قرآن اور فعلیات (فزیالوجی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قرآن اور فعلیات (Physiology) دراصل قرآن میں جدید فعلیات کے بارے میں معلومات اور انکشافات کو کہا جاتا ہے۔ قرآن کے ایک ہزار سے زیادہ آیات جدید سائنس کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ اور اس میں بیسیوں آیات صرف فعلیات کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ قرآن میں موجود فعلیات کے متعلق حقائق جدید سائنس سے مکمل مطامبقت رکھتی ہے۔[1][2]

خون کی گردش (Blood circulation) اور دودھ۔[ترمیم]

قرآن پاک کا نزول، دوران خون کی وضاحت کرنے والے اولین مسلمان سائنس دان ابن النفیس سے ٦٠٠(چھ سو)سال پہلے اور اس دریافت کو مغرب میں روشناس کروانے والے ولیم ہاوے(William Harwey) سے ١٠٠٠(ایک ہزار) سال پہلے ہوا تھا۔ تقریباً تیرہ صدیوں پہلے یہ معلوم ہوا کہ آنتوں کے اندر ایسا کیا کچھ ہوتا ہے۔ جو نظام۔ ہاضمہ(Digestive System) میں انجام پانے والے افعال کے ذریعے دیگر جسمانی اعضاء کی نشود نما کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ قرآن پاک کی ایک آیت مبارکہ، جو دودھ کے اجزاء کے ماخذ کی وضاحت کرتی ہے اس تصور کی عین مطابقت میں ہے۔
مذکورہ بالا تصور کے حوالے سے آیت قرآنی کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ آنتوں میں کیمیائی تعاملات (chemical reaction) واقع ہوتے ہیں اور یہ کہ آنتوں ہی سے ہضم کردہ غذا سے اخذ کیے ہوئے مادے ایک پیچیدہ نظام سے گزر کر دوران خون میں شامل ہوتے ہیں۔ کھبی وہ (مادوں )کو تمام اعضاء تک پہنچاتا ہے جن میں دودھ پیدا کرنے والے (چھاتیوں کے ) غدود بھی شامل ہیں۔
سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آنتوں میں موجود غذا کے بعض مادے آنتوں کی دیوار سے سرایت کرتے ہوئے خون کی نالیوں (Vessels)میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر خون کے راستے یہ دوران خون کے ذریعے کئی اعضا تک جا پہنچتے ہیں۔ یہ فعلیاتی تصور مکمل طور پر لازماً ہماری گرفت میں آجائے گا۔ اگر ہم قرآن پاک کی درج ذیل آیات مبارکہ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
وَ اِ نَّ لَکُمْ فِی الْاَ نْعَا مِ لَعِبْرَ ةً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْ نِہ مِنْ م بََیْنَ فَرْ ثٍ وَّ دَ مٍٍ لَّبَنًا خَا لِصًا سَآ ئِغًا لِّلشّّٰرِ بِیْنَ ہ[3]
ترجمہ:اورتمھارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے۔ ان کے پیٹ سے گوبر اورخون کے درمیان سے ہم تمھیں ایک چیز پلاتے ہیں، یعنی خالص دودھ، جو پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوا رہے۔
وَ اِ نَّ لَکُمْ فِی الْاَ نْعَا مِ لَعِبْرَ ةً نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْ نِہَا وَ لَکُمْ فِیْھَا مَنَا فِعُ کَثِیْرَ ةُ وَّ مِنْھَا تَا کُلُوْ نَ ہ[4]
ترجمہ:۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تمھارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں ایک چیز (یعنی دودھ )ہم تمھیں پلاتے ہیں اور تمھارے لیے ان میں بہت فائدہ بھی ہیں۔ ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔
١٤٠٠ سال قبل، قرآن پاک کی فراہم کردہ یہ وضاحت جوگائے میں دودھ کے پیدا ہونے کے حوالے سے ہے، حیرت انگیز طور پر جدید فعلیات (physiology) سے بھر پور انداز میں ہم آہنگ ہے جس نے اس حقیقت کو حال ہی میں دریافت کیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قرآن اور جدید ساینس، مصنّف : ڈاکٹرذاکر نائیک، صفحہ 32
  2. قرآن، بائبل اور جدید ساینس، مصنّف : ڈاکٹرمارس بوکائے، صفحہ 195
  3. القرآن، سورة 16آیت 667
  4. القرآن، سورة23آیت21