قطبی ریچھ
قطبی ریچھ اودبلاؤ کے شکار کے لیے بحرِ منجمد کی جمی ہوئی برف کا سہارا لیتے ہیں، ان کے بڑے پاؤں اور چھوٹے مگر بے حد کار آمد پنجے موسمی تغیر کی بدولت ہیں۔
دنیا کے نقشے پر قطبی ریچھ کے پائے جانیوالے مقامات کی نشاندہی
| ||||||||||||
| قواعد اسم بندی | ||||||||||||
| ||||||||||||
|
Ursus eogroenlandicus |
یہ ریچھ ہی کی ایک قسم ہے جو بحر منجمد شمالی اور اس کے اطراف میں پائی جاتی ہے۔ یہ زمین پر پایا جانے والا سب سے بڑا شکار خور جانور ہے، ایک بالغ نر کا وزن تقریباًً 680-400 کلو گرام یعنی 1،500 سے 800 پاؤنڈ تک ہوتا ہے،[1] جبکہ ایک مادہ کی قامت نر کے مقابلے میں آدھی ہوتی ہے۔ گو کہ یہ بھورے ریچھ سے بہت قریبی تعلق رکھتا ہے، تاہم موسم کے تغیرات کے سبب اس کے نسل میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے، یہ تبدیلیاں صرف خدوخال ہی میں نہیں بلکہ جسم میں بھی بہت سے تبدیلیاں آئیں ہیں جن کی بدولت سرد موسم کو برداشت کرنے والی جسم کی بناوٹ، کھلے پانی، برف اور منجمد سمندروں پر چلنے کی صلاحیت جو سمندری بچھڑے کے شکار میں نہایت معاون و مددگار ہے، سمندری بچھڑا اس کی مرغوب خوراک ہے۔[2] یہ برف زدہ سمندروں میں بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ شکار کرسکتے ہیں، قطبی ریچھ تقریباًً سارا سال بحر منجمد میں رہتے ہیں، تاہم زیادہ تر قطبی ریچھوں کی پیدائش زمین پر ہوتی ہے۔ اس کو برفانی ریچھ اور سفید ریچھ بھی کہا جاتا ہے۔
مزید دکھیں[ترمیم]
حوالہ جات[ترمیم]
- ↑ ڈورلنگ کندرسلے (2001,2005)۔ جانور۔ نیو یارک شہر: DK Publishing۔ آئی ایس بی این 0-7894-7764-5۔
- ↑ ارین گندرسن (2007)۔ "Ursus Maritimus"۔ رنگ برنگ جانوروں کا آن لائن۔ جامعہء مشی گن، عجائب خانہء حیوانات۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-10-27۔