قطب شاہی اعوان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اولاد میں سے پانچ سے سلسلہٴ نسل جاری رہا۔ اور وہ پانچ یہ ہیں: حضرت حسن رضی اللہ عنہ ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ ،حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عباس علمدار رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ ۔ (البدایہ والنہایہ: ۱۱/ ۲۵تا ۲۷اور تاریخ اسلام: شاہ معین الدین ندوی، ص: ۳۲۸)۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولادیںسادات کہلائیں، جبکہ حضرت محمد بن الحنفیہ ، عباس علمدار ، حضرت عمر کی اولادیں اعوان کہلائیں،

اے گلوسری آف ٹرائب کے مصنف مؤرخ روز لکھتے ہیں کہ "اعوان قبیلے کے بارے میں دستیاب روایات میں سے سب سے بہترین یہ ہے کہ" اعوانوں کو حقیقت میں عربی نژاد اور قطب شاہ کی نسل سے کہا جاتا ہے۔"[1]

حضرت عمر کی اولاد اس طرف کم آئی جبکہ حضرت محمد بن الحنفیہ ، عباس علمدار کی اولادیں ہندوستان وارد ہوئیں، محمّد الاکبر المعروف محمّد الحنفیہ کی اولاد قطب شاہی اعوان کہلائی اور عباس علمدار کی اولاد عباسی اعوان کہلائی

اعوان کی اقسام[ترمیم]

ا ایک عباسی اعوان غازی عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے قطب شاہی اعوان محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ کی اولاد ہیں

اس بات پر سب ھی کا اتفاق ھے کہ عون کی وجہ سے یہ قبیلہ اعوان کہلاتا ھے. عون کی جمع اعوان ھے۔

قطب شاہی اعوان (عراقی، بغدادی)[ترمیم]

یہ غازی غازی عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں. حضرت عون العروف قطب شاہ قادری کی ولادت کاذکر مورخین بغداد شریف میں کرتے ہیں۔آپ کا نام نامی ’’عون‘‘ کنیت سامی ،، ابو عبداللہ تھی اس کے علاوہ بھی کئی القابات سے شہرت پائی لیکن سب سے زیادہ معروف نام قطب شاہ ہے۔آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ تھیں جو کہ حضورسیدنا غوث الاعظم رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ کی سگی بہن تھیں۔آپ ہرات کے راستے بغداد شریف سے ہندوستان آئے اور پنجاب کے اہل ہنود سے کافی عرصہ مصروف جہاد رہے. ان کی اولاد میں سے منگانی شریف والے پیر صاحب کی ان کے شجرہ نسب کی کتاب

تاریخ ابن کرم

بہ حوالہ اخبار نوائے وقت

مشہور ہے، جسکی تقریظ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور یوسف رضا گیلانی نے لکھی ہے۔[2]

قطب شاہی اعوان (خراسانی، ہراتی)[ترمیم]

یہ محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں

جنکی اولاد میں سے حضرت سلطان العارفین باہو رحمتہ اللہ علیہ اور پیر سیال رحمتہ اللہ علیہ مشہور ہیں

دوسری صدی ہجری یہ قوم عون عرف قطب غازی(قطب شاہ اول) لقب بطل غازی بن علی عبدالمنان بن حضرت محمد الاکبر المعروف محمد حنفیہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد علوی اور بنی عون کہلاتی تھی(بحوالہ نسب قریش عربی 200ھ و المنتخب فی نسب قریش وخیارالعرب عربی 656 ھجری و منبع الانساب فارسی 830 ھ). بنی عون ،آل عون وعون آل سے مراد قطب شاھی علوی اعوان قبیلہ ھے. عون علی یحییٰ بن زید بن امام زین العابدین بن امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ 125ھ کوفہ سے ہرات، خراسان و غزنی ھجرت کر گئے تھے.عون بن علی اور زیدبن علی تبریز کی پہاڑی پر ھونا درج ھیں نیز عون عرف قطب غازی کی قبر غزنی وہرات بھی روایت کی جاتی ھے. عون بن علی کی اولاد عرب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت سے علوی، عون کی وجہ سے بنی عون اور عون کے عرف قطب غازی کی کی نسبت سے قطب شاہی کہلائی ….ھند آنا اور سلطنت غزنویہ کا حوالہ……. عون بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد کا ھند آنا اور سلطنت غزنویہ سے منسلک ھونے کا حوالہ تاریخ بہقی (385ھ-470ھ)،تہذیب الانساب عربی 449 ھ ، منتقلہ الطالبیہ عربی 471ھجری، لباب الانساب عربی 565 ھ اور منبع الانساب فارسی 830 ھ کے مطابق ھند آنا اور سلطنت غزنویہ اورسلطان محمود غزنوی کے ساتھ جہاد ھند میں شامل ھونے کی تصدیق ھوتی ھے

منبع الانساب ،مرات مسعودی فارسی وتاریخ حیدری کے مطابق قطب حیدر علوی بن عطا اللہ غازی بن طاہر غازی بن طیب غازی بن محمد غازی بن شاہ علی غازی بن محمد اسھل(آصف) نے سلطان محمود غزنوی کے ھمراہ جہادھند میں حصہ لیا اب کے علاوہ ان کے بھائیوں میں سالار شاھوغازی و سالار سیف الدین غازی اور بھتیجے سالار مسعود غازی شہید 424 نے بھی جہاد ھند میں عظیم کارہائے نمایاں سرانجام دئے

(بحوالہ نسب قریش عربی 200ھ ،تہذیب الانساب عربی 449 ھجری ،المعقبون عربی 277ھ ،منتقلہ الطالبیہ عربی 471ھجری ،لباب الانساب عربی 565 ھ ،المنتخب فی نسب قریش وخیارالعرب عربی 656

ھجری ،بحرالانساب عربی 900ھ ،منبع الانساب فارسی 830 ھ ،مرات مسعودی فارسی 1037 ھ ،مرات الاسرار فارسی 1065ھ ،تاریخ علوی 1896ء، تاریخ حیدری 1911ء ،تاریخ الاعوان ،تذکرہ الاعوان، تحقیق الاعوان ،تاریخ علوی اعوان ،نسب الصالحین، تحقیق الانساب جلد اول ودوم ،اعوان اور اعوان گوتیں، حقیقت الاعوان ،تاریخ قطب شاھی علوی اعوان ،مختصر تاریخ علوی اعوان مع ڈائریکٹری ، تاریخ خلاصتہ الاعوان ،آئینہ اعوان ، اعوان شخصیات ھزارہ اور حضرت بابا سجاول علوی قادری تاریخ کے آئینے میں، اعوان انسائیکلوپیڈیا[3]

اعوان جینیاتی تھیوری[ترمیم]

ایڈتھ کوون یونیورسٹی ، آسٹریلیا کے سینٹر فار ہیومن جینیٹکس، آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف پیتھالوجی، پاکستان اور انسٹی ٹیوٹ آف جنرل جینیٹکس آف رشین اکیڈمی آف سائنس، روس نے اعوان اور اس کے ہزارہ ڈویژن میں قریبی قبائل یعنی کھٹر اور راجپوت پر مختلف جینیاتی مطالعات کیے، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اعوان جینیاتی طور پر الگ تھلگ، endogamous اور اپنے ہمسایہ قبائل سے بہت مختلف ہیں۔

ہزارہ یونیورسٹی ، پاکستان کے شعبہ جینیات، یونیورسٹی آف الاسکا فیئر بینکس، یو ایس اے کے شعبہ بشریات اور ہزارہ یونیورسٹی، پاکستان کے سینٹر فار ہیومن جینیٹکس نے مختلف مطالعات کا انعقاد کیا جس میں ایم ٹی ڈی این اے سے ہائپر ویری ایبل سیگمنٹ I (HVSI) کا تجزیہ کیا گیا تاکہ جینیاتی نسب کو قائم کیا جا سکے۔ شمالی پاکستان میں رہنے والی آبادی۔ 16191-16193 کی پوزیشن پر تھری سائٹوسین ڈیلیٹیشن (CCC) اعوان نسل کی آبادی میں واضح طور پر دیکھی گئی جس سے پتہ چلتا ہے کہ اعوانوں کا جینیاتی طور پر سید وں سے بہت گہرا تعلق ہے اور اس طرح ان کا تعلق عرب ہے۔

Alt text یہ خاکہ سات مختلف پاکستانی نسلی گروہوں کے مائٹوکونڈریل ڈی این اے کے درمیان وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ HVSI ترتیب کی بنیاد پر مختلف قبائل کا تعلق، کیمبرج حوالہ ترتیب کی بنیاد پر۔

[1]پی ڈی ایف رپورٹ[4]

EnWiki یہاں بھی حوالہ دیکھیں

مذید یہ بھی ریکارڈ کیا گیا کہ ہاپلو گروپ ٹی ون صرف اعوان برادری میں پایا جاتا ہے، اس ہیپلوگروپ کا origin مڈل ایسٹ ہے، اس طرح یہ واضح ہوتا ہے کہ کہ یہ قبیلہ عرب نژاد ہے۔[5]

مشہور اعوان شخصیات اور علاقے[ترمیم]

ا[ترمیم]

ب[ترمیم]

ت[ترمیم]

ج[ترمیم]

ح[ترمیم]

خ[ترمیم]

د[ترمیم]

ر[ترمیم]

س[ترمیم]

ش[ترمیم]

ع[ترمیم]

غ[ترمیم]

ق[ترمیم]

م[ترمیم]

ن[ترمیم]

و[ترمیم]

ٹ[ترمیم]

پ[ترمیم]

چ[ترمیم]

ڈ[ترمیم]

ک[ترمیم]

گ[ترمیم]

ی[ترمیم]

مآخذات[ترمیم]

  • کتاب نسب قریش عربی تالیف لابی عبد اللہ المصعب بن عبد اللہ بن المصعب الزبیری (236-156ہجری) صفحہ77،
  • تہذیب الانساب ونہایۃ الاعقاب عربی تالیف ابی الحسن محمدبنی ابی جعفر(449ہجری) صفحات273-274،
  • منتقلۃ الطالبیہ عربی تالیف الشریف النسابہ ابی اسماعیل ابراہیم بن ناصرابن طباطبا(471ہجری)صفحات 303،331،352،
  • مہاجران آل ابی طالب فارسی تالیف الشریف النسابہ ابی اسماعیل ابراہیم بن ناصرابن طباطبا(471ہجری)صفحات 246،255،332،
  • لباب الانساب والالقاب والاعقاب عربی (565ہجری) تالیف ابی الحسن بن ابی القاسم صفحہ 727،
  • منبع الانساب فارسی تالیف السیدمعین الحق جھونسوی (830ہجری) صفحات103-104،
  • مرات مسعودی فارسی تالیف عبد الرحمن چشتی (1014ہجری تا1037)ص 7،
  • مرات الاسرار فارسی تالیف عبد الرحمن چشتی (1045-1065ہجری) ص142،
  • تاریخ بحرالجمان تالیف سیدمحبوب شاہ داتا (1332ہجری)،
  • تحقیق الاعوان تالیف ایم خواص خان گولڑہ اعوان (1966) ص 156،
  • تاریخ الاعوان تالیف ملک شیرمحمداعوان آف کالاباغ،
  • تذکرۃ الاعوان تالیف ملک شیرمحمداعوان آف کالاباغ ،
  • تاریخ علوی اعوان تالیف محبت حسین اعوان ایڈیشن 1999ص 347و752،
  • حقیقت الاعوان تالیف صوبیدارمحمدرفیق اعوان چکوال،
  • تحقیق الانساب جلداول تالیف محمدکریم خان اعوان،
  • تحقیق الانساب جلد دوم ص 224،
  • تاریخ قطب شاہی علوی اعوان تالیف محمدکریم خان اعوان سنگولہ راولاکوٹ آزادکشمیروملک مشتاق الہی اعوان مردوآل وادی سون سکیسر ص 6،
  • مختصرتاریخ علوی اعوان معہ ڈائریکٹری ص 4
  • ،144) Glossery of Tribe vol.2, page 26,
  • The Punjab Chiefs Revised Edition by W.L.Conran & H.D.Craik vol.-2,page 292,
  • Punjab Cast by Sir Denzil Ibbetson ch-iv,page 389
  • اعوان قبیلہ تعارف یوسف جبریل
  • تاریخ اعوان
  • حقیقت الاعوان جلد اول صوبیدار(ر) محمد رفیق علوی ص2

علوی اعوان </ref>https://en.wikipedia.org/wiki/Awan_(tribe)</ref> {{عرب قبائل}}

  1. "اے گلوسری آف ٹرائبز". 
  2. "نوائے وقت". 
  3. "انسائیکلوپیڈیا". 
  4. "رپورٹ" (PDF). 
  5. "عرب نژاد". 
  6. "اعوان آبادی". 
  7. "احمد ندیم قاسمی". 
  8. "بابر افتخار". 
  9. "بھمب اعوان". 
  10. "خادم حسین رضوی". 
  11. "Wiki Sultan bahoo". 
  12. "خواجہ شمس الدین سیالوی".