قدری میکانیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

قدری میکانیات یا کوانٹم میکانیات (انگریزی: Quantum mechanics) علم طبیعیات کی ایک شاخ جو جوہری اور زیر جوہری پیمانے پر کلاسیکی میکانیات (classical mechanics) اور کلاسیکی برقناطیسیت (انگریزی: classical electromagnetism) کے متبادل کے طور پر طبیعیات میں اپنی جگہ بناتی ہے اور اس کے نفاذات، تجربی اور نظریاتی طبیعیات دونوں میں ہی وسیع پیمانے پر دیکھنے میں آتے ہیں۔

علم دانوں میں سے نیلز بوہر نے جوہر، خاص طور پر سادہ ترین جوہر، آبساز کا ماڈل دیا جس میں توانائی کے مدار بتائے اور جوہر کا نصف قطر وغیرہ بتایا۔

آئن سٹائن نے جو نظریہ اضافیت دیا تھا اس کا ذرات پر اطلاق کرکے نتائج دیکھے گئے جو ذراتی طبیعیات کے تحت آتا ہے۔ ڈی بروگلی نے بتایا کہ ذرات موجوں کی طرح بھی عمل کرسکتے ہیں۔ ہائزنبرگ کا "اصولِ غیر یقینی" بہت اہمیت کا حامل ہے جو بتاتا ہے کہ آپ کسی ذرے کا مقام اور معیار حرکت ایک وقت میں معلوم نہیں کر سکتے۔ اس میں کچھ غیر یقینیت پائی جاتی ہے ۔

یعنی کلاسیکی میکانیات کا اطلاق جوہری سطح پر نہیں ہو سکتا اور ہمیں جوہر اور اس کے اندر موجود ذرات کی حرکت کو سمجھنے کے لیے قدری میکانیات کی ضرورت ہے۔ اس میں ذرات کی حرکت کو بتانے کے لیے موجی مساوات (wave equations) بنائی گئیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]