قصیدہ بردہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(قصیدہ بردہ شریف سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قصیدہ بردہ (عربی:قصيدة البردة) جس کا مختصر نام قصیدہ میمیہ اورپورا نام قصیدۃ الکواکب الدریہ فی مدح خیر البریہ ہے ایک شاعرانہ کلام ہے

مصنف[ترمیم]

امام بوصیری جوکہ مصر کے معروف صوفی شاعر شرف الدین ابو عبداللہ محمد بن سعید بن حماد بن محسن بن عبداللہ الصنہاجی،البوصیری (694ھ-608ھ) مقام بھشیم میں پیداہوئے ، دلاص میں پرورش پائی اور اسکندریہ میں آپ کا وصال ہوا ۔ [1] نے تحریر فرمایا۔ آپ کی تحریر کردہ یہ شاعری پوری اسلامی دنیا میں نہایت معروف ہے۔

مقبولیت[ترمیم]

تصوف اور ولیوں کے ماننے والے مسلمانوں نے شروع ہی سے اس کلام کو بے حد عزت و توقیر دی۔ اس کلام کو حفظ کیا جاتا ہے اور مذہبی مجالس و محافل میں پڑھا جاتا ہے اور اس کے اشعار عوامی شہرت کی حامل عمارتوں میں مسجدوں میں خوبصورت خطاطی میں لکھے جاتے ہیں۔ کچھ مسلمانوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر قصیدہ بردہ شریف سچی محبت اور عقیدت کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ بیماریوں سے بچاتا ہے اور دلوں کو پاک کرتا ہے۔ اب تک اس کلام کی نوے (90) سے زائد تشریحات تحریر کی جاچکی ہیں اور اس کے تراجم فارسی، اردو، ترکی، بربر، پنجابی، انگریزی، فرانسیسی، جرمن، سندھی و دیگر بہت سے زبانوں میں کئے جا چکے ہیں۔[2]

طرزِ تحریر[ترمیم]

مولاي صلــــي وسلــــم دائمـــاً أبــــدا
علـــى حبيبــــك خيــر الخلق كلهـم
أمن تذكــــــر جيــــــرانٍ بذى ســــــلم
مزجت دمعا جَرَى من مقلةٍ بـــــدم
َمْ هبَّــــت الريـــــحُ مِنْ تلقاءِ كاظمــةٍ
وأَومض البرق في الظَّلْماءِ من إِضم
فما لعينيك إن قلت اكْفُفاهمتـــــــــــــــا
وما لقلبك إن قلت استفق يهـــــــــم
أيحسب الصب أن الحب منكتـــــــــــم
ما بين منسجم منه ومضطــــــــرم
لولا الهوى لم ترق دمعاً على طـــــللٍ
ولا أرقت لذكر البانِ والعلــــــــــمِ
فكيف تنكر حباً بعد ما شـــــــــــــهدت
به عليك عدول الدمع والســـــــــقمِ
وأثبت الوجد خطَّيْ عبرةٍ وضــــــــنى
مثل البهار على خديك والعنــــــــم
نعم سرى طيف من أهوى فأرقنـــــــي
والحب يعترض اللذات بالألــــــــمِ
يا لائمي في الهوى العذري معـــــذرة
مني إليك ولو أنصفت لم تلــــــــــمِ
عدتك حالي لا سري بمســــــــــــــتتر
عن الوشاة ولا دائي بمنحســـــــــم
محضتني النصح لكن لست أســـــمعهُ
إن المحب عن العذال في صــــــممِ
إنى اتهمت نصيح الشيب في عـــــذلي
والشيب أبعد في نصح عن التهـــتـمِ


تراجم[ترمیم]

قصیدہ بردہ شریف کا حال ہی میں کھوار زبان میں ترجمہ شایع ہوچکا ہے جسے کھوار شاعر محمد عرفان نے ترجمہ کیا ہے-

  1. معجم المؤلفین،ج3،ص317،الاعلام للزرکلی،ج6،ص139
  2. شرح قصیدہ بردہ پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی،مکتبہ دانیال لاہور