مندرجات کا رخ کریں

قصر نور الایمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
قصر نور الایمان
 

ملک برونائی دار السلام   ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جگہ بندر سری بگاوان   ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاسیس سال 1984  ویکی ڈیٹا پر (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الموقع الرسمى باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نقشہ
إحداثيات 4°52′19″N 114°55′15″E / 4.87203056°N 114.92075556°E / 4.87203056; 114.92075556   ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

 

قصر نور الايمان برونائی کے سلطان کی سرکاری رہائش گاہ اور حکومت کا مرکزی دفتر ہے۔ یہ سلطنت کی دار الحکومت بندر سری بگاوان کے جنوب مغرب میں 1.9 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سلطان حسن البلقیہ نے اس کی تعمیر کا حکم دیا اور اسے فلپائنی ماہر تعمیرات لیاندرو لوکسن نے ڈیزائن کیا، جو 1984ء میں مکمل ہوا۔ اس کی مجموعی لاگت 1.4 ارب ڈالر تھی۔ [1][2]

تعمیراتی خاکہ

[ترمیم]
قصر(محل) نور الايمان

آستانا نور الايمان (یعنی نورِ ایمان محل) کی دروازہ لیاندرو لوکسن نے اس عظیم الشان محل کو مکمل طور پر ائیر کنڈیشنڈ بنایا، جس کی کل تعمیراتی رقبہ 2,00,000 مربع میٹر ہے اور یہ دنیا کا سب سے بڑا محل شمار ہوتا ہے۔ اس محل میں:

1788 کمرے ہیں ۔

257 باتھ رومز ہیں ۔

5 سوئمنگ پولز ہیں ۔

44 زینے (سیڑھیاں) ہیں ۔

18 لفٹیں (برقی سیڑھیاں) ہیں ۔

ایک بڑی ضیافت گاہ (بینکوئٹ ہال) ہے، جو 5000 افراد کی گنجائش رکھتی ہے ۔

ایک مسجد موجود ہے، جہاں 1500 نمازیوں کی گنجائش ہے ۔

ایک اصطبل ہے جس میں 200 گھوڑوں کے لیے جگہ ہے ۔

ایک گیراج ہے جس میں 110 گاڑیاں پارک ہو سکتی ہیں ۔

محل میں 564 فانوس (چمکتے جھاڑ) اور 51,000 بلب روشنی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ [3]

عوامی رسائی

[ترمیم]
دعوتوں کا ہال، جس میں 5,000 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے

یہ محل عام طور پر عوام کے لیے کھلا نہیں ہوتا، سوائے رمضان المبارک کے موقع پر۔ عید الفطر کی تین روزہ تقریبات کے دوران عوام کو محل میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ہر سال 1,10,000 سے زائد زائرین محل کا دورہ کرتے ہیں، جہاں انھیں کھانے کی ضیافت دی جاتی ہے اور بچوں میں سبز رنگ کے لفافے بانٹے جاتے ہیں، جن میں رقم ہوتی ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Largest residential palace"۔ موسوعة غينيس للأرقام القياسية۔ 2015-05-30 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-05-30
  2. Ploysri Porananond؛ Victor T. King (23 ستمبر 2016)۔ Tourism and Monarchy in Southeast Asia۔ Cambridge Scholars Publishing۔ ص 28–29۔ ISBN:978-1-4438-1661-8۔ 2020-04-01 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
  3. "Largest residential palace"۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز۔ 2015-05-30 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-05-30