قرون وسطیٰ کی مسلم دنیا میں علم فلکیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ہادی اصفہانی کا بنایا ہوا تانبے کا گول کرہ آسمانی جس میں منازل فلکی کی تصاویر اور نقشے دکھائی دیتے ہیں۔ زمانہ: 1197ھ/ 1782ء
تیرہویں صدی عیسوی کے مشہور ماہر فلکیات قطب الدین شیرازی کی شبیہ جس میں نظامِ شمسی کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔

قرون وسطیٰ میں مسلمانوں کے اقتدار پھیلنے کے ساتھ ساتھ یہ مذہب کے حکام اور رعایا اچھے سیکھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ثابت ہوئے۔ مسلم حکام نے مفتوحہ علاقوں کی ترقی یافتہ تہذیب کے مقابلے میں اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے مقامی اداروں، خیالات، نظریات اور ثقافت کو اسلامی سانچے میں ڈھال لیا۔ انہوں نے اپنے زیادہ ترقی یافتہ مفتوحین سے سیکھنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کی۔ عظیم لائبریریاں اور دار التراجم قائم ہوئے۔ سائنس، طب اور فلسفہ کی بڑی بڑی کتابوں کو مشرق و مغرب سے اکٹھا کر کے ان کے ترجمے کیے گئے۔ یونانی، لاطینی، فارسی، شامی اور سنسکرت زبانوں سے ترجمہ کرنے کا کام عام طور پر یہودی اور مسیحی مفتوحین نے سر انجام دیا۔ اس طرح ادب، سائنس اور طب کی دنیا بھر کی بہترین کتابیں عوام الناس کے لیے میسر ہو گئیں۔ ترجمے کے دور کے بعد تخلیقی کام کا دور شروع ہوا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]