قرآن اور طبیعیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قرآن اور طبیعیات (Physics) دراصل قرآن میں جدید آبیات کے بارے میں معلومات اور انکشافات کو کہا جاتا ہے۔ قرآن کے ایک ہزار سے زیادہ آیات جدید سائنس کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ اور اس میں کئی آیات صرف طبیعیات کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ قرآن میں موجود طبیعیات کے متعلق حقائق جدید سائنس سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔[1][2]

ایٹم بھی تقسیم کیے جا سکتے ہیں[ترمیم]

قدیم زمانوں میں ایٹم ازم کا نظریہ کے عنوان سے ایک مشہور نظریے کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتاتھا۔ یہ نظریہ یونا ینوں نے بالخصوص ڈیموکر یٹس (Democritus) نامی ایک یونانی فلسفی نے پیش کیا تھا، جو آج سے 23صدیاں پہلے (2300سال پہلے) گزرا ہے۔ ڈیموکریٹس اور بعد ازاں اس کے ہم خیال لوگوں کا یہ تصور تھا کہ مادے کا مختصر ترین یونٹ (اکائی) ایٹم ہے۔ قدیم عرب بھی اسی تصور کو تسلیم کیا کرتے تھے۔ عربی لفظ ذرّہ کا عمومی مفہوم وہی ہو ا کرتا تھا جو یونانئیوں کے یہاں ایٹم کا تھا۔ حالیہ تاریخ میں سائنس نے دریافت کیا ہے کہ ایٹم کے قابل تقسیم ہونے کا تصور بھی بیسویں صدی کی سائنسی پیش رفت میں شامل ہے۔ چودہ صدیوں پہلے خود عربوں کے لیے بھی یہ تصور نہایت غیر معمولی ہوتا۔ ان کے نزدیک ذرّہ وہ حد تھی جس سے آگے مزید تقسیم ممکن ہی نہیں تھی۔ لیکن درج ذیل آیت میں قرآن پاک نے واضح طور پر اس حد کو ماننے سے انکار کیا ہے۔
وَ قَا لَ الَّذِ یْنَ کَفَرُوْ ا لَا تَا تِیْنَا السَّا عَةُ قُلْ بَلٰی وَ رَبِّیْ لَتَاْ تِیَنَّکُمْ عٰلِمِ الْغَیْبِ لَا یَعْزُ بُ عَنْہُ مِثْقَا لُ ذَ رَّ ةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْ ضِ وَلَآ اَ صْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلآ اَ کْبَرُ اِ لَّا فِیْ کِتٰبٍٍ مُّبِیْنٍٍ ہ[3]
ترجمہ:۔منکرین کہتے ہیں کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آ رہی ہو۔ کہو قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی،وہ تم پر آ کر رہی گی۔ اس سے ذرّہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے نہ زمین میں۔ نہ ذرّ ے سے بڑی اور نہ اس سے چھوٹی۔ یہ سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے۔
اسی طرح کا پیغام قرآن پاک کی سورة 10آیت 61میں بھی دیا گیا ہے۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں اللہ تبارک و تعالٰی کے عالم الغیب ہونے یعنی ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز سے با خبر ہونے کے بارے میں بتاتی ہے۔ پھر یہ مزید آگے بڑھتی ہے اور کہتی ہے کہ اللہ تعالٰی پر ہر چیز سے با خبر ہے، چاہے وہ ایٹم سے چھوٹی یا بڑی ہی کیوں نہ ہو۔ تو ثابت ہوا کہ یہ آیت مبارکہ واضح طور پر بتاتی ہے کہ ایٹم سے مختصر اشیاء بھی وجود رکھتی ہے۔۔۔۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو حال ہی میں جدید سائنس نے دریافت کی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قرآن اور جدید ساینس، مصنّف : ڈاکٹرذاکر نائیک، صفحہ 16
  2. قرآن، بائبل اور جدید ساینس، مصنّف : ڈاکٹرمارس بوکائے، صفحہ 155
  3. القرآن، سورة 34آیت 3