قسطنطنیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
  • یہ مضمون قدیم شہر قسطنطنیہ کے قیام سے ترک جمہوریہ کے قیام تک کی تاریخ کے بارے میں ہے۔ جدید شہر پر مضمون کے لیے دیکھیے استنبول


قسطنطنیہ
Byzantine Constantinople-en.png 

منسوب بنام قسطنطین اعظم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منسوب بنام (P138) ویکی ڈیٹا پر
انتظامی تقسیم
ملک Byzantine imperial flag, 14th century, square.svg بازنطینی سلطنت (1261–28 مئی 1453)
Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ (29 مئی 1453–28 اکتوبر 1923)
Byzantine imperial flag, 14th century, square.svg بازنطینی سلطنت (–1204)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر[1]
دارالحکومت بہ
متناسقات 41°00′44″N 28°58′34″E / 41.01224°N 28.976018°E / 41.01224; 28.976018  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
جیو رمز 745044  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر
بازنطینی دور کے قسطنطنیہ کا نقشہ

قسطنطنیہ (Constantinople) سن 330ء سے 395ء تک رومی سلطنت اور 395ء سے1453ء تک بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت رہا اور 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کےبعد سے 1923ء تک سلطنت عثمانیہ کا دارالخلافہ رہا۔ فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد فاتح نے اس شہر کا نام اسلام بول رکھا جو آہستہ آہستہ استنبول میں تبدیل ہو گیا۔ شہر یورپ اور ایشیا کےسنگم پر شاخ زریں اور بحیرہ مرمرہ کےکنارے واقع ہےاور قرون وسطی میں یورپ کا سب سےبڑا اور امیر ترین شہر تھا۔ اس زمانےمیں قسطنطنیہ کو Vasileousa Polis یعنی شہروں کی ملکہ کہا جاتا تھا۔

حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام بانگ درا کی مشہور نظام بلاد اسلامیہ میں قسطنطنیہ کو ملت اسلامیہ کا دل قرار دیا ہے اور ان الفاظ میں‌ اس شہر کو خراج تحسین پیش کیا ہے:

خطۂ قسطنطنیہ یعنی قیصر کا دیار

مہدیِ امت کی سطوت کا نشانِ پائیدار
صورتِ خاکِ حرم یہ سرزمیں بھی پاک ہے
آستانِ مسند آرائے شہِ لولاک ہے
نکہتِ گل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا
تربتِ ایوب انصاری سے آتی ہے صدا
اے مسلماں! ملت اسلام کا دل ہے یہ شہر
سیکڑوں صدیوں کی کشت و خوں کا حاصل ہے شہر

مختلف نام[ترمیم]

تاریخ میں قسطنطنیہ نےکئی نام اختیار کئے جن میں سے بازنطین، نیو روم (نووا روما)، قسطنطنیہ اور استنبول مشہور ہیں۔ شہر کا سب سے پہلا نام بازنطین ہے، یہ نام اسے میگارا باشندوں نےتقریباً600 ق-م میں اس کےقیام کے وقت دیا تھا۔ شہر کا موجودہ نام استنبول ہے۔

بنیاد[ترمیم]

قرون وسطی میں قائم کی گئی شہر کی فصیل

667 قبل مسیح میں یونان کی توسیع کےابتدائی ایام میں شہر کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس وقت شہر کو اس کےبانی بائزاس کےنام پر بازنطین کا نام دیا گیا۔ 11 مئی 330ء کو قسطنطین کی جانب سےاسی مقام پر نئےشہر کی تعمیر کےبعد اسےقسطنطنیہ کا نام دیا گیا۔

363ء سے رومی سلطنت کےدو حصوں میں تقسیم کےباعث قسطنطنیہ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔ 376ء میں جنگ ادرنہ میں رومی افواج کی گوتھ کےہاتھوں بدترین شکست کےبعد تھیوڈوسس نےشہر کو 60 فٹ بلند تین فصیلوں میں بند کر دیا۔ اس فصیل کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سےلگایا جاسکتا ہےکہ بارود کی ایجاد تک اسےتوڑا نہ جاسکا۔ تھیوڈوسس نے27فروری 425ء میں شہر میں جامعہ بھی قائم کی۔

7ویں صدی میں آوارز اور بعد ازاں بلغار قبائل نے بلقان کےبڑےحصےکو تہس نہس کر دیا اور مغرب سے قسطنطنیہ کے لیےبڑا خطرہ بن گئے۔ اسی وقت مشرق میں ساسانیوں نے مصر، فلسطین، شام اور آرمینیا پر قبضہ کر لیا۔ اس مو قع پر ہرقل نےاقتدار پر قبضہ کرکےسلطنت کو یونانی رنگ دینا شروع کیا اور لاطینی کی جگہ یونانی قومی زبان قرار پائی۔ ہرقل نے ساسانی سلطنت کےخلاف تاریخی مہم کا آغاز کیا اور انہیں عظیم شکست دی اور 627ءمیں تمام علاقےواپس لےلیے۔

اسی دوران اسلام قبول کرنےوالے عربوں کی طاقت ابھری جس نے فارس میں ساسانی سلطنت کا خاتمہ کرنےکےبعد بازنطینی سلطنت سے بین النہرین (میسوپوٹیمیا)، شام، مصر اور افریقہ کےعلاقےچھین لیے۔

مسلم افواج کے محاصرے[ترمیم]

عربوں نےدو مرتبہ 674ءاور 717ءمیں قسطنطنیہ کا ناکام محاصرہ کیا۔ دوسرا محاصرہ زمینی اور سمندری دونوں راستوں سےکیا گیا۔ اس میں ناکامی سےقسطنطنیہ کونئی زندگی ملی اور مسیحی اسےاسلام کےخلاف مسیحیت کی فتح تصور کرتےہیں۔

گیارہویں صدی کےبازنطینی سلطنت بتدریج زوال کی جانب گامزن رہی خصوصاً جنگ ملازکرد میں سلجوقی حکمران الپ ارسلان کےہاتھوں حیران کن شکست کےبعد رومی فرمانروا رومانوس چہارم کو گرفتار کر لیا گیا اور چند شرائط پر رہا کر دیا گیا۔ واپسی پر رومانوس کو قتل کر دیا گیا اور نئےحکمران مائیکل ہفتم ڈوکاس نےسلجوقیوں کو خراج دینےسےانکار کر دیا۔ جس کےجواب میں ترک افواج نےچڑھائی کرتےہوئے اناطولیہ کا بڑا حصہ فتح کر لیا اور بازنطینی سلطنت کو 30 ہزار مربع میل رقبےسےمحروم کر دیا۔

صلیبیوں کے ہاتھوں تباہی[ترمیم]

صلیبیوں کا قسطنطنیہ میں داخلہ، از یوجین ڈیلاکروئکس، 1840ء

صلیبی جنگ کےدوران 13اپریل 1204ءکو صلیبی افواج نےاپنےہی شہر قسطنطنیہ پر قبضہ کر لیا اور شہر کو شدید نقصان پہنچایا۔ 1261ءمیں بازنطینی افواج نےمائیکل ہشتم پیلولوگس کی زیر نگرانی لاطینی حکمران بالڈوین ثانی سےقسطنطنیہ واپس حاصل کر لیا۔

فتح قسطنطنیہ[ترمیم]

مکمل مضمون کے لیے دیکھیے فتح قسطنطنیہ

29مئی 1453ءکو سلطنت عثمانیہ کےفرمانروا سلطان محمد فاتح کےہاتھوں بازنطینی سلطنت کےساتھ قسطنطین یازدہم کی حکومت کا بھی خاتمہ ہو گیا اور قسطنطنیہ ملت اسلامیہ کےقلب کےطور پر ابھرا۔ شہر کےمرکزی گرجے ایاصوفیہ کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اور شہر میں مسیحیوں کو پرامن طور پر رہنےکی کھلی اجازت دی گئی۔ فتح قسطنطنیہ تاریخ اسلام کا ایک سنہری باب ہے جبکہ مسیحی اسے "سقوط قسطنطنیہ" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

قسطنطنیہ سے استنبول[ترمیم]

شہر 470 سال تک سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت رہا اور 1923ءمیں مصطفی کمال اتاترک نے انقرہ کو نئی ترک جمہوریہ کا دارالحکومت قرار دیا اور قسطنطنیہ کا نام استنبول رکھ دیا گیا۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

قسطنطنیہ کے یادگار تعمیرات

ایاصوفیہ کی کاشی کاری

نقشہ، دلچسپ مقامات کی نشاندہی کے ساتھ

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پرEmpty citation (معاونت)