قزاقوں کی جمہور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قزاق جمہوریہ
1706–1718

جالی راجر

دار الحکومت نساؤ
لسان/زبان انگریزی
عقیدہ / مذہب
پروٹسٹنٹ مطھری
قسم حکومت

ضابطہ عمل

تاریخی دور
دور قزاقی
 •  قیام عمل
1706
 •  تحلیل 1718
علاقہ
 •  1718 5358مربع میل
اسلاف
جانشین
سلطنت انگلستان
سلطنت برطانیہ
موجودہ

بہاماس

 قزاق جمہوریہ کی اصطلاح، ان پیشہ ور  ملاحوں کے لیے مستعمل ہے جنہوں نے قزاقی اختیار کی اور 1706 سے 1718  تک جزیرہ نساؤ پر قعلہ بندی قائم کر رکھی تھی۔ اگرچہ یہ کوئی مملکت یا ریاست کا درجہ نہیں پاسکی مگر اس کی حکومت کو  ایک خاص ضابطہ عمل کے تحت چلایا جاتا تھا۔ قزاقوں کی بڑھتی سرگرمیوں نے برطانوی بحری تجارت کا ستیاناس کر دیا، بالآخر 1718ء میں گورنر ووڈس راجر نے نساؤ پہنچ کر برطانوی تسلط کو بحال کیا۔

تاریخ[ترمیم]

بہاماس مین قزاقی دور کی شروعات 1696ء سے ہوئی جب ہینری ایوری نے سلطنت ہند  کے تجارتی بیڑوں سے لوٹا ہوا مال اپنے فینسینامی جہاز کے ذریعہ نساؤ کی بندگارہ میں لنگر انداز کیا۔ ہینری نے نساؤ کے گورنرنکولس ٹراٹ کو لوٹ کے مال سے بڑی رشوت دی، جس کے عوض نساؤ کی بندرگاہ کو قزاق بلاخوف و خطر استعمال کرنے لگے۔ قانونی طور سے گورنر ہی جزائر کے حکومتی امور کے ذمہ دار تھے، لیکن قزاقوں کا عمل دخل بتدریج بڑھتا گیا۔

قزاقی تسلط کا دور اس وقت شروع ہوا جب1703 اور 1709ء میں فرانسی ہسپانوی بحری بیڑے نے نساؤ پر چڑھائی کردی، بہت سے مکین بشمول گورنر صاحبان نقل مکانی  کر گئے۔ اس وقت انتظامی امور کو برطانوی ملاحوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا، جو گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ لاقانونیت کا شکارقزاقوں میں بدل گئے۔ 1713ء تک ہسپانوی جانشینی کی جنگ ختم ہو گئی تھی اور بڑے پیمانے پر ملاح بے روزگار ہو رہے تھے۔  روزگار کی تلاش میں ایسے کئی ملاحوں نے نساؤ کا رخ کیا، جہاں انہوں نے قزاقی اپنائی۔

قزاقی جمہور میں دو قزاق کپتان بااثر تھے، ایک بنجامن ہورنیگولڈ اور دوسرا  ہینری جین نگز۔ ہورنیگولڈ کے شاگردوں میں، ایڈوورڈ تھیچ کالی داڑھیہ، سام بیلہ می اوراسٹیڈ بونٹ مشہور تھے، ہینری جین نگز کے شاگردوں میں چارلس وین، کلیکو جیک راکھم، اینی بانی اور میری رہیڈ شامل تھے۔ آپسی اختلافات کے باوجود ان دو فرقوں نے اتحاد کیا اور "اُڑنچھو گینگ" کے نام سے خوب لوٹ مچائی۔ برمودا کے گورنر نے تاج برطانیہ کو حالات سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ قزاق ایک ہزار سے زائد کی تعداد میں ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں مکین ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اسی دوران ووٹ کے ذریعہ ایڈوورڈ کالی داڑھیہ نساؤ کا مجسٹریٹ منتخب ہو گیا اور قزاقی جمہور کی باگ دوڑ اس کے سپرد کر دی گئی۔

عام طور پر قزاق برطانوی  اور کمپنی کے جہازوں پر حملہ نہیں کرتے تھے، بلکہ سیاسی ضرورتوں کے تحت قزاقوں کو شاہی بحریہ کے جہازوں کی کمان بھی سونپی جاتی تھی۔ اور قزاق اپنی لوٹ مار سے، پناہ کے عوض منتخب گورنروں کو عطیات بھی دیا کرتے تھے۔ پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر تاج برطانیہ اور قزاقوں میں ٹھن گئی اور بادشاہ جارج اول نے بہاماس کی گورنری پر ووڈس راجرز کا تقرر کیا تاکہ وہ قزاقوں کا قلع قمع کر دے۔

1718 میں ووڈس راجرز نساؤ پر سات جہاز لیے لنگر انداز ہوا، آتے ہی اس نے ان سب قزاقوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جو رضاکارانہ طور سے ہتھیار ڈال دیں اور آئندہ لوٹ مار سے باز رہیں۔ ایسی معافی قبول کرنے والوں میں ہورنیگولڈ بھی شامل تھا، جس کو ووڈس راجرز نے آمادہ کیا کہ نافرمان قزاقوں کا پیچھا کرے اور ان کو ہلاک کر دے یا قیدی بنا لے۔ ہورنیگولڈ نے اس دوران دس قزاق گرفتار کیے جن میں سے نو کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔ اس طرح نساؤ میں برطانوی تسلط پھر سے قائم ہو گیا اور قزاقی جمہور معدوم ہو گئی۔

ضابطہ عمل[ترمیم]

قزاق اپنے  امور سر انجام دینے کے لیے قزاقی ضابطہ کا استعمال کرتے تھے، جس کے تحت ان کا دعویٰ تھا کہ نساؤ پر ان کا قبضہ ریاست کا قیام ہے۔ ضابطہ کے مطابق قزاق منشا عام  کے اصول کے تحت جہازرانی کرتے تھے، لوٹ مار سے ہاتھ آنیوالے مال میں سب برابر کے حصہ دار تھے اور، جہاز کے کپتان کا تقرر، عام ووٹ سے کیا جاتا تھا۔ اکثریت  قزاقوں کی ان ملاحوں پرمشتمل تھی جو ملکہ اینیکی جنگ کے بعد بے روزگار ہو گئے تھے اور نجی نوعیت کے تجارتی جہازوں پر بدسلوکی سے نالاں تھے۔ کچھ قزاق یعقوبیے بھی تھے جن کا مقصد "ٹوڈر نسل" کو دوبارہ تخت نشین کروانا تھا۔

نساؤ کے قزاق[ترمیم]

</gallery>

مزید پڑھیئے[ترمیم]

  • ساحل کے بھائی
  • تقسیم انصاف

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی لنک[ترمیم]