واقف تھے۔ شاید ان کے ذہن میں یہ خیال بھی ہو کہ جس وجہ سے مسلم لیگ اس فارمولے کو منظور کر رہی ہے عین اسی وجہ سے کانگرس اسے مسترد بھی کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو مطالبہ پاکستان قدرتی طور پر از سر نو بحال ہو جائے گا۔
کانگرس کی گنگا جمنی سیاست نے وہی کیا جس کی اس سے توقع تھی۔ ہندو قیادت اتنا بھی برداشت نہ کر سکی کہ کسی فارمولے میں مسلمانوں کو ان کے اکثریتی صوبوں میں بھی کسی قسم کا سیاسی اختیار حاصل ہو۔ گاندھی جی چراغ پا ہو گئے۔ پنڈت نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل نے کیبنٹ مشن پلان کی دھجیاں اڑا دیں۔ ہندو پریس نے شور و غوغا کر کے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ کیبنٹ مشن کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ انہوں نے کانگرسی لیڈروں کے ساتھ کچھ ظاہری اور کچھ خفیہ رابطے قائم کئے۔ کانگرس کے دباؤ میں آ کر مشن کے ممبروں نے اپنا تھوکا ہوا خود ہی چاٹنا شروع کر دیا۔ اور کانگرس کے ایماء پر خود اپنے ہی پلان میں انہوں نے ترمیم و تجدید اور غلط تعبیر، غلط تفسیر اور غلط استخراج کے ایسے ایسے پیوند لگانے شروع کر دیئے کہ اس کی شکل بدل گئی۔ اس کے معنی بگڑ گئے اور متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے جمہوری حقوق مکمل طور پر ہندو آمریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ جس طور پر کانگریس نے اپنی یہ تحریک چلائی اس سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ اس کا بنیادی مقصد انگریزی راج سے آزادی حاصل کرنا نہیں بلکہ مسلم لیگ کو شکست دینا ہے۔ کانگرس کی نظر میں ہندوستان کی آزادی اسی صورت میں قابل قبول تھی جبکہ مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ہندوؤں کے زیر نگیں رکھنے کے لیے پہلے سے پورا پورا بندوبست کر لیا جائے ۔ قائداعظم اپنا فرض پورا کر چکے تھے۔ کیبنٹ مشن کے پلان کو تسلیم کر کے انہوں نے پاکستان کا مطالبہ داؤ پر لگا دیا تھا۔ لیکن کانگرس کے خوف و خوشامد میں آ کر مشن نے حب اپنے پلان کی صورت خود ہی مسخ کر دی تو مجبوراً مسلم لیگ نے بھی اپنی منظوری واپس لے لی۔ اس طرح اکھنڈ بھارت کی آخری ہنڈیا کانگرس نے خود اپنے ہاتھوں اپنی مسلم کش پالیسیوں کے چوراہے میں پھوڑ دی۔ کانگرس کے بلیک میل کے آگے سر جھکا کر اور دم ہلا کر خود اپنے ہی تیار کردہ پلان میں تحریف و تخریب کرنے والے کیبنٹ مشن نے بھی متحدہ ہندوستان کے تابوت میں آخری کیل گاڑ دی۔ چنانچہ قائداعظم نے اعلان کیا کہ ہم نے مفاہمت کی ہر کوشش، دلیل اور حجت کو کام میں لا کر دیکھ لیا ہے۔ اب یہ بات حتمی طور پہ پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ ان تمام مسائل کا واحد حل قیام پاکستان ہے۔ دوسروں سے مدد یا ہمدردی کی امید رکھنا بیکار ہے۔ ایسی کوئی عدالت نہیں جس کا دروازہ ہم انصاف حاصل کرنے کے لیے کھٹکھٹا سکیں۔ ہماری فقط ایک عدالت ہے وہ مسلمان قوم ہے۔
اب تک مسلم لیگ کی سیاست بڑی احتیاط سے آئینی حدود کے اندر رکھی جاتی تھی۔ لیکن اب وقت آ گیا تھا کہ انگریزوں کی موجودہ اور ہندوؤں کی مجوزہ غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے سیاست کے اس اسلوب کو ترک کر دیا جائے۔ چنانچہ مسلم لیگ نے ”ڈائریکٹ ایکشن کا اعلان کیا اور ۱۶ اگست ۱۹۴۶ء ”ڈائریکٹ ایکشن ڈے مقرر ہو گیا۔ ساتھ ہی تمام مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ برٹش گورنمنٹ کے دیئے ہوئے خطابات واپس کر دیں۔
۱۶ اگست ۱۹۴۶ء کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے“ ہر جگہ امن و امان سے گزر گیا، لیکن کلکتہ میں بڑا زبردست فساد ہو گیا۔ مسٹر حسین شہید سہروردی بنگال کے چیف منسٹر تھے۔ انہوں نے ۱۶ اگست کو عام تعطیل کا دن قرار دے دیا۔ کانگرسی حلقے اس اعلان پر بڑے سیخ پا ہوئے۔ کلکتہ کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ۲۴ فیصد کے قریب تھی۔ ۱۶ اگست کو وہ لاکھوں کی تعداد میں ”ڈائریکٹ ایکشن ڈے" کے جلسے میں شریک ہوئے۔ مسٹر سہروردی نے بڑی ولولہ انگیز تقریر کی۔ جلسے کے بعد جب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے تو شہر کے گلی کوچوں میں مسلح ہندوؤں نے اچانک ان پر قاتلانہ حملے شروع کر دیئے۔ جلسہ گاہ سے واپس آنے والے مسلمانوں کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ اس طرح یکایک ایک پہلے سے ٹھانی ہوئی سازش کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ بالکل نہتے تھے۔ اس کے برعکس ہندوؤں کے جتھے ہر قسم کے مہلک ہتھیاروں سے لیس تھے۔ وہ جگہ جگہ گھات لگا کر بے خبر اور بے شان و گمان مسلمانوں کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ تاریخ یہ کبھی نہ بتا سکے گی کہ اس روز کلکتہ کے گلی کوچوں، سڑکوں اور بازاروں میں کتنے مسلمان شہید ہوئے۔ ان کی تعداد سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں تھی۔ یہ قیامت صغریٰ کئی روز تک شہر کے طول و عرض میں برپا رہی۔ کلکتہ کے ہندو پہلے سے تیار بھی تھے،مسلح بھی تھے اور تعداد میں بھی مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھے۔ لیکن ہندو پریس یہی اودھم مچاتا رہا کہ زیادتی سراسر مسلمانوں کی ہے اور صوبے کے چیف منسٹر سہروردی ان کی خفیہ طور پر مدد کر رہے ہیں۔
ہندوستان کے شہروں میں ہندو مسلم فساد کوئی نئی یا عجیب چیز نہیں تھی۔ لیکن جس پیمانے پر کلکتہ میں کشت و خون کا بازار گرم ہوا اس نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ یہ دو فرقوں یا دو گروہوں کی لڑائی نہ تھی۔ بلکہ دراصل یہ دو قوموں کی جنگ تھی۔ برصغیر میں پہلی بار دو قومی نظریہ بساط سیاست سے نکل کر میدان کار زار میں اتر آیا تھا اور اس Great Calcutta Killing نے مستقبل کے نقشے پر بڑے گہرے اور دور رس اثرات مرتب کئے۔
اس کا سب سے پہلا اثر عبوری حکومت کی تشکیل پر ہوا۔ کیبنٹ مشن کی سفارش کے مطابق وائسرائے ہند لارڈ ویول کانگرس، مسلم لیگ اور دوسری اقلیتوں کے نمائندوں پر مشتمل مرکزی کابینہ بنانے کی تگ و دو کر رہا تھا۔ یہاں پر بھی کانگرس کی یہی خواہش اور کوشش تھی کہ وائسرائے پہلے کانگرس کو عبوری حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دے۔ اس کے بعد مسلم لیگ سمیت دوسری جماعتیں وائسرائے کی دعوت پر نہیں بلکہ کانگریس کے ساتھ اپنا اپنا معاملہ طے کر کے کابینہ میں شریک ہوں۔ مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کی گدی پر بیٹھنے کا حق تو صرف کانگریس کو حاصل ہو۔ باقی جماعتیں کانگریس کی خوشنودی حاصل کر کے محض طفیلیوں اور حاشیہ نشینوں کی حیثیت سے حکومت میں شامل ہو سکیں۔ لارڈ ویول اس چکمے میں آ گیا۔ اور اس نے کانگرس کے نمائندوں کو عبوری حکومت میں شامل ہونے کی براہ راست دعوت دے دی۔ گاندھی جی کا نخل تمنا ایک دم سرسبز ہو گیا۔ جب کسی نے ان سے پوچھا کہ عبوری حکومت میں مسلم لیگ کی شمولیت کا کیا بنے گا تو گاندھی جی نے خوشی سے چہک چہک کر جواب دیا کہ مسلم لیگ کو اب وائسرائے کی بجائے کانگرس کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ جناح صاحب کو چاہیے کہ اس بارے میں وہ پنڈت نہرو . سے انٹرویو مانگیں۔
ابھی عبوری حکومت قائم نہیں ہوئی تھی، کہ کلکتہ کا ہولناک فساد برپا ہو گیا۔ فساد کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے لارڈ ویول نے کلکتہ کا دورہ کیا تو اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ سپای پیشہ وائسرائے میدان جنگ کی نفسیات اور فن حرب کا تجربہ کار ماہر تھا۔ اس کے فوجی ذہن نے بڑی آسانی سے یہ اندازہ لگا لیا کہ کلکتہ میں ہندو مسلم فساد نہیں ہوا بلکہ سول وار ہوئی ہے۔ اور مسلمانوں کے جائز حقوق کو مزید پامال کیا گیا تو سارا برصغیر ایک خوفناک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
لارڈ ویول دیانتدار سپاہی اور باضمیر سیاست دان تھا۔ کلکتہ سے واپس آ کر اس نے اخلاقی جرات سے کام لیا اور کانگریس سے مشورہ کئے بغیر مسلم لیگ کو بھی عبوری حکومت میں شامل ہونے کی براہ راست دعوت دے دی۔
وائسرائے کے اس اقدام سے کانگرس کا سارا منصوبہ خاک میں مل گیا۔ انگریزوں کے سائے تلے ہندوستان پر اکیلے راج کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ اس وقت ہندوستان کے سول اور فوجی اداروں میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔ اگر عبوری حکومت کی باگ ڈور صرف کانگریس کے ہاتھ میں آ جاتی تو بلاشبہ اسے سارے ہندوستان پر رام راج کی راہ ہموار کرنے میں بڑی مدد ملتی۔ مسند اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد مسلم لیگ کو مستقل طور پر عبوری حکومت سے باہر رکھنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ کانگریس کے ہاتھ میں ایسے جی حضوریے مسلمان موجود تھے جو بڑے شوق سے انٹرم گورنمنٹ (عبوری حکومت) میں مسلم لیگی سیٹوں کی خانہ پری کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس طرح مسلم لیگی سیاست کا بڑھتا ہوا سیلاب سرکاری رکاوٹوں کی مدد سے اقلیتوں کی بند کھاڑی میں دھکیل دیا جاتا۔ اور تسلسل حکومت کا بہانہ بنا کر کانگریس اپنے اس دعوے کو بھی مستحکم کر لیتی کہ ہندوستان میں وہ برٹش حکومت کی واحد جانشین ہے۔ لیکن وائسرائے کے بروقت اقدام نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اس پر کانگرس نے بڑا کہرام مچایا۔ طرح طرح کے حیلے بہانوں کی آڑ لے کر گاندھی جی نے لارڈ ویول کو بڑی سختی سے برا بھلا کہا۔ اور لندن میں برٹش گورنمنٹ کے پاس یہ شکایت لکھ بھیجی کہ وائسرائے کلکتہ کے فسادات سے بوکھلا کر بدحواسی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ وہ اعصابی تناؤ میں مبتلا ہے اور آئینی امور میں اس کی قوت فیصلہ کمزور پڑ گئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وائسرائے کی مدد کے لیے انگلستان سے کوئی ایسا قانونی ماہر بھیجا جائے جو لارڈ ویول سے زیادہ قابل اور صائب الرائے ہو۔
لارڈ ویول پر کانگرس کا یہ پہلا حملہ تھا۔ اس کے بعد کانگرسی لیڈر مسلسل اس تاک میں رہتے تھے کہ جس طرح ہو سکے قدم قدم پر وائسرائے کو ہر معاملے میں زک پہنچائی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے لندن میں اپنے بہی خواہوں کے ذریعہ ریشہ دوانیاں شروع کر رکھی تھیں کہ لارڈ ویول کی جگہ کوئی ایسا شخص وائسرائے مقرر ہو جسے کانگرس آسانی سے کٹھ پیلن کی طرح اپنے مفاد کی تار پر نچا سکے۔
کانگریس ۲ ستمبر ۱۹۴۶ء کو عبوری حکومت میں آئی تھی۔ ۱۵ اکتوبر کو مسلم لیگ بھی اس میں شامل ہو گئی۔ مسلم لیگ کی شمولیت کانگریس کی مرضی کے خلاف عمل میں آئی تھی۔ اس لیے کابینہ میں ان دونوں کی رفاقت شروع ہی سے معاندانہ اور مخاصمانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
عبوری حکومت ۱۴ اراکین پر مشتمل تھی۔ چھ کانگرسی، پانچ مسلم لیگی، ایک سکھ ایک عیسائی اور ایک پارسی۔ امور خارجہ اور کامن ویلتھ نہرو کے پاس تھے۔ ہوم انفارمیشن اور براڈ کاسٹنگ پٹیل کے پاس اور ڈیفنس سردار بلدیو سنگھ کے پاس۔۔۔۔۔ جو ہر لحاظ سے کانگریس ہی کا کل پرزہ تھا۔ کانگرس نے جان بوجھ کر فنانس کا پورٹ فولیو مسلم لیگ پر اس وجہ سے ٹھونے کی پیشکش کی کہ مسلمان مالیاتی حساب کتاب میں کمزور مشہور تھے اور کانگرس کو امید تھی کہ وہ وزارت خزانہ چلانے میں بری طرح ناکام ہوں گے۔ خان لیاقت علی خان نے یہ وزارت سنبھال کر اس چیلنج کو ایسی خوش اسلوبی سے قبول کیا کہ بہت جلد کانگرسی وزیر کف افسوس ملنے لگے کہ انہوں نے فنانس کا چارج مسلم لیگ کو دے کر بڑی فاش غلطی کی ہے۔
ہر حکومت میں وزارت خزانہ کا یہ ناخوشگوار فرض ہوتا ہے کہ وہ وسائل اور اخراجات میں توازن برقرار رکھے۔ اس مقصد کے لیے عبوری حکومت میں جب خان لیاقت علی خان کسی کانگرسی وزیر کی اخراجاتی تجاویز میں جائز مین میخ نکال کر اسے گھٹاتے یا نامنظور کر دیتے تھے تو اسے ان کی ضد اور سیاسی خصومت پہ محلول کیا جاتا تھا۔ مالیاتی امور کے علاوہ باقی بہت سے معاملات میں بھی دونوں گروہوں میں مستقل چخ چخ چلتی رہتی تھی۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کا عمیق اور وسیع تضاد سیاسی سطح پر تو کیبنٹ مشن کےروبرو آشکار ہو چکا تھا۔ ان دو قوموں کا باہمی عناد کلکتہ کے خونریز فسادات نے اجاگر کر دیا تھا۔ رہی سہی کسر اب عبوری حکومت کے تجربے نے نکال دی۔
ایک طرف تو حکومت کے اندر مسلم لیگ اور کانگرس کی کشاکشی روز بروز زور پکڑتی جا رہی تھی دوسری طرف برصغیر کے کئی حصوں میں ہندو مسلم فسادات باضابطہ خون کی ہولی کھیل رہے تھے۔ کلکتہ میں مسلمانوں کے قتل عظیم کے بعد مشرقی بنگال کے ضلع نواکھلی میں فساد ہو گیا، جہاں تین سو کے قریب افراد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ اس واقعہ کو ہندو پریس نے مبالغے کا رنگ چڑھا کر ایسے انداز سے پیش کیا کہ ملک کے طول و عرض میں شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ ہندو تو پہلے ہی بھرے بیٹھے تھے۔ اب نواکھلی کو بہانہ بنا کر انہوں نے بہار میں جوابی کاروائی شروع کر دی۔ یہاں پر مسلمان اقلیت پر جو قیامت ٹوٹی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ صوبے میں کانگرسی وزارت بر سر اقتدار تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں آٹھ ہزار سے اوپر مسلمان شہید ہوئے۔ لیکن اصلی تعداد کا کسی کو پورا علم نہیں۔ جن علاقوں میں یہ خونی طوفان اٹھا وہاں پر مسلمانوں کی آبادی سات آٹھ فیصد سے بھی کم تھی۔ ہندوؤں کے مسلح جتھے ہاتھیوں، گھوڑوں اور قتل گاڑیوں پر سوار ہو کر نکلتے تھے اور گاؤں گاؤں جا کر مسلمان آبادیوں کو نیست و نابود کر دیتے تھے۔ پیدل بلوائیوں کے جھنڈ کے جھنڈ ٹڈی دل کی طرح پھیلے ہوئے تھے اور مسلمانوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر چن چن کر برچھیوں اور بھالوں سے مار ڈالتے تھے یا گھروں میں بند کر کے زندہ جلا دیتے تھے۔ درجنوں مسجدیں کھود کر ہل چلا دیا گیا۔ سینکڑوں عورتوں نے اپنی عصمت بچانے کی خاطر کنوؤں میں کود کر جان دے دی۔ بہت سے بچوں کو درختوں کے تنوں کے ساتھ میخوں سے ٹھونک کر مصلوب کر دیا گیا۔ ایک بھاری اکثریت کے ہاتھوں ایک قلیل، بے ضرر اور بے یار و مددگار اقلیت پر ظلم و بربریت کی اس سے زیادہ گھناؤنی مثال ملنا محال ہے۔
بہار کے بعد یوپی کی باری آئی۔ گڑھ مکیتسر میں ہر سال ہندوؤں کا میلہ لگتا تھا جس میں لاکھوں ہندو شامل ہوا کرتے تھے۔ چند ہزار غریب مسلمان بھی اس میلے میں خرید و فروخت کا سامان لے کر جمع ہوا کرتے تھے۔ ایک روز ہندوؤں نے اچانک مسلمانوں پر حملے شروع کر دیئے اور دیکھتے ہی دیکھتے میلے میں موجود تمام مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو بڑی بیدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
جب کلکتہ پر مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے تو ہندو پریس نے اسے مسلمانوں کی زیادتی کا رنگ دے کر بڑا شور و غوغا کیا تھا۔ نواکھلی کے واقعات کو بھی ہندو پریس نے بڑے ڈرامائی اور سنسنی خیز مبالغے کے ساتھ اچھالا تھا۔ لیکن بہار اور گڑھ مکیتسر میں مسلمانوں کے قتل عام پر اس پریس کو گویا سانپ سونگھ گیا۔ بہار اور یوپی کی کانگرسی وزارتوں کی شہہ پا کر سارے پریس نے ایک طرح کی اجتماعی چپ سادھ لی۔ لیکن جادو کی طرح خون ناحق بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ان دونوں لرزہ خیز واقعات کی خبریں بڑی سرعت سے پھیل گئیں اور رفتہ رفتہ سارا برصغیر ہندو مسلم تناؤ اور کشیدگی کی انتہائی خطرناک زد میں آ گیا۔
جب نواکھلی میں فساد ہوا تو گاندھی جی فوراً وہاں پہنچے اور کئی ماہ تک انہوں نے متاثرہ علاقوں کا پیدل دورہ کیا۔ وہ روزانہ تین چار میل پاپیادہ چلتے تھے، اور ہر جگہ مسلمانوں کو تلقین کرتے تھے کہ ہندو تمہارے بھائی ہیں اور ان کی حفاظت کرنا تمہارا فرض منصبی ہے۔
اسی دوران بہار میں فسادات برپا ہو گئے۔ بہار کے کچھ کانگرسی مسلمانوں کی بار بار استدعا پر گاندھی جی نے نواکھلی کا پیچھا چھوڑا اور بڑی مشکل سے باےر تشریف لائے۔ یہاں پر انہوں نے جو کچھ دیکھا اس نے ہندو جاتی کی امن پسندی، صلح جوئی اور غیر تشدد پسندی کے متعلق ان کے بہت سے مفروضات کی کایا پلٹ دی۔ یہاں پر وسیع و عریض علاقوں میں مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹ چکا تھا۔ گھر لٹ چکے تھے۔ مسجدیں ویران پڑی تھیں۔ کنوئیں مسلمان عورتوں کی لاشوں سے اٹا اٹ بھرے ہوئے تھے۔ کئی جگہ ننھے منے بچوں کے ڈھانچے اب تک موجود تھے جنہیں لوہے کے کیل گاڑ کر درختوں اور دیواروں کے ساتھ ٹانک دیا گیا تھا۔ یہ روح فرسا نظارے دیکھ کر گاندھی جی کو غالباً زندگی میں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ ہندو قوم اتنی نرم دل امن پسند اور غیر متشدد نہیں ہے جتنا کہ وہ سمجھتے اور پرچار کرتے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف بپھر کر ہندو بھی خونخوار درندگی کا پورا پورا مظاہرہ کرنے پر قادر ہیں۔ گاندھی جی کے جیون ساتھی، سیکرٹری اور سوانح نگار پیارے لال نے اپنی کتاب "Mahatma Gandh: The Last Phase“ میں بڑے واضح طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بہار کی خونریزی دیکھ کر گاندھی جی کی آنکھوں سے پردہ اٹھ گیا اور متحدہ ہندوستان کے متعلق ان کا دیرینہ خواب ٹوٹ کر پاش پاش ہو گیا۔
ان المناک واقعات نے ایک طرف تو گاندھی جی کے ذاتی سیاسی اور اخلاقی فلسفے میں انقلاب عظیم برپا کر دیا، اور دوسری طرف وائسرائے ہند لارڈ ویول کے فوجی تربیت یافتہ ذہن کے سامنے بھی تلخ حقائق کے انبار لگا دیئے۔ سارا برٹش انڈیا خانہ جنگی کی مہیب لپیٹ میں گھرا ہوا تھا۔ اس بڑھتے ہوئے طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے وائسرائے کے وسائل خوفناک حد تک محدود تھے۔ جنگ عظیم کی وجہ سے اعلیٰ انتظامی سروسوں میں انگریز افسروں کی تعداد پہلے سے نصف رہ گئی تھی۔ برٹش گورنمنٹ کے سٹیل فریم ( آئی سی ایس) میں پانچ سو سے بھی کم انگریز افسر تھے۔ ان کی اکثریت بھی آزادی سے پہلے ریٹائر ہو کر گھر واپس جانے کے لیے پر تول رہی تھی۔ ہندوستان پر برٹش ایمپائر کا سایہ قائم رکھنے کے لیے ان لوگوں نے بڑے بڑے معرکے سر کئے تھے۔ لیکن اب ایمپائر کا سایہ ڈھل رہا تھا۔ اب محض ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی قتل و جدال میں کوئی نمایاں حصہ لینے میں انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ہندوستان کی مسلح افواج میں بھی برٹش افسروں کی تعداد گیارہ ہزار سے گر کر فقط چار ہزار رہ گئی تھی۔ گورا فوج کے یونٹ بھی بڑی سرعت سے انگلستان واپس جا رہے تھے۔ کیونکہ جنگ کے بعد ملک کی تعمیر نو کے لیے برطانیہ کو اپنی افرادی قوت کام پر لگانے کی شدید ضرورت تھی۔ سول اور ملٹری وسائل کی اس تقلیل و تخفیف کے پیش نظر برصغیر کے بگڑتے ہوئے حالات پر کنٹرول رکھنا وائسرائے کے بس کا روگ نہ تھا۔ عوامی سطح پر کشت و خون کا بازار گرم تھا۔ سیاسی سطح پر عبوری حکومت میں مسلم لیگی اور کانگرسی گروپوں کی باہمی کشمش اور چپقلش روز بروز تلخ سے تلخ تر ہو رہی تھی۔ انتظامی سطح پر غیر جانبدار اور موثر وسائل سراسر ناکافی تھے۔ ان تمام حقائق کا جائزہ لے کر لارڈ ویول اس نتیجے پر پہنچا کہ برطانیہ کے لیے ہندوستان پر مزید حکومت کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے اس نے برٹش گورنمنٹ کے پاس پر زور سفارش کی کہ برصغیر کا اقتدار مقامی لوگوں کو منتقل کر کے برطانیہ کو جلد از جلد اپنی اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔
اس پس منظر میں وزیراعظم اٹیلی نے ۲۰ فروری ۱۹۴۷ء کو یہ تاریخی اعلان کیا کہ حکومت برطانیہ ۱۵ جون ۱۹۴۸ء تک لازمی طور پر ہندوستان کے اقتدار سے دستبردار ہو جائے گی۔ یہ اقتدار کس کو سونپا جائے گا؟ کیا اقتدار برٹش انڈیا کی کسی واحد مرکزی حکومت کو منتقل کیا جائے گا یا الگ الگ صوبوں کے سپرد کیا جائے گا یا کوئی اور مناسب اور متبادل طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ اس کا فیصلہ وقت آنے پر حالات کے پیش نظر طے پایا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی وزیراعظم اٹیلی نے یہ اعلان بھی کیا کہ لارڈ ویول کی جگہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسرائے مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس اعلان پر کانگرس نے خوشی کے بڑے شادیانے بجائے۔ لارڈ ویول مدت سے کانگریس کی تنقید و تنقیض کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ کانگریسی گرگے کافی عرصہ سے حکمران لیبر پارٹی کے حلقوں میں لارڈ ویول کے خلاف اپنا اثر و رسوخ مستعدی سے استعمال کر رہے تھے۔ فیلڈ مارشل دیول کا قصور صرف اتنا تھا، کہ کانگرس کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے اس نے مسلم لیگ کو براہ راست عبوری حکومت میں شامل کر لیا تھا۔ اب یہ بات تاریخی شواہد سے پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ لارڈ ویول کی معزولی اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی تقرری کا پنڈت جواہر لال نہرو کو پہلے سے علم تھا اور اس فیصلے کو ان کی آشیر باد بھی حاصل تھی۔"[1]
  • اس زمانے میں یہ افواہ بڑی گرم تھی کہ کانگرس نے ریڈ کلف کی خدمت میں دو کروڑ روپے کا نذرانہ چڑھایا ہے۔ ایسی باتوں کا حتمی ثبوت نہیں ملا کرتا۔ رشوت لے کر تو چونگی کا محرر بھی صاف بچ نکلتا ہے۔ کانگرس لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ریڈ کلف کا گٹھ جوڑ تو بڑی بات تھی۔ برصغیر میں لارڈ کلائیو اور وارن ہیسٹنگز جیسے مشاہیر باج، خراج اور نذرانہ وصول کرنے کی جو روایات چھوڑ گئے ہیں، ان کے پیش نظر اس بات کی کون ضمانت دے سکتا ہے کہ لندن کا ایک غیر معروف وکیل اس زمانے کی دو کروڑ روپے کی خطیر رقم کو شان بے نیازی کے ساتھ پائے حقارت سے ٹھکرا دے گا؟ اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ایک ماہر قانون دان ایسے فیصلے کرے جو نہ صرف خلاف عقل، خلاف ضابطہ اور خلاف شہادت ہوں بلکہ بین طور پر بد نہادی، کج رائی، تمرد اورخود سری پر مبنی ہوں۔
ایک فیصلہ تو کلکتہ کے متعلق تھا، جسے ریڈ کلف نے بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے مغربی بنگال میں شامل کر دیا۔ جب کسی نے یہ تجویز پیش کی کہ کلکتہ شہر کی رائے معلوم کرنے کے لیے وہاں ریفرنڈم کروا لیا جائے تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے توبہ توبہ کر کے کانوں کو ہاتھ لگائے، کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ کہیں وہاں کی اچھوت آبادی مسلمانوں کے ساتھ مل کر مشرقی بنگال میں شمولیت کے حق میں رائے نہ دے دے۔ دو برس بعد سردار ولبھ بھائی پٹیل نے کلکتہ میں ایک تقریر کے دوران یہ انکشاف کیا، کہ کانگرس نے ہندوستان کی تقسیم اس شرط پر مانی تھی کہ کلکتہ ہندوستان کے حصے میں آئے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ خفیہ معاہدہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ ہی ہوا ہو گا۔ مسلم لیگ کو اس سازش کی کوئی خبر نہ تھی۔
پنجاب کی تقسیم میں ریڈ کلف نے اس سے بھی زیادہ خطرناک گل کھلایا۔ گورداسپور کے ضلع کی آبادی میں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی۔ تقسیم کے متفقہ فارمولے کی ہر شق کی مطابق یہ ضلع پاکستان کے حصے میں آتا تھا۔ لیکن ریڈ کلف نے بغیر کوئی وجہ بتائے اسے بڑی ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ بھارت کو دے دیا۔ اس طرح بھارت کو ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ آمد و رفت کا وہ راستہ مل گیا جو کسی اور طرح اسے میسر نہ آ سکتا تھا۔ ریڈ کلف کا یہ فیصلہ دور رس سیاسی بد نیتی کا مظہر تھا، کیونکہ گورداسپور کے بغیر بھارت کو کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے کا موقع ہاتھ آ سکتا تھا نہ راستہ مل سکتا تھا۔
پہلے ۱۸۴۶ء میں انگریزوں نے جب کشمیر ڈوگروں کے ہاتھ فروخت کیا تھا تو اس کی قیمت مبلغ ۷۵ لاکھ روپے پڑی تھی۔ اب عین ایک سو برس بعد فرنگیوں نے جب دوسری بار کشمیر ہندوؤں کے قبضہ اختیار میں دینے کی چال چلی تو اس کی بھاری قیمت بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان سے وصول کی گئی۔ گورداسپور کے راستے بھارت کشمیر کے ساتھ براہ راست منسلک کر کے برطانیہ نے پاکستان کی نظریاتی، جغرافیائی اور معاشی سرحد پر ایک ننگی تلوار لٹکا دی اور حربی نقطہ نظر سے اس نئی مملکت کو غیر متوقع اطراف و جوانب سے بھارت کے بے جواز گھیراؤ میں دھکیل دیا۔
مغربی پنجاب کی معاشی زندگی کو بھارت کے پنجہ اختیار میں دینے کے لیے ریڈ کلف نے گورداسپور کے نہلے پہ فیروز پور کا دہلا بھی مار دیا۔ فیروز پور میں ان نہروں کے ہیڈ ورکس تھے جو مغربی پنجاب کو سیراب کرتی تھیں۔ ریڈ کلف نے یہ ہیڈ ورکس بھی بھارت کی جھولی میں ڈال دیئے۔ آٹھ مہینے کے اندر اندر اپریل ۱۹۴۸ء میں بھارت نے ان شہروں کا پانی بند کر کے پاکستان کو اپنی برتری کا مزا بھی چکھا دیا۔
۱۶ اگست ۱۹۴۷ء کو جب ریڈ کلف کے معاندانہ، مفسدانہ اور نامنصفانہ ایوارڈ کا اعلان ہوا اس وقت مشرقی پنجاب اور دہلی کے مسلمانوں پر قتل و غارت کی قیامت ٹوٹی ہوئی تھی۔ ہندوؤں اور سکھوں کے مسلح جتھے فوجیوں اور پولیس کی مدد سے کلمہ گو مردوں, عورتوں اور بچوں کے جان، مال اور ناموس سے درندوں کی طرح کھیل رہے تھے۔


  • چندراوتی
پرنس آف ویلز کالج جموں میں تو خیر میں کسی نہ کسی طرح اندھوں میں کانا راجہ بنا بیٹھا تھا لیکن گورنمنٹ کالج لاہور میں آ کر ساری شیخی کرکری ہو گئی اور یہاں میں کسی شمار قطار میں نہ رہا۔ نہ تو مجھ میں سنابری snobbery کی اہلیت تھی اور نہ ہی زبان گھما گھما کر ہونٹ سکیٹر سکیٹر کر حلق توڑ مروڑ کر اینگلو انڈین لہجے میں انگریزی بولنا میرے بس کا روگ تھا۔
انگریز تو خیر اپنے مادری لہجے میں انگریزی بولنے پر مجبور ہے ہی لیکن جاپانی جرمن اطالوی فرانسیسی روسی اور چینی بھی اس زبان میں گفتگو کرتے ہیں تو اپنے فطرتی لہجے کو انگلستانی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہیں کرتے۔ غلامی کے دور نے احساس کمتری کی یہ وراثت صرف ہمیں کو عطا کی ہے کہ اگر ہم اپنے نیچرل لہجے میں انگریزی زبان بولیں تو اسے بڑا مضحکہ خیز لطیفہ سمجھا جاتا ہے۔
اپنی اس کوتاہی کے احساس سے دب کر میں اپنے خول میں گھس گیا۔ اور ریشم کے کیڑے کی طرح سمٹ کر اپنا ایک الگ کوکون بنا لیا۔ یہاں پر میری ملاقات چندراوتی سے ہو گئی۔
وہ لیڈی میکلیگن کالج کی سٹوڈنٹ تھی اور موہنی روڈ پر ہندو لڑکیوں کے ایک آشرم میں رہتی تھی۔
ایک روز پنجاب پبلک لائبریری میں ہم دونوں ایک ہی کتاب اپنے نام جاری کرانے کے امیدوار تھے۔ پہلے ہمارے درمیان ہلکا سا فساد ہوا، لیکن پھر لائبریرین نے یہ کتاب ایک ہفتہ کے لیے میرے نام ایشو کرنے کا فیصلہ دے دیا۔
جب میں نے رجسٹر میں اپنا نام درج کروایا تو چندراوتی نے آنکھیں سکیڑ کر مجھے غور سے گھورا اور پھر چمک کر بولی۔ "اچھا تو تم ہی وہ تیس مار خاں ہو جس نے انگلشEssay کا انعام جیتا تھا۔؟ اخباروں میں تصویر تو بڑی اچھی چھپوائی تھی۔ دیکھنے میں تو ویسے نظر نہیں آتے۔"
اس غیر متوقع حملے نے مجھے لمحہ بھر کے لیے جھپا دیا۔ میں کوئی جواب سوچ ہی رہا تھا، کہ وہ دوبارہ بولی۔ ارے تم تو بالکل لڑکیوں کی طرح شرما لجا رہے ہو۔ چلو مان لیا تصویر تمھاری ہی تھی۔ اب پلیز یہ کتاب مجھے دے دو مجھے پرچہ تیار کرنا ہے۔"
میں نے فوراً کتاب اس کے حوالے کر دی۔ اور ساتھ ہی اپنا سارا علم و فضل بھی اس کے قدموں میں ڈال دیا۔
وہ دوسرے تیسرے روز گورنمنٹ کالج آ جاتی تھی۔ میں اپنی کلاس چھوڑ کر اس کے ساتھ لان میں بیٹھا جاتا تھا اور دیر تک اسے بڑی محنت سے پڑھاتا رہتا تھا۔
جب وہ ہمارے کالج آتی تھی تو کئی لڑکے دو رویہ کھڑے ہو جاتے تھے اور اسے دیکھ کر بڑی خوش دلی سے سیٹیاں بجاتے تھے۔ ایک روز ہم لان میں بیٹھے تھے، تو پروفیسر ڈکنسن میری کلاس کا پیریڈ لے کر قریب سے گزرے۔ مجھے دیکھ کر رک گئے، اور کافی دیر تک نگاہیں گاڑ کر چندراوتی کو گھورتے رہے۔ پھر مسکرا کر بولے۔ ”ٹھیک ہے، تمہارے لیے یہی مناسب مقام ہے۔ کلاس روم میں تو ایک بھی ایسی گولڈن گرل نہیں۔"
چندراوتی واقعی سورن کنیا تھی۔ وہ سپر ڈیشر سمشیر قسم کی لڑکیوں کی طرح حسین نہ تھی۔ لیکن اس کے وجود پر ہر وقت سپیدہ سحر کا ہالہ چھایا رہتا تھا۔ رنگت میں وہ سونے کی ڈلی تھی، اور جلد اس کی باریک مومی کاغذ تھی جس کے آرپار نگاہ جاتی بھی ہے اور نہیں بھی جاتی۔ اس کی گردن میں چند باریک باریک نیلی رگوں کی بڑی خوشنما پچی کاری تھی۔ اور جب وہ پانی پیتی تھی تو اس کے گلے سے گزرتا ہوا ایک ایک گھونٹ دور سے گنا جا سکتا تھا۔
چندراوتی کو لاہور میں رہتے کافی عرصہ ہو چلا تھا۔ لیکن اب تک اس نے نہ جہانگیر کا مقبرہ دیکھا تھا، نہ نورجہاں کے مزار پر گئی تھی، نہ شالیمار باغ کی سیر کی تھی۔ اتوار کے اتوار میں ایک بائیسکل کرائے پر لیتا تھا، اور اسے کیریر پر بٹھا کے تاریخی مقامات کی سیر کرا لاتا تھا۔ وہ اپنے آشرم سے آلو کی بھجیا اور پوریاں بنا لاتی تھی، اور بڑی احتیاط سے میرا حصہ الگ کاغذ پر رکھ کر مجھے دے دیتی تھی۔ کیونکہ ذات کی وہ کٹر ہندو تھی۔ اور وہ اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو ہرگز ہرگز میرا ہاتھ نہ لگنے دیتی تھی۔ ایک اتوار ہم بادامی باغ کی سیر کے لیے گئے۔ وہاں پہنچ کر ہر طرف دیکھا بھالا لیکن نہ کہیں بادام نظر آئے اور نہ ہی کوئی باغ دکھائی دیا۔ مجبوراً ہم نے ایک گندے سے دھوبی گھاٹ کے قریب بیٹھ کر اپنا پک نک منا لیا۔
چندراوتی کو سائیکل پر بٹھا کر لاہور کی سڑکوں پر فراٹے بھرنے کی مجھے کچھ ایسی چٹیک پڑ گئی کہ میں نے اپنا ذاتی بائیسکل خریدنے کا تہیہ کر لیا۔ انہی دنوں ڈیلی ٹریبون میں نیڈو ہوٹل والے مسٹر نیڈو کا اشتہار نکلا کہ انہیں اپنے بیٹے کے لیے فوری طور پر پرائیویٹ ٹیوٹر کی ضرورت ہے۔ میں نے عرضی ڈال دی۔ مسٹر نیڈو سفید فرنچ کٹ داڑھی والے گول مٹول سے بوڑھے انگریز تھے۔ مجھے دیکھ کر بڑے مایوس ہوئے۔ کہنے لگے۔ لڑکا بڑا ضدی اور سرکش ہے۔ پڑھنے لکھنے کا نام نہیں لیتا۔ تم خود نو عمر ہو۔ تم اسے کیونکر سنبھالو گے۔ میں تو کسی تجربہ کار اور خرانٹ ٹیچر کی تلاش میں ہوں۔“
میں نے بے اعتنائی سے جواب دیا، کہ میں بھی بڑا مصروف ہوں۔ ایک ماہ سے زیادہ ٹیوشن نہیں کر سکتا۔ اگر اس عرصہ میں وہ لکھنے پڑھنے کی طرف مائل ہو گیا تو میری اجرت ایک عدد ریلے بائیسکل ہو گی۔ اگر یہ مقصد پورا نہ ہوا تو میں کوئی فیس نہ لوں گا۔
یہ سودا مسٹر نیڈو کے دل کو بھا گیا۔ لیکن ریلے بائیسکل کی جگہ انہوں نے ہرکولیس کی پیشکش کی۔ آخر کچھ بحثا بحثی کے بعد معاملہ ایک فلپس بائیسکل پر طے ہو گیا۔ ان ونوں ریلے کی قیمت 90 روپے، ہر کولیس کی 24 روپے اور فلپس 72 روپے ہوا کرتی تھی۔ ٹیوشن شروع کرنے سے پہلے میں نے مسٹر نیڈو سے کہا، کہ اگر لڑکا بہت بگڑا ہوا ہے، تو شاید کسی قدر سختی سے کام لینا پڑے۔ انہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟
مسٹر نیڈو عصبی المزاج بزرگ تھے۔ اپنے بیٹے کے لا ابالی پن سے نالاں نظر آتے تھے۔
میری بات سن کر انہوں نے گھبراہٹ سے ادھر ادھر دیکھا، کہ کوئی اور گوش بر آواز تو نہیں۔ پھر آہستہ سے میرے کان میں کہا۔ ”خدا تمہیں خوش رکھے۔ ضرور سختی کرو۔ لیکن دیکھنا کوئی ہڈی وڈی نہ توڑ بیٹھنا۔ میرے سر پر قیامت آ جائے گی۔“
جان نیڈو پندرہ سولہ برس کا مغرور سا لونڈا تھا۔ ایک ملازم مجھے اس کے کمرے میں لے گیا۔ اس نے ناک سکیٹر کر نفرت سے میری طرف دیکھا اور بدتمیزی سے بولا۔ "نکل جاؤ فوراً آپ کا اس کمرے میں کیا کام ہے؟"
"صبر، بیٹا صبر۔" میں نے کہا۔ میں تمہارا نیا ٹیوٹر ہوں۔ تمہیں پڑھانے آیا ہوں۔"
"اونہہ ٹیوٹر" جان نے تحقیر سے الفاظ چبا کر کہا۔ ”میں کہتا ہوں چلے جاؤ۔ میرے پاس فالتو وقت نہیں۔“
جان نے چھاتی پھلائی اور دونوں ہاتھ پتلون کی جیبوں میں ڈال کر میرے سامنے اکڑ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے بھانپ لیا کہ یہ لاتوں کا بھوت ہے، باتوں سے نہیں مانے گا۔ گربہ کشتن روز اول۔ میں نے اس کے منہ پر زور سے ایک زناٹے دار چانٹا رسید کیا۔ اور ڈانٹ کر کہا۔ ”یو سن آف بیچ۔ تمہاری اماں نے تمہیں استاد سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی؟ جیب سے ہاتھ نکال کر سیدھی طرح کھڑے ہو جاؤ۔"
جان نے کچھ اور اکڑ دکھائی، تو میں نے پے درپے اس کے دو تین اور تھپٹر لگا دیئے۔ وہ روتا ہوا دروازے کی طرف لپکا تو میں نے اسے گردن سے پکڑ کر روک لیا۔ اور کہا۔ "تمہارا باپ اس میں کوئی دخل نہ دے گا۔ میں اس سے پوچھ آیا ہوں"
"نان سنس۔" جان چلایا۔ ”میرا باپ مجھے مارنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔"
"صرف ہڈی توڑنے کی اجازت نہیں۔" میں نے اسے مطلع کیا۔ باقی سب چھٹی ہے۔"
جان نے مجھے بڑی شستہ انگریزی میں دو تین گالیاں دیں۔
میں نے اس کی کلائی مروڑ کر پیٹھ پر ایک لات جمائی اور اسے مرغا بننے کا حکم دیا۔ یہ اصطلاح اس کے لیے نئی تھی۔ میں نے خود مرغا بن کر اس کی رہنمائی کی۔ پانچ دس منٹ کان پکڑ کر اس کی طبیعت صاف ہو گئی۔ اور اس کے بعد ہمارے درمیان دوستی کا رشتہ استوار ہو گیا۔ ایک ماہ کے بعد جب میں اپنا فلپس سائیکل وصول کر کے رخصت ہونے لگا تو سارا گھر میرے پیچھے پڑ گیا کہ میں منہ مانگی فیس پر جان کا ٹیوٹر بنا رہوں۔ لیکن میری ٹیوشن تو چندراوتی کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ اس لیے میں نے انکار کر دیا۔
اب لاہور تھا اور میرا بائیسکل۔ کسی ٹریفک سارجنٹ نے بھی شہر کی اتنی گشت نہیں کی ہو گی جتنا کہ ہم دونوں نے لاہور کے گلی کوچوں کو کھنگال ڈالا۔ ایک اتوار میں چندراوتی کے پاس آشرم پہنچا، تو وہ اداس بیٹھی تھی۔ اس نے کوئی الٹا سیدھا خواب دیکھا تھا۔ اور وہ اپنی ماں کے لیے فکر مند تھی۔ میں نے اسے کیریر پر بٹھایا اور گرینڈ ٹرنک روڈ پر ایمن آباد کی راہ لی۔ میں سائیکل چلاتا رہا۔ چندراوتی پیچھے بیٹھی کوئی بھجن گنگناتی رہی۔ اور چھبیں ستائیس میل کا فاصلہ دیکھتے ہی دیکھتے وقت سے بہت پہلے ختم ہو گیا۔
ایمن آباد کی ایک تنگ و تاریک گلی میں دو چھوٹی چھوٹی کوٹھڑیوں کا ایک بوسیدہ سا گھر تھا۔ چندراوتی کی بیوہ ماں پہلے کپڑے سی کر گزارہ کیا کرتی تھی۔ پھر موتیا اتر آنے سے اس کی نظر کمزور ہو گئی تو سینے پرونے کا کام بند ہو گیا۔ اب وہ غلہ منڈی کے ایک آڑھتی جگدیش چندر کے ہاں برتن مانجھنے کپڑے دھونے اور گھر کی صفائی کرنے پر ملازم تھی۔ جگدیش چندر اسے معقول تنخواہ دیتا تھا۔ اس وجہ سے نہیں کہ اسے اس کا کام پسند تھا۔ بلکہ صرف اس وجہ سے کہ اس کی بیٹی خوبصورت تھی۔ ماں کی تنخواہ کے بہانے وہ دراصل چندراوتی پر سٹہ کھیل رہا تھا۔ یوں بھی جب کبھی وہ لاہور جاتا تھا تو چندراوتی کو اس کی ماں کی خیر خیریت بتانے آشرم ضرور جاتا تھا۔ جس روز پک نک کے لیے چندراوتی آلو کی بھجیا اور پوریوں کے علاوہ کچھ مٹھائی بھی لاتی تھی، تو میں سمجھ جاتا تھا کہ جگدیش چندر آیا ہو گا۔ اور پاؤ بھر مٹھائی کا نذرانہ دے کر رسم عاشقی نبھا گیا ہے۔ ایک دو بار میں نے جگدیش چندر کا نام لے کر چندراوتی کو چھیڑنے کی کوشش کی تو اس نے بڑے درد و کرب سے ہاتھ جوڑ کر منت کی۔ ”اس مورکھ کا نام نہ لو۔ تمہاری زبان میں کیڑے پڑ جائیں گے۔”
چندراوتی کی ماتا مجھے بڑی پسند آئی۔ اس کے پور پور سے شکستگی، شائستگی اور شانتی ٹپکتی تھی۔ اس نے برف ڈال کر دودھ کی کچی لسی بنائی۔ ان کے ہاں مسلمانوں کے لیے کوئی الگ برتن نہ تھا۔ اس لیے میں نے دونوں ہاتھوں کا چلو بنایا۔ چندراوتی نے گڑوی اٹھائی اور دیر تک اس میں دور سے لسی انڈیلتی رہی۔ ماتا جی یہ نظارہ دیکھ کر بہت ہنسی “ اور پھر چندراوتی کو ڈانٹا کہ گھر آئے ہوئے پروہنے کو کبھی ایسے بھی لسی پلایا کرتے ہیں؟
”کوئی بات نہیں ماتا جی۔" چندراوتی نے کہا۔ ”یہ تو اپنے ہی لوگ ہیں، کوئی پروہنا تھوڑی ہیں۔"
کہنے کو تو بے خیالی میں وہ یہ فقرہ بول گئی۔ لیکن پھر اپنے آپ اس کے کانوں کی لوئیں سرخ ہو گئیں۔ اور وہ جلدی جلدی برتن سمیٹ کر رسوئی میں چلی گئی۔
میں بھی راجہ اندر کی طرح آلتی پالتی مار کر موڑھے پر بیٹھ گیا۔ اور ان پھلجڑیوں کا مزہ لینے لگا جو چندراوتی کی بات سے میرے انگ انگ میں بڑی کثرت سے چھوٹنا شروع ہو گئی تھیں۔ کچھ دیر بعد پیپل کے پتوں کی دال اور بھنڈی کا سالن پروسا گیا۔ کھانے کا ایک ایک لقمہ گھی اور شکر اور شہد اور بالائی بن کر میرے گلے سے اتر گیا۔ تیسرے پہر جب ہم لاہور کے لیے روانہ ہوئے تو بائیسکل کے پیڈل اس طرح گھومنے لگے جیسے دھنکی ہوئی روئی کے گالے ہوا میں اڑتے ہیں۔ سائیکل ذرا تیز ہوئی تو مجھے بھی ترنگ آئی اور میں نے چندراوتی کو چھیڑنے کے لیے پروہنا سوہنا من موہنا سانولا سلونا وغیرہ کے قافیے جوڑ کر کچھ بے تکے سے عاشقانہ مصرعے الاپنے شروع کر دیئے۔ دو تین بار چندراوتی نے مجھے سختی سے ٹوکا۔ لیکن میرے سر پر بھی شاعری کا بھوت سوار تھا۔ جب میں نہ مانا تو آناً فاناً اس نے چلتی ہوئی سائیکل سے چھلانگ لگا دی۔ گرینڈ ٹرنک روڈ کے عین بیچ وہ منہ کے بل گری اور اس کی بائیں کہنی پر خاصی گہری خراش آئی۔ میں نے زخم صاف کرنے کے لیے اپنا رومال پیش کیا، تو اس نے غصے سے جھٹک کر زمین پر پھینک دیا۔
چندراوتی کو اصرار تھا، کہ اب وہ یہاں سے پیدل لاہور جائے گی۔ میرے ساتھ بائیسکل پر نہ بیٹھے گی۔ میں نے اسے لاکھ سمجھایا کہ لاہور ابھی اٹھارہ انیس میل کے فاصلے پر ہے۔ وہ اتنا کیسے چلے گی؟ میں اسے اکیلا چھوڑ کر کیسے چلا جاؤں؟ لیکن وہ بھی تریاہٹ کے سنگھاسن پر چڑھی بیٹھی تھی۔ ہر چند میں نے اپنے کان کھینچے ہاتھ جوڑے' معافی مانگی۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ آخر میں نے اپنی پیشانی زمین پر رکھدی اور اس کے سامنے گن گن کر ناک سے لکیریں کھینچنے لگا۔ وہ کھکھلا کر ہنس دی۔ ”ارے، یہ تم کس کو ڈنڈوت کر رہے ہو؟"
"دیوی جی ڈنڈوت نہیں کر رہا۔“ میں نے جواب دیا۔ ناک سے لکیریں کھینچ رہا ہوں تا کہ تم معاف کر دو۔“
چندراوتی نے سڑک پر پھینکا ہوا میرا رومال اٹھا کر مجھے دیا اور کہا ”لو رومال سے اپنی ناک صاف کر لو۔ بالکل سرکس کے کلاؤن نظر آ رہے ہو۔ اب شریف بچوں کی طرح بائیسکل چلانا۔"
چندراوتی ہر قسم کی آرزومندی سے بے نیاز تھی۔ اسے بس ایک حسرت تھی کہ وہ کسی طرح بنارس جا کر گنگا اشنان کر لے۔ میں نے اسے کئی بار چھیڑا کہ مسلمان بلی تو نو سو چوہے کھا کے حج کے لیے نکلتی ہے۔ ہندو کنیا کا بھی فرض ہے کہ پہلے وہ پاپ کی گٹھڑی کمائے پھر کہیں جا کر گنگا جی میں نہائے۔ یوں بھی میں نے اردو اور انگریزی ادب کے تیر بہدف اشاروں کنایوں، تلمیحوں تشبیہوں استعاروں اور طرح طرح کی ترکیبوں سے اس کا ذہن کسی قدر برانگیختہ کرنے کی بے حد کوشش کی، لیکن ہر بار منہ کی کھائی اور بڑی شرمندگی اٹھائی۔ رفتہ رفتہ ایک ہی بائیسکل پر بیٹھے ہوئے بھی ہم دو الگ الگ کروں میں بسنے لگے۔ جوں جوں میرے دماغ میں نفسیات کی بھڑوں کا چھتہ بنتا گیا اس رفتار سے ہمارے درمیان ایک وسیع و عریض خلا پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ وہ میرے ساتھ ہوتے ہوئے بھی کوسوں دور ہوتی تھی۔ دراصل میرے دل اور دماغ نے خواہشات کے جس راستے پر چلنا شروع کر دیا تھا وہ لحظہ بہ لحظہ مجھے اس سے دور ہی دور لے جا رہا تھا۔ جیسے جیسے یہ فاصلے بڑھتے گئے میرا مزاج چڑچڑا ہوتا گیا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں چندراوتی کے ساتھ جھگڑا مول لینا میرا معمول بن گیا۔ دن بھر اسے بائیسکل پر لادے لادے سڑکوں پر گھومنا مجھے بڑی احمقانہ اور طفلانہ حرکت محسوس ہونے لگی۔ اور میں اس گناہ بے لذت کی اکتاہٹ سے دل ہی دل میں جھنجھلانے لگا۔ کئی بار میرے سر پر یہ جنون سوار ہوا، کہ میں بائیسکل کو کسی تیز رفتار موٹر کے ساتھ ٹکرا کر چور چور کر دوں۔ کبھی میرا جی چاہتا تھا، کہ میں اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا گھونٹ دوں اور اس کا سر زمین پر مار کر کچے ناریل کی طرح پاش پاش کر دوں۔ ایک روز وہ ایک چھابڑی والے کے پاس تازہ گنڈیریاں کٹوانے کھڑی ہوئی تو میرے دل میں آیا کہ میں ایک موٹے گنے سے چندراوتی کو مار مار کر ادھ موا کر دوں اور گنڈیریوں والے کی درانتی سے اس کی ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنے دانتوں سے کچر کچر چبا ڈالوں۔ اس نے آ کر میرے حصے کی گنڈیریاں مجھے دیں تو میں نے جھنجلا کر انہیں نالی میں پھینک دیا۔
جب میں اپنے کمرے میں واپس آیا تو میرا جسم یوں ٹوٹ رہا تھا جیسے سڑک کوٹنے والا انجن مجھے روندتا ہوا گزر گیا ہے۔ ناشکیب آرزوؤں کے کوڑے سفاکی سے میری کمر پر برسنے لگے۔ نلسفتہ خواہشات کا گرم گرم دھواں اٹی ہوئی چمنی کی طرح میرے گلے میں پھنس گیا۔ کمرے کی چار دیواری سانپ کی طرح بل کھا کھا کر مجھے اپنی لپیٹ میں جکڑنے لگی۔ میرا دم گھٹ گیا۔ میرے سر میں کالے کالے بھونڈ اور زہرناک بھڑیں ہوائی جہاز کے انجن کی طرح بھنبھنانے لگیں۔ اور میرے جسم میں اوپر سے نیچے تک تیز رفتار چھپکلیوں کی فوج در فوج اچھلنے کودنے، سرسرانے لگی۔ میں گھبرا کر اٹھا اور باہر سڑک پر آ گیا۔ آدھی رات کا وقت تھا۔ چاروں طرف چھایا ہوا سناٹا قہقہے مار مار کر مجھ پر ہنسنے لگا۔ میں بھی ایک لیمپ پوسٹ سے لپٹ کر کھڑا ہو گیا۔ اور دیر تک زور زور سے جوابی قہقے لگاتا رہا۔ دو تین راہگیروں نے رک کر مجھے گھورا۔ اور پھر شرابی کا فتویٰ دے کر آگے بڑھ گئے۔
لاہور کی کوئی سڑک میرے ساتھ آشنائی کا اقبال جرم کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔ دکانوں پر لگے ہوئے سائن بورڈ بالکل اجنبی زبانوں میں لکھے ہوئے نظر آتے تھے۔ گلی کوچوں کی بیگانگی مجھے قدم قدم پر آوارہ کتے کی طرح دھتکارتی تھی۔ گھروں کے بند دریچے اپنی بلندیوں سے آخ تھو کر کے میرے منہ پر تھوک دیتے تھے۔ سڑکوں کے موڑ جگہ جگہ میرا راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے تھے اور میں ایک لاوارث کوڑھی کی طرح کبھی ادھر بھٹکتا تھا۔ کبھی ادھر بھٹکتا تھا۔ لاہور کی کوئی سڑک کوئی گلی، کوئی کوچہ مجھے راستہ دینے پر تیار نہ تھا۔ بیگانگی اور دیوانگی کے اس ماحول میں بس ایک دروازہ ایسا دکھائی دیا جو آدھی رات کے بعد بھی آغوش مادر کی طرح وا تھا۔ بہت سے لوگ بے روک ٹوک داتا دربار میں آ جا رہے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ یوں ہی بے وضو اندر گھس گیا، اور مزار کی ایک محراب سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ بڑی دیر تک میں آنکھیں بند کر کے انتہائی انہماک کے ساتھ "چندراوتی، چندراوتی“ کا ورد کرتا رہا۔ پھر ایکایک میرے اندر ایک ویکیوم Vacuum سا پیدا ہوا۔ اور میری محرومیوں کا آتش فشاں بھک سے پھٹ گیا۔ دبی ہوئی خواہشات کا کھولتا ہوا لاوا ابل ابل کر میرے روئیں روئیں سے پرنالوں کی طرح بہنے لگا۔ اور میں بڑی دیر تک محراب کے کونے میں سر دیئے دھاڑیں مار مار کر، بلک بلک کر روتا رہا۔ اس کے بعد مجھے کچھ اونگھ سی آ گئی۔
ایک موٹے سے متولی نے میری پسلیوں میں لاٹھی کا ٹھوکا دے کر مجھے بیدار کیا اور ڈانٹ کر کہا۔
"تم یہاں خراٹے لینے آئے ہو؟ بد نصیب کہیں گے۔ اٹھو اپنی داد فریاد کا واویلا مچاؤ۔ حضرت داتا گنج بخش سب کی سنتے ہیں۔“
میں نے اٹھ کر مسجد کے تالاب پر وضو کرنے کے بہانے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اور پھر واپس آ کر اپنی محراب میں بیٹھ گیا۔ میرے گرد و پیش کئی لوگ بڑے خضوع و خشوع سے اپنی اپنی مرادیں مانگ رہے تھے۔ کوئی روزگار مانگ رہا تھا۔ کوئی رزق مانگ رہا تھا۔ کسی کو بیماریوں سے شفا کی طلب تھی۔ کوئی مقدمہ جیتنے کی دعا کر رہا تھا۔ میں نے بھی بڑی یکسوئی سے اپنی مراد مانگنے کی تیاری کی۔ لیکن میری زبان دانی کی ساری عمارت دھری کی دھری رہ گئی۔ میرے دل کی آرزو اس قدر ننگی تھی، کہ الفاظ کا کوئی جامہ اس پر پورا نہ اترتا تھا۔ میں نے بڑی محنت اور کوشش سے فصاحت اور بلاغت اور ملامت اور شرافت اور شائستگی کے پیوند لگا لگا کر بہت سے فقرے بنائے لیکن ایک فقرہ بھی ایسا نہ تھا جو دراصل چندراوتی کی بے آبروئی نہ کرتا ہو۔ بزرگوں کے مزار پر اس قسم کے انداز گفتگو اور اس قسم کی اظہار تمنا سے مجھے حجاب سا آ گیا۔ داتا صاحب بھی کیا سوچیں گے، کہ یہ بیوقوف میرے سامنے کیسی الٹی باتیں کر رہا ہے۔ تصور ہی تصور میں مجھے داتا صاحب ایک ہاتھ میں تصبیح اور دوسرے ہاتھ میں جوتا اٹھائے اپنی جانب لپکتے ہوئے نظر آئے تو مجھے زور سے ہنسی آ گئی۔ ہنستے ہی ہنستے میں نے اٹھ کر ایک چھلانگ لگائی، اور آس پاس بیٹھے ہوئے کئی زائرین کو روندتا ہوا باہر بھاگ آیا۔
بس اس ایک چھلانگ میں تحلیل نفسی کا بیڑا پار ہو گیا۔ اس کتھارسس Catharsis کے بعد میں اپنے کمرے میں واپس آ کر بڑے آرام سے گھوڑے بیچ کر سو گیا۔ صبح ہوئی تو نہایا دھویا۔ نیا سوٹ پہنا اور سائیکل لے کر سیدھا چندراوتی کے آشرم میں پہنچ گیا۔ وہ بیوقوف لڑکی اب تک ماضی کی دلدل میں منہ پھلائے بیٹھی تھی کہ میں نے اس کی گنڈیریاں نالی میں کیوں پھینک دی تھیں۔ میں نے بڑی عاجزی سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی۔ لیکن وہ بدستور روٹھی رہی۔ اس پر میں نے اپنی ترپ چال چلی۔ بائیسکل ایک طرف رکھ دی۔ اور چندراوتی کے سامنے عین بیچ بازار سڑک پر ناک سے لکیریں نکالنے کی تیاری کرنے لگا۔ آشرم کے دروازے پر بر سر عام ایسی حرکت سے بڑی جگ ہنسائی کا خطرہ تھا۔ اس لیے وہ فی الفور مان گئی اور ہم دونوں بائیسکل پر سوار ہو کر لارنس گارڈن چلے گئے۔
اس روز سارا دن چندراوتی کچھ کھوئی کھوئی سی رہی۔ میرا فلاطونی راز و نیاز اس کی سمجھ میں بالکل نہیں آ رہا تھا۔ نہ ہی میرے غیر معمولی نشاط و انبساط کی بظاہر کوئی وجہ نظر آتی تھی۔ اس نے دو تین بار ناک سکیٹر سکیٹر کر میرا سانس سونگھنے کی کوشش کی کہ میں کوئی نشہ تو کر کے نہیں آ رہا۔ چندراوتی بھی عجب معمہ تھی۔ میرے ایام جاہلیت کی چھوٹی موٹی زیادتیوں اور بداطواریوں کو تو وہ برداشت کر لیتی تھی۔ لیکن اب جو میں شرافت اور شائستگی کا لبادہ اوڑھ کر اس کے سامنے آیا تو وہ بری طرح بور ہونے لگی۔ سائیکل کی سواری سے اس کا جی بھر گیا۔ شالیمار باغ، مقبرہ جہانگیر، لارنس گارڈن کی کشش ختم ہو گئی۔ بیڈن روڈ پر دہی بھلوں اور گول گپوں کا شوق بھی پورا ہو گیا۔ کامران کی بارہ دری میں اکٹھے بیٹھ کر گھنٹوں راوی کی لہریں گننے کا مشغلہ بھی بند ہو گیا۔ وہ چھوٹی چھوٹی بات پر میرے ساتھ الجھنے لگی۔ اس پر ایک بے نام سا اکل کھرا پن چھا گیا۔ اور وہ بات بات پر برہمی، جھنجلاہٹ اور آزردگی کا اظہار کرنے گئی۔ ایک روز کسی دکان سے قمیض کا کپڑا خرید رہی تھی۔ رنگوں کے انتخاب میں میں نے کچھ دخل در معقولات دیا تو وہ بگڑ کر آپے سے باہر ہو گئی اور خریداری چھوڑ چھاڑ کر پیدل ہی آشرم کو واپس لوٹ گئی۔ اگلے روز میں اس سے ملنے گیا، تو پنجرا خالی تھا۔ اس نے آشرم چھوڑ دیا، اور اپنا سامان لے کر وہ ایمن آباد چلی گئی تھی۔
میں اس کے تعاقب میں بھاگم بھاگ ایمن آباد پہنچا وہ ایک چٹائی پر بیٹھی اپنی ماں کی مشین سے کچھ کپڑے سی رہی تھی۔ میں نے اس کے سامنے اپنے گلوں اور شکوؤں کا پورا دفتر کھول دیا۔ ابھی تو گرمیوں کی چھٹیوں میں دس بارہ روز باقی تھے۔ وہ اتنے روز پہلے ہی کالج سے کیوں چلی آئی؟ لاہور کو چپ چاپ چوروں کی طرح کیوں چھوڑ دیا؟ مجھے کیوں نہ خبر کی؟
چندراوتی اپنی نظریں سلائی پر گاڑے خاموشی سے مشین چلاتی رہی۔ میرے سوالوں کا اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ لیکن کپڑے سیتے سیتے، سر اوپر اٹھائے بغیر اس نے آہستہ آہستہ دھیمے دھیمے لہجے میں مجھے آگاہ کیا کہ اس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ ساری گرمیوں کی چھٹیاں کپڑے سی کر کچھ پیسے جمع کرے گی اور ستمبر کے مہینے میں اپنی ماتا کو ساتھ لے کر گنگا اشنان کے لیے بنارس چلی جائے گی۔
"پروگرام تو بڑا اچھا ہے۔" میں نے طنزاً کہا۔ لیکن کالج میں تمہاری جگہ پڑھائی کون کرے گا؟
چندراوتی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اور سر جھکائے زور زور سے مشین چلاتی رہی۔ کوئی آدھ گھنٹہ ہم دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ پھر میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور بولا۔ ”اچھا اب میں جاتا ہوں۔ پھر کسی روز آؤں گا۔“
"ناں جی ناں۔" چندراوتی نے جلدی سے کہا۔ ”اب چھٹیاں چھٹیاں بالکل نہ آنا۔ میرے کام میں ہرج ہوتا ہے۔“
”چھٹیوں کے بعد حاضر ہونے کی اجازت ہے یا وہ بھی نہیں؟" میں نے کسی قدر تلخی سے پوچھا۔
”مجھے نہیں پتہ۔“ اس نے روٹھے ہوئے بچے کی طرح منہ پھلا کر کہا۔
وہ سر جھکائے کھٹ کھٹ مشین چلاتی رہی۔ میں کچھ دیر خاموشی سے بیٹھا رہا۔ اور پھر بائیسکل سنبھال کر چلا آیا۔ لاہور آ کر میں نے ٹیوشنوں کے اشتہار ڈھونڈنے شروع کئے اور گرمیوں کی چھٹیوں میں دو مہینے کے لیے کیمبلپور میں ایک رائے بہادر کے ہاں ٹیوشن کر لی۔ ایک لڑکا بی اے کی تیاری کر رہا تھا۔ دوسرا سیکنڈ ائیر میں تھا۔ وہ لڑکیوں نے میٹریکولیشن کا امتحان دینا تھا۔ چاروں کو دو ماہ پڑھانے کا دو سو روپیہ مشاہرہ طے ہوا۔ رائے بہادر نے رہنے کے لیے مجھے اپنے پٹوار خانے میں جگہ دے دی اور دو وقت کا کھانا اپنے ایک مسلمان کارندے کے ہاں مقرر کر دیا۔
رائے بہادر کی منت سماجت کر کے میں نے ایک سو روپیہ پیشگی وصول کر لیا اور اسے ایک بڑے خوشامدانہ خط کے ساتھ چندراوتی کی خدمت میں بھیج دیا۔ میں نے بڑی منت سماجت، ڈانٹ ڈپٹ سے اس کو لکھا کہ وہ سلائی مشین پر اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ بلکہ اپنے امتحان کی تیاری کرے۔ بنارس یاترا کے لیے دو سو روپیہ فراہم کرنا میری ذمہ داری ہے۔
چند روز کے بعد منی آرڈر جوں کا توں واپس آ گیا۔
اگلے ماہ میں نے پورے دو سو روپے کا منی آرڈر بھیجا۔ وہ بھی اسی طرح واپس آ گیا۔
چھٹیوں کے بعد میں خود ایمن آباد گیا۔ وہ چارپائی پر بیمار پڑی تھی۔ اس کی ماں پاس بیٹھی پنکھا کر رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر چندراوتی اٹھ کر بیٹھ گئی۔ میں نے شکایت کی کہ اس نے میرے بھیجے ہوئے پیسے واپس کیوں کر دیئے تھے؟
"منی آرڈر کیوں کیا تھا؟" چندراوتی نے تنک کر کہا۔ خود کیوں نہیں لائے؟
"خود کیسے لاتا؟" میں نے جواب دیا۔ ” تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ چھٹیوں میں یہاں نہ آؤں تمہارے کام میں ہرج ہوتا ہے۔“
”ہائے رام" چندراوتی نے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہا۔ ”تم میری ہر بات کو سچ کیوں مان بیٹھتے ہو؟“
چندراوتی کے منہ سے یہ الفاظ سن کر میں بے اختیار اس غرق شدہ لاش کی طرح ہاتھ پاؤں مارنے لگا جس کی آنکھ ایکا ایک کھل جائے اور اس پر یہ انکشاف ہو کہ جہاں وہ ڈوبی پڑی ہے وہاں پانی نہیں محض سراب ہے! میں نے ایک ایک کر کے اپنی انگلیوں پر ان مواقع کا شمار شروع کر دیا جب مجھے چندراوتی کی بات کو سچ نہیں سمجھنا چاہیے۔ تھا لیکن حماقت سے خواہ مخواہ سچ مان بیٹھا تھا۔
چندراوتی نے پنکھے کی ڈنڈی میرے سر پر مار کر مجھے چپ کرا دیا اور کہا۔ ”بس بس۔ اب زیادہ ہندی کی چندی نہ نکالو۔ بالکل دودھ پیتے بچے ہی بن گئے۔"
"کیوں نہ بنتا؟" میں نے بھی کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنا شروع کیا۔ ”تم میرے ہاتھ کا چھوا ہوا پانی کا گلاس تک تو پیتی نہیں ہو۔"
"ارے بھئی پانی کا گلاس تو پانی کا گلاس ہوتا ہے۔" چندراوتی نے عجیب طور پر ہنس کر کہا۔ ”بندہ پرندہ تو پانی کا گلاس نہیں ہوا کرتا نا۔“
بستر پر بیٹھے بیٹھے اس نے مجھے اپنی بیماری کی رام کہانی ایسے انداز سے سنائی جیسے کوئی شوخ بچہ سکول میں اپنی شرارتوں کے کارنامے سناتا ہے۔ ایک دن یونہی بیٹھے بٹھائے اسے ہلکی ہلکی حرارت شروع ہو گئی۔ پھر کھانسی کے ساتھ تیز بخار ہو گیا۔ ایمن آباد کے وید نے تپ محرقہ تشخیص کیا، اور ٹھنڈے شربتوں سے علاج کرتا رہا۔ کھانسی بڑھتی گئی، اور اکیس دن گزرنے کے بعد بھی جب بخار نہ ٹوٹا تو وہ گھبرا کر گوجرانوالہ ہسپتال میں سول سرجن کے پاس چلی گئی۔ ڈاکٹر نے ایکسرے لیا خون ٹیسٹ کیا تھوک کا معائنہ کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ چندراوتی کو تیسرے درجہ کی Galloping TB- ہو گئی ہے۔
ٹی بی کی خبر سن کر جگدیش چندر آڑھتی نے چندراوتی کی ماں کو اپنی گھریلو ملازمت سے نکال دیا۔ محلے والوں نے بھی ان کے ہاں آنا جانا بند کر دیا۔ اور اب وہ ماں بیٹی اپنی سلائی مشین پچ کر کھانے پینے اور دوا دارد کا کام چلا رہی تھیں۔
میں ہر دوسرے تیسرے دن صبح سویرے اپنی بائیسکل پر ایمن آباد چلا جاتا تھا۔ سارا دن ماں بیٹی کے ساتھ بیٹھ کر تاش کھیلتا اور گپیں ہانکتا۔ اور شام کو بائیسکل پر لاہور آ جاتا۔ لیکن رفتہ رفتہ چندراوتی کی کھانسی کے دورے بہت بڑھ گئے۔ کھانسی کی دھونکنی گھنٹہ گھنٹہ بھر بڑے بے رحمی سے چلتی۔ اور وہ بے سدھ ہو کر بستر پر گر جاتی۔ یہ دیکھ کر میں ایمن آباد اٹھ آیا۔ دن بھر چندراوتی کے پاس رہتا۔ رات کو ایک مقامی مسجد کے صحن میں پڑ کر سو رہتا۔
ایک روز چندراوتی کھانس رہی تھی، تو اس کے گلے میں کوئی پھانس سی اٹک گئی۔ اس نے زور سے کھنکار کر گلا صاف کیا، تو ہولی کی پچکاری کی طرح اس کے منہ سے چلو بھر خون نکل آیا۔ ساتھ ہی اسے شدت کے اسہال لگ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا چہرہ سنار کی کٹھالی میں گلتے ہوئے سونے کی طرح پگھل گیا۔ اور بستر پر لیٹے لیٹے اس کا تن بدن اس طرح گھلنے لگا جیسے پانی کے گلاس میں پڑی ہوئی مصری کی ڈلی اپنے آپ ریزہ ریزہ ہو کر تحلیل ہونے لگتی ہے۔ اب نہ وہ اٹھ سکتی تھی، نہ بیٹھ سکتی تھی، نہ چل سکتی تھی۔ میں غلہ منڈی سے پٹ سن کی تین چار خالی بوریاں خرید لایا۔ چندراوتی کی ماں نے انہیں کاٹ کر آٹھ دس گدیاں سی بنا لیں۔ وہ یہ گدیاں چندراوتی کے نیچے بستر پر بچھا دیتی تھی۔ جب کچھ گدیاں میلی ہو جاتی تھیں تو میں انہیں لپیٹ کر لے جاتا تھا اور گرینڈ ٹرنک روڈ کے قریب ایک کنوئیں پر دھو کر سکھا لاتا تھا۔
چندراوتی کا یہ حال دیکھ کر میں گوجرانوالہ کے سول سرجن کے پاس گیا۔ سارا احوال ہمدردی سے سن کر اس نے میرے ساتھ ایمن آباد چلنے سے انکار کر دیا لیکن سولہ روپےفیس لے کر ایک نئے مکسچر کا نسخہ ضرور لکھ دیا۔ میں مسکچر بنوا کر ایمن آباد پہنچا، تو چندراوتی سرگباش ہو چکی تھی۔
شام تک ارتھی تیار ہو گئی، شمشان بھومی میں ڈھائی من سوکھی لکڑی کی چتا بنائی گئی۔ چندراوتی کو اس میں لٹا کر بہت سا گھی چھڑکا، اور صندل کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے سے اسے آگ دکھا دی گئی۔ شعلے بھڑک بھڑک کر اژدہوں کی طرح ہوا میں زبانیں نکالنے لگے۔ دو تین برہمی زور زور سے منتر الاپنے لگے۔ ایک سادھو نے سنکھ بجایا۔ چنگاریاں چٹخ چٹخ کر دور تک آنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ لڑکی بھی جل کر راکھ ہو گئی جس نے کبھی میرے ہاتھ کا چھوا ہوا پانی تک نہ پیا تھا۔
چندراوتی کی ماتا نے ایک مدھم سی لالٹین کی روشنی میں اپنی بیٹی کے پھول چنے۔ اور راکھ سمیٹ کر ایک پوٹلی میں باندھ لی۔ لاہور آ کر میں نے اپنا بائیسکل بیچ دیا۔ اور چندراوتی کی ماں کو بیٹی کے "پھول" گنگا میں بہانے کے لیے بنارس جانے والی گاڑی میں سوار کر دیا ۔
لاہور ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ۲ سے جب بنارس والی ٹرین روانہ ہو گئی، تو اس کی پچھلی سرخ بتی دور تک اندھیرے میں خون آلود جگنو کی طرح ٹمٹماتی رہی۔ پلیٹ فارم پر تو بڑی چہل پہل تھی۔ لیکن میں سٹیشن سے نکل کر باہر آیا، تو چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ لاہور کے سارے لیمپ پوسٹ جادو کے زور سے غائب ہو گئے تھے۔ عاد اور ثمود کی بستیوں کی طرح اس شہر خموشاں کی عمارتیں بھی اپنی چھتوں پر اوندھی پڑی تھیں۔ ہر جانب کھنڈر ہی کھنڈر تھے۔ اس ویرانی میں مفلوج ہاتھ کی بے حس لکیروں کی طرح صرف ان مردہ شاہراہوں کا جال پھیلا ہوا تھا، جن پر میں چندراوتی کے ساتھ بائیسکل چلایا کرتا تھا۔ کئی روز تک میں دن رات ان شاہراہوں پر پا پیادہ گھومتا رہا۔ چلتے چلتے میرے پاؤں میں چھالے پڑ گئے۔ جب مزید چلنے کی سکت باقی نہ رہی تو مجبوراً میں گورنمنٹ کالج کے لان میں واپس آ گیا اور اپنا پہلا افسانہ لکھنے بیٹھ گیا۔ افسانے کا عنوان ”چندراوتی“ تھا۔ اور اس کا پہلا فقرہ یہ تھا:
”جب مجھے چندراوتی سے محبت شروع ہوئی۔ اسے مرے ہوئے تیسرا روز تھا۔......."
افسانہ لکھتے لکھتے میں کئی بار رویا کئی بار ہنسا۔ مکمل کرنے کے بعد میں نے یہ کہانی اختر شیرانی کی خدمت میں بھیج دی۔ انہوں نے اسے پسند فرمایا اور مجھے بڑا پیارا خط لکھا۔ افسانہ انہوں نے ” رومان“ میں شائع کر دیا۔ جب میں یہ افسانہ لکھ رہا تھا تو پروفیسر ڈکنسن کلاس لے کر حسب معمول لان سے گزرے۔ مجھے دیکھ کر رک گئے اور بولے:
"Hello, roosting alone? Where is your golden girl?"
میری آواز مچھلی کے کانٹے کی طرح گلے میں پھنس گئی، اور میں نے سسکیاں لے کر کہا:
"Sir. She has reverted to the gold mine."

تصانیف[ترمیم]

  1. شہاب نامہ خودنوشت سوانح حیات
  2. یاخدا
  3. نفسانے
  4. ماں جی
  5. سرخ فیتہ

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]