قطب شمالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شمالی قطب سے عموماً جغرافیائی شمالی قطب مراد لی جاتی ہے اگرچہ شمالی قطب کئی قسم کے ہیں۔ جغرافیائی شمالی قطب سے مراد زمین کا شمالی ترین نقطہ ہے یعنی °90 درجے شمالی عرض بلد۔ یہ ایسا نقطہ ہے جس سے آپ جس طرف کو بھی چل پڑیں آپ جنوب ہی کی طرف جا رہے ہوں گے۔ قطب نما اس جغرافیائی شمالی قطب کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ مقناطیسی شمالی قطب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شمالی قطب 5 قسم کے ہیں جومندرجہ ذیل ہیں

جغرافیائی قطبین
  • جغرافیائی قطب شمالی
  • مقناطیسی قطب شمالی
  • ارضی۔مقناطیسی قطب شمالی
  • سماوی قطب شمالی
  • بعید ترین قطب شمالی

ان تمام مختلف تعریفوں کے مطابق شمالی قطب کو بحری سفر کے لیے اور صحرا میں سفر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آج کل ان کا استعمال فلکیات دان، ریاضی دان اور ارضی علوم کے ماہرین کثرت سے کرتے ہیں۔ زمین کے جتنے نقشے بنتے ہیں وہ جغرافیائی شمالی قطب کو مدِنظر رکھ کر بنتے ہیں اسی لیے اسے صحیح شمالی قطب بھی کہتے ہیں۔ قابلِ تصدیق ریکارڈ کے مطابق پہلی دفعہ 1909 میں کوئی انسان اس تک پہنچ سکا تھا۔

جغرافیائی قطب شمالی[ترمیم]

شمالی قطب کے قریب ناروے میں آدھی رات کو سورج نکلا ہوا ہے

جغرافیائی شمالی قطب سے مراد زمین کا شمالی ترین نقطہ ہے یعنی °90 درجے شمالی عرض بلد۔ یہ ایسا نقطہ ہے جس سے زمین کا گردشی محور زمین کی شمالی سطح سے ٹکراتا ہے۔ گردشی محور وہ فرضی لکیر ہے جس پر زمین اپنے اردگرد گردش کرتی ہے۔ یہ ایسا نقطہ ہے جس سے آپ جس طرف کو بھی چل پڑیں آپ جنوب ہی کی طرف جا رہے ہوں گے۔ اسے صحیح شمالی قطب بھی کہتے ہیں۔ جغرافیائی شمالی قطب شمالی بحر منجمد شمالی میں واقع ہے مگر اس پر برف کی موٹی تہہ جمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس پرمستقل تجربہ گاہیں تعمیر کی گئی ہیں۔ مقناطیسی قطب نما اس کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ مقناطیسی شمالی قطب کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اس سے سینکڑوں کلومیٹر دور بھی ہے اور بدلتا بھی رہتا ہے۔ جغرافیائی شمالی قطب چونکہ برف پر واقع ہے اور برف بہت غیر محسوس طریقہ سے کھسک رہی ہے اس لیے ادھر قائم تجربہ گاہیں حرکت کر کے شمالی قطب سے ہٹ جاتی ہیں۔ اسی لیے کچھ سالوں کے بعد انہیں بھی منتقل کرنا پڑتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ خود جغرافیائی شمالی قطب ایک جگہ نہیں بلکہ اس میں بہت معمولی تبدیلی آتی ہے۔ یعنی زمین لرزتی ہے۔ زمین کا گردشی محور کچھ میٹر تک حرکت کر سکتا ہے اور اس بات کو چانڈلر کا ارتعاش (Chandler wobble ) کہتے ہیں۔ گرمیوں میں چوبیس گھنٹے کا دن ہوتا ہے اور سردیوں میں چوبیس گھنٹے کی رات۔ 20 یا 21 مارچ کو سورج چھ ماہ کے لیے نکلتا ہے جس نے جون کے مہینے تک چڑھتے رہنا ہے۔ بیس جون کے بعد اس کا زوال شروع ہوتا ہے۔ 23 ستمبر کو سورج مکمل غروب ہو جاتا ہے جس کے بعد چھ ماہ کے لیے رات رہتی ہے۔

مقناطیسی قطب شمالی[ترمیم]

مقناطیسی شمالی قطب زمین کا وہ مقام ہے جس کی طرف قطب نما اشارہ کرتا ہے۔ قطب نما صحیح شمال کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ کچھ انحراف کرتا ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جس پر زمین کا مقناطیسی میدان عموداً نیچے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ زمین کا مقناطیسی میدان مثالی نہیں ہے یعنی اگر ہم اکی فرضی لکیر مقناطیسی قطب شمالی سے مقناطیسی قطب جنوبی کی طرف کھینچیں تو وہ ایک خطِ مستقیم نہیں ہوگا۔ زمین کے مقناطیسی میدان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں اس لیے مقناطیسی شمالی قطب ایک مقام پر قائم نہیں رہتا اور بدلتا رہتا ہے۔ آج کل یہ مقام °82.7 شمال°114.4 مغرب میں ہے جو حقیقی شمالی قطب (جغرافیائی) سے دور ہے اور چالیس کلومیٹر سالانہ حرکت میں ہے۔ یہ حرکت بیسویں صدی کے شروع میں نو کلومیٹر سالانہ تھی اور بیسویں صدی میں مقناطیسی شمالی قطب اپنی جگہ سے 1100 کلومیٹر حرکت کر چکا ہے۔ قطب نما کی سوئی اس کی طرف رخ کرتی ہے مگر مسئلہ اتنا بھی سیدھا نہیں کیونکہ اصل مقناطیسی شمالی قطب کی جگہ سوئی علاقائی مقناطیسی شمالی قطب کی طرف اشارہ کرتی ہے جومقناطیسی قطب شمالی کے رخ سے تھوڑا سا انحراف کرتی ہے۔ اس کو مقناطیسی انحراف کہتے ہیں۔ یہ مقناطیسی انحراف ہر علاقہ میں مختلف ہوتا ہے۔ بعض مقامات پر انحراف صفر ہوتا ہے ۔ اگر ہم صفر انحراف رکھنے والے مقامات کو ایک فرضی خط سے ملائیں تو اسے خطِ لاانحرافی کہیں گے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ جسے ہم مقناطیسی قطب شمالی کہہ رہے ہیں وہ اصل میں مقناطیسی میدان کا جنوبی قطب ہوگا کیونکہ مخالف سمتیں ایک دوسرے سے کشش محسوس کرتی ہیں یعنی مقناطیسی حساب سے اصل میں زمین کا مقناطیسی قطب شمالی مقناطیسی میدان کا جنوبی قطب اور زمین کا مقناطیسی قطب جنوبی اصل میں اس کے مقناطیسی میدان کا شمالی قطب ہوگا۔

ارضی۔مقناطیسی قطب شمالی[ترمیم]

زمین کا مقناطیسی میدان مثالی نہیں ہے۔ اگر زمین کے مقناطیسی شمالی قطب اور مقناطیسی جنوبی قطب کو ایک فرضی لکیر سے ملایا جائے اور اس لکیر کو زمین کے مرکز سے گذارا جائے تو ایک خطِ مستقیم نہیں بنتا۔ لیکن اگر ایسا خطِ مستقیم زمین کے مرکز سے گذارا جائے جو زمین کے مقناطیسی میدان کی بہترین ممکنہ انداز میں نمائندگی کر سکے تو وہ زمین کے شمال میں زمین کی سطح سے جہاں ٹکرائے گا اسے ارضی۔مقناطیسی قطب شمالی کہیں گے۔ یہ اپنی جگہ بدلتا رہتا ہے۔ 2005 میں یہ °79.74 شمال اور°71.78 مغرب میں واقع ہے یعنی جغرافیائی قطب شمالی سے کافی دور ہے اور گرین لینڈ کے قریب ہے۔

سماوی قطب شمالی[ترمیم]

زمین کی محوری گردش کے سبب ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ آسمان پر ستاروں کا جھرمٹ اکٹھا مشرق سے مغرب کی طرف حرکت کرتا ہے اور چوبیس گھنٹوں بعد پہلی حالت میں آ جاتا ہے۔ زمین جس فرضی لکیر کے ارد گرد اپنی محوری گردش کرتی ہے وہ لکیر فرضی طور پر آسمان میں ستاروں کے جھرمٹ کو جہاں ٹکراتی ہے اسے سماوی قطب شمالی کہتے ہیں۔ سماوی قطب شمالی قطبی ستارہ (Polaris) کے بالکل قریب ہے۔ اسی لیے قطبی ستارہ سے جغرافیائی شمال کی سمت بخوبی معلوم ہو سکتی ہے۔قطبی ستارہ اور جغرافیائی شمال میں صرف بیالیس ڈگری دور ہے یعنی تقریباً سماوی قطب شمالی پر ہے۔

بعید ترین قطب شمالی[ترمیم]

بحیرہ منجمد شمالی میں زمین سے دور ترین نقطہ بعید ترین قطب شمالی کہلاتا ہے۔ آج کل یہ °84 شمال °8 .174 مغرب پر واقع ہے۔ یہ صحیح جغرافیائی شمالی قطب سے 661 کلومیٹر دور ہے۔