قطب الدین ایبک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قطب الدین ایبک
Tomb of Sultan Qutb al-Din Aibak.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1150  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وسط ایشیا  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 نومبر 1210 (59–60 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات گھوڑے سے گرنا  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مقبرہ سلطان قطب الدین ایبک  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات حادثہ  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد قطب بیگم، آرام شاہ  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان خاندان غلاماں  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان سلطنت دہلی   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
25 جون 1206  – 4 نومبر 1210 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png شہاب الدین غوری 
آرام شاہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان، سلطان سلطنت دہلی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

قطب الدین ایبک (پیدائش: 1150ء– وفات: دسمبر 1210ء) برصغیر کا پہلا مسلمان بادشاہ جس نے دہلی میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی، جو دہلی سلطنت کے نام سے مشہور ہوئی۔ نسلاً ترک تھا۔ ایک سوداگر اس کو ترکستان سے خرید کر نیشا پور لے آیا اور قاضی فخرالدین عبد العزیز کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ جس نے اس کو سلطان شہاب الدین غوری کی خدمت میں پیش کیا۔ سلطان نے کثیر رقم دے کر اسے خرید لیا۔ شکل و صورت توقبیح تھی لیکن ایک چھنگلیا ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس لیے لوگ اس کو ایبک شل (خستہ انگشت) کہتے تھے۔

قطب الدین نے رفتہ رفتہ اپنی صلاحیتوں کا سکہ سلطان پر بٹھا کر اس کا قرب حاصل کر لیا۔ 1192ء میں سلطان محمد غوری نے دہلی اور اجمیر فتح کرکے قطب الدین کو ان کا گورنر مقرر کیا۔ اگلے سال سلطان نے قنوج پر چڑھائی کی۔ اس جنگ میں قطب الدین ایبک نے اپنی وفا داری اور سپہ گری کا ایسا ثبوت دیا کہ سلطان نے اس کو فرزند بنا کر فرمان فرزندی اور سفید ہاتھی عطا کیا۔ قطب الدین کا ستارہ اقبال چمکتا گیا۔ اور اس کی فوجیں گجرات، راجپوتانہ، گنگا جمنا کے دوآبہ، بہار اور بنگال میں نصرت کا پرچم لہراتی ہوئی داخل ہوئیں۔ جب سلطان محمد غوری 15 مارچ 1206ء کو جہلم کے قریب، گکھڑوں کے ہاتھوں مارا گیا تو ایبک نے جون 1206ء کو لاہور میں اپنی تخت نشینی کا اعلان کر دیا۔

قطب الدین ایبک کی گورنری کا زمانہ فتوحات میں گزرا تھا۔ تخت پر بیٹھ کر اس نے امور سلطنت پر توجہ دی۔ اس کا بیشتر وقت نوزائیدہ اسلامی سلطنت میں امن و امان قائم رکھنے میں گزرا۔ عالموں کا قدر دان تھا۔ اور اپنی فیاضی اور دادودہش کی وجہ سے تاریخ میں لکھ بخش کے نام سے مشہور ہے۔ نومبر 1210ء میں لاہور میں چوگان (پولو) کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر راہی ملک عدم ہوا اور انار کلی کے ایک کوچے (ایبک روڈ) میں دفن ہوا۔

مقبرہ[ترمیم]

قطب الدین ایبک کا مقبرہ لاہور میں انارکلی بازار کے پہلو میں ایبک روڈ پر واقع ہے۔ یہ مقبرہ وقت اور حالات کے ہاتھوں برباد ہوتا رہا، یہاں تک کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں یہ ایک سکھ کی ملکیت میں رہا انگریزوں کے دور میں یہ مقبرہ خستہ حالی کی منہ بولتی تصویر تھا قیام پاکستان کے بعد صدر ایوب خان کے دور میں محترم حفیظ جالندھری نے ان سے گزارش کی کہ مجاہد اسلام کے مقبرہ کی مرمت اور تزئین وآرائش کا بندوبست کروایا جائے صدر پاکستان نے ان کی درخواست قبول کی اور آج یہ مقبرہ مجاہد اسلام کی شان وشوکت سنبھالے کھڑا ہے۔

ماقبل 
خاندان غلاماں
25 جون 1206ء4 نومبر 1210ء
مابعد 
آرام شاہ
ماقبل 
سلطان سلطنت دہلی
25 جون 1206ء4 نومبر 1210ء
مابعد 
آرام شاہ