قطب الدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قطب الدین
معلومات شخصیت
پیدائش ماوراء النہر  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 14 دسمبر 1766  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت War flag of Khanate of Bukhara.svg خانیت بخارا  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ صوفیت
P islam.svg باب اسلام

سیّد قطب الدین حَیدر بخاری جِس طرح ہندوستان میں خواجہ غریب نواز معین الدین حسن سنجری اجمیری ہندالولی مشہور ہیں۔ اسی طرح مدینہ منوّرہ میں آپ بھی ہند الولی کہے جاتے ہیں۔

نام و لقب[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی سیّد قطب الدین بخاری، عرف محمد اشرف اور لقب حیدر حسین ہے۔

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت با سعادت ماوراء النہر میں ہوئی۔

تعلیم[ترمیم]

ماوراء النہر ہی میں مختلف اساتذہ سے حدیث، فقہ، تفسیر اور معقولات و منقولات میں یدِ طولیٰ حاصل کیا۔ آپ عالمِ باعمل اور فاضلِ بے بدل تھے۔ کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔

طریقت[ترمیم]

پیرِ کامل کی تلاش میں سرہند شریف پہنچے اور خواجہ محمد زبیر قیّوم چہارم کے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے اجازت و خلافت حاصل کی اور اپنے شیخ کے انتقال کے بعد مسندِ خلافت پر بیٹھے۔ آپ کو امرا و اغنیاء کے اختلاط سے سخت نفر ت تھی۔ آپ شب و روز تلاوتِ قرآن مجید، ذکر الٰہی اور درود شریف میں مشغول رہتے تھے۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا فی الرّسول کے درجہ تک پہنچے ہوئے تھے۔ اور زیارتِ روضۂ انور کے لیے دن رات تڑپتے رہتے تھے۔ مسندِ شیخ پر چند سال بیٹھنے کے بعد ایک صاحبزادہ صاحب کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور یہ جھگڑا اور رنجش یہاں تک پہنچی کہ آپ کی غیرت اور رنجیدگی سے( سرہند شریف تباہ ہو گیا اسی واسطے امام رفیع الدین کو بانیٔ سرہند اور آپ کو فانی سرہند کہتے ہیں)۔ چھ سال تک سرہند شریف میں لرزہ اور زلزلہ رہا۔ سرہند شریف سے دہلی میں آکر آپ خواجہ باقی بااللہ کے آستانے پر کچھ عرصہ حاضر رہے تھے ] 1173ھ میں آپ حافظ سیّد محمد جمال اللہ کو اپنا خلیفہ و جانشین مقرر کر کے مدینہ منوّرہ روانہ ہو گئے کہ حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور سے لوگوں کو بشارت ہوئی کہ سیّد قطب الدین میرا فرزند اور میرا مہمان ہے۔ اس سے باطنی فیوض و برکات حاصل کر۔ چنانچہ بہت سے لوگ آپ کی خدمت با برکت میں بصد آداب و احترام حاضر ہوئے اور سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ میں داخل ہوکر دین و دنیا عقبیٰ و آخرت اور ظاہر و باطن کی نعمتوں کے سزاوار ٹھہرے۔

وفات[ترمیم]

آپ نے 11 رجب 1180ھ/1766ء کو رحلت فرمائی تو روضہ مقدسہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جالی مبارک سے ایک دستار برآمد ہوئی اور ارشاد ہوا کہ میرے فرزند قطب الدین کو اسی کا کفن دو۔ چنانچہ وہ دستار فیض آثار آپ کے کفن کو کافی دوافی ہوئی۔ آپ کا مزارِ پُر انوار خواجہ آدم نبوری خلیفہ مجدّد الف ثانی اور خواجہ محمد پارسا مرید و خلیفہ ح خواجہ خواجگان خواجہ نقشبند بخاری کے مزارات کے قریب جنت البقیع مدینہ منوّرہ میں واقع ہے۔ اور یہ تینوں مزارات امام حسن کے روضۂ مبارک کے شمال مغربی گوشہ میں واقعہ ہیں۔ اور دوسری قبروں سے ممتاز ہیں۔ عثمان ذالنُّورین کے مزار مقدس کی چھت کا پانی آپ کے مرقد انور پر گرتا ہے۔ [1]
تُرک دورِ حکومت تک جنت البقیع میں تمام مزارات مقدسہ بڑی شان کے ساتھ موجود تھے۔ مگر نجدی دور حکومت میں ہل چلا کر تمام مزارات کو منہدم کردیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے شورش کاشمیری کی کتاب ’’شب جائے کہ من بودم‘‘ اور صلاح الدین محمود کی کتاب ’’خاکِ حجاز کے نگہبان‘‘ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخِ مشائخ نقشبندصفحہ 439 محمد صادق قصوری زاویہ پبلشر لاہور