مندرجات کا رخ کریں

قدر (الٰہیات)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

القدر علمِ الٰہیات (الہیاتِ عقائد) میں اُس عقیدے کو کہا جاتا ہے جس کے مطابق خدا نے تمام واقعات کو پہلے ہی سے مقدر کر رکھا ہے۔ مسیحی عالم جان کالون (John Calvin) نے انجیل کی نصوص میں "قدر" کی تشریح یوں کی کہ خدا نے بعض انسانوں کے لیے ابدی لعنت (دوزخ) اور بعض کے لیے نجات (نجاتِ ابدی) کا فیصلہ پہلے سے کر رکھا ہے۔[1] عموماً "قدر" کی تفسیریں اُس مسئلے پر بحث کرتی ہیں جسے "آزادیٔ ارادہ کا تضاد" (paradox of free will) کہا جاتا ہے، یعنی: اگر خدا کا علم لامحدود اور ابدی ہے تو پھر انسان کی آزاد مرضی (free will) کا تصور کس طرح ممکن ہے؟

قدر اور حتمیت

[ترمیم]

یہ عقیدہ دوسری اقسامِ جبر (determinism) سے مختلف ہے۔ "قدر" سے مراد خدا کا ازلی فیصلہ اور اُس کا ہر چیز کے بارے میں پیشگی علم ہے — یعنی بعض کے لیے نجات اور بعض کے لیے ہلاکت کا مقدر ہونا، جیسا کہ جان کالون (John Calvin) کی تعلیمات میں بیان ہوا۔

بعض فلسفیانہ یا غیرتوحیدی نظاموں میں "قدر" کو مادی یا روحانی قوتوں کے زیرِ اثر سمجھا جاتا ہے، جیسے ہندو فلسفے کا تصور أدرِشتا (Adrsta) ایک نامعلوم طاقت جو کائنات پر اثر انداز ہوتی ہے۔

فزکس یا وقت کے سفر (time travel) جیسے نظریات میں "قدر" کا مطلب آخرت نہیں بلکہ آنے والے واقعات کا غیر متبدّل ہونا لیا جاتا ہے، جب کہ ایسے نظام میں جو "قدر" کا منکر ہو، مستقبل کو قابلِ تغیر مانا جاتا ہے۔ چینی بدھ مت میں "قدر" (predestination) کو یوان فین (Yuanfen) کہا جاتا ہے، لیکن اس میں کسی خدا یا اُس کے ارادے کا تصور نہیں ہوتا۔

آخر میں، بعض نظریات جبر کے خلاف یہ کہتے ہیں کہ کائنات میں واقعات کا نتیجہ غیر متوقع ہوتا ہے، جیسے قسمت (luck)، اتفاق (chance) یا نظریۂ شواش (chaos theory) میں۔ تاہم مذہبی اصطلاح میں "قدر" کا مطلب عام طور پر خدا کی الٰہی تقدیر ہوتا ہے، جیسا کہ اسلام اور عیسائیت میں مانا جاتا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "predestination." The American Heritage New Dictionary of Cultural Literacy, Third Edition. Houghton Mifflin Company, 2005. 13 Jun 2011. <Dictionary.com http://dictionary.reference.com/browse/predestination>. آرکائیو شدہ 2016-03-03 بذریعہ وے بیک مشین

مصادر خارجية

[ترمیم]